Today News
جنگ کے بعد – ایکسپریس اردو
اسرائیل ،گریٹر اسرائیل نہ بن سکا، اس کا سہرا ایران کے غیرت مند لوگوں کو جاتا ہے۔ وہ سامراجی قہر کے سامنے ڈٹے رہے، سینہ تان کے ۔ بلاشبہ پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں، طویل عرصے بعد ہماری قیادت نے اس ملک کے مفادات کی درست طور پر ترجمانی کی ۔
اکثر ہم امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے تھے۔ اس بار ہمیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں۔ امریکا اور کئی ممالک کی خواہش تھی کہ پاکستان جنگ میں کود پڑے۔ ہم سنبھل کر چلے، ہم دفاعی حوالے سے مضبوط تو ہیں مگر مقروض بہت ہیں، ایک ایسی پگڈنڈی تھی جس پر ہرقدم سنبھل کر رکھنا تھا۔
بھروسہ اور ٹرمپ دونوں متضاد حقیقتیں ہیں۔ یہ سب مہربانیاں مودی صاحب کی ہیں، وہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں ہمارے ساتھ جنگ کرنے میں پہل کر بیٹھے، ہمارے پاس اس بار بھروسہ والی چینی ٹیکنالوجی تھی، ہم نے ایک ہی جھٹکے میں دشمن کے سات رافیل جہاز گرادیے۔
دنیا حیرت میں پڑ گئی۔ ابھی تو جنگ چلنی تھی مگر مودی نے ٹرمپ کو بار بار فون کیا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ سیز فائر کروا دو۔وہاں سے ہم نے اپنا کھویا وقار بحال کیا جو ابھی نندن پر گنوایا تھا۔
کس طرح سے ڈپلومیسی کی جاتی ہے شاید جنگ سے بھی زیادہ حساس معاملہ ہے۔ جنگ تو آمنے سامنے ہونے کا نام ہے، سفارتکاری تو پیوندکاری ہے، باریکیاں اور پیچیدگیاں ہیں، الجھی ڈوریوں کو سلجھانا ہے۔ اس بار وہ کام کیا پاکستان نے، دنیا حیران رہ گئی۔
سعودی عرب کو بھی ایران سے بچائے رکھا، تاکہ دفاعی معاہدے کا بھرم رہ جائے اور ایران کو بھی بات چیت میں مصروف رکھا، پاکستان نے اس بار کوئی اڈے نہیں دیے، ایران کو یہ بات اچھی لگی۔ چین نے بھی ایران کو بتایا کہ پاکستان پر بھروسہ کرنا ہوگا۔
امریکا ہمارے ساتھ یاری نبھاتا رہا اور ہندوستان اسرائیل کے ساتھ یاری نبھانے میں سب حدیں پار کرگیا اور اچانک جس کا ہمیں شک تھا وہی ہوا ،اسرائیل اور ہندوستان نے مل کر افغانستان میں طالبان کی حکومت کی حمایت کردی۔ ہم نے بھی ایک دن ضایع کیے بغیر افغانستان کے اندر گھس کر اس کو ’’سمجھایا‘‘ کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے طالبان کو افغانستان میں پناہ نہ دے۔
ہندوستان افغانستان کو بچانے کے لیے بیچ میں نہیں آیا۔ اسے کہیں سے اشارہ تھا کہ پہلے ایران سے نپٹ لیں ۔ایران در اصل ہماری جنگ لڑ رہا تھا، خلیج میں امریکا کے اڈے ہیں، ایران کہتا ہے کہ وہ اڈے اس کے خلاف استعمال ہورہے تھے۔ امریکا اور اسرائیل گریٹر اسرائیل بنا نے جارہے تھے ، لیکن بساط الٹ گئی ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے دفاعی معاہدہ کیا ہے ہندوستان کے ساتھ۔ سب سے زیادہ اسرائیل کے بعد کسی اور ملکوں کو ایران نے نشانے پر رکھا وہ تھے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات۔
اس جنگ میں جو ہمارے سامنے آبنائے ہارمز بند ہونے پر عیاں ہوا کہ ہماری تینوں بندر گاہیں ، ویسٹ وہارف اور ایسٹ وہارف کراچی اور گوادر کی بندرگاہ اتنی مصروف رہیں جس کا ہمیں اندازہ نہ تھا۔ ہمارا کراچی کا ایئرپورٹ بھی پھر ابھر کے سامنے آیا۔
یہ کیا بات ہوئی کہ ہم ایران سے تیل نہیں لے سکتے ، اس سے گیس نہیں لے سکتے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہم خود ہند وستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے اور ایرانی گیس پائپ لائن یہاں سے ہندوستان نہیں جاسکتی، جب کہ یورپ کے تمام ممالک ایسی سرحدیں کھول کر بیٹھے ہیں، یہ سب گریٹر اسرائیل کی ایک شکل تھی۔
یہ جو ہمارے اوپر اتنے قرضے ہیں اورپھر ہم پر قرضے اس لیے بھی ہیں کہ ہم ایران اور ہندوستان کے ساتھ تجارت نہیں کرسکتے۔ افغانستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے ہم سینٹرل ایشیا نہیں جاسکتے، انگریزی میں اس کو competitive advantage کہا جاتا ہے۔
یعنی جو سستا ہے وہ لو اور جہاںمنافع زیادہ ہے وہاں بیچو، ہم اس کے برعکس چلتے رہے۔ اب ہندوستان میں بھی ایک سوچ ابھر رہی ہے کہ وہ چین سے دوستی بڑھائے، روس سے تجارت پاکستان کے ذریعے راہ داری بناکر کرے۔ یہ پورا region امیر ہوسکتا ہے ،اگر ہم اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر کریں۔
بلاشبہ ہمیں تین چار ارب ڈالر دبئی سے آتے ہیں وہاں تار کین وطن جو کام کرتے ہیں وہ ہم بھیجتے ہیں۔ ہم نہیں چاہیں گے کہ ہمارے تعلقات خراب ہوں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات یہ خراب کرنا چاہے گا۔
اس جنگ کے بعد بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ امریکا اب سپر طاقت نہیںرہا۔ ایران کے ساتھ روس ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا تھا اور چین بھی۔ ہند وستان جو اسرائیل کی ٹیکنالوجی لے کر ہم سے لڑا اور ہم چین سے جہاز لے کر اس سے لڑے۔ دنیا اب multilateral ہوگئی ہے۔ ہم پر امریکا کا دباؤ کم ہوا ہے۔ یہ جنگ بھی چین کی مداخلت پر ختم ہوتی ہے۔ ایران کو چین نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھروسہ کرے۔
ٹرمپ کے لیے امریکا کے اندر اس بار بڑی مخالفت کا سامنا ہے، وہ اب طاقتور نہیں رہا، اس سے پاور شفٹ ہوگئی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے پاس، نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات ٹرمپ ہارے گا۔ اب تیزی سے یہ بیانیہ مضبوط ہورہا ہے کہ ٹرمپ ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔
جنگ عظیم دوم کے موقع پر روس میں سائبیریا کی نومبر ودسمبرکی سردی جس طرح جرمنی کے ہٹلر کی شکست کا سبب بنی تھی ،بالکل اسی طرح امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایران کا ایک ایسا مہلک ہتھیار ثابت ہوا کہ جس کی وجہ سے امریکا کو ہتھیار پھینک کر جنگ بندی کرنا پڑی۔ اتنا سبق تو ٹرمپ کو مل گیا ہوگا ، اگلی بار جنگ کرنے سے پہلے کسی جوتشی سے فال ضرور نکلوائے گا۔
اب ہم جنگ کے بعد کے زمانے یا عہد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ طاقت کا سر چشمہ اب ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا ہے سینٹرل ایشیا اور رشیا ہے۔ پاکستان اندر سے اپنے ہاوس کو آرڈر میں لائے ۔ ہمیں فوکس کر نا ہو گا معاشی حوالے سے یہ ہماری جغرافیائی حیثیت تھی ،جس نے ہمیں سر خرو کیا ۔ ہمیں کراچی او ر گوادر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
Today News
بھارتی میڈیا مذاکرات کی کامیابی پر شکوک وشبہات پیدا کرنے میں مگن
پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران کے مابین اسلام آباد مذاکرات پر جہاں دنیا کی نظریں مرکوز ہیں، وہیں بھارتی میڈیا اور اس کے منہ پھٹ اینکرز اسلام آباد کی مثبت کاوش کو نقصان اور مذاکرات کی کامیابی پر شک وشبہات پیدا کرنے میں مگن ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان عالمی امن کے مرکز بن کر ابھرنا معمول پیش رفت نہیں، ایک حقیقی سفارتی لمحہ ہے جس نے پاکستان کو مغرب اور مشرق کے مابین پل کا کردار دیا ہے۔
40 سے زائد عالمی میڈیا اداروں نے مذاکرات کی کوریج کیلئے ویزوں کے درخواستیں دے چکے، معروف بھارتی نیوز چینلز پرائم ٹائم مباحثوں میں پاکستان کے مشرق اور مغرب کے مابین سفارتی پل کے کردار پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا.
بھارتی اینکر ارناب گوسوامی نے پوری پیش رفت اور جنگ بندی کا ایک مذاق قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کیسے ایران امریکا ثالثی کرا سکتا ہے۔
جے ڈی وینس کی سکیورٹی کے سوال پر سابق امریکی سفیر جیفیری گنٹر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انڈیا ٹوڈے نے لائیو براڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ نائب صدر وینس پاکستان کا رخ نہیں کریں گے، طیارہ راستے میں موڑ کر واپس جا سکتے ہیں۔
اس کی برعکس جے ڈی وینس کا طیارہ اسلام آباد اترا جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔ اسی براڈکاسٹ میں دعوے ہوئے کہ کوئی بھی پاکستان کو امن مذاکرات کا کریڈٹ دینا نہیں چاہتا۔
ایک اینکر نے دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر کا طیارے اسلام آباد پہنچنے سے قبل لاپتا ہونے کی پراتھنا کی جا رہی ہیں۔
یہ پرارتھنا پدمناتھ سوامی مندر میں ہوئیں جہاں مقامی پنڈتوں کو وزیراعظم مودی نے پرارتھنا کیلئے 3000 روپے فی کس دیئے، یہ یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ طیارہ پاکستان نہیں پہنچنے گا۔
بھارتی میڈیا کا لہجہ مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کے ’’دوول ڈاکٹرئن‘‘ کے تحت بیانیہ کا عکاس ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار بنانا اور اس کے تحت کئی سال سے بھارت پاکستان کو دہشت گردی برآمد کرنیوالی فیکٹری قراردے رہا ہے۔
سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے فورم پر کہا کہ بھارت سکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز پیدا کرتا ہے، پاکستان صرف دہشت گرد۔
اس بیانیہ نے مغربی پارٹنرز کیساتھ اتحاد بنانے اور عالمی تاثر تشکیل دینے میں بھارت کی معاونت کی۔
تاہم 2020 میں یورپی یونین کی ڈس انفولیب نے 15سالہ بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورک بے نقاب اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں 100 کے قریب ملکوں میں 750 جعلی میڈیا اداروں اور 265 بھارت نواز ویب سائٹ کے ڈس انفارمیشن میں ملوث ہونے کا نشاندہی کی، اقوام متحدہ کی منظورشدہ 10 این جی اوزاور متعدد تنظیموں کو بھی مبینہ طور پر ملوث قرار دیا۔
تفتیش کاروں کے مطابق ڈس انفارمیشن کا مقصد عالمی پلیٹ فارمز استعمال کرکے پاکستان کے خلاف وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
تاہم سینئر رہنما کانگریس ششتی تھرور نے اس پیش رفت پر کہا کہ امن کاوشوں میں پاکستان کا کردار مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، جغرافیہ وعلاقائی حقائق اسلام آباد کو کشیدگی کے خاتمہ میں براہ راست فریق بناتے ہیں،کشیدگی کے خاتمے کی کسی بھی حقیقی کاوش پر ہمیں خوش ہونا چاہیے، کیونکہ استحکام سے سب کے مفادات جڑے ہیں، جن میں توانائی، سلامتی اور معاشی استحکام شامل ہیں۔
Today News
کوئٹہ سریاب روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، راہگیر خاتون زخمی
کوئٹہ میں واقع سریاب روڈ پر مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ میں 2 افراد جاں بحق جبہ راہ گیر خاتون زخمی ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کی مصروف ترین شاہراہ سریاب روڈ پر ایک بار پھر خونریز فائرنگ کا خوفناک واقعہ پیش آیا جس نے شہریوں کے ذہنوں میں دہشت کی لہر دوڑا دی۔
نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پیٹرول پمپ کے قریب ڈھاڈر کے دو رہائشیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے انہیں موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ ایک راہ گیر خاتون بھی گولی کا شکار ہو گئی۔
متوفیوں کی شناخت نصیر احمد اور علی محمد کے نام سے ہوئی جو موٹر سائیکل پر سریاب روڈ سے گزر رہے تھے۔ جب وہ مقامی پیٹرول پمپ کے قریب پہنچے تو اچانک دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر شدید فائرنگ کر دی۔
ائرنگ کی آواز سے آس پاس کا ماحول خوفزدہ ہو گیا اور ایک راہ گیر خاتون بھی گولیوں کا نشانہ بن گئی، جو زخمی حالت میں گر پڑی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور لاشیں سمیت زخمی خاتون کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں افراد کو مردہ قرار دے دیا جبکہ زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد دونوں لاشیں ورثا کے حوالے کر دیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ واقعہ پرانی دشمنی کی بنیاد پر پیش آیا۔ تاہم،ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے بھرپور آپریشن جاری ہے۔ مقدمہ درج کر کے کیس سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
Source link
Today News
امن مذاکرات اور تیل کی قیمتوں میں کمی
پاکستان میں ایران امریکا جنگ کے حوالے سے تاریخ ساز امن مذاکرات کے ماحول میں ہی وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ ڈیزل 135روپے جب کہ پٹرول 12 روپے فی لٹر سستا کر دیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل اورلائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے اگلے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی نئی قیمت 385روپے اور پٹرول کی نئی قیمت 366روپے ہوگی۔ انھوں نے واضح کیا کہ وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہوگی، اس کا فائدہ عوام تک پہنچاؤں گا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کچھ کمی ہوئی ہے ، لہٰذا فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کو روکنے کے لیے حکومت نے 129 ارب روپے خرچ کیے تھے۔انھوں نے پٹرویم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے انکشاف کیا کہ مجھے کہا گیا کہ تیل کی قیمت میں کمی کا کچھ حصہ عوام تک پہنچایا جائے جب کہ کچھ حصہ اخراجات میں کمی پر لگایا جائے، میں نے یہ تجویز مسترد کردی ہے، انھوں نے وضاحت کی کہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ عوام نے صبر اور تحمل سے مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا ہے لہٰذا اب میری ذمے داری ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیگر ذرائع سے کچھ وسائل جمع کرکے اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اس وقت کسان کے لیے لاگت کم کرنا بہت ضروری ہے۔ موٹرسائیکل، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی جاری رہے گی۔
خلیجی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں کے حوالے سے جو مہنگائی دیکھنے میں آئی، وہ یقینا غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔ پوری دنیا اس سے متاثر ہوئی ہے۔ اب جنگ بندی کے باعث معاملات کچھ بہتری کی طرف گامزن ہیں۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کا وفد جنگ بندی کے حوالے سے موجود ہے۔ اسی دوران ایک اور اچھی پیش رفت یہ بھی ہوئی ہے کہ سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مکمل مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
سعودی عرب نے ایسے وقت میں مدد کا ہاتھ بڑھایا جب پاکستان تقریباً 5 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کر رہا ہے اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کے درمیان بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی مسلسل اقتصادی و مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت ہر مشکل وقت میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی سمیت ہر شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق حکومتی حکام نے بتایا کہ سعودی وزیرِ خزانہ نے پاکستان کومکمل مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار پر مملکت کے اعتماد کا اعادہ کیا ہے۔
اگرچہ وزیرِ اعظم اور سعودی وزیرِ خزانہ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں کسی مخصوص مالی تجاویز پر بات نہیں ہوئی، تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب دو روز قبل اپنے ہم منصب کے ساتھ ان تجاویز پر بات کر چکے تھے۔
پاکستان نے اس سے قبل سعودی عرب سے کم از کم 5 ارب ڈالر قرض اور مزید 1.2 ارب ڈالر سالانہ تیل کی مالی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، حکام کے مطابق پاکستان اس وقت 5 ارب ڈالر کے سعودی نقد ڈیپازٹ قرض سے بھی فائدہ اٹھا رہا ہے اور ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اس رقم کو کم از کم دوگنا کرنے کا خواہاں ہے۔
پاکستان اس ماہ 4.8 ارب ڈالر کا قرض واپس کر رہا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کا واجب الادا 3.5 ارب ڈالر بھی شامل ہے۔ کسی بھی نئے قرض کی عدم موجودگی میں زرمبادلہ کے ذخائر 11.5 ارب ڈالر تک گر سکتے ہیں۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مقامی آئل ریفائنریوں سے بھی ریلیف حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جنھوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے غیر متوقع منافع کا ایک حصہ واپس کر دیا، جسے بعد ازاں وزیر اعظم نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کی صورت میں صارفین تک منتقل کر دیا۔
پانچ آئل ریفائنریوں نے ایک ہفتے کے لیے ڈیزل پر مجموعی ریفائنری مارجن میں فی بیرل 70 ڈالر کی رعایت اور پٹرول پر فی بیرل 15 ڈالر کی رعایت چھوڑنے پر اتفاق کیا۔پاکستان نے حالیہ مشکل حالات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
خلیج کی جنگ کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ تاریخ کے اہم ترین مذاکرات اس امر کی دلیل ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت درست ہے۔
اگلے روز ہی برطانوی ہم منصب کیئر اسٹارمر نے ٹیلی فون کیا اورامریکا، ایران جنگ بندی کے لیے موثر سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پرمبارکباد دیتے ہوئے کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
یہ ساری چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی عوام اور کاروباری طبقے نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا ہے۔ پاکستان کے متوسط طبقے نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے ہر فیصلے کو تسلیم بھی کیا ہے۔
حکومت نے بھی جیسے ہی موقع ملا، عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ قوم کو امید ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں اچھی پیش رفت سامنے آئے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کے حالات میں بھی بہتری آئے گی جب کہ پاکستان میں بھی مہنگائی کی لہر میں کمی آئے گی۔
پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آئے گا۔ پاکستان نے اس مشکل وقت میں بہتر منصوبہ بندی کر کے معیشت کو بھی مستحکم رکھا ہے جب کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
اسلام آباد میں امن مذاکرات بھی تاریخ ساز ہیں۔ اس سے پاکستان کے عالمی وقار میں بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ڈپلومیسی کے میدان میں عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ریاست ہے اور عالمی تنازعات کے سلسلے میں پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو پہلے سے بہت بہتر بنایا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا کردار بہت اہم ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خزانہ کا حالیہ دورہ پاکستان اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان غیرمعمولی تعلقات ہیں۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ بھی ایک حقیقی دوست ملک کے طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
سعودی عرب کا تعاون اس سلسلے میں ایک رہنما کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے کاروباری طبقے کو بھی مکمل ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کی بچت کر کے پاکستان اپنے بہت سے معاملات پر قابو پا سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنی عالمی ذمے داریوں کو بااحسن طریقے سے نبھایا ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ہوتی ہے تو اس سے کاروباری سرگرمیوں میں استحکام آئے گا۔ خاص طور پر کنسٹرکشن انڈسٹری اس سے بہت زیادہ فوائد سمیٹے گی۔
کنسٹرکشن انڈسٹری پاکستان میں سکلڈ اور غیرسکلڈ روزگار کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اگر یہ انڈسری چلتی رہتی ہے تو پاکستان میں روزگار بھی چلتا رہے گا۔ دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عالمی امن مذاکرات پاکستان کے عالمی امیج میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان کو جو پذیرائی ملی ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ حالات ایسے بن گئے ہیں کہ جس سے دنیا کی بڑی سے بڑی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو اہے۔ حتیٰ کہ امریکا جیسا ملک جو دنیا بھر میں تیل کے ذخائر کے لیے مشہور ہے، وہاں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔
اسلام آباد امن مذاکرات دنیا میں معاشی استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی سپرپاور کا پاکستان پر اعتماد ہے۔
اسی طرح ایرانی وفد کا پاکستان میں آنا بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ایران کا بھی پاکستان پر اعتماد ہے۔ بھارت جس طریقے سے پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈا کر رہا ہے، اس سے بھارتی مایوسی جھلک رہی ہے۔ بھارت کی بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث بھارت اس وقت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔
پاکستان میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں جب کہ بھارت کو کوئی پوچھ بھی نہیں رہا۔ یہ صورت حال بھارت کی قیادت کے لیے سوہان روح بھی ہوئی ہے۔ بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، وہ اس وقت اپنی غلط پالیسیوں کے باعث اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ اس کا اظہار بھارتی میڈیا بھی کر رہا ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Today News2 weeks ago
بھارتی گانوں پر پابندی کا مطالبہ، ساحر علی بگا کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا