Connect with us

Today News

اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت  میں عوامی ریلی کا انعقاد

Published

on



اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور  آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اورکزئی کے عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

پاک فوج سے  یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد  نے شرکت کی، شرکاء نے قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

شرکاء نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاک فوج کےشانہ بشانہ کھڑے رہنے کےعزم کا اظہار کیا، اس اجتماع کے ذریعے دشمن کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم کا واضح پیغام دیا گیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاک افغان جنگ پر امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا

Published

on



امریکی صدر ٹرمپ نے پاک افغان جنگ سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے مداخلت نہیں کروں گا اوراس معاملے میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ میں مداخلت کریں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں مداخلت کر سکتا ہوں، تاہم پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان نہایت شاندار انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھال رہا ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔

امریکی صدر نے پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک عظیم وزیرِاعظم اور جنرل ہیں اور یہ دونوں وہ شخصیات ہیں جن کی میں بے حد عزت کرتاہوں۔ پاکستان میں مضبوط قیادت موجود ہے جو معاملات کو احسن انداز میں چلا رہی ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں، تاہم جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی سینٹرل جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ، مین گیٹ بند کر کے کنکریٹ بلاکس نصب

Published

on



کراچی میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کراچی سینٹرل جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔  جیل کے گرد و نواح میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جیل کے اطراف کھڑی تمام گاڑیوں کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

حکام کے مطابق افغان۔پاکستان کشیدہ حالات کے تناظر میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں سینٹرل جیل کے مین گیٹ کو بند کر کے اس کے سامنے کنکریٹ کے بلاکس رکھ دیے گئے ہیں جبکہ آمد و رفت کے لیے عارضی گیٹ کھولا گیا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جیل کے اطراف ترقیاتی کام بھی جاری ہے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی مصنوعی ذہانت کا میلہ یا نظم و نسق کا امتحان؟

Published

on


عصرِ حاضر میں اقوام کی برتری کا پیمانہ صرف عسکری قوت یا معاشی حجم نہیں رہا بلکہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سبقت نے عالمی قیادت کا معیار متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایشیا سے یورپ تک ہر ریاست اس جستجو میں مصروف ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور اختراعی صنعتوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ مگر کسی بھی بین الاقوامی ٹیکنالوجی سمٹ کی کامیابی محض دلکش نعروں، بلند آہنگ اعلانات اور معروف شخصیات کی موجودگی سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد منظم حکمتِ عملی، شفاف نظم و نسق، پیشہ ورانہ تیاری اور اعتماد کی فضا پر استوار ہوتی ہے۔

حالیہ بھارتی اے آئی سمٹ کے حوالے سے عالمی خبر رساں ادارے Reuters کی رپورٹنگ نے کئی ایسے پہلو نمایاں کیے جنہوں نے اس تقریب کی انتظامی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔ سب سے نمایاں واقعہ اس وقت پیش آیا جب عالمی سطح کی ممتاز شخصیات نے عین آخری لمحوں میں اپنی شرکت منسوخ کر دی۔

Bill Gates، جو مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ٹیکنالوجی دنیا کی ایک بااثر آواز سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل عدم شرکت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد Jensen Huang کی منسوخی کی خبر بھی منظرِ عام پر آئی۔ ایسے بڑے ناموں کی غیر موجودگی کسی بھی عالمی فورم کے لیے محض علامتی دھچکا نہیں بلکہ ساکھ، توجہ اور سرمایہ کارانہ اعتماد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب اسٹیج پر قیادت کی نمائندگی کمزور پڑ جائے تو پورا ایونٹ اپنی معنوی قوت کھو بیٹھتا ہے۔

علاوہ ازیں رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ انتظامی سطح پر متعدد کوتاہیاں رہیں۔ نمائشی ہالوں کو اچانک بند کرنا، شرکت کرنے والی کمپنیوں کو بروقت اور واضح معلومات فراہم نہ کرنا، اور بعض اسٹالز کا غیر متوقع طور پر ہٹا لیا جانا،یہ سب ایسے عوامل ہیں جو منصوبہ بندی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک روبوٹک کتے کے تنازع کے بعد گالگوٹیا کی جانب سے اسٹال ہٹانے کا واقعہ اس امر کی علامت بن گیا کہ بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کمزور تھی۔ جب نمائش کنندگان، جو اپنی تحقیق، مصنوعات اور خواب لے کر آتے ہیں، غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوں تو یہ مستقبل کے شراکت داروں کے لیے بھی منفی پیغام بن جاتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا میں ایک اور پہلو نے خاصی توجہ حاصل کی اور وہ مبینہ طور پر نقل شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے جس میں ایک چینی روبوٹ کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اصل تحقیق، دانشورانہ دیانت اور اختراعی خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی پلیٹ فارم کے بارے میں یہ تاثر ابھرے کہ وہاں جدت کی بجائے نقالی یا غیر شفاف ذرائع سے کام لیا جا رہا ہے تو اس کا اثر صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ٹیکنالوجی ایکوسسٹم پر پڑتا ہے۔انتظامی چیلنجز صرف نمائش گاہ تک محدود نہ رہے۔

شہری سطح پر بھی مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے باعث سڑکوں کی بندش، ٹریفک کا شدید دباؤ، اور شرکاء  کو ٹیکسی یا شٹل کی عدم دستیابی کے سبب طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے،یہ سب ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی عالمی کانفرنس کے تجربے کو متاثر کرتے ہیں۔ جب شرکاء بنیادی سہولیات کے حصول میں الجھ جائیں تو علمی مباحث، کاروباری روابط اور تحقیقی تبادلے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

 ابتدائی ہجوم کے بعد مقامِ تقریب کا نسبتاً خالی نظر آنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا سیشنز میں تسلسل کی کمی تھی؟ کیا مقررین کا انتخاب اور موضوعات کی گہرائی شرکاء کو مکمل دورانیے تک متوجہ رکھنے میں ناکام رہی؟ عالمی معیار کے سمٹس میں مواد کی سنجیدگی، مکالمے کی وسعت اور نیٹ ورکنگ کے بامعنی مواقع وہ عناصر ہوتے ہیں جو حاضرین کو اختتام تک وابستہ رکھتے ہیں۔ اگر پروگرام کی ساخت میں ربط نہ ہو تو جوش و خروش وقتی ثابت ہوتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے جڑے توانائی اور وسائل کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینیٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے درکار بھاری بجلی اور پانی مستقبل میں دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک ایونٹ کا نہیں بلکہ قومی پالیسی، پائیدار توانائی حکمتِ عملی اور آبی نظم و نسق سے جڑا ہوا ہے۔ اگر گرڈ کی مضبوطی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال پر ہمہ گیر توجہ نہ دی جائے تو ٹیکنالوجی کے بلند بانگ عزائم عملی رکاوٹوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔

سیاسی سطح پر بھی اس سمٹ نے بحث کو جنم دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتظامی نقائص پر تنقید اور انجینئرز و شرکاء کو طویل فاصلہ پیدل چلنے پر مجبور کیے جانے کے بیانات نے اس تقریب کو داخلی سیاست کا موضوع بنا دیا۔ جب کوئی بین الاقوامی پروگرام توقعات پر پورا نہ اترے تو وہ محض ٹیکنالوجی کانفرنس نہیں رہتا بلکہ حکومتی کارکردگی کی علامت سمجھا جانے لگتا ہے۔ مزید یہ کہ ای میل انکشافات اور اعلیٰ شخصیات کی شرکت سے متعلق متضاد اطلاعات نے اعتماد کے مسئلے کو گہرا کیا۔ کسی بھی بڑے ایونٹ میں بروقت، شفاف اور ہم آہنگ ابلاغ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اگر معلومات میں تضاد ہو یا آخری لمحوں کی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں نہ سنبھالا جائے تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور ساکھ مجروح ہوتی ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو یکجا کیا جائے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ بھارتی اے آئی سمٹ انتظامی ہم آہنگی، پیشگی منصوبہ بندی، بحران مینجمنٹ اور مؤثر مواصلات کے میدان میں نمایاں آزمائش سے دوچار رہا۔ بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی مرکز کے لیے یہ واقعہ محض تنقید کا باب نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ان خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور آیندہ کے لیے اصلاحی اقدامات متعارف کرائے جائیں تو یہی تجربہ مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی اے آئی دوڑ میں سبقت کا انحصار صرف وژن اور بیانیے پر نہیں بلکہ اس وژن کو مؤثر حکمتِ عملی، دیانت دارانہ طرزِ عمل اور عملی مہارت کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ قومیں خوابوں سے نہیں، نظم و ضبط اور مسلسل بہتری سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending