Today News
بہو کے آرام کا معاملہ، رابعہ انعم اور صبا فیصل میں لفظی جنگ
نجی ٹی وی کی رمضان نشریات کی میزبان رابعہ انعم نے سینئر اداکارہ صبا فیصل کے ایک پرانے بیان پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بہو سے متعلق اداکارہ کی رائے بالکل پسند نہیں آئی۔
چند ماہ قبل ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے صبا فیصل نے نئی دلہن کے حوالے سے کہا تھا کہ بہو کو گھر میں سونے یا آرام کرنے سے پہلے ساس یا نند کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا تھا اور کئی صارفین نے اس پر تنقید بھی کی تھی۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں رابعہ انعم نے بغیر نام لیے اسی بیان پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں یہ کہا گیا کہ بہو اگر کچھ دیر آرام کرنا چاہے تو ساس سے اجازت لے، آخر اس کی کیا ضرورت ہے؟
رابعہ نے کہا کہ وہ خود بھی بہو ہیں اور ان کی ساس نے کبھی ان سے اس قسم کی توقع نہیں کی، نہ ہی وہ سمجھتی ہیں کہ کسی کو اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں اس طرح وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر فرد کو اپنی زندگی اپنے انداز میں گزارنے کا حق حاصل ہے اور ایسی روایات کو فروغ دینا درست نہیں۔ رابعہ انعم کے مطابق ہم اکثر ایسے خیالات کو اس لیے دہراتے ہیں کیونکہ ہم برسوں سے بھارتی ڈراموں اور کلچر کے زیرِ اثر ہیں، حالانکہ ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہوتی ہیں اور ہمیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔
دوسری جانب صبا فیصل نے رابعہ انعم کے بیان پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر رابعہ کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ لوگ محض خود کو دانشمند ثابت کرنے اور وقتی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کی بات اتنی ہی غلط تھی تو اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔
یوں بہو اور ساس کے تعلق سے جڑا ایک بیان سوشل میڈیا پر نئی بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں صارفین دونوں شخصیات کے مؤقف پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
Source link
Today News
آیت اللہ کے بیٹے اور ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں؟
ایران میں آیت اللہ کے جانشین کے طور پر سب سے مقبول و معروف شخصیت ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آگیا۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انھیں ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایران کے آئینی طریقہ کار کے تحت رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہوتا ہے اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر ہونا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔
Today News
سعودیہ اور قطر میں موساد کے ایجنٹس گرفتار؛ بم حملوں کی تیاری کر رہے تھے
امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور نامور کالم نگار ٹکر کارلسن نے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے ایک ہولناک انکشاف کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹکر کارلسن نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے۔
جن پر ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے تاکہ ان خلیجی ممالک میں مزید بےچینی پھیلانے اور موجودہ کشیدگی کو وسیع کیا جاسکے۔
ٹکر کارلسن نے مزید کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ خلیجی ممالک جیسے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت کو بھی اپنے مقاصد کے لیے نشانہ بنا رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے۔
اب تک سعودی عرب، قطر یا اسرائیل کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اس حوالے سے مستند رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔
Today News
خامنہ ای کے بعد ایران میں حکومت کس کی ہوگی؟ شاہ ایران کی بیوہ کا بیان آگیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پہلے بار شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی کا بیان سامنے آگیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق شاہِ ایران رضا پہلوی کی اہلیہ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیا ہے۔
فرح پہلوی نے کہا کہ ایک شخص کی موت چاہے وہ طاقت کے ڈھانچے میں کتنے ہی اہم کیوں نہ ہو خودکار طور پر متحرک و سرگرم نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بن سکتی۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن اس کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے آمرانہ نظام کا خاتمہ خودبخود نہیں ہوجائے گا۔
فرح پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی عوام کی صلاحیت ہوگی کہ وہ پُرامن، منظم اور قانون کی حکمرانی پر مبنی نظام قائم کر سکیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی اس عبوری نظام کے منصوبے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے ذریعے ہوا تھا اور شاہی خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا تھا۔
فرح پہلوی اپنے شوہر اور خاندان کے ہمراہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران سے جلا وطن ہو کر تاحال پیرس میں مقیم ہیں۔
ان کے بیٹے رضا پہلوی چند ماہ سے امریکا اور برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition