Connect with us

Today News

’کئی بار خودکشی کی کوشش کی‘، انصاف کی منتظر ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

Published

on



گزشتہ سال جون میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر ثنا یوسف کی والدہ نے کہا ہے کہ بیٹی کے قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود ہم اب تک انتظار کے منتظر ہیں اور میں نے اس دوران کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کی۔ 

اسلام آباد میں 17 سالہ انفلوئنسر ثناء یوسف کے افسوسناک قتل کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔

ثناء یوسف کو جون 2025 میں ان کے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا اور یہ واقعہ ملک بھر میں غم و غصے کا باعث بنا تھا۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی والدہ نے اپنے غم کی شدت بیان کی اور بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا، مگر اپنی بیٹی کی یاد نے انہیں حوصلہ دیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ان کا کہنا تھا کہ میں روز مرتی ہوں اور روز جیتی ہوں، کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، میں نے بیٹی کے بغیر نہیں رہنا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ نہیں بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو انصاف اس لیے بھی دلانا ہے تاکہ باقی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ ثنا کے ساتھ انصاف ہوا تھا تو ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔

ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ میری ایک ہی بیٹی تھی اور وہ بہت بہادر تھی اور میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتی تھی جب کہ میری بیٹی کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اب تک مجھے انصاف نہیں ملا، میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے انصاف مل جائے اور مجرم کو کڑی سے کڑی سزا مل جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے انکار کردیا تھا جو ملزم سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے قتل کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہے لیکن ملزم کی جانب سے ہائی کورٹ میں کوئی درخواست دی گئی ہے جس کی وجہ سے اتنا وقت گزرگیا ۔ 

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بچوں و خواتین کی آن لائن ہراسگی کے خاتمے کیلیے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری

Published

on



سوشل میڈیا پر بچوں اور خواتین کی ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کے خاتمے کے لیے پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔

بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ کا شکار بچوں اور بچیوں کو شکایت کے لیے کسی تھانے یا دفتر میں نہیں جانا پڑے گا۔

سوشل میڈیا بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ سے متاثرہ کم عمر بچے اور بچیوں کی شکایت کے اندراج کے لیے موبائل یونٹ بنایا جائے گا۔

ہراسمنٹ کا شکار بچے بالخصوص خواتین ورچوئل پولیس اسٹیشن پر بھی شکایت درج کروا سکیں گی۔ سوشل میڈیا بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ سے متاثرہ بچوں اور خواتین کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھی جائے گی۔

سائبر کرائم یونٹ فرنٹ ڈیسک اور ’’پی کے ایم‘‘ ایپ پر بھی شکایت درج کی جا سکے گی۔ سوشل میڈیا بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے قانونی سازی کا فیصلہ کیا گیا۔

پنجاب آن لائن سیفٹی ایکٹ 2026ء کے ابتدائی مسودے پر کام شروع ہوگیا جو جلد پیش کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں سائبر کرائم کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ پنجاب پولیس سائبر پٹرول ونگ اور سائبر پولیس اکیڈمی بھی قائم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سائبر کریمنل کی سرکوبی کے لیے پروایکٹو اپروچ اپنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور سرویلنس کے لیے انٹیلی جنس سسٹم بھی قائم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سائبر کرائم سے متعلق ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کا حکم دے دیا۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم بہت بڑا چیلنج ہے، نئی نسل کا تحفظ چاہتے ہیں۔ بچیوں کو بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے ٹیکنالوجی اور ٹولز کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ والدین بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے پر توجہ دیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف ڈیجیٹل کرائم کو ہر صورت روکنا ہوگا۔ کسی بھی شخص کو دوسروں کو پرائیویسی میں دخل اندازی کا ہرگز حق حاصل نہیں، سوشل میڈیا کریمنلز کو انجام تک پہنچا کر مثال قائم کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ انگلینڈ اور بیلجیم کے لیے فنڈز جاری

Published

on


وفاقی حکومت نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو سینئر ہاکی ٹیم کے دورہ انگلینڈ اور بیلجیم (پرو لیگ) کے لیے درکار تمام فنڈز جاری کردیے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے قومی کھیل کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا اور حکومت کے غیر متزلزل تعاون پر اسکا شکریہ ادا کیا ہے۔

پی ایچ ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ فنڈز کی فراہمی سے قومی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع ملے گا۔

​پی ایچ ایف کی جانب سے حکومت کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان ہاکی کا وقار بلند کیا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہمارے ہیروز قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں جبکہ دورے کے تفصیلی شیڈول اور میچوں کی تفصیلات کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مزید کہا کہ ​ہم حکومت کے اس اعتماد پر ان کے مشکور ہیں اور ان وسائل کو پاکستان ہاکی کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے بروئے کار لائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی سیف سٹی پروجیکٹ فیز ٹو کی منظوری، شہر میں مزید 2300 کیمرے نصب کیے جائیں گے

Published

on


وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ فیز ٹو کی منظوری دے دی جس کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 300 سے زائد اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی زیر صدارت کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فیز ٹو کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس جاوید اوڈھو اور دیگر  متعلقہ حکام  شریک ہوئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ عوام  کی سلامتی اور جرائم کے تدارک کے لیےانتہائی ضروری ہے، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت و تحفظ  حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنائیں گے، منصوبے سے شہر  کی سیکیورٹی، نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا، ٹیکنالوجی کا موثر استعمال جدید دور کا اہم تقاضہ ہے۔

اجلاس میں متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا کہ سیف سٹی فیز ٹو کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 300 سے زائد اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے، 870 عمومی نگرانی، 1,300 آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن اور چہرے کی شناخت سے لیس  ہوں گے، 80 ٹریفک نفاذ ،56 موبائل سرویلنس یونٹس ،8  ٹریفک سگنل مانیٹرنگ کے لیے  ہوں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کیمرے کراچی کے مختلف اضلاع میں نصب کیے جائیں گے، ضلع جنوبی میں 322 کیمرے، ضلع شرقی 220، کورنگی 27، کیماڑی17، ملیر16 اور ضلع غربی میں 1 کیمرا نصب کیا جائے گا، منصوبے کی مجموعی لاگت 9.98 ارب روپے ہے۔ منصوبہ کی تکمیل  آئندہ 12 ماہ کے دوران  متوقع ہے جبکہ منصوبے کا باقاعدہ آغاز مئی 2026 میں کیا جائے گا، منصوبے میں  9 پوائنٹس آف پریزنس، سولر اور جنریٹر بیک اپ، اسمارٹ سرویلنس ٹاور، 50 پبلک پینک بٹن، 8 رسپانس گاڑیاں اور 10 سرویلنس ڈرونز بھی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ  اور قومی سلامتی میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بروقت مکمل ہونا چاہیے، تاخیرسے لاگت  میں اضافہ  ہونے کا خدشہ ہے، وزیراعلیٰ نے سندھ سیف سٹی اتھارٹی  کو تکنیکی عملے کی شفاف اور میرٹ پر بھرتی  کی بھی منظوری دے دی۔ 

اجلاس میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں بھی سیف سٹی منصوبے شروع کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا،  وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کراچی کے علاوہ دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں 780 کیمرے نصب کرنے  کے منصوبے پر 3.15 ارب روپے لاگت  آئے گی، صوبے کے تمام سیف سٹی منصوبوں کو ایک مربوط نظام  یعنی سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کےذریعے چلایا جائے، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہی مؤثر سیکیورٹی کی ضمانت ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہوگا بلکہ ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی خدمات کو بھی بہتر بنائے گا، سندھ حکومت کا کراچی کو ایک جدید، پُرامن اور مضبوط معاشی حب بنانے کا عزم  ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending