Connect with us

Today News

مردان میں لینڈسلائیڈنگ کا افسوسناک حادثہ، 9 کان کن جاں بحق

Published

on



خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل رستم کے علاقے ننگ آباد میں مائننگ کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے حادثے میں 9 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع مردان کے علاقے ننگ آباد درنگ میں مائننگ کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

حادثے کے بعد7 ایمبولینسز، ڈیزاسٹر گاڑی اور ایکسیویٹر امدادی کارروائی کیلیے پہنچے اور ملبے سے ابتدا میں تین زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران 9 کان کنوں کی لاشیں نکالی گئیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران اسرائیل جنگ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتی ہے!

Published

on



ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ صرف زمین اور فضا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک ایسا اثر بھی ہے جو آپ کے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی اسکرین تک پہنچ سکتا ہے، چاہے آپ اس خطے سے ہزاروں میل دور ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو جس بڑے خطرے کا سامنا ہے، وہ ہے زیرِ سمندر بچھے ہوئے ’کمیونیکیشن کیبلز‘ کا نیٹ ورک۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کا تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک سیٹلائٹ کے بجائے سمندر کی تہہ میں بچھی ہوئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی طویل فاصلے کی ڈیٹا ٹریفک کا ایک بڑا حصہ خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر یعنی ریڈ سی کے راستے سے گزرتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو اس وقت براہِ راست جنگ کی زد میں ہیں۔ اگر یہ کیبلز سمندری بارودی سرنگوں، بحری جہازوں کے اینکرز یا جان بوجھ کر کی جانے والی تخریب کاری کا شکار ہوتی ہیں، تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کو طویل اور زیادہ پیچیدہ راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی، ڈیٹا کی منتقلی میں تاخیر  اور مشرقِ وسطیٰ سے بہت دور واقع ممالک میں بھی انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ۔

بحیرہ احمر کا راستہ دنیا کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ’شہ رگ‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے ایشیا اور یورپ کو ملانے والی تقریباً 15 سے 17 بڑی کیبلز گزرتی ہیں۔ صرف ایک کیبل کے کٹنے سے پورے براعظم کی انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔

اصل مسئلہ صرف کیبل کا ٹوٹنا نہیں ہے، بلکہ اس کی مرمت کا ’ڈیڈ لاک‘ ہے۔ زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت کے لیے انتہائی جدید اور مخصوص بحری جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں ’کیبل ریپیئر ویسلز‘ کہا جاتا ہے۔ جنگی صورتحال اور سمندر میں موجود خطرات کی وجہ سے یہ جہاز ان متاثرہ علاقوں میں داخل نہیں ہو پا رہے۔ جب تک یہ جہاز وہاں نہیں پہنچتے، ٹوٹا ہوا نیٹ ورک بحال نہیں ہو سکے گا، جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش ہفتوں یا مہینوں تک طویل ہو سکتی ہے۔ اگر یہ انفراسٹرکچر طویل عرصے تک غیر فعال رہا تو اس کا اثر صرف واٹس ایپ یا یوٹیوب تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ عالمی بینکنگ سسٹم، اسٹاک مارکیٹس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر مبنی تمام عالمی سروسز مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

بھارتی گانوں پر پابندی کا مطالبہ، ساحر علی بگا کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا

Published

on



معروف گلوکار ساحر علی بگا نے حالیہ گفتگو میں پاکستان میں بھارتی موسیقی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر میوزک انڈسٹری سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برابری کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہئیں۔

ایک انٹرویو کے دوران ساحر علی بگا نے کہا کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو بھارت فوری طور پر پاکستانی مواد پر پابندیاں لگا دیتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی پلیٹ فارمز پر پاکستانی گانوں، خصوصاً اسٹریمنگ سروسز جیسے اسپاٹی فائے پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے برعکس پاکستان میں بھارتی گانے بدستور سنے جا رہے ہیں۔

گلوکار کا مؤقف تھا کہ اگر بھارتی حکومت یا پلیٹ فارمز پاکستانی موسیقی کو محدود کر رہے ہیں تو پاکستان کو بھی اسی نوعیت کا ردعمل دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اپنی مقامی میوزک انڈسٹری کو فروغ دینے اور اسے عزت دینے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے کی ابتدا بھارت کی جانب سے ہوئی، اس لیے اب پاکستان میں بھی عوام اور حکومت کو اپنی انڈسٹری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ مقامی فنکاروں کو بہتر مواقع مل سکیں اور ملکی موسیقی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ چند روز میں فیصلہ کن ہوگی، امریکا کی ایران کو معاہدہ نہ کرنے پر حملوں میں شدت کی دھمکی

Published

on



امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے ایران کو معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں تنازع کی شدت میں اضافے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ آنے والے چند روز میں فیصلہ کن ہوگی۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ ایران کی جانب سے دبئی کے تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد یہ بیان جاری کیا ہے، جو 28 فروری پر امریکا اور اسرائیل کےحملوں کے بعد خلیج یا آبنائے ہرمز پر تیل کے جہازوں پر شروع کیے گئے حملوں کا نیا سلسلہ ہے۔

پیٹ ہیگزیتھ نے کہا کہ امریکا معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، مذاکرات جاری ہیں اور فیصلہ کن بھی ہو رہے ہیں لیکن اگر ایران نے شرائط نہیں مانے تو امریکا جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع ہفتے کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں سے ملاقات کرکے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مزید آپشنز ہیں اور ان کے پاس کم ہیں، صرف ایک مہینے میں ہم نے شرائط رکھی ہیں اور آنے والے چند روز فیصلہ کن ہوں گے، ایران کو یہ معلوم ہے اور وہ فوجی حوالے سے کچھ کر بھی نہیں سکتا ہے۔

پیٹ ہیگزیتھ نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران میں وسیع پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا مسلسل ایران کی صلاحیتوں کو کم اور تباہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج بدستور پیداواری اور ریسرچ مقامات پر حملے کر رہا ہے اور ایران کے 150 سے زائد جہاز قبضے میں لے چکے ہیں۔

دوسری جانب ایران مکمل طور پر مزاحمت کر رہا ہے حالانکہ امریکی اور اسرائیلی حملے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں اور امریکا کی جانب سے امن کی تجاویز بھی دی گئی ہیں لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ تجاویز غیرحقیقی، غیرمنطقی اور جارحیت پر مبنی ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending