Today News
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہرشعبے پر پڑے گا،ایکسپریس فورم
ایران اور امریکا اسرائیل جنگ سے دنیا کی معیشت ہل گئی ہے، اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، 78 برسوں سے ہم کرائسس میں ہیں، کسی نے ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی، اب تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کا اثر ہر شعبے پر پڑے گا، غریب مزید پسے گا،ڈیزل مہنگا ہونے سے زراعت بھی متاثر ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے ’’مشرق وسطیٰ جنگ اور معاشی چیلنجز ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا،فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیے۔
سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں انجم نثار نے کہا کہ ایران پر مذاکرات کے دوران امریکا نے جنگ مسلط کی جس سے پوری دنیا کی معیشت کو دھچکا لگا،ایران نے مجبوراً جوابی حملے کیے، عرب و دیگر ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس سے دنیا میں کرائسز پیدا ہوگیا، شکر ہے کہ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہیں،بھارت میں لائنیں لگی ہیں،تیل کی قیمت میں اضافے کا بوجھ ہر شعبے اور عوام پر پڑے گا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ امریکہ نے شمالی کوریا، ویتنام، عراق اور افغانستان میں مار کھائی، اب اس نے ایران پر حملہ کر دیا ، اسرائیلی کہہ رہے ہیں کہ انہیں اس جنگ کا معلوم تھا، انہوں نے شیئرز خرید لیے اور اب فائدہ حاصل کر رہے ہیں،اب اس جنگ اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، پاکستان، چین اور بھارت کی تیل سپلائی کو بند کرنا بھی اس جنگ کا مقصد تھا، امریکہ کے پاس تیل بھی ہے، افرادی قوت بھی اور پیسہ بھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ایم ایف بھی کہتا ہے کہ فسکل مینجمنٹ کریں، اس وقت ضروری ہے کہ نظام میں شفافیت لائیں ، کرپٹ عناصر کا قلع قمع کریں اور تھنک ٹینک بنائیں،شارٹ ٹرم منصوبہ بندی یہ ہونی چاہیے کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں، بارڈر پر ایرانی آئل سمگل ہو رہا، اس پر آنکھیں بند کرلیں، افغانستان سے دوستی کریں،آئی پی پیز سے چھٹکارہ حاصل کریں،سابق نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز محمد ندیم قریشی نے کہا کہ 78 برسوں سے ہم کرائسس میں ہیں ۔
Source link
Today News
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دیدی ہے، تاہم اس کے ساتھ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی نئی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سبسڈی میں سے تقریباً 300 ارب روپے بجلی چوری اور بلوں کی کم وصولی کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس میں عالمی توانائی مارکیٹ خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات شامل ہوں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی کو یقینی بنایا جائیگا، جبکہ مختلف صارفین پر اس کا بوجھ متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے 830 ارب کی سبسڈی کی منظوری تو دی ہے، تاہم یہ حکومت کی طلب سے 16 فیصد کم ہے، اس رقم میں ٹیرف ڈیفرنس، سابق فاٹا کے واجبات، زرعی ٹیوب ویلز، اور سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی شامل ہے۔
حکومت نے ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ بجلی کے شعبے کی مالی بہتری کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، مگر ماضی کی طرح قیمتوں میں اضافے کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں کمی نہ آنا پروگرام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے ماہرین ایک تضاد قرار دے رہے ہیں۔
حکومت نے آزاد بجلی پیدا کرنیوالے اداروں کے ساتھ واجبات کے معاملات جون 2026 تک حل کرنے اور کے الیکٹرک کے ساتھ تنازع دسمبر 2026 تک نمٹانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
Source link
Today News
امریکی دفاعی بجٹ1.5 ٹریلین ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان
امریکا کا دفاعی بجٹ 1.5 کھرب ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان ہے، دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس سے درخواست کر دی ہے، جو جدید تاریخ میں فوجی اخراجات کی بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے بجٹ منصوبے میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، ان کٹوتیوں کا ہدف صحت، تعلیم، رہائش اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے امدادی منصوبے ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر جاری تنازعات، خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، چاہے اس کے لیے فلاحی پروگرامز میں کمی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تاہم اس مجوزہ بجٹ پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف وفاقی قرضے میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ عوامی فلاح کے اہم شعبے بھی متاثر ہوں گے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے داخلی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز دی ہے، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے، اساتذہ کی تربیت، طبی تحقیق، صاف توانائی اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ بعض پروگرامز، جو اقلیتی برادریوں اور کمزور طبقات کی مدد کرتے ہیں، مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔
بجٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے تحت محکمہ انصاف کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بجٹ بغیر بڑی تبدیلیوں کے منظور ہو جاتا ہے تو آئندہ دہائی میں امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تقریباً 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی آئین کے تحت بجٹ کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر کی تجویز کو قانون بنانے کے لیے قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔
Source link
Today News
چلتی مسافر کوچ میں لوٹ مار، تین مسافر زخمی، ملزمان نقدی اور موبائل فونز لے کر فرار
اسلام کوٹ سے حیدرآباد آنے والی ایک مسافر کوچ میں مسلح افراد نے دورانِ سفر لوٹ مار کی، جس کے دوران تین مسافر زخمی بھی ہو گئے۔ واردات کا واقعہ حیدرآباد-میرپورخاص روڈ پر پیش آیا۔
پولیس کے مطابق سات ملزمان میرپورخاص سے مسافروں کے بھیس میں کوچ میں سوار ہوئے اور جیسے ہی کوچ ٹنڈوالہیار کے علاقے کیہری شاخ کے قریب پہنچی تو انہوں نے اسلحہ نکال کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے کوچ میں موجود مسافروں سے کئی لاکھ روپے نقدی اور مختلف اقسام کے موبائل فون لوٹ لیے۔
پولیس کے مطابق لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں ملزمان ٹنڈوجام کے قریب باغ بی بی فاطمہ کے مقام پر کوچ رکوا کر فرار ہو گئے۔
واقعے کے بعد متاثرہ مسافر جب تھانہ راہوکی کی حدود میں پہنچے تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایچ او تھانہ راہوکی سب انسپیکٹر نورشہباز رند کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے ابتدائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
آئی جی سندھ نے ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے، پٹرولنگ اور سرچ آپریشن تیز کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر پولیس پکٹنگ اور چیکنگ مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports7 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines7 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز