Today News
سچ کی گواہی کون دے گا
کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمارے عہد کی سب سے بڑی محرومی غربت یا بے روزگاری نہیں بلکہ سچ کی کمی ہے۔ سچ جو کہیں دب جاتا ہے، کہیں ڈرا دیا جاتا ہے اورکہیں خرید لیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں میں بہت سی حقیقتوں سے واقف ہوتے ہیں مگر انھیں زبان دینے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں رہ گیا ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ سچ کیا ہے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ سچ کی گواہی کون دے گا؟
اپنے ملک کی طرف دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک عجیب سی اخلاقی تھکن کا شکار ہیں۔ دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو،کسی سیاسی کارکن کی گرفتاری ہو، کسی صحافی کی زبان بندی ہو یا کسی اقلیت کے ساتھ ناانصافی، ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں، چند سطریں لکھتے ہیں اور پھر اپنی روزمرہ زندگی میں لوٹ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اپنی بے بسی کا احساس ہے، شاید ہمیں قیمت کا اندازہ ہے، شاید ہم ڈرتے ہیں۔ مگر یہ ڈر جب اجتماعی عادت بن جائے تو سچ تنہا ہو جاتا ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی فاطمہ جناح نے آمریت کے سامنے کھڑے ہو کر اختلاف کی گواہی دی تھی۔ یہ وہی سماج ہے جہاں حبیب جالب نے ایوانِ اقتدار کے سامنے نظم پڑھ کر سچ کو الفاظ میں ڈھالا تھا، مگر آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے مفاد، اپنی سیاسی وابستگی یا خوف سے بلند ہو کر یہ کہہ سکیں کہ غلط غلط ہے، خواہ وہ کتنا ہی کڑوا سچ ہو۔
ہمارے ہاں سچ اکثر سیاسی وابستگیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ جو بات ہمارے پسندیدہ رہنما کے حق میں ہو، وہ ہمیں سچ محسوس ہوتی ہے جو اس کے خلاف ہو وہ سازش قرار پاتی ہے۔ ہم دلیل سے پہلے شناخت دیکھتے ہیں، بات سے پہلے بولنے والے کا نام۔ یوں سچ ایک اخلاقی قدرکے بجائے ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ میڈیا کا ایک حصہ طاقت کے قریب جا بیٹھتا ہے دوسرا حصہ سنسنی کی دوڑ میں حقیقت کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ عدالتوں پر بوجھ ہے، پارلیمان کمزور ہے اور عام آدمی کے پاس صرف اس کی خاموشی بچتی ہے۔مگر کیا خاموشی واقعی غیر جانبداری ہے یا یہ بھی ایک طرح کی شرکت ہے، جب ہم کسی ظلم پر خاموش رہتے ہیں تو کیا ہم غیر متعلق رہتے ہیں یا غیر محسوس طریقے سے اس کی توثیق کرنے لگتے ہیں؟ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ظلم صرف ظالم کے سبب نہیں پھیلتا بلکہ اس لیے بھی کہ تماشائیوں کی اکثریت اسے معمول سمجھ لیتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں۔ عالمی منظرنامہ بھی اسی تضاد سے بھرا ہوا ہے۔ بڑی طاقتیں انسانی حقوق کا پرچم اٹھائے پھرتی ہیں مگر جب مفادات کا سوال آتا ہے تو اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کسی خطے میں جنگ ہو تو اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے کسی اور جگہ ہو تو دہشت گردی۔ ایک ملک کے پناہ گزینوں کو ہمدردی ملتی ہے، دوسرے کے مہاجرین کو سرحدوں پر روک دیا جاتا ہے۔ سچ یہاں بھی یکساں نہیں رہتا بلکہ جغرافیہ اور سیاست کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ عالمی ادارے قراردادیں منظورکرتے ہیں، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں مگر زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسیاں اکثر انسانی جانوں کے بجائے معاشی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ میڈیا کے بڑے ادارے بھی مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں۔ کسی سانحے کو گھنٹوں نشرکیا جاتا ہے کسی اورکو چند لمحوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ یوں عالمی سطح پر بھی سچ ایک مقابلہ بن جاتا ہے کون سا بیانیہ زیادہ طاقتور ہے، کون سی تصویر زیادہ اثر انگیز ہے۔اس صورتِ حال میں عام انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر متضاد خبریں دیکھتا ہے، مختلف تجزیے سنتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کس پر یقین کرے۔ سچ جیسے دھند میں لپٹ جاتا ہے مگر کیا واقعی سچ اتنا کمزور ہے یا ہم نے اسے پہچاننے کی صلاحیت کھو دی ہے؟
مجھے لگتا ہے کہ سچ ہمیشہ بہت شور کے ساتھ نہیں آتا۔ وہ اکثر دھیمے لہجے میں بولتا ہے، وہ کسی ماں کی آنکھ میں آنسو بن کر جھلکتا ہے ،کسی مزدور کے پسینے میں چمکتا ہے، کسی طالب علم کے سوال میں زندہ رہتا ہے۔ سچ کبھی کبھی ایک تنہا صحافی کی رپورٹ میں ہوتا ہے جو دباؤ کے باوجود قلم نہیں روکتا۔ کبھی وہ ایک جج کے اختلافی نوٹ میں ملتا ہے، کبھی ایک استاد کے سبق میں جو بچوں کو سوال کرنا سکھاتا ہے۔
قومی سطح پر اگر ہم واقعی سچ کی گواہی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر دیانت پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارا پسندیدہ شخص بھی غلطی کرسکتا ہے اور ہمارا مخالف بھی درست ہو سکتا ہے۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھنا ہوگا۔ سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ کر خاموش کردینا آسان ہے مگر یہ رویہ سماج کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب سوال ختم ہو جائیں تو ترقی بھی رک جاتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسانی جان کی حرمت سرحدوں سے بڑی ہے، اگر ہم ایک خطے کے مظلوم کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو دوسرے کے لیے بھی اٹھانی چاہیے، اگر ہم ایک جنگ کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری کی بھی کریں۔ اصول اگر انتخابی ہوجائیں تو وہ اصول نہیں رہتے محض مفاد بن جاتے ہیں۔ سچ کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے معیار کو یکساں رکھیں۔
سچ کی گواہی دینا ہمیشہ انقلابی نعرہ لگانا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ اپنے گھر میں انصاف کرنا ہے، اپنے دفتر میں دیانت داری برتنا ہے، اپنے بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دینا ہے۔کبھی یہ کسی کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، چاہے اس سے ہمیں وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ سچ کا راستہ آسان نہیں مگر یہ واحد راستہ ہے جو سماج کو باوقار بناتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کا عہد عارضی ہوتا ہے۔ تخت بدلتے ہیں حکومتیں بدلتی ہیں، پالیسیاں بدلتی ہیں مگر سچ کی بازگشت باقی رہتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے وقت میں تنہا سمجھے گئے بعد میں انھی کے نام عزت سے لیے گئے اور وہ جو اپنے عہد میں بہت طاقتور تھے مگر سچ کے خلاف کھڑے تھے تاریخ کے حاشیوں میں چلے گئے۔
آج ہمارا امتحان یہی ہے۔ کیا ہم اپنے وقت کے سچ کو پہچان سکیں گے؟ کیا ہم اپنی سہولت اپنے خوف اور اپنے مفاد سے اوپر اٹھ سکیں گے؟ یا ہم بھی ان تماشائیوں میں شامل ہو جائیں گے جنھوں نے سب کچھ دیکھا مگر کچھ نہ کہا؟یہ سوال قومی بھی ہے اور عالمی بھی۔ یہ سوال سیاست کا بھی ہے اور اخلاق کا بھی۔ اور شاید اس کا جواب کسی اورکے پاس نہیں، ہمارے اپنے ضمیر میں ہے۔ سچ کی گواہی دینے والا کوئی دیو مالائی کردار نہیں ہوتا۔ وہ ہم میں سے ہی کوئی ہوتا ہے، ایک عام انسان جو یہ طے کر لیتا ہے کہ وہ خاموشی کو اپنی تقدیر نہیں بنائے گا۔
سو آج پھر وہی سوال ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، سچ کی گواہی کون دے گا؟ اگر ہم نے یہ ذمے داری قبول نہ کی تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب وقت نے ہمیں پکارا تھا تو ہم کہاں تھے۔ اور اگر ہم نے حوصلہ دکھایا تو شاید تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جنھوں نے اندھیرے میں چراغ جلانے کی جسارت کی تھی۔
Today News
ایران امریکا جنگ فضائی حدود کی بندش کامعاملہ سنگین ہوگیا
ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے آج یو اے ای بحرین کویت، قطر سمیت دیگر مشرق وسطی کی 130 پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی ائیرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی قطر، شارجہ، کویت بحرین کی 30 پروازیں منسوخ، اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی ابو ظہبی دوحہ بحرین کویت شارجہ سمیت دیگر ایرپورٹس کی 36 پروازیں منسوخ اور لاہور ائیرپورٹ پر دبئی ابو ظہبی قطر کویت بحرین کی 22 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
پشاور ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ قطر ابو ظہبی کی 14 فلائٹس منسوخ، ملتان ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ راس الخیمہ بحرین دوحہ کویت کی 14 پروازیں منسوخ، سیالکوٹ ائیرپورٹ سے دبئی اور شارجہ ابو ظہبی سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کی 10 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
فیصل آباد ائیرپورٹ سے 4 مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کی گئیں۔ منسوخ پروازوں میں ایمریٹس،اتحاد،ائیر عریبیہ پی آئی اے،ائیر بلیو،قطر ائیرویز سمیت دیگر ملکی اور غیرملکی ائیرلائنز شامل ہیں۔
پاکستان سے مشرق وسطیٰ ملکوں کی منسوخ پروازوں کی تعداد 708 ہوگئی
28 فروری سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت، ایران کی فضائی حدود بند ہونے سے ائیرلائنز کی پروازیں متواتر منسوخ ہورہی ہیں،ذرائع
لاہور مجموعی طور پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے آٹھ ائیرپورٹ سے 167 پروازیں منسوخ ہو ئیں ہیں ائیرپورٹ زرائع
Today News
عمرہ اجازت کیلیے شیخ رشید کی درخواست پر ہائیکورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے
راولپنڈی:
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔
پٹیشن کی سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد ایک تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ جو شخص جب بھی عمرہ پر گیا ہو اور بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے سے روکنا کیا آئین میں دی گئی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کی خلاف ورزی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ سرکار واپسی کی گارنٹی لے کر سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اتھارٹی سے اس حوالے سے اجازت کا موقف معلوم کریں۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی وجہ سے روکا گیا ہے۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسے روکنے کے لیے کوئی واضح قانون موجود ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ عدالت اس کیس کو تفصیلی طور پر سن کر آئین کے آرٹیکل 28-A کے تحت فیصلہ کرے گی۔
شیخ رشید احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ 17 مرتبہ پاکستان کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں لیکن آج انہیں عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی مقدمات کے دوران وہ 8 مرتبہ بیرون ملک گئے اور ہر دفعہ 8 سے 10 دن کے اندر واپس آتے رہے، تاہم اس مرتبہ انہیں 6 ماہ سے عمرہ پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔
وکیل سردار عبدالرازق خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکال چکی ہے لیکن انہیں دوبارہ بغیر کسی وجہ کے سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کسی دفعہ کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران شیخ رشید احمد نے اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ عدالت میں پیش کی۔ اس موقع پر جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی سے پنسل بھی نہیں لے سکتے، اگر آپ کتاب ہائیکورٹ کو دینا چاہتے ہیں تو تحریری طور پر ہائیکورٹ کی لائبریری کو دے دیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو پورا دن سن کر مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔
Today News
مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا
لاہور:
ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد رجسٹرار کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج لاہور نسیم اختر ناز کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے جب کہ سول جج راولپنڈی محمد اسلم کو بھی مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کر دیا گیا۔
اسی طرح سول جج جہلم سرمد سلیم کو بھی عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سول جج سرمد سلیم ایک ماہ کی چھٹی لے کر بیرون ملک گئے تھے اور انہوں نے دوبارہ چارج سنبھالنے کے بجائے استعفا ٰ ارسال کر دیا تھا۔
اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سیشن جج جہلم کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ سول جج نے چھٹیوں کے بعد دفتر کا چارج سنبھالے بغیر استعفا بھجوایا تھا جس کے بعد انتظامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans