Today News
پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد، گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے
پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم نے سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بناکر ہنگامہ آرائی کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کے کارکنان کا سیکیورٹی گارڈ سے جھگڑا ہوا اور یہ واقعہ لا کالج کے سامنے پیش آیا۔
طلباء تنظیم کے کارکنوں نے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیے جبکہ اہلکاروں پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں جس سے متعدد گارڈ زخمی ہوگئے۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔
دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ لاء کالج بند ہونے کے بعد زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی۔ اجازت نہ ملنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شرپسندی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
اُدھر طلبا تنظیم نے کہا کہ افطار کی اجازت دینے کے باوجود پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے باعث بدنظمی اور پھر معاملہ خراب ہوگیا۔
Source link
Today News
کاٹن ایئر 2025-26، ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار مقررہ ہدف سے 45 فیصد کم
کراچی:
ملک میں کاٹن ایئر2025-26 کے دوران کپاس کی مجموعی پیداوار کا حجم 1.5فیصدکے اضافے سے 56لاکھ 7ہزارگانٹھوں پرمشتمل رہی، تاہم یہ پیداوار مقررہ ہدف کے مقابلے میں 45لاکھ 93ہزار بیلز (45فیصد)کم رہی ہے۔
پی سی جی اے کی رپورٹ میں دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ و بلوچستان میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں پیداواری ہدف تقریباً 17فیصد کم ہونے کے باوجودوہاں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں تقریباً 7.60فیصد زائدہوناہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ فیڈرل کمیٹی آن ایگریکلچر نے کاٹن ایئر2025-26 کیلیے کپاس کامجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ 2لاکھ گانٹھ مقررکیا تھا،جس میں سے پنجاب کیلیے 55لاکھ53ہزارگانٹھ ،جبکہ سندھ وبلوچستان کیلیے 46لاکھ 27ہزارگانٹھ مقررکیاگیاتھا۔
تاہم پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونیوالی زیرتبصرہ سال کی حتمی پیداواری رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران کپاس کی کل پیداوار 56لاکھ 7لاکھ گانٹھ رہی، جوکہ ہدف کے مقابلے میں ریکارڈ 45فیصد کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار 26لاکھ 93ہزار بیلزرہی جوکہ ہدف کے مقابلے میں 28لاکھ 60ہزارگانٹھ (51.50فیصد) کم رہی، جبکہ سندھ و بلوچستان میں اس سال کپاس کی پیداوار29لاکھ 15ہزارگانٹھ رہی جوکہ ہدف کے مقابلے17لاکھ 12ہزارگانٹھ (37فیصد) کم رہی۔
انہوں نے بتایاکہ رواب سال ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر 51لاکھ 88ہزار روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی جبکہ برآمدکنندگان نے جننگ فیکٹریوں سے ایک لاکھ 78گانٹھیں خریدیں۔
جننگ فیکٹریوں، برآمد کنندگان،غلہ منڈیوں اور کاشت کاروں کے پاس روئی کی کل ملا کر تقریباً 4لاکھ گانٹھوں کے ذخائرموجود ہوسکتے ہیں، جن میں سے توقع ہے کہ معیاری روئی کے اسٹاکس تقریباً ایک لاکھ 25گانٹھوں کے لگ بھگ ہوسکتے ہیں۔
اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ٹیکسٹائل ملوں مالکان کی جانب سے معیاری روئی کی درآمدات میں خاصی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان میں روئی کی درآمد میں متوقع غیر معمولی تاخیر کے باعث اندرون ملک روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان متوقع ہے۔
انہوں نے بتایاکہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے رواں سال روئی کی 40لاکھ سے زائد روئی کی گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر برازیل اور امریکاسے کیے گئے ہیں، تاہم عالمی منڈیوں کے حالات بہتر ہونے کی صورت میں پاکستانی ملزروئی کی درآمد بارے مزید معاہدے کر سکتے ہیں۔
پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق فروری کے مہینے کے دوران جننگ فیکٹریوں میں روئی کی 62ہزار 300گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے جوکہ فروری 2025 کی نسبت ریکارڈ 348فیصد زائد ہے۔
جبکہ پنجاب میں اس وقت 67جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ جننگ فیکٹریوں میں ابھی تک کپاس کی آمد جاری ہے اس لیے پی سی جی اے کو چاہیے تھا کہ وہ کپاس کے حتمی پیداواری اعدادوشمار 31مارچ تک کے تین اپریل کو جاری کرتی جس سے کپاس کی پیداوار بارے بہترصورتحال واضح ہوسکتی۔
احسان الحق نے بتایاکہ ایف سی اے کپاس کا پیداواری ہدف 170کلو گرام فی گانٹھ کے حساب سے مقررکرتی ہے ۔
Today News
برطانوی پارلیمنٹ میں تاریخی افطار تقریب، وزیر اعطم کیئر اسٹارمر کی شرکت
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں منعقدہ ایک بڑی افطار تقریب میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے شرکت کی اور روزہ افطار کرنے کے بعد شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں مسلمانوں کے کردار کو سراہا۔
اپنے خطاب میں کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ایران پر کسی جارحانہ حملے میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے اور وہ خود عراق جنگ کے مخالف رہے ہیں۔ ہم تاریخ سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں صرف اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے دفاع کیلئے اقدامات کر رہا ہے، کسی جارحانہ پالیسی کا حصہ نہیں۔
کیئر اسٹارمر نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ مساجد کی سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے 40 ملین پاؤنڈ مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ عبادت گاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تقریب میں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
Today News
turkiye will contribute to the reestablishment of the ceasefire between pakistan and afghanistan
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں نے ترکیہ اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا، جو ترکیہ کی کوششوں سے ہی طے پائی تھی۔
ترک صدر نے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والے تنازعات کے حوالے سے خطے میں ایک بار پھر سفارت کاری اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عمل انتہائی مفید ثابت ہوگا اور ترکیہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
President @RTErdogan spoke by phone with Prime Minister Shehbaz Sharif of Pakistan.
The leaders discussed the Türkiye-Pakistan bilateral relations as well as regional and global issues.
Condemning the terror attacks carried out in Pakistan, President Erdoğan said Türkiye will…
— Presidency of the Republic of Türkiye (@trpresidency) March 3, 2026
قبل ازیں وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوس ناک حملوں کی شدید مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition