Connect with us

Today News

بابراعظم کا ٹی20 کرکٹ میں عالمی ریکارڈ، زلمی کی بیٹنگ میں ریکارڈز کی بارش

Published

on



بابر اعظم نے پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) 11 کے اہم میچ میں پشاور زلمی کی جانب سے کراچی کنگز کے خلاف شان دار بیٹنگ کرتے ہوئے کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا اور کامران اکمل کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا جبکہ ٹیم کے متعدد ریکارڈز بھی بن گئے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور دوسری وکٹ کی ریکارڈ شراکت میں کوسل مینڈس اور کپتان بابراعظم نے ٹیم کا اسکور 191 رنز تک پہنچایا، جس میں مینڈس کی سنچری اور بابر کی نصف سنچری شامل تھی۔

کوسل مینڈس نے 52 گیندوں پر 14 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 109 رنز بنائے جبکہ بابراعظم نے آؤٹ ہوئے بغیر 51 گیندوں پر 10 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 87 رنز بنائے۔

Mendis & Babar dominated together in #HBLPSL11 🔥 #NewEra | #KKvPZ pic.twitter.com/E3RecHAdlI
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 9, 2026

بابر اعظم نے کنگز کے خلاف 87 رنز کی اننگز کے دوران ٹی20 کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین 12 ہزار رنز بنانے کا کرس گیل کا ریکارڈ توڑ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ زلمی کی جانب سے 50 رنز سے زائد رنز کی سب سے زیادہ اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

بابراعظم نے ٹی20 کرکٹ میں 338 میچوں تیز ترین 12 ہزار رنز بنانے کا ریکارڈ بنایا جبکہ ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹر کرس گیل نے 345 میچوں میں یہ ریکارڈ بنایا تھا، بابر نے 11 سنچریاں اور 99 نصف سنچریاں بنا کر 12 ہزار رنز بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔

𝐂𝐚𝐥𝐦. 𝐂𝐨𝐦𝐩𝐨𝐬𝐞𝐝. 😇

Babar Azam reaches his fifty ✨#HBLPSL11 | #NewEra | #KKvPZ pic.twitter.com/FAFfZTlTz8
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 9, 2026

پشاور زلمی کے کپتان اور تجربہ کار بیٹر ٹی20 کرکٹ میں 12 ہزار رنز مکمل کرنے والے 12 ویں کھلاڑی بھی بن گئے ہیں، اس فہرست میں اس سے قبل پاکستان کے شعیب ملک شامل تھے، ٹی20 میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی کرس گیل کے پاس ہے، جنہوں نے 463 میچوں کی 455 اننگز میں 14 ہزار 562 رنز بنائے ہیں، جس میں 22 سنچریاں اور 88 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

بابراعظم نے پشاور زلمی کی جانب سے سب سے زیادہ 50 سے زائد رنز کی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا، اس سے قبل کامران اکمل نے 15 مرتبہ 50 رنز سے زائد کی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔

پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کوسل مینڈس نے دوسری وکٹ کی شراکت میں زلمی کے لیے 191 رنز بنائے جو زلمی کی جانب سے کسی بھی وکٹ پر ریکارڈ شراکت ہے، اس سے قبل بابراعظم اور صائم ایوب نے 162 رنز کی شراکت بنائی تھی۔

بابراعظم اور کوسل مینڈس نے پشاور زلمی کی جانب سے دوسری وکٹ کی شراکت کا حضرت اللہ زازئی اور ویلس کا 126 رنز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ پشاور زلمی نے کراچی کنگز کے خلاف 3 وکٹوں پر 246 رنز بنائے، جو پی ایس ایل کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے چھٹا بڑا اسکور ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 7 مئی 2025 کو راولپنڈی میں 3 وکٹوں پر 263 رنز کا ریکارڈ مجموعہ ترتیب دیا تھا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ اسلام آباد امن مذاکرات سے بہت پُرامید، اسرائیل بھی حملوں میں کمی پر رضامند

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے جبکہ اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی۔

ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے اور اسرائیل بھی اپنے حملے کم کرے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بینجمن نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

 

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں جانب سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے، جو ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

نیتن یاہو کے خلاف رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال پر مقدمات کی سماعت اتوار کو ہو گی

Published

on


اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف زیرِ التوا کرپشن مقدمات کی عدالتی کارروائی اتوار سے ایک بار پھر شروع ہونے جا رہی ہے، جو گزشتہ عرصے میں جنگی صورتحال کے باعث عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد ملک میں معمولات زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں، جس کے تحت عدالتی کارروائیاں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو پر رشوت ستانی، فراڈ اور سرکاری اختیارات کے مبینہ غلط استعمال جیسے سنگین الزامات عائد ہیں، جن کی سماعت 2020 سے جاری ہے۔

دوسری جانب یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں نیتن یاہو کے لیے صدارتی معافی کی حمایت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوبارہ آغاز کو اسرائیلی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ سیاسی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کس نے جنگ کی قیمت چکائی ؟

Published

on


یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ 7اور8اپریل2026 کی درمیانی شب پاکستان،ایران اور مشرقِ وسطیٰ سمیت ساری دُنیا نے کرب و انتظار میں سُولی پر گزاری۔اس کرب میں اربوں انسانوں کی آنکھوں سے نیند کا پرندہ اُڑ چکا تھا۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے ایران کو دھمکی دے رکھی تھی: ’’ اگر ایران نے امریکا سے جنگ بندی کے لیے معاہدہ نہ کیا تو8اپریل ، بروز منگل، کی صبح طلوع ہوتے ہی ایران پر جہنم کا دروازہ کھل جائے گا۔‘‘ ٹرمپ نے مزید سخت لہجے میں کہا تھا: ’’ ایران سے معاہدہ نہ ہُوا تو ایران پر ایسا حملہ کیا جائے گا کہ ( سیکڑوں سالہ قدیم ) ایرانی تہذیب کے آثار ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے ۔‘‘خوف اور دہشت کی فضا میں لپٹے اکثریتی عالمی ذہنوں کو یہ خیال ستا رہا تھا کہ امریکی صدر اپنے عزم پر ڈٹے ایران کے خلاف شائد کوئی ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال کرنے جا رہے ہیں کہ یہ جوہری ہتھیار ہی ہے جو کسی ملک کی قدیمی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر سکتا ہے ۔

امریکی صدر کی ہلاکت خیز دھمکی کے مقابل دُنیا بھر کے فہمیدہ اور سنجیدہ دانشور یہ بھی کہہ رہے تھے :’’ایران ایسی تہذیب کو مٹانا سہل اور ممکن نہیں ہے ۔ایران کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود ایران کو محو کیااور مٹایا نہیں جا سکتا۔ ٹرمپ اور امریکا مٹ سکتے ہیں ، مگر ایرانی تہذیب مٹائی نہیں جا سکتی کہ پچھلے سیکڑوں برسوں کے دوران کئی ہلاکو اور چنگیز ایران پر حملہ آور ہُوئے ، وہ سب رخصت ہو کرمعدوم اور مٹ گئے مگر ایران پھر بھی اپنی جگہ قائم و دائم رہا۔‘‘

آٹھ اپریل کی صبح ہم سب نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہُوئے سُکھ کا سانس لیا کہ نازل ہوتی ممکنہ ہلاکت خیز بلا ٹَل گئی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر اور وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار نے ثالث بن کر ایران و امریکا و اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی جو کوششیں دن رات جاری کر رکھی تھیں ، یہ کاوشیں رنگ لے آئیں ۔ صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکا نے اسلامی جمہوریہ ایران پر جو ناجائز اور بے جا جنگ مسلّط کررکھی تھی ، 38دنوں پر مشتمل محاربے کے بعد اِس میں تعطّل آ گیا ہے ۔

اِس تعطّل کو جنگی وقفہ کہئے ، دو ہفتوں کو محیط جنگ بندی کا نام دیجئے ، سیز فائر سے موسوم کریں یا اِسے متارکہ جنگ (Truce)کے عنوان سے یاد کریں ، سب کا معنی و مفہوم یہی ہے کہ وہ جنگ دو ہفتوں کے لیے بند ہو چکی ہے جس نے دُنیا بھر میں خوف ، بے چینی اور دہشت کی فضا پیدا کر رکھی تھی ۔ مستقبل پر دھند سی چھا گئی تھی۔ خصوصاً تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافوں نے مہنگائی اور گرانی کے ایسے نئے طوفان پیدا کر دیے تھے کہ زندگی روز بروز اجیرن ہو رہی تھی ۔ حکمرانوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بے قابو مہنگائی اور اُبلتے اخراجات پر ڈھکن لگائیں تو کیسے لگائیں ؟

کہا گیا ہے کہ ایران کے پیش کردہ 10نکات کو تسلیم کرتے ہُوئے امریکا نے جنگ بندی پر ہاں کر دی ۔ یہ نکات ابھی مبہم ہیں ۔ مگر چند نکات ایسے ہیں کہ کچھ کچھ نمایاں ہیں ۔ مثال کے طور پر آبنائے ہرمز کا کھولا جانا ، ایرانی افزودہ یورینیم کی ملکیت و اجازت ، اسرائیل و امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ آور نہ ہونے کی سیکیورٹی ، ایران پر کئی سالہ پرانی امریکی پابندیوں کا خاتمہ ۔۔۔۔اِن نکات کی حتمی تشریح و تفسیر ابھی باقی ہے۔ اِسی لیے تو10 اپریل 2026 کو امریکی و ایرانی اعلیٰ سرکاری ذمے داران اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے مجوزہ نکات کو حتمی شکل و صورت دی جا سکے ۔ ابہام کا پردہ بہرحال ابھی اپنی جگہ موجود ہے ۔

اِسی ابہام ہی کی بنیاد پر ایران بھی دعویدار ہے کہ 38روز جنگ میں اُسے فتح ملی ہے، اور امریکا بہادر بھی ’’ببلیاں‘‘ ماررہا ہے کہ وہی جنگ میں فتحیاب ہُوا ہے ، اور اُسی کے پیش کردہ نکات ہی کو بالا دستی ملی ہے ۔غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی دونوں فریقوں کو اپنے اپنے فتوحاتی نعروں کو لگام دینا ہوگی۔ مگر دیکھا جائے تو اصل فاتح تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی خاموش ثالثی اور شٹل ڈپلومیسی نے خونریز اور خونخوار جنگ کو روک دیا ہے۔ اِسی کارن پچھلے کئی ہفتوں سے پاکستان دُنیا بھر کے میڈیا اور عالمی سیاست کی آنکھ کا تارا بنا رہا ۔

 پاکستان سمیت عالمِ اسلام کے عوام جس طرح ایران سے ہمدردی اور وابستگی اختیار کرتے ہُوئے امریکا کی مخالفت میں ایران کا دَم بھر رہے تھے ، سعودی عرب پر بے بنیاد ایرانی حملے نے اِس محبت میں واضح کمی پیدا کر دی۔ِِِِاُمید ہے کہ اِس ردِ عمل اور اِن جذبات کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی محسوس کیا ہو گا۔ اگر یہ احساس گہرا ہوتا ہے تو اِس اساس پر آیندہ کے لیے ایران میں احتیاط کی نئی راہیں کھلیں گی ۔

ایران ، امریکا اور اسرائیل جنگ بندی کے پس منظر میںفتح مندی کے لیے فریقین کو ابھی بغلیں بجانے سے اعراض اور احتراز کرنا چاہیے ۔ ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے۔اِسی غرض سے مکالمے اور کسی حتمی معاہدے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت ، اسلام آباد میں ، آج10اپریل کو ایران اور امریکا کے چند بڑوں کے درمیان مذاکراتی و مکالماتی میز بچھائی جا رہی ہے۔ جس طرح پاکستان کی انتھک کوششوں اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان ، مصری وزیر خارجہ ڈاکٹربدر عبدالعاطی، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی اور ترک وزیر خارجہ حقان فیدان کی اجتماعی مساعی جمیلہ کے کارن جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے ، اِسی طرح اُمید کی جاتی ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والا سہ فریقی مکالمہ بھی کسی بہتر انجام کو پہنچے گا ۔ انشا ء اللہ ۔ واقعہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں ۔ یہ جناب شہباز شریف کی حکومت اور ہماری عسکری قیادت کے لیے ایک نئی اور منفرد آزمائش بھی ہے ۔ اُمیدیں بہرحال یہی ہیں کہ جس طرح جنگ بندی کروانے کی کوششوں کے دوران دُنیا پاکستان کی تعریف و تحسین کررہی تھی، کسی’’ اسلام آباد اکارڈ ‘‘ کی بھی دُنیا بھر میں پاکستان کی تعریف کی جائے گی ۔ انشاء اللہ !!

ایران پر مسلّط کی گئی صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی جنگ نے جارح امریکا اور اسرائیل کا جانی و مالی نقصان تو کم کیا ہے ، مگر ایران کا جانی و مالی نقصان اور تباہی کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایران کی صفحہ اوّل کی قیادت شہید ہو چکی ہے۔ دو ہزار سے زائد ایرانی شہری بھی شہادت پا چکے ہیں ۔ ایران کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے تعمیرِ نَو میں برسوں لگ جائیں گے ۔ اب جب کہ پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کے طفیل ایران اور امریکا میں دو ہفتوں کے لیے متارکہ جنگ یا جنگ بندی یا سیز فائر ہو چکا ہے ، ہمیں فلسطین کے قومی اور عظیم مزاحمتی شاعر ، محمود درویش ، کی ایک چھوٹی سی نظم شدت سے یاد آ رہی ہے :جنگ ختم ہو جائے گی / متحارب ملکوں کے لیڈر آپس میں مصافحہ کر لیں گے /مگر ضعیف بُڑھیا اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرتی رہے گی /جوان لڑکی اپنے محبوب شوہر کے انتظار میں بیٹھی رہے گی / بچے اپنے اُس ہیرو باپ کے انتظار میں گھر کی دہلیز پر منتظر رہیں گے جو جنگ میں کھیت رہا / مجھے نہیں معلوم کس نے میرے وطن میں جنگ کی آگ دہکائی / لیکن مَیں نے دیکھا کس نے اِس کی قیمت چکائی !!





Source link

Continue Reading

Trending