Connect with us

Today News

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان شاہینز ٹیم یو اے ای میں پھنس گئی

Published

on


مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان شاہینز ٹیم بھی یو اے ای میں پھنس گئی۔

پاکستان شاہینز کی ٹیم انگلینڈ لائنز کے ساتھ سیریز کے لیے ابوظہبی میں موجود ہیں، لائنز بھی گھر نہیں جا سکے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے فضائی راستے بند ہوچکے ہیں۔

انگلش لائنز ٹیموں کے ساتھ سابق کرکٹرز اینڈریو فلنٹوف اور جونی بیئر اسٹو سمیت 24 کھلاڑی موجود ہیں۔

لائنز اور شاہینز کے درمیان اتوار کو شیڈول میچ منسوخ کردیا گیا تھا، بقیہ تین میچز بھی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انگلش بورڈ اپنے کھلاڑیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے یو اے ای کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انگلینڈ لائنز کے کھلاڑیوں نے ایک روز قبل اپنی حکومت سے خود کو جلد ازجلد یو اے ای سے نکالنے کی درخواست کی تھی۔

جونی بیئر اسٹو نے یو اے ای سے  نکلنے کے لیے برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر سے مدد مانگ لی، انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے وزیر اعظم اور یواے ای میں برطانوی ایمبیسی کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمیں کسی طرح وطن واپس بھجوایا جائے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

Published

on



اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کیلئے شفا اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی، لطیف کھوسہ، سلمان اکرم راجہ و دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

لطیف کھوسہ نے عدالت سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پیپر بک تیار ہونے میں دو تین دن لگ جائیں گے، آپ کی اسپتال منتقلی کی درخواست پر اسٹیٹ کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ مرکزی اپیل آئندہ ہفتے مقرر کررہے ہیں، آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں، عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس دس مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ، سعودی عرب کا سخت ردعمل آگیا

Published

on


ریاض: سعودی عرب نے ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کو ’غدارانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس میں کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود مملکت اپنی سرزمین اور سفارتی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کو سبق سکھانے کا اعلان کرنے والے علی لاریجانی کون ہیں؟

Published

on


تہران: ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی سکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنما علی لاریجانی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

67 سالہ علی لاریجانی اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں اور امریکا و اسرائیل کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں۔ حالیہ امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد انہوں نے کہا کہ ایران امریکا اور صہیونی حکومت کو ایسا سبق سکھائے گا جو یاد رکھا جائے گا۔

لاریجانی کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا تجربہ کار اور نسبتاً عملی سوچ رکھنے والا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ ماضی میں ایران کے جوہری مذاکرات کار بھی رہ چکے ہیں اور 2008 سے 2020 تک پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر رہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کی پارلیمانی منظوری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ان کا تعلق ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد ایک معروف عالمِ دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی عدلیہ اور دیگر اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

لاریجانی نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس میں انہوں نے جرمن فلسفی کانٹ پر مقالہ لکھا۔

انہوں نے 2005 میں صدارتی انتخاب لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے، بعد ازاں 2021 اور 2024 کے انتخابات میں انہیں گارڈین کونسل نے نااہل قرار دے دیا۔ تاہم اگست 2025 میں صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوبارہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا۔

مبصرین کے مطابق موجودہ بحران میں لاریجانی ایران کی جنگی اور سفارتی حکمت عملی کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں عبوری قیادت کے اہم ستونوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending