Connect with us

Today News

پاک ترکیہ زرعی تعاون اور کسانوں کی امید

Published

on


پاکستان، ترکیہ زرعی معاہدہ بہ ظاہر ایک روشن تصویر ہے، ترکیہ کا زرعی تجربہ واقعی قابل رشک ہے۔ گرین ہاؤس فارمنگ، ڈرپ ایری گیشن، ہائی ویلیو سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور یورپی معیارکی برآمدات اور بہت کچھ ترکیہ کی زراعت کے پاس ہے اور پاکستان کے پاس زمین تو ہے زرخیز، مگر ناکافی پانی کے ساتھ اور کبھی شدید پانی کی طلب کے ساتھ محنت ہے لیکن وہ صحیح جگہ استعمال نہیں ہو رہی۔ غیر پیداواری کاموں میں محنت ضایع ہو رہی ہے اور پاکستان میں زراعت کا مسئلہ کم پیداوار نہیں بلکہ کم انصاف یا ناانصافی ہے، یہاں فصل کسان پیدا کرتا ہے اور آڑھتی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ یہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے لیکن مافیا کے میدان میں قید ہو جاتی ہے۔ کہیں سرکاری گوداموں میں ضایع ہو جاتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، اکثر چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے کہ اتنے ہزار ٹن گندم بارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یا نامعلوم وجہ سے ضایع ہوگئی۔

ہم زراعت کو ریڑھ کی ہڈی توکہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریڑھ کی ہڈی اب جھک گئی ہے کیونکہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں غریب کسانوں کی زندگی کا حساب یوں عذاب میں بدل چکا ہے یعنی بیج، قرض، کھاد، قرض، ڈیزل، ٹیوب ویل، فصل کی قیمت آڑھتی طے کرے گا اور منافع جس کا خواب اب اگلے سال کے لیے کسان دیکھے گا اور کسان کے پاس حسرت ناکامی ہے۔

البتہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کی باتوں سے اسے کامیابی کی امید نظر آنے لگی ہے،کیونکہ ترکیہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستانی کسانوں کے لیے ایک موقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خدشہ بھی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے پاس رہی تو یہ موقع ایک نئی طبقاتی دیوار بن جائے گا،کیونکہ یہاں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آئے گی اس کے لیے سرمایہ چاہیے، بڑی رقم چاہیے وہ غریب کسان کے پاس ہے نہیں۔ اس کے ہاتھ خالی ہیں، ایسے میں پھر سرمایہ دار اس کا حق چھین کر لے جائے گا۔ یہ تعاون کا منصوبہ بہت زیادہ احتیاط طلب کرتا ہے کیونکہ بڑے زمیندار سرمایہ کی بدولت جدید فارمنگ کریں گے۔ ملکی پیداوار تو بڑھے گی لیکن چھوٹا زمیندار پرانی کھیتی کرتا رہ جائے گا۔ اس کی پیداوار کم ہوگی اور زرعی عدم مساوات بڑھ جائے گی، لہٰذا حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوٹے اور اصلاح احوال کس طرح کی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں زرعی مارکیٹ کا آزاد نظام نہیں بلکہ ایک طاقتور گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ، سپلائی سے نہیں بلکہ گودام کی چابی سے زیادہ طے کی جاتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ زرعی تعاون کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور خوراک کی مہنگائی کم ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی برقرار رہی تو مہنگائی برقرار رہے گی۔ پاکستان اس وقت خام مال زیادہ بیچ رہا ہے اور کم ڈالر کما رہا ہے۔ پاکستان اپنی سبزیوں پھلوں وغیرہ کو ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرکے برآمد کرے۔ ترکیہ اس میدان میں ماہر ہے اگر پاکستان نے اس سے سیکھ لیا تو یہ معاہدہ ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زرعی منصوبے کو ترقیاتی منصوبہ کہا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ سرمایہ کے بل بوتے پر مشینری کی درآمد بڑھے گی اور چند گروہ فائدے میں رہیں گے اور کسان کی فصل، سبزیاں، پھل وغیرہ کی قیمتیں وہی طے کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔

پاکستان کا کسان موسم کی سختی، پانی کی کمی بیشی، کھاد کے کم یا زیادہ ڈالنے، بیج ناقص ہو یا اصلی ہو، وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ فصل کم ہو یا زیادہ قیمت کا تعین کرنے والا اپنا فائدہ دیکھتے دیکھتے اسے شدید نقصان سے دوچار کرجاتے ہیں کیونکہ یہاں کا نظام بے حس ہو چکا ہے۔

پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔ یہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت کی بقا سے جڑا ہوا ہو۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ عوام کے لیے مہنگائی میں کمی بھی لے کر آئے، اگر حکومت نے اسے عوام دوست اور کسان کے لیے فائدے کی شکل میں ڈھال دیا تو چھوٹے کسانوں کی حالت بدلی جا سکتی ہے، اگر یہ منصوبہ دیگر مافیاز کے پاس چلا گیا تو قوم کو صرف ایک اعلان ملے گا اور کسان کے سر پر مزید قرض کا بوجھ۔ لہٰذا مجوزہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کو بہت زیادہ چھوٹے کسان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں زیادہ عمل دخل سرمائے کا ہے، لہٰذا چھوٹے کسانوں کے فائدے کے لیے جب ہی ڈھالا جا سکتا ہے جب ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ تعاون ایک شاہکار تعاون میں اسی وقت بدل سکتا ہے جب مہنگائی بھی کم ہو اور کسان جو امید لگائے بیٹھا ہے اس کی امید بھی پوری ہو۔

یہ معاہدہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، غریب کسانوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام ہے جہاں کھیتوں سے امید کی کرن پھوٹے گی اور خوشحالی کے سبز خواب حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ یہ ان تھکے ہارے ہاتھوں کو تھامنے والا سہارا ہے۔ اب انھیں ترکیہ کے ساتھ مل کر پیداوار سے بھرپور ایک روشن صبح کی امید نظر آ رہی ہے لیکن خدشات بھی بہت ہیں شاید وہ حکومت کو نظر آ جائیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی

Published

on



وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو مراسلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کی فلائنگ پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے، خلاف ورزی پر فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا جائے، حساس اور عوامی تنصیبات کے قریب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز استعمال نہیں ہوگا۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کیخلاف اس آپریشن کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

Published

on



پاک افغان جنگ کے دوران پاکستان نے جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آپریشن غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کے خلاف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔

افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو 'ضربِ عضب' کا نام  دیا گیا جو عربی زبان کا لفظ ہے۔ ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔

 پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد  کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا۔ یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے۔

گزشتہ سال مئی کے دوران بھی پاکستان نے بھارت کے خلات آپریشن بنیان مرصوص کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا تھا اور متعدد بھارتی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، بنیان مرصوص کا لفظ بھی قرآن کی آیت سے لیا گیا جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار۔

اسی طرح رواں ماہ میں پاک فوج نے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں طالبان مارے، افغانستان کی متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور کئی چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔

افغانستان کے خلاف اس آپریشن کو غضب للحق کا نام دیا گیا، غضب للحق تین الفاظ کا مرکب ہے یعنی غضب جس کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل، دوسرا لفظ لل ہے جس کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر جبکہ تیسرا لفظ حق ہے جس کا مطلب سچائی ہے۔ یعنی غضب للحق کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔

افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاک فوج نے حق کے دفاع کی خاطر آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا امکان

Published

on



حکومت کی جانب سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی ہے اور یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا امکان ہے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ورکنگ مکمل کرلی ہے اور یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت 4 روپے 58 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 73 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی باقاعدہ منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending