Today News
متوازن معاہدے کیلئے تیار ہیں، امریکا قانون کا پابند رہے تو معاہدہ ناممکن نہیں، ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران متوازن اور منصفانہ معاہدے کے لیے مکمل طور پر ہے اور اگر امریکا بین الاقوامی قانون کے فریم ورک پر پابند رہے تو معاہدہ ناممکن نہیں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ٹیلیفون پر بات چیت کی اور اس دوران مغربی ایشیا کے خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کی بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
ایران کے صدر آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اعادہ کیا کہ ایران متوازن اور منصفانہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جو خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت دے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا بین الاقوامی قانون کے فریم ورک پر پابند رہے تو معاہدہ ناممکن نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ روسی صدر پوٹن نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر سخت تنقید کی اور ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے خلاف کسی قسم کے جارحانہ اقدام نہ ہونے کی ضمانت دی جائے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہرجانہ بھی دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق روسی صدر کے دفتر کریملن نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ پوٹن اور مسعود پزشکیان نے خطے میں امن کے قیام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پوٹن نے اس عمل میں مدد فراہم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور زور دیا کہ وہ تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کی تلاش میں مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اور مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کریں گے۔
کریملن نے کہا کہ مسعود پزشکیان اور پوٹن دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خیال رہے کہ روس اور ایران کے صدور کے درمیان اہم رابطہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان طویل گفتگو کے بعد مذاکرات بغیر حتمی نتیجے کے ختم ہونے کے چند گھنٹوں میں ہوا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفد نے شرکت کی، جنہوں نے بیان میں کہا کہ امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات کی وجہ سے مذاکرات کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
مذاکرات میں امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں شریک تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرنے کے امریکی مطالبے کو قبول نہیں کیا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کے بعد شروع ہوئے تھے اور دونوں ممالک نے فوری طور پر دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
Source link
Today News
ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
کراچی:
امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باصلاحیت اور کلیدی ملک قرار دے دیا۔
اپنے خطاب میں سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں انسانی صلاحیتیں اور نوجوان نسل سب سے بڑی طاقت ہیں۔
سفیر نے محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کو عالمی محور بننے کی پیشگوئی کی تھی جو آج حقیقت کا روپ دھارتی نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں کے باعث اسے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ملا، جو عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی، تاہم قوم اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
انہوں نے امریکی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
Today News
سعودی حکومت نے 18 اپریل تک تمام غیر ملکیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکم دے دیا
ریاض:
سعودی وزارت داخلہ نے حج سیزن سے قبل اہم اور سخت انتظامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
جاری بیان کے مطابق 28 اپریل کے بعد صرف حج ویزہ رکھنے والے افراد کو ہی مکہ مکرمہ میں قیام کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام ویزہ ہولڈرز کے لیے شہر میں رہنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق عمرہ ویزہ، وزٹ ویزہ اور دیگر اقسام کے ویزہ رکھنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 18 اپریل تک مکہ مکرمہ چھوڑ دیں۔
اس مقررہ تاریخ کے بعد قیام کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں بھاری جرمانے اور قید کی سزا شامل ہے۔
مزید برآں 13 اپریل سے سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے بھی مکہ مکرمہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جب تک کہ ان کے پاس باقاعدہ پرمٹ نہ ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حج انتظامات کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، تاکہ حجاج کرام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
Today News
پاکستان کا ابھرتا عالمی کردار
بین الاقوامی سیاست کے وسیع اور پیچیدہ منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب تاریخ اپنے دھارے کو معمول سے ہٹ کر ایک نئے رخ پر ڈالتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب طاقت کی روایتی تعریفیں، عسکری برتری کے تصورات اور اقتصادی غلبے کے پیمانے کسی قدر پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور ان کی جگہ فہم و فراست، تحمل، سفارتی مہارت اور توازن کی وہ باریک قوتیں نمایاں ہو جاتی ہیں جو بظاہر دکھائی نہیں دیتیں مگر اپنے اثر میں کہیں زیادہ گہری اور دیرپا ہوتی ہیں۔ حالیہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس انداز سے خود کو منوایا ہے، وہ اسی خاموش مگر موثر قوت کا مظہر ہے، ایک ایسا کردار جس نے نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی بلکہ دنیا کو یہ احساس بھی دلایا کہ امن کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل، پیچیدہ اور اعصاب شکن مذاکرات کا اختتام بظاہر کسی حتمی معاہدے کے بغیر ہوا، مگر اس منظر کو محض ایک سفارتی ناکامی کے طور پر دیکھنا سطحی اور جانبدارانہ تجزیہ ہوگا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اکیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والی یہ بات چیت دراصل ایک ایسے عمل کا حصہ ہے جو فوری نتائج کے بجائے تدریجی پیش رفت پر یقین رکھتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، ایک رسمی اعلان ضرور ہے، لیکن اس کے اندر وہ خاموش اشارہ بھی موجود ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے، راستے مسدود نہیں ہوئے اور بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے جس انداز میں جزوی پیش رفت کا اعتراف کیا، وہ بھی سفارت کاری کی اسی باریک بینی کی عکاسی کرتا ہے جہاں مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود پیش رفت کو تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل کی راہیں ہموار رہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کا کردار محض ایک میزبان سے بڑھ کر ایک فعال مصالحت کار کا بن جاتا ہے۔
اس نے نہ صرف فریقین کو ایک جگہ جمع کیا بلکہ ایسا ماحول بھی فراہم کیا جہاں سخت ترین مؤقف رکھنے والے ممالک بھی نسبتاً نرم لہجے میں گفتگو پر آمادہ ہوئے۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کے تسلسل پر زور دینا دراصل پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی ہے جس میں جذبات کے بجائے حکمت اور وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں جس غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا، وہ اس کی سفارتی کامیابی کی بنیاد ہے۔
عالمی سیاست میں ثالثی کا کردار اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب ثالث کسی ایک فریق کا حامی نہ بنے بلکہ دونوں کے لیے یکساں قابل قبول ہو۔ پاکستان نے اسی اصول کو نہایت مہارت سے اپنایا اور یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں انھوں نے مذاکرات کے نتائج سے بظاہر بے نیازی کا اظہار کیا۔ اس بیان کو اگر سطحی انداز میں دیکھا جائے تو یہ لاتعلقی محسوس ہوتی ہے، مگر گہرائی میں جائیں تو یہ عالمی سیاست کی اس پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے جہاں بیانات اور حقیقی حکمت عملی ہمیشہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف دراصل داخلی سیاسی تقاضوں، عالمی دباؤ اور اسٹرٹیجک ترجیحات کے درمیان ایک توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ امریکا نے پاکستان کی میزبانی میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیے، جو بذات خود پاکستان کی سفارتی حیثیت کا ایک واضح اعتراف ہے۔اس پورے عمل کو اگر وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے اثرات محض پاکستان، ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی خطے اور حتیٰ کہ عالمی سیاست تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تل ابیب میں بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاج اس امر کی علامت ہیں کہ جنگی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر رہا ہے۔ یہ احتجاج صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جہاں عوام اب تصادم کے بجائے امن، استحکام اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا ایک اور اہم پہلو اس کا علاقائی توازن ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ اس کے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات میں پیچیدگی کے باوجود ایک اسٹرٹیجک اہمیت موجود ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نازک کام ہے، مگر پاکستان نے اسے نہایت دانشمندی سے انجام دیا ہے۔ یہی توازن مستقبل میں اسے مزید اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے اس پورے معاملے میں جذباتی یا وقتی فیصلوں کے بجائے ایک طویل المدتی حکمت عملی کو اپنایا، اگر وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تو شاید وقتی طور پر کچھ فوائد حاصل ہو جاتے، مگر اس کا ثالثی کردار ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا۔ اس کے برعکس، غیر جانبداری اختیار کرکے پاکستان نے نہ صرف اپنی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ خود کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر بھی منوایا۔ بھارت کی سفارتی پوزیشن اس تمام منظرنامے میں کمزور دکھائی دیتی ہے۔
خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والی قیادت کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ ایک اہم علاقائی اور عالمی معاملے میں اس کی کوئی نمایاں موجودگی نہیں رہی۔ بھارتی اپوزیشن کی جانب سے اٹھنے والی تنقید اسی خلا کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں پاکستان نے اپنی جگہ بنائی اور عالمی توجہ حاصل کی۔ یہ صورتحال اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ محض دعوے اور نعروں سے عالمی سیاست میں مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقتصادی پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز اور وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے امکانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن اور سفارت کاری کا براہِ راست تعلق معاشی ترقی سے ہوتا ہے۔ جب خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں، تجارتی راستے کھلتے ہیں اور علاقائی تعاون کو فروغ ملتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان اس کامیابی کو مستقل پالیسی میں تبدیل کر سکے گا؟ سفارت کاری میں ایک کامیاب لمحہ جتنا اہم ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اہم اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، لچک اور حقیقت پسندی کو برقرار رکھے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی حکمت عملی کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنی کوششیں برقرار رکھے۔عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب اسے ایک ذمے دار اور مؤثر کردار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔ اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف اپنی موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھنا ہوگا بلکہ انھیں مزید بہتر بھی بنانا ہوگا۔تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے، مگر حالیہ کامیابی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا شدید تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہے۔
ایسے ماحول میں کسی بھی ملک کا مصالحت کار کے طور پر ابھرنا ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔مستقبل کے امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اگر اسی حکمت عملی کو برقرار رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ثالث کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری، توازن اور مکالمے کے اصولوں پر قائم رہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کاوشوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ امن کا راستہ اگرچہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چلنے کے لیے صبر، حکمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان نے اس راستے پر ایک اہم قدم اٹھایا ہے، اب یہ عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ اس قدم کو آگے بڑھائے اور دنیا کو ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور پرامن مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔یہ امر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ عالمی سیاست میں اصل کامیابی وہی ہوتی ہے جو انسانیت کے مفاد میں ہو، جو جنگ کے امکانات کو کم کرے اور جو مکالمے کے دروازے کھلے رکھے۔ پاکستان نے اس سمت میں ایک قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اسے عالمی امن کے قیام میں ایک مرکزی کردار کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach
-
Today News2 weeks ago
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئی
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka sinks Gauff to clinch second straight Miami Open title
-
Sports2 weeks ago
England Test captain Stokes sidelined as he recovers from injury