Connect with us

Today News

امریکا، اسرائیل مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت دیں تو جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں، ایرانی صدر

Published

on



ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں اگر ان کی طرف سے مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں وہ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر انہیں مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں ان پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا تو وہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو معمول پر لانے کا واحد حل یہ ہے کہ حملہ آور اپنی جارحانہ سرگرمیاں بند کریں، ہم نے کبھی کسی مرحلے پر کشیدگی یا جنگ کا آغاز نہیں کیا اور اگر مطلوبہ شرائط پوری ہو جائیں، خاص طور پر مستقبل میں حملے کی روک تھام کے لیے ضروری ضمانتیں، تو ہمارے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کا عزم موجود ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور کبھی بھی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، تاہم ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔

پیزشکیان نے کہا کہ ان ممالک نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری نہیں کی کہ وہ اپنے علاقے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

انہوں نے یورپی یونین پر بھی تنقید کی کہ وہ جاری امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے اور کہا کہ یہ جارحیت قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ان تمام اصولوں اور قوانین پر بھی حملہ ہے جن کے بارے میں یورپی یونین عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔

مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف تباہ کن رویہ اختیار کرنے کے بجائے یورپی یونین کو اپنی پالیسیاں اور مؤقف بین الاقوامی قانون کے مطابق اور دیگر فریقین کے ساتھ تعمیری اور پیشہ ورانہ تعامل کے اصولوں کے مطابق ترتیب دینے چاہئیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حیدرآباد، انتظامیہ کی غفلت کے باعث کھلے گٹر میں گر کر ڈیڑھ سالہ بچی جاں بحق

Published

on



حیدرآباد:

ٹنڈویوسف ریلوے پھاٹک کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں انتظامیہ کی غفلت کے باعث ڈیڑھ سالہ بچی کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگئی۔

علاقہ مکینوں کے مطابق بچی جس کی شناخت سمن بنت وکی کے نام سے ہوئی ہے، گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ اچانک قریب موجود کھلے گٹر میں جاگری۔

اہل علاقہ نے فوری طور پر بچی کو نکالنے کی کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس گٹر کے حوالے سے متعدد بار بلدیاتی نمائندوں کو شکایات درج کروائی گئیں مگر اس کے باوجود گٹر پر ڈھکن نہیں لگایا گیا۔

شہریوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث ایک معصوم جان ضائع ہوگئی۔

اہلِ علاقہ نے مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی اسی گٹر میں گر کر ایک اور بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا لیکن اس واقعے کے بعد بھی کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کھلے گٹروں کو ڈھکنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ژوب، بارش سے متاثرہ چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق، 6 زخمی

Published

on



کوئٹہ:

بلوچستان کے علاقے گوسہ کبزئی میں بارش کے بعد ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ 6 بچے زخمی ہوگئے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد جاں بحق بچے اور زخمیوں کو ٹراما سنٹر ژوب منتقل کیا گیا جہاں زخمی بچوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمی بچوں کو ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچے کی میت ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

مقامی افراد کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث کچے اور بوسیدہ مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ایسے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سپریم کورٹ، 3 ماہ میں3600 مقدمات دائر، 5383 نمٹائے گئے

Published

on



اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر پیشرفت کا دسواں جائزہ اجلاس ہوا، ماہانہ کارکردگی،عدالتی عمل کو جدید بنانے اور کارکردگی بڑھانے کا جائزہ لیا گیا۔

گزشتہ 3ماہ کے دوران 600 3 نئے کیس دائر ہوئے جبکہ383 5کیس نمٹائے گئے،سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کی تعداد کم ہو کر 083،34رہ گئی۔

چیف جسٹس نے مقدمات نمٹانے کی شرح اور بہتر کیس مینجمنٹ کو سراہا۔ جاری اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے30 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2018 تک دائر ہونے والے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر فکس کیا جائے گا تاکہ مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب وکلا نے 27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں مقدمات نمٹانے کی رفتار کو غیرمتاثرکن قرار دیا ہے۔

آئینی عدالت کے کام شروع کرنے سے پہلے سپریم کورٹ میں کل 56ہزار608 مقدمات زیر التوا تھے جن میں سے 22 ہزار910 مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کیے گئے اور 33ہزار698 مقدمات سپریم کورٹ میں ہی رہ گئے۔

دونوں اعلیٰ عدالتوں میں اب بھی 56ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں تاہم سپریم کورٹ میں پچھلے دو سالوں کے دوران فوجداری مقدمات کے نمٹانے کی شرح میں بہتری آئی ہے۔

ادھر سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ آئینی عدالت میں 7 ججز کے ساتھ مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اس پر خزانے سے بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے مگر سائلین کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

حافظ احسان احمد نے کہا کہ آئینی عدالت میں ججز کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending