Today News
ایران کیساتھ پاکستان میں جنگ بندی مذاکرات؛ ٹرمپ کا قوم سے خطاب مؤخر
وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ٹیلی وژن خطاب کا ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز قوم سے صدر ٹرمپ کے براہِ راست خطاب پر غور کیا تھا۔
تاہم بعض مشیروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اس لیے معاہدے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک جانب جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے اعتماد ظاہر کرنا چاہتی تھی جبکہ دوسری جانب اسے غیر یقینی پہلوؤں کا بھی ادراک تھا۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ بھی خطاب کرنے پر پُرعزم تھے تاہم بعد میں انھیں اس سے باز رکھا گیا کیونکہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں تھیں اور اعلیٰ مشیر اس پر مزید غور کر رہے تھے۔
اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس حوالے سے بات چیت ضرور ہوئی تھی لیکن معاملہ اس حد تک نہیں پہنچا کہ میڈیا نیٹ ورکس کو آگاہ کیا جاتا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کی کوئی بات صدر کے سامنے زیر غور ہی نہیں آئی۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے کیا تھا جو ان کی مقررہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔
Today News
ایران ، سائنس کی یونیورسٹیاں نشانہ کیوں؟
امریکا اور اسرائیل کے ڈرون خاص طور پر ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کی 30 یونیورسٹیاں تباہ ہوئی ہیں۔ امریکا کے ڈرون نے گزشتہ ماہ ایران کے شہر مینات میں طالبات کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا تھا۔ اس اسکول میں 9سال سے 19 سال تک کی عمر کی طالبات زیرتعلیم تھیں۔
اس حملے میں 200 کے قریب لڑکیاں جاں بحق ہوئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے تو اس اسکول پر امریکا کے حملے سے انکار کیا اور حملے کا الزام ایران پر ہی عائد کیا مگر بعد میں آزاد ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی تھی کہ اس اسکول پر امریکا کا میزائل لگا تھا۔ ایران میں تقریباً 226 سے لے کر 400 یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے ہیں۔ ان میں کچھ یونیورسٹیوں کا تعلیمی معیار یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب قرار دیا جاتا ہے۔
ایران کی مشہور یونیورسٹیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی یونیورسٹیاں ہیں۔ امریکا نے تہران میں قائم شریف یونیورسٹی پر حملہ کیا اور اس کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ امریکا کے محققین کا کہنا ہے کہ تہران کی شریف یونیورسٹی کا معیار امریکا کی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے برابر ہے۔ امریکا نے اس کے علاوہ تہران کی ایک اور بڑی یونیورسٹی تہران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا اور اس کی تجربہ گاہوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت ایران کی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا نے گزشتہ جمعے کو Laser and Plasma Institute کو نشانہ بنایا، یہ انسٹی ٹیوٹ کمپیوٹر سائنس کی تحقیق کا نامور ادارہ ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کی وجہ سے تمام کلاس اور ریسرچ کا کام معطل ہے۔
اس بناء پر انسٹی ٹیوٹ کی عمارت خالی پڑی تھی، یوں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا مگر انسٹی ٹیوٹ کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ جون میں اسرائیل کے میزائل حملہ کا نشانہ اس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے علاوہ ایٹمی سائنس دان محمد مہدی ترانچی بنے۔ اس انسٹی ٹیوٹ نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ وجوہات جاننے کے حق، تحقیق اور سوچنے کی آزادی (Reason Research Freedom of Thought ) پر حملہ ہے۔
امریکی میزائلوں نے ایک اور تہران سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں ریسرچ سینٹر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک اور انسٹی ٹیوٹ Pesteur Institute Downtown پر حملہ کیا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں انفیکشن ڈیزیزس ویکسینز کی تیاری، ایڈوانس ڈائیگنوسز اور بیالوجیکل پروڈکٹس کی تیاری کا کام ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت W.H.O کے ماہرین جو اس ایرانی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کام کرتے تھے کا کہنا ہے کہ امریکی حملہ میں انسٹی ٹیوٹ کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
امریکا کے میزائلوں نے اسپتالوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی کئی یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بلند ہے کہ دنیا بھر کی معیار کے اعتبار سے مرتب کردہ انڈکس میں یہ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں تہران یونیورسٹی اور میڈیکل سائنس (T.U.M.S)، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران شامل ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں براہِ راست امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں ہیں۔
گزشتہ دنوں اسرائیل کے میڈیا پر ہونے والے تجزیاتی پروگراموں میں ایران کی یونیورسٹیوں کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی وجوہات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں بتایا گیا کہ ایران کی سائنس کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت بلند ہے۔ خاص طور پر میڈیکل سائنسز، بیسک سائنسز، سوشل سائنسز، آرکیٹیکچر، انجینئرنگ، ایری گیشن کے شعبوں کی یونیورسٹیوں کا معیار بہت زیادہ بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے سائنس دانوں کے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہر سال 50 ہزار کے قریب تحقیق پر مشتمل سائنسی آرٹیکل شائع ہوتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے جاسوسوں نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران سیاست دانوں اور فوجی افسروں سے زیادہ سائنس دانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں کام کرنے والے بہت سے سائنس دان ان حملوں میں شہید ہوئے۔ ان حملوں میں شہید ہونے والے سائنس دانوں میں سب سے نمایاں محسن فخری زادہ تھے جن کا شمار دنیا کے ممتاز ایٹمی سائنس دانوں میں ہوتا تھا۔ فخری زادہ کو 27 نومبر 2020ء کو تہران کے قریب نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد متعدد سائنس دان مختلف حملوں میں جاں بحق ہوئے۔
امریکا اور اسرائیل کی ان یونیورسٹیوں کو تباہ کرنے، سائنس دانوں اور ریسرچرز کو ہلاک کرنے کی پالیسی اور طالبان کی لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کرنے کی پالیسی میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔ طالبان 1996ء میں منظم ہوئے۔ طالبان نے جب کابل پر قبضہ کیا تو انھوں نے طالبات کی تعلیم پر مکمل پابندی لگا دی ۔
پاکستانی طالبان نے پختون خوا اور بلوچستان کے پختون علاقوں میں طالبات کے اسکولوں کو ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنانا شروع کیا۔ سابق قبائلی علاقوں اور سوات میں سیکڑوں اسکولوں کی عمارتوں کو بموں کے دھماکوں میں مسمار کیا گیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ سوات کی بچی ملالہ یوسفزئی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر قاتلانہ حملہ کا شکار ہوئی ۔ طالبان کے بارے میں تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ گروہ رجعت پسندی کا شکار ہے اور طالبان صدیوں پرانا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل کے خاص طور پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے پس پشت ایک خاص سوچ موجود ہے۔
اگرچہ شہنشاہ ایران کے دور میں ایران میں شہری انفرااسٹرکچر کا معیار خاصا بلند تھا۔ جدید سڑکیں، سیوریج کا نظام، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی خاصی تعداد موجود تھی مگر ان یونیورسٹیوں میں علی شریعتی جیسے دانشور پیدا ہوئے جنہوں نے نوجوانوں میں شعور پیدا کیا اور انھیں جدوجہد کا راستہ دکھایا ۔ ایک وقت تھا جب ایران کی یونیورسٹیاں شہنشاہ ایران کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں۔ ایران میں ایک مذہبی حکومت قائم ہوئی۔ ایران میں یونیورسٹیوں کے کردار میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔
ایران کی اسلامی حکومت نے یونیورسٹیوں سے باغیوں کی تو تطہیر کی مگر معیار تعلیم کو بلند کرنے پر پوری توجہ دی گئی۔ معروف سائنس دان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک میں صرف ایران کا تعلیمی معیار اسرائیل اور امریکا کی یونیورسٹیوں کے قریب تر ہے۔ ایران کے ان سائنس دانوں نے دفاعی ٹیکنالوجی کے علاوہ میڈیکل ٹیکنالوجی میں بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیق کی ہے۔ چین اور روس کے ماہرین نے اس تحقیق میں ایران کے سائنس دانوں کی رہنمائی تو کی ہے مگر دفاعی انفرااسٹرکچر کا سارا نظام ایرانی سائنس دانوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔
سماجی تحقیق کے پروفیسر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ ایران نے سائنس میں ترقی کر کے اسرائیل اور امریکا کا مقابلہ کیا ہے اور سائنس میں ترقی کی بنیاد تحقیق کا اعلیٰ معیار ہے۔ اسرائیل اور امریکا، ایران کو سائنس کے میدان میں شکست دے کر خاص طور پر یونیورسٹیوں کو تباہ کر کے اسے پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا نے ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت گزشتہ 10 برسوں کے دوران ایران کے سائنس دانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا مگر ایران کے سائنس دانوں کے عزائم میں کمی نہیں آئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں حماس کو فراہم کردہ ٹیکنالوجی میں بھی ایران کے ماہرین کا خاصا حصہ ہے۔ اسی طرح لبنان میں حزب اﷲ کو نئی ٹیکنالوجی سے آشنا کرنے میں بھی ایران کے ماہرین کا کردار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے مارچ میں شروع ہونے والی جنگ میں خاص طور پر یونیورسٹیوں اوراسپتالوں کونشانہ بنانا شروع کیا۔
جنیوا کنونشن کے تحت تعلیمی اداروں اوراسپتالوں پر حملہ جنگی جرائم قرار دیا گیا ہے مگر صدر ٹرمپ جنگی جرم کا فخر سے اقرار کر رہے ہیں۔ امریکا، ایران میں یونیورسٹیوں کو تباہ کرکے ایران کو پتھر کے زمانہ میں دھکیلنے کا پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر یہ پالیسی ناکام ہوگی۔ صدر ٹرمپ کو اس صورتحال پر ضرور نوبل پرائز ملنا چاہیے۔
Today News
باب المندب اور نہرِ سویز کی کہانی
دو سمندروں یا خلیجوں کو ملانے والی گذرگاہ آبنائے کہلاتی ہے۔گذشتہ مضمون میں انتالیس کیلو میٹرچوڑی آبنائے ہرمز کی اہمیت کا تذکرہ ہوا۔جزیرہ نما عرب کے مغربی کونے پر واقع گذرگاہ باب المندب بھی آبنائے ہرمز جتنی اہم ہے۔بحیرہ قلزم کو بحرہند سے ملانے والے باب المندب ( درِ اشک ) کی چوڑائی بتیس کلومیٹر ہے ۔اس کے ایک جانب یمن اور دوسری جانب جیبوتی ہے۔یہ گذرگاہ انیسویں صدی میں اس وقت بحری شاہ رگ کی صورت اختیار کر گئی جب بحیرہِ قلزم کو بحیرہ روم سے جوڑنے کے لیے نہر سویز تعمیر کی گئی۔ سویز کی تعمیر کے سبب ایشیا اور یورپ کے درمیان سفری دورانیے میں دس سے پندرہ دن کی کمی ہو گئی۔گویا بحری تجارت تیز رفتار اور سستی ہو گئی۔
باب المندب کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ سالانہ بارہ فیصد عالمی مصنوعات یہاں سے گذرتی ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کھلی ہو تو خلیجی ریاستوں کا چار ارب بیرل سالانہ ( چالیس لاکھ بیرل روزانہ ) سے زائد تیل باب المندب اور نہر سویز سے گذرتا ہے (یہ مقدار تیل کی کل عالمی رسد کا پانچ فیصد بنتی ہے )۔
آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب کی ٹریفک بھی معطل ہو جائے تو یوں سمجھئے کہ تیل اور گیس کی ایک چوتھائی عالمی تجارت ٹھپ ہو کے رہ جائے گی۔اس میں وہ دس فیصد کنٹینر جہاز بھی جوڑ لیں جو مغرب و مشرق کے درمیان باب المندب کے ذریعے سامان لاتے لے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کے سبب یورپ اور ایشیا کے لیے سعودی تیل کی برآمد کا سارا بوجھ اس وقت بحیرہ قلزم کی جانب یانبو آئل ٹرمینل پر منتقل ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک آرامکو کی بارہ سو کیلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ سات لاکھ ستر ہزار بیرل تیل کی ترسیل ہو سکتی ہے۔
غزہ پر سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو اسرائیلی یلغار کے کچھ ہفتے بعد یمن کے بااثر ہوثی گروہ نے باب المندب کو بند کر دیا۔امریکا ، اسرائیل ، ہوثی مخالف خلیجی اتحاد اور ناٹو نے طاقت کا بھرپور استعمال کر کے بھی دیکھ لیا مگر باب المندب نہ کھلوا سکے۔چار و ناچار امریکا کو ہوثیوں کے ساتھ گذشتہ برس مئی میں جنگ بندی سمجھوتہ کرنا پڑا اور سعودی عرب کے ساتھ بھی جنگ روکنے کے لیے انڈرسٹینڈنگ ہوئی۔تب کہیں جا کے باب المندب کی ناکہ بندی سے گلو خلاصی ملی۔مگر اب خلیج کے جنگی بحران کے سبب امریکا اور ایران میں حتمی امن سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں یا پھر لبنان پر اسرائیلی حملے نہ تھمنے کے نتیجے میں باب المندب کی راہ داری دوبارہ بند ہو سکتی ہے ( ہوثی ایران اور لبنانی حزب اللہ کے ہمراہ ’’ مثلثِ مزاحمت ‘‘ کا حصہ ہیں ) ۔ ایشیائی ممالک سے تجارت کے لیے بحیرہِ قلزم کی جانب کھلنے والی واحد اسرائیلی بندرگاہ ایلات پر گذشتہ تین برس سے ہو کا عالم ہے۔چنانچہ اسرائیل کا پورا بحری دار و مدار بحیرہ روم کے ساحل پر قائم دو بندرگاہوں حیفہ اور اشدود پر ہے اور یہ بندرگاہیں بھی مثلثِ مزاحمت کے حملوں کی زد میں رہتی ہیں۔
ویسے سمندری گذرگاہ بند کرنا زیادہ مشکل بھی نہیں۔یہ اس فلمی سین کی طرح ہے جس میں دو نوجوان موٹر سائیکل سوار بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے اور چیختے گذر جائیں کہ بند کرو یہ سب اور پھر شٹر گرنے شروع ہو جائیں۔
ہوثی بھی چلتے جہازوں پر چار میزائل فائر کر دیں تو انشورنس کمپنیاں جہاز رانی کے بیمے سے ہاتھ کھینچ لیں گی اور ٹریفک کا رخ باب المندب کے بجائے راس امید ( کیپ ٹاؤن ) کی جانب مڑ کر افریقہ کا پورا چکر کاٹنے لگے گا ۔
فرض کریں آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہتے ہیں مگر کسی وجہ سے نہر سویز بند ہو جاتی ہے تو پھر بھی مصیبت ہے۔جون انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سویز کینال آٹھ برس تک معطل رہی کیونکہ اس میں مصر اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی جنگی کشتیاں ڈبو دی تھیں۔دو ہزار اکیس میں ایک کنٹینر جہاز پھنسنے کے سبب چھ روز تک نہری ٹریفک معطل رہی۔
اس نہر کے سبب یورپ اور اشیا کے درمیان بحری سفر میں آٹھ ہزار نو سو کلومیٹر کی کمی ہوتی ہے۔یہاں سے چاس لاکھ بیرل روزانہ تیل گذرتا ہے۔
سترہ نومبر اٹھارہ سو انہتر سے جاری اس ایک سو چورانوے کلومیٹر طویل نہر کی چوڑائی سات سو چالیس فٹ ( سوا دو سو میٹر) ہے۔یہاں سے سالانہ لگ بھگ اکیس ہزار جہاز گذرتے ہیں۔ نہر ستانوے برس ایک فرانسیسی کمپنی کی ملکیت رہی کیونکہ اس کے پہلے مالک فرڈیننڈ ڈی لاسپے نے نہر کی کھدائی کے لیے بنیادی سرمایہ کاری کی تھی۔اس کمپنی میں برطانوی سرمایہ کاروں اور خدیوِ مصر و سوڈان سعید پاشا کے بھی کچھ شئیرز تھے۔بیک وقت تیس ہزار مزدوروں کو کام پر لگایا گیا۔کل ملا کے دس برس میں کئی قومیتوں کے پندرہ لاکھ کارکنوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ایک لاکھ سے زائد مزدور ملیریا اور پیٹ کی بیماریوں میں لقمہِ اجل بن گئے۔
مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے جیسے ہی چھبیس جولائی انیس سو چھپن میں نہر سویز کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تو فرانس ، برطانیہ اور اسرائیل نے نہر پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ کر دیا۔تاہم ایک ہفتے بعد امریکا اور سوویت یونین کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور نہر پر مصر کی حاکمیت تسلیم کر لی گئی۔تب سے اب تک اسے سویز کینال اتھارٹی چلاتی ہے۔دو ہزار چودہ پندرہ میں اس نہر کی چوڑائی میں توسیع کے بعد سے اوسطاً روزانہ ستر سے اسی جہاز گذر سکتے ہیں۔ نہر سے مصر کی سالانہ محصولاتی آمدنی نو سے دس بلین ڈالر کے درمیان ہے۔گذشتہ دو برس کے دوران غزہ کی جنگ کے سبب باب المندب کی ناکہ بندی سے مصر کو نہری آمدنی کی مد میں نو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
اگر ایران آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس لگانے میں کامیاب رہا تو ہوثی بھی باب المندب پر ٹیکس وصول کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔گویا بحران جلد ختم ہونے والا نہیں۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
اﷲ خیر کرے – ایکسپریس اردو
آج کل مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج کچھ ضرورت سے زیادہ ہی برہم ہے، وہ دنیا کی واحد سپرپاور کے سربراہ ہیں اور اپنے مقابلے میں ایک معمولی سے ملک سے برہمی انھیں زیب نہیں دیتی۔ چند روز قبل تو وہ ایران پر بڑے گرجے برسے یہاں تک کہ گالی گلوچ پر اتر آئے اور تمام ڈپلومیٹک اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر ایسی گالیاں بکیں جنھیں نقل کرنے کی جرات بھی اخبارات نہ کرسکے۔
جب ایک اخبار نویس نے جرات کرکے ان کی روایتی برہمی مزاج کا خیال نہ کرتے ہوئے انھیں کل کی گالی گفتار پر متوجہ کیا تو فرمایا ’’ہاں! مجھے معلوم ہے مگر مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں۔‘‘ گویا ایک عالمی سطح کے لیڈر کا اس انداز گفتگو پر مائل ہونا ان کے نزدیک کسی اعتراض کے لائق بات نہیں۔
ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ اب تک دنیا کے کتنے لیڈروں کو ان کی ذہنی بدحالی کے باعث اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے مگر یہ بات ہماری طرح ہر شخص کے علم میں ہے کہ ملکی سربراہان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے امتحانات وقفہ وقفہ سے ہوتے رہتے ہیں۔ امریکی قوم کو اپنے سربراہ کی ذہنی صحت کی فکر کرنی چاہیے کیوں کہ جس ذہنی کیفیت کا وہ اظہار کررہے ہیں وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے لیے ہرگز مناسب نہیں ہے۔
وہ نہ صرف اس اعلیٰ عہدے کے منصب کے خلاف انداز گفتگو اور طرز فکر اختیار کرچکے ہیں بلکہ اپنے آپ کو اس عہدے کے لیے نامناسب ترین شخص ثابت کرچکے ہیں۔ وہ ایران جیسے چھوٹے ملک کو جس طرح کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اسے جہنم میں جھونک دینے اور ایک دن میں تباہ و برباد کردینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ کسی صحیح الدماغ آدمی کا وطیرہ نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ بجا طور پر جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے۔
امریکا کا بغل بچہ اسرائیل بھی اس نوعیت کے جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ فلسطین کے جس علاقے پر اسرائیل نے اپنا ناجائز تسلط قائم کیا ہے ۔ وہاں فلسطینی بچوں کی حالت زار کی کچھ کہانیاں چھپ چھپا کر اخبارات میں در آئی ہیں۔ اہل فلسطین کی نسل کشی تو اسرائیل کے مقاصد میں شامل ہے اب اس نے نسل کشی کا یہ انداز اختیار کیا ہے کہ بچوں کو مظالم اور بدحالی کا شکار کرکے کہیں کا نہیں چھوڑ رہا ہے۔
عالمی ضمیر یا تو اس صورت حال سے پوری طرح آگاہ نہیں ہے یا پھر اسے اس کی مطلق پرواہ نہیں ہے اور فلسطین کے بچے سسک سسک کر جان دے رہے ہیں۔ ایک طرف امریکا وحشیانہ بم باری کرکے اہل ایران کی تنہائی کا فائدہ اٹھارہا ہے تو دوسری طرف اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں میں انسانیت سوز سلوک کے ذریعہ فلسطین کے بچوں کو زندگی سے بے زار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
اہل فلسطین پر دو طرفہ بلکہ سہ طرفہ مصائب حملہ آور ہیں امریکا اور اسرائیل ان پر حملہ آور ہیں اور ان پر تباہی کا ہر ممکن ذریعہ استعمال کرنے پر آمادہ ہیں تو دوسری طرف مسلم امہ کی بے اعتنائی انتہائی افسوس ناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ مسلم اتحاد کا وہ خواب جو علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوچکا ہے۔ ایک اکیلا ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا سے نبرد آزما ہے۔ امریکا جو خود کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اب اسرائیل کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ وہ اسرائیلی مقاصدکی تکمیل کے لیے پوری طرح نہ صرف اس کی ہم نوائی کررہا ہے بلکہ اپنی قوت و طاقت کو پوری طرح اسرائیل کے حوالے کرچکا ہے۔
دشمنوں کی دشمنی اپنی جگہ مسلم ہے۔ امریکا نے جس طرح ایران کو دھمکیاں دے کر مفلزاد گالیاں دے کر مخاطب کیا ہے اس کی توقع کسی نیم مہذب شخص سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ اب وہ بڑی بہادری کے ساتھ گھنٹے گن رہا ہے کہ ایران کے صدیوں پرانے کلچر کے فنا کا وقت کتنے گھنٹے رہ گیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک چہرہ پوشی کی صورت یہ نکالی ہے کہ اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ہم ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب یہ مسٹر ٹرمپ کی خوش فہمی ہے یا خام خیالی، کیونکہ ایران میں اس تبدیلی کو مسٹر ٹرمپ کے علاوہ کسی نے بھی محسوس نہیں کیا،لیکن انتہائی خطرناک گھنٹوں کے اواخر میں ایران کے ایک اقدام نے رجیم میں تو تبدیلی پیدا نہیں کی البتہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
اب تک ایران مشرق وسطیٰ کے ان ممالک پر جو اپنے تحفظ کے لیے امریکا پر انحصار کیے ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے تحفظ کے نام پر وہاں امریکی فضائیہ کے اڈے قائم کر رکھے تھے ان پر ایران نے حملے کیے تھے، مگر یہ احتیاط ملحوظ رکھی تھی کہ ان حملوں کا نقصان امریکا کو ہو، مسلم ممالک کو نہیں مگر جنگی صورت حال میں ذرا سی غلطی تباہی کا سبب بن سکتی ہے اور ایران نے سعودیہ کے ایسے وسائل پر حملے شروع کردیے جو سعودی حکومت اور عوام کے مفاد کے مطابق تھے۔ اب پاکستان کو بھی ایران نے ایک مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان نے سعودیہ کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور سعودیہ حرمین شریفین کے تحفظ کا ذمے دار بنا دیاگیا ہے پھر دونوں ملکوں میں ایسا معاہدہ موجود ہے کہ اگر کوئی ملک سعودیہ پر حملہ آور ہو تو پاکستان اس کی مدد اور اس کا تحفظ کرے گا۔
اب ایران کا یہ حالیہ اقدام جس کے تحت ایران نے سعودیہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی پروا کیے بغیر امریکی اڈوں پر دھاوا بول دیا۔ اب پاکستان بڑی بری پوزیشن پر آگیا۔ کیا وہ سعودیہ کے تحفظ کی خاطر اس جنگ میں کود پڑے اور امن کی جو کوششیں پاکستان کے رہنما راتوں کوجاگ جاگ کر انجام دے رہے تھے، انھیں نظر اندازکردیں پھر پاکستان نے امن کے سفیر کی جو حیثیت اپنی کامیاب سفارت کاری سے حاصل کی ہے خاک میں مل جائے گی۔دراصل جنگی صورت حال میں اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے فیصلے کرنا ہوتے ہیں ورنہ نتائج تباہی ہوتی ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
Rain with Strong Winds and Thunderstorms Forecast in Karachi on Saturday
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final