Today News
تل ابیب میں ایران کا موساد ہیڈ کوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے موساد کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کہ ایران نے کہا ہے کہ اس کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں موساد کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم میڈیا اداروں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کررہی ویڈیو کو اے آئی ساختہ قرار دے دیا ہے۔ مزید برآں اس کی کوئی واضح بین الاقوامی یا آزاد میڈیا آؤٹ لیٹس کی تصدیق بھی سامنے نہیں آئی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں فیکٹ چیکس میں بتایا گیا کہ وہ اے آئی جنریٹڈ ہے اور انہیں غلط طور پر موساد ہیڈکوارٹر پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ حملوں میں تل ابیب اور اس کے اطراف میں عمارتوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ لیکن خاص طور پر موساد ہیڈکوارٹر کی تباہی کا دعویٰ ابھی تک غیر تصدیق شدہ ہے۔
Today News
گلگت بلتستان میں ڈیجیٹل انقلاب؛ وادیٔ سوق میں ایس سی او کی 4G سروسز متعارف
اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن(ایس سی او) نے وادی سوق، گلگت بلتستان میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز 2G سے 4G میں اپگریڈ کر دیں۔
ٹیلی کمیونیکیشن سروسز اپ گریڈیشن کا منصوبہ این جی ایم ایس فیز فور کے تحت کامیابی سے مکمل کیا گیا، 4 جی اپ گریڈیشن سے نہ صرف مقامی آبادی کو تیز اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ میسر آئے گا بلکہ روزمرہ زندگی اور سیاحت کے شعبے میں بھی ترقی کا نیا باب کھلے گا۔
اس موقع پر اہل علاقہ نے ایس سی او کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 4 جی سروسز کی فراہمی نے ہماری زندگیوں میں آسانی، تعلیم میں بہتری اور ترقی کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔
اہل علاقہ نے کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں کے لیے بھی نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے، ایس سی او کی جانب سے فراہم کی جانے والی 4جی سروسز انتہائی معیاری ہیں، جس کے ذریعے ملک بھر میں بلا تعطل رابطہ ممکن ہو گیا ہے۔
Today News
پاکستان میں دہشت گردی کا گھناؤنا منصوبہ: افغان طالبان کا مکروہ چہرہ بے نقاب
پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے گھناؤنے منصوبوں سے افغان طالبان رجیم کامکروہ چہرہ بےنقاب ہو رہا ہے۔
افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق افغان طالبان رجیم پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کا گھناؤنا منصوبہ بنا رہی ہے۔ طالبان فتنۃ الخوارج کو مضبوط کر کے پورے خطے کا امن داؤ پر لگا رہے ہیں۔
طالبان شمالی افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے لیے فنڈز جمع کرنے کی مہم تیز کر چکے ہیں۔ یہ مذموم مہم اب گھر گھر پھیل چکی ہے جس سے پہلے سے شدید معاشی بحران کا شکار افغان عوام مزید مشکلات میں گھر گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقائی مشران کو عوام سے جبری رقم اکٹھی کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے اور مقامی لوگوں پر مالی تعاون کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی یہ مالی اور عسکری معاونت پورے خطے کے لیے مستقل چیلنج ہے۔
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کے شکار افغانستان کے عوام کو ملنے والی عالمی امداد بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی میں لگائی جا رہی ہے۔
افغان طالبان رجیم کا یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
Today News
فکرِ انصاری – ایکسپریس اردو
ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے انتقال کی خبر بادی النظر میں ایک اور علمی شخصیت کے رخصت ہونے کی اطلاع معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے عہد کی ایک ایسی فکری تنہائی کا آغاز ہے جس کا ادراک شاید ہمیں ابھی پوری طرح نہیں ہو سکا۔ کچھ لوگ اپنے زمانے میں بولتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموش ہو کر بھی بولتے رہتے ہیں۔اُن کی آواز کی بازگشت کبھی نہیں تھمتی۔ڈاکٹر انصاری اسی قبیل سے تھے۔ ان کی زندگی ایک مسلسل مکالمہ تھی اور ان کی رحلت اس مکالمے کا اختتام نہیں بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہے۔ وہ اس عہد زوال میں ”اسلامی مابعد الطبیعیات“ کے اس قلعے کے مکین تھے جس پر پہرا دینا بڑے بڑوں کے بس کی بات نہ تھی۔
ہمارا عہد الفاظ کے سحر اور اصطلاحات کے طلسم میں مبتلا ہے۔ ”آزادی، ترقی، انسانی حقوق، جمہوریت“ یہ سب الفاظ ہمارے شعور کا اس طرح حصہ بن چکے ہیں کہ ہم ان پر سوال اٹھانا بھی فکری گستاخی اور ذہنی پسماندگی سمجھتے ہیں، مگر ڈاکٹر انصاری کی پوری فکری جدوجہد انہی ”مقدس گائے“ نما الفاظ کے جادو کو توڑنے کی ایک نہایت سنجیدہ اور ہمہ گیر کوشش تھی۔ وہ ہمیں یہ باور کراتے تھے کہ الفاظ کبھی”ویلیو نیوٹرل“ نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے ایک پورا تصورِ کائنات، ایک مخصوص تصورِ انسان اور ایک خاموش مگر طاقتور مابعد الطبیعیاتی نظام کارفرما ہوتا ہے، وہ عمر بھر اس استعماری بیانیے کی ”ڈی کنسٹرکشن“ کرتے رہے جس نے ہمیں اپنی ہی اصل سے بے گانہ کر دیا تھا۔
مغربی فکر میں ”لبرٹی“ یا آزادی کا جو تصور جان لاک اور ژاں ژاک،روسو سے ہوتا ہوا جدید دنیا تک پہنچتا ہے، وہ بہ ظاہر انسان کو ہر قسم کے استبداد اور جبر سے آزاد کرتا ہے، مگر ڈاکٹر انصاری کے نزدیک یہ آزادی دراصل ایک مہیب اور نئے جبر کی بنیاد رکھتی ہے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ جب انسان کو ”خود مختار“تسلیم کر لیا جاتا ہے تو وہ کسی بالاتر سچائی یا وحی کا پابند نہیں رہتا۔ یوں خیر و شر کی تمیز سماجی معاہدوں کی محتاج ہو کر تحلیل ہو جاتی ہے، اور انسان اپنی جبلتوں اور خواہشات ہی کو معیارِ حق بنا لیتا ہے۔ یہیں سے آزادی ایک اخلاقی قدر کے بجائے ایک نفسیاتی اشتہا بن جاتی ہے،اور انسان، جو بہ ظاہر خدا کی بندگی سے آزاد ہوا تھا، لاشعوری طور پر اپنی ہی انا اور خواہشات کا اسیر ہو کر ا نھیں خدا بنا بیٹھتاہے۔ ڈاکٹر صاحب اسے ”نفس کی حاکمیت“ قرار دیتے تھے جو جدید لبرل ازم کا اصل چہرہ ہے۔
اسی طرح ”پروگریس“ (ترقی) کا وہ تصور، جسے ایمانوئل کانٹ نے عقلی بنیادیں فراہم کیں اور کارل مارکس نے تاریخی جدلیات کے قالب میں ڈھالا، ہمارے عہد کا ایک ایسا ”سیکولر ایمان“ بن چکا ہے جس پر شک کرنا بھی گویا جہالت کی علامت ہے۔ مگر ڈاکٹر انصاری اس خود ساختہ ایمان کے سب سے بڑے اور بے لچک ناقد تھے۔ وہ مادی ترقی کے ڈھول کا پول کھولتے ہوئے پوچھتے تھے کہ اگر تاریخ واقعی مسلسل بہتری اور ارتقاء کی طرف گامزن ہے تو انسان کا باطن پہلے سے زیادہ مضطرب، شکستہ اور تنہا کیوں ہے؟ اگر معاشی ترقی ایک عالمگیر حقیقت ہے تو انسانی رشتے اتنے نازک اور مفاد پرستانہ کیوں ہو گئے ہیں؟ اور اگر معلومات کے انبار میں اضافہ ہوا ہے تو وہ ”حکمت“ کہاں کھو گئی جو روح کو جلا بخشتی تھی؟ ان کے نزدیک یہ سارا بیانیہ دراصل ایک ایسے ”روبوٹک انسان“ کی تخلیق کرتا ہے جو باہر کی دنیا کو تو تسخیر کر لیتا ہے مگر اپنے وجود کے اندر عبرتناک شکست سے دوچار رہتا ہے۔
”ہیومن رائٹس“ یا حقوقِ انسانی کے بارے میں بھی ان کی رائے اسی قدر بنیادی اور انقلابی تھی۔ وہ اسے ایک آفاقی صداقت ماننے سے اس لیے انکار کرتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک حق کا منبع اگر خود انسان ہے تو پھر کائنات کے اربوں انسان اپنی اپنی ضرورت کے مطابق حق کی تعریف وضع کریں گے، جس کا نتیجہ سوائے فکری انارکی کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر حق کا منبع ”خدا“ نہیں ہے تو پھر وحی کے بغیر کوئی بھی حق مستقل بنیاد فراہم نہیں کر سکتا۔ یوں جدید دنیا کا یہ سب سے ”مقدس“ تصور بھی ایک ایسے خلا میں معلق نظر آتا ہے جہاں ضابطے تو موجود ہیں مگر ان کی کوئی اخلاقی جڑ موجود نہیں۔ یہ ایک ایسی شریعت ہے جس کا کوئی شارع نہیں، ایک ایسا قانون ہے جس کا کوئی ابدی ماخذ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب اسے مغربی سامراج کا وہ ہتھیار سمجھتے تھے جسے وہ دوسری تہذیبوں کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
جمہوریت کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا موقف ان کے اسی مربوط فکری تسلسل کا حصہ تھا، وہ اسے محض ایک سیاسی طریقہ کار نہیں بلکہ ایک خاص ”سیاسی مابعد الطبیعیات“ کا اظہار سمجھتے تھے، جہاں حاکمیت اعلیٰ عوام کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اکثریت کی خواہش کو ”حق“ کا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر اکثریت ہی حق کا معیار بن جائے تو پھر تاریخ میں ہونے والے ہر منظم ظلم اور ہر اخلاقی انحراف کو بھی جمہوری جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر انصاری کے نزدیک اسلامی سیاست کا جوہر اس سے یکسر مختلف ہے، جہاں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی ہے اور انسان اس زمین پر اس کا ”خلیفہ“ اور امانت دار ہے، نہ کہ خود مختار قانون ساز۔
سرمایہ دارانہ نظام پر ان کی تنقید ان کی پوری علمی زندگی کا حاصل اور عملی اظہار تھی۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری محض ایک معاشی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور جابرانہ ”طرزِ حیات“ ہے جو انسان کو اللہ کے ”عبد“ کے منصب سے گرا کر ایک ”مصرف کنندہ“ کی سطح پر لے آتا ہے۔ اس نظام میں انسان کی پہچان اس کے تقویٰ، علم یا کردار سے نہیں بلکہ اس کی قوتِ خرید ہوتی ہے۔ یہاں زندگی کا مقصد رضائے الٰہی یا تزکیہ نفس نہیں بلکہ ”زیادہ سے زیادہ حصولِ دولت“ بن جاتا ہے، یوں آزادی کا خوبصورت خواب دراصل ایک ایسی منڈی میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں ہر چیز، ہر جذبہ اور ہر رشتہ قابلِ فروخت ہے،حتیٰ کہ انسان کا ضمیر بھی۔
ڈاکٹر انصاری کی علمی عظمت اس بات میں مضمر نہیں تھی کہ انہوں نے ان تصورات پر محض روایتی تنقید کی، بلکہ کمال یہ تھا کہ انہوں نے یہ جراحی مغرب کی اپنی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے اور انہی کے منطقی اسلوب میں کی۔ وہ مغرب کو رد کرنے سے پہلے اسے اس کی جڑوں تک سمجھتے تھے اور یہی وہ علمی دیانت تھی جو انہیں محض ایک مبلغ نہیں بلکہ ایک ”فیلسوف“ بناتی ہے۔ ان کے ہاں جذباتی نعرہ بازی تھی نہ ہی سطحی انکار، بلکہ ایک ایسی گہری فکری بصیرت تھی جو قاری کو اپنے ہی قائم کردہ یقینات پر شک کرنے اور دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیتی تھی۔
آج ان کی رحلت کے بعد یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ان کی فکر محض کتابوں کے گرد آلود صفحات میں محفوظ ہو جائے گی یا یہ ایک ”زندہ روایت“ کی صورت اختیار کرے گی؟ اس کا جواب ہمیں ان کے ان شاگردوں اور رفقاء کے کام میں ملتا ہے جنہوں نے اس فکری چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ سید خالد جامعی نے جس جرات اور بے باکی کے ساتھ جدید تہذیب کے فکری تضادات کو بے نقاب کیا، وہ اسی انصاری روایت کا تسلسل ہے۔ علی محمد رضوی کی تحریروں میں وہی گہرائی اور تہذیبی شعور جھلکتا ہے جو استاد کی برسوں کی صحبت کا فیض ہے اور ڈاکٹر عبدالوہاب سوری نے جس علمی وقار اور فلسفیانہ سنجیدگی کے ساتھ اس روایت کو اکیڈمک دائروں اور جامعات میں زندہ رکھا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فکر اب ایک فرد سے نکل کر ایک مضبوط ”دبستان“ بن چکی ہے۔ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری اب ایک تاریخ ہیں، اور تاریخ سے وہی قومیں فیض پاتی ہیں جو اس سے سبق سیکھتی ہیں، محض نوحہ خوانی نہیں کرتیں
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go