Connect with us

Today News

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دائمی میراث

Published

on


ریاستی قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ ایک بہتر اور محفوظ دنیا کا خواب دیکھنے کی بصیرت ہو، اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جرات، استقامت اور صبر موجود ہو۔یہ فکر انگیز قول دراصل قیادت کے حقیقی جوہر کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت محض اقتدار کے حصول یا اس کے استعمال کا نام نہیں، بلکہ ایک بلند وژن رکھنے، حالات کے جبر کا مقابلہ کرنے، اور وقت کی سخت آزمائشوں کے باوجود اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ رہنما دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو وقتی حالات کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، اور دوسرے وہ جو اپنے عزم، بصیرت اور جرأت سے نہ صرف حالات کا رخ موڑتے ہیں بلکہ قوموں کے خوابوں کی تعبیر بھی رقم کرتے ہیں۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق مؤخر الذکر طبقے سے تھا۔شہید بھٹو نے اپنے عہد کی آمرانہ اور گھٹن زدہ سماجی و سیاسی فضا کو چیلنج کیا اور انسانی حقوق، انسانیت کے وقار ، مساوات اور انصاف کے اصولوں سے جڑے ایک نئے سیاسی شعور کی بنیاد رکھی۔

انھوں نے مطلق العنانیت کی دباؤ ڈالنے والی آوازوں کو رد کرتے ہوئے ایک جراتمندانہ راستہ اختیار کیا۔ اسی لیے، جب ان کی برسی مناتے ہیں، تو میں نہ صرف ایک عوامی رہنما اور عظیم مدبر کو یاد کرتا ہوں جنھیں قریب سے جاننے کا مجھے اعزاز حاصل رہا، بلکہ اس گہرے نقش کو بھی محسوس کرتا ہوں جو انھوں نے پاکستان کی روح پر چھوڑا۔ ان کی زندگی اس یقین کی مظہر تھی کہ سیاست، اپنی اعلیٰ ترین صورت میں، عوام کی خدمت کا مقدس فریضہ ہے۔

ان کے انتقال کے طویل عرصے بعد بھی ان کی روشنی مدھم نہیں ہوئی، ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی، اور ایک جامع، منصفانہ، متحد، خوشحال، مضبوط اور باوقار پاکستان کا ان کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔مجھے فخر ہے کہ میرا اپنا سیاسی سفر قائدِ عوام کے نظریات کی روشنی میں پروان چڑھا۔ قائد عوام نے ہی بے آوازوں کو آواز دی اور عوام کو یہ شعور دیا کہ وہ محکوم بننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تقدیر کے خود مالک بننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔

ان کا یہ یقین کہ اقتدار عوام کا حق ہے، میری سیاسی زندگی کے ہر مرحلے میں میرے لیے مشعلِ راہ رہا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سے لے کر وزیر اعظم اور اب چیئرمین سینیٹ تک۔ آج جب میں سینیٹ کی صدارت کر رہا ہوں، تو مجھے ان کا وژن اس آئین میں نظر آتا ہے جو انھوں نے ہمیں دیا، اور اس ادارے میں جو انھوں نے وفاق کے تحفظ کے لیے قائم کیا۔

شہید بھٹو کی قیادت کا سفر ابتدائی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم شخصیت سے متاثر ہوا۔ صرف سترہ برس کی عمر میں انھوں نے قائداعظم کو خط لکھا کہ وہ ایک دن پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کریں گے اور انھوں نے اپریل 1979 میں اپنی شہادت کے ذریعے اس وعدے کو پورا کیا۔ قائداعظم نے انھیں جواب میں نصیحت کی کہ سیاست کا گہرا مطالعہ کریں مگر تعلیم کو نظرانداز نہ کریں۔ یہی تعلق ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد بنا۔

برکلے اور آکسفورڈ جیسی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد، جہاں انھوں نے محض دو سال میں قانون کی ڈگری مکمل کی، بھٹو صاحب وطن واپس آئے۔ جلد ہی وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے لگے، اور 1958 میں صرف تیس برس کی عمر میں ملکی تاریخ کے کم عمر ترین وزیر بنے۔

ان کی سفارتی صلاحیتیں ابتدا ہی سے نمایاں تھیں۔ 1963 میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے ملاقات کے دوران، کینیڈی نے کہا کہ اگر بھٹو امریکی ہوتے تو ان کی کابینہ کا حصہ ہوتے۔ بھٹو کا جواب ان کی حاضر جوابی کا مظہر تھا: “احتیاط کیجیے، جناب صدر، اگر میں امریکی ہوتا تو آپ کی جگہ پر ہوتا۔”

تیز ذہانت، غیر معمولی فہم اور پاکستان کی خودمختاری سے غیر متزلزل وابستگی نے انھیں عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما بنایا۔ بطور وزیر خارجہ، انھوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کیا، چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا اور ایک آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔

تاہم، ان کی اصل عظمت 1971 کی جنگ کے بعد ابھر کر سامنے آئی۔ اس وقت پاکستان شدید بحران کا شکار تھا، مگر بھٹو نے اپنی غیر معمولی سفارتی مہارت سے قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی کو ممکن بنایا۔ شملہ معاہدہ ان کی دور اندیشی کا ثبوت تھا۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کا آئین تھا، جس نے پہلی بار عوامی مرضی سے تشکیل پانے والا جمہوری نظام فراہم کیا۔ انھوں نے سینیٹ قائم کی تاکہ ہر صوبے کو مساوی نمائندگی مل سکے۔

ان کی داخلی اصلاحات بھی بے حد اہم تھیں۔ زمینوں کی تقسیم، پاکستان اسٹیل ملز کا قیام، پورٹ قاسم کی تعمیر، قائداعظم یونیورسٹی کی بنیاد، اور تعلیم کو میٹرک تک مفت کرنا،یہ سب ایک منظم وژن کا حصہ تھے، جس کا نعرہ تھا “روٹی، کپڑا اور مکان”۔

یہی وژن بعد میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آیا، جسے شروع کرنے کا مجھے وزیر اعظم کی حیثیت سے اعزاز حاصل ہوا۔

شہید بھٹو عوام کے جذبات سے ہمیشہ جڑے رہے۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر کے انھوں نے مسلم دنیا کو یکجا کیا۔

پاکستان کے دفاع کے لیے ان کا عزم بھی غیر متزلزل تھا۔ انھوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جو آج پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

تاہم، جولائی 1977 میں ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، اور ایک متنازع عدالتی عمل کے بعد 4 اپریل 1979 کو انھیں پھانسی دے دی گئی، جسے دنیا نے “عدالتی قتل” قرار دیا۔

بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ شہید بھٹو، ان کے بیٹے شاہنواز اور مرتضیٰ، اور ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، سب نے عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

میری اپنی سیاسی جدوجہد میں، میں نے ہمیشہ اس وژن کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم، جو میرے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں منظور ہوئی، صوبائی خودمختاری کی طرف ایک تاریخی قدم تھا۔

شہید بھٹو نے کہا تھا: “ہم صرف ایک جماعت کے وارث نہیں، بلکہ ایک وژن کے امین ہیں۔” یہ وژن ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں غریب نظرانداز نہ ہوں، صوبوں کی آواز دبائی نہ جائے، اور جمہوریت ایک طرزِ زندگی ہو۔

آج جب ہم انھیں یاد کرتے ہیں، تو ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے۔ ان کی روشنی آج بھی ہماری رہنمائی کر رہی ہے، اور ان کی میراث ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس سفر کو جاری رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اور ان کا وژن آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتا رہے۔

جیے بھٹو۔

جیے پاکستان۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران نے 48 گھنٹےکی جنگ بندی کی امریکی تجویز مسترد کر دی

Published

on



ایران نے امریکا کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کی یہ تجویز بدھ کے روز ایک تیسرے ملک کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی، تاہم اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی قیادت میں جاری علاقائی سفارتی کوششوں کا حالیہ دور اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات پر بھی آمادگی ظاہر نہیں کی۔

ثالثی ذرائع کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکی وفد سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں جس سے سفارتی عمل کو دھچکا پہنچا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے اور مذاکرات سے گریز کے بعد خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ کشیدگی کم کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 4 ملزمان زخمی حالت  میں گرفتار

Published

on



مختلف علاقوں میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مبینہ مقابلے، 4 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔

ترجمان ایس ایس پی سینٹرل عمران خان کے جاری کردہ بیان کے مطابق نیو کراچی سیکٹر 11-ای میں دورانِ پیٹرولنگ پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت زین علی کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول، دو راؤنڈ، پرس اور موبائل فون برآمد ہوا۔ زخمی ملزم کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ۔ واقعے کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

خواجہ اجمیر نگری تھانے کی حدود میں رحمانی موڑ سیکٹر 5B/3 نارتھ کراچی کے قریب مبینہ  پولیس مقابلے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کا ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگیا۔

 ترجمان ضلع  سینٹرل پولیس کے مطابق گرفتار ملزم محمد بلال عرف محمد ولد فضل کریم ہے، جس کے قبضے سے 30 بور پستول، لوڈ میگزین اور نقد رقم برآمد ہوئی۔ زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ اس کا کرمنل ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔

 دریں اثناء تھانہ ناظم آباد کی حدود ریلوے کوارٹر مجاہد کالونی پھاٹک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت آصف عرف طور ولد عبدالخالق کے نام سے ہوئی ہے، جس کے قبضے سے غیر قانونی پستول، ایمونیشن، موٹر سائیکل، تین میگزین اور دو راؤنڈ برآمد ہوئے۔ زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ادھر ضلع ملیر کے علاقے خلجی گوٹھ کے قریب پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق زخمی ملزم کی شناخت میر احمد جبکہ دوسرے ملزم کی شناخت جمعہ گل کے نام سے ہوئی ہے۔ گرفتار ملزمان متعدد اسٹریٹ کرائم وارداتوں میں مطلوب تھے۔ ملزمان کے قبضے سے پستول، موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقد رقم برآمد ہوئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جارہا ہے۔ برآمد اسلحہ فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

اعداد کی گواہی ،آٹھ ماہ کا معاشی نوحہ

Published

on


مشرق وسطی محض ایک خطہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے یہاں کی بے یقینی کا مطلب ہے سپلائی چین کا ٹوٹنا، توانائی کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا۔ امریکا، ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی کا وہ مہیب سایہ پڑ چکا ہے جس کے اثرات اب پاکستان کے گلی کوچوں میں نمودار ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کی طرف سے ہونے والے آئے روز دھماکوں کا شکار بیرونی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر معاشی حقائق کو وزارت خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک میں ظاہر کیاگیا ہے جس کے مطابق آٹھ ماہ کا مالی خسارہ 64.7 ارب روپے ظاہر کیاگیا ہے۔ یہ عدد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ریاست کے اخراجات اس کی آمدن کے مقابلے میں اب بھی ایک بڑا بوجھ ہیں، لیکن امید ہے کہ یہ بوجھ آئندہ چند ماہ تک بالکل ہلکا ہوجائے گا کیونکہ کفایت شعاری کے اقدامات کے اثرات جلد ہی ظاہر ہوں گے۔

رپورٹ کا ایک اہم ترین فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری میں 33 فی صد کمی ہوئی ہے محض 1.19 ارب ڈالر، بیرونی سرمایہ کاری میں اتنی زیادہ کمی ظاہر کررہی ہے کہ عالمی سرمایہ کار ہماری مارکیٹ سے دامن بچاکر گزر رہے ہیں۔ کہاں ایک وقت تھا 8 ماہ میں کبھی 8  تا 10 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوا کرتی تھی۔ نائن الیون کے بعد ڈھائی دہائیاں گزرچکی ہیں، ہم اب تک افغانستان سے آنے والے بم دھماکوںکو نہ روک سکے۔ حالیہ دنوں کے دفاعی اقدامات سے امید ہے کہ یہ سلسلہ جلد تھم جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کی نہیں، عالمی کوششوں کے باعث پاکستان کی ایک محفوظ اور پرامن ملک کے طور پر شناخت کے باعث آئندہ چند سالوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقعات ہیں۔

آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں بہتری آئی ہے۔ 8 ماہ کا حالیہ اضافہ ’’اندھیرے میں چراغ‘‘ کی مانند ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آئی ٹی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ مراعات ، سہولیات دی جاتی تو ملک کو زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔ پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق 8 ماہ میں پونے تین ارب ڈالر کا زرمبادلہ اس شعبے کے تحت حاصل ہوئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے 8 ماہ کے مقابلے میں 25 فی صد زائد ہے اور یہ سب آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کا کمال ہے۔

رپورٹ اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ ٹیکسٹائل مشینری اور تعمیراتی سامان کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے بظاہر درآمدات میں اضافہ زرمبادلہ پر بوجھ لگتا ہے لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو تعمیراتی درآمدات اور ٹیکسٹائل مشینریوں کا آنا اس بات کی نوید ہے کہ ملک کا بڑا برآمدی شعبہ خود کو جدید خطوط پر استوار کررہا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں انفرا اسٹرکچر اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں ترقی ہورہی ہے۔

جب معیشت کے دیگر شعبے کمزور ہونے لگتے ہیں تو سمندر پار پاکستانی ایک ایسی ڈھال بن کر سامنے آتے ہیں جو اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے 8 ماہ میں ترسیلات زر میں 10.5فی صد کا اضافہ ہوکر 8.12ارب ڈالر ملک میں آئے۔ جو کسی قرض کے عوض نہیں بلکہ پاکستانیوں کی اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت ہے۔

اس کے علاوہ یہ بتایا گیا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16.4ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم نظر آرہے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر محض وقتی سہارا تو ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں  FDI میں 33فی صد کی کمی کو نمو میں بدلنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف کاغذی گھوڑے نہ دوڑائے بلکہ سرخ فیتہ سے پاک کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے ۔ اس وقت موقع ہے مشرق وسطی کی جنگی صورت حال کے باعث بہت سے عالمی سرمایہ کار پاکستان کی جانب راغب ہوسکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending