Today News
کس نے جنگ کی قیمت چکائی ؟
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ 7اور8اپریل2026 کی درمیانی شب پاکستان،ایران اور مشرقِ وسطیٰ سمیت ساری دُنیا نے کرب و انتظار میں سُولی پر گزاری۔اس کرب میں اربوں انسانوں کی آنکھوں سے نیند کا پرندہ اُڑ چکا تھا۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے ایران کو دھمکی دے رکھی تھی: ’’ اگر ایران نے امریکا سے جنگ بندی کے لیے معاہدہ نہ کیا تو8اپریل ، بروز منگل، کی صبح طلوع ہوتے ہی ایران پر جہنم کا دروازہ کھل جائے گا۔‘‘ ٹرمپ نے مزید سخت لہجے میں کہا تھا: ’’ ایران سے معاہدہ نہ ہُوا تو ایران پر ایسا حملہ کیا جائے گا کہ ( سیکڑوں سالہ قدیم ) ایرانی تہذیب کے آثار ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے ۔‘‘خوف اور دہشت کی فضا میں لپٹے اکثریتی عالمی ذہنوں کو یہ خیال ستا رہا تھا کہ امریکی صدر اپنے عزم پر ڈٹے ایران کے خلاف شائد کوئی ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال کرنے جا رہے ہیں کہ یہ جوہری ہتھیار ہی ہے جو کسی ملک کی قدیمی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے ملیا میٹ کر سکتا ہے ۔
امریکی صدر کی ہلاکت خیز دھمکی کے مقابل دُنیا بھر کے فہمیدہ اور سنجیدہ دانشور یہ بھی کہہ رہے تھے :’’ایران ایسی تہذیب کو مٹانا سہل اور ممکن نہیں ہے ۔ایران کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود ایران کو محو کیااور مٹایا نہیں جا سکتا۔ ٹرمپ اور امریکا مٹ سکتے ہیں ، مگر ایرانی تہذیب مٹائی نہیں جا سکتی کہ پچھلے سیکڑوں برسوں کے دوران کئی ہلاکو اور چنگیز ایران پر حملہ آور ہُوئے ، وہ سب رخصت ہو کرمعدوم اور مٹ گئے مگر ایران پھر بھی اپنی جگہ قائم و دائم رہا۔‘‘
آٹھ اپریل کی صبح ہم سب نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہُوئے سُکھ کا سانس لیا کہ نازل ہوتی ممکنہ ہلاکت خیز بلا ٹَل گئی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر اور وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار نے ثالث بن کر ایران و امریکا و اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی جو کوششیں دن رات جاری کر رکھی تھیں ، یہ کاوشیں رنگ لے آئیں ۔ صہیونی اسرائیل اور مسیحی امریکا نے اسلامی جمہوریہ ایران پر جو ناجائز اور بے جا جنگ مسلّط کررکھی تھی ، 38دنوں پر مشتمل محاربے کے بعد اِس میں تعطّل آ گیا ہے ۔
اِس تعطّل کو جنگی وقفہ کہئے ، دو ہفتوں کو محیط جنگ بندی کا نام دیجئے ، سیز فائر سے موسوم کریں یا اِسے متارکہ جنگ (Truce)کے عنوان سے یاد کریں ، سب کا معنی و مفہوم یہی ہے کہ وہ جنگ دو ہفتوں کے لیے بند ہو چکی ہے جس نے دُنیا بھر میں خوف ، بے چینی اور دہشت کی فضا پیدا کر رکھی تھی ۔ مستقبل پر دھند سی چھا گئی تھی۔ خصوصاً تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافوں نے مہنگائی اور گرانی کے ایسے نئے طوفان پیدا کر دیے تھے کہ زندگی روز بروز اجیرن ہو رہی تھی ۔ حکمرانوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بے قابو مہنگائی اور اُبلتے اخراجات پر ڈھکن لگائیں تو کیسے لگائیں ؟
کہا گیا ہے کہ ایران کے پیش کردہ 10نکات کو تسلیم کرتے ہُوئے امریکا نے جنگ بندی پر ہاں کر دی ۔ یہ نکات ابھی مبہم ہیں ۔ مگر چند نکات ایسے ہیں کہ کچھ کچھ نمایاں ہیں ۔ مثال کے طور پر آبنائے ہرمز کا کھولا جانا ، ایرانی افزودہ یورینیم کی ملکیت و اجازت ، اسرائیل و امریکا کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ آور نہ ہونے کی سیکیورٹی ، ایران پر کئی سالہ پرانی امریکی پابندیوں کا خاتمہ ۔۔۔۔اِن نکات کی حتمی تشریح و تفسیر ابھی باقی ہے۔ اِسی لیے تو10 اپریل 2026 کو امریکی و ایرانی اعلیٰ سرکاری ذمے داران اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے مجوزہ نکات کو حتمی شکل و صورت دی جا سکے ۔ ابہام کا پردہ بہرحال ابھی اپنی جگہ موجود ہے ۔
اِسی ابہام ہی کی بنیاد پر ایران بھی دعویدار ہے کہ 38روز جنگ میں اُسے فتح ملی ہے، اور امریکا بہادر بھی ’’ببلیاں‘‘ ماررہا ہے کہ وہی جنگ میں فتحیاب ہُوا ہے ، اور اُسی کے پیش کردہ نکات ہی کو بالا دستی ملی ہے ۔غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ ابھی دونوں فریقوں کو اپنے اپنے فتوحاتی نعروں کو لگام دینا ہوگی۔ مگر دیکھا جائے تو اصل فاتح تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی خاموش ثالثی اور شٹل ڈپلومیسی نے خونریز اور خونخوار جنگ کو روک دیا ہے۔ اِسی کارن پچھلے کئی ہفتوں سے پاکستان دُنیا بھر کے میڈیا اور عالمی سیاست کی آنکھ کا تارا بنا رہا ۔
پاکستان سمیت عالمِ اسلام کے عوام جس طرح ایران سے ہمدردی اور وابستگی اختیار کرتے ہُوئے امریکا کی مخالفت میں ایران کا دَم بھر رہے تھے ، سعودی عرب پر بے بنیاد ایرانی حملے نے اِس محبت میں واضح کمی پیدا کر دی۔ِِِِاُمید ہے کہ اِس ردِ عمل اور اِن جذبات کو ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی محسوس کیا ہو گا۔ اگر یہ احساس گہرا ہوتا ہے تو اِس اساس پر آیندہ کے لیے ایران میں احتیاط کی نئی راہیں کھلیں گی ۔
ایران ، امریکا اور اسرائیل جنگ بندی کے پس منظر میںفتح مندی کے لیے فریقین کو ابھی بغلیں بجانے سے اعراض اور احتراز کرنا چاہیے ۔ ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے۔اِسی غرض سے مکالمے اور کسی حتمی معاہدے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت ، اسلام آباد میں ، آج10اپریل کو ایران اور امریکا کے چند بڑوں کے درمیان مذاکراتی و مکالماتی میز بچھائی جا رہی ہے۔ جس طرح پاکستان کی انتھک کوششوں اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان ، مصری وزیر خارجہ ڈاکٹربدر عبدالعاطی، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی اور ترک وزیر خارجہ حقان فیدان کی اجتماعی مساعی جمیلہ کے کارن جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے ، اِسی طرح اُمید کی جاتی ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والا سہ فریقی مکالمہ بھی کسی بہتر انجام کو پہنچے گا ۔ انشا ء اللہ ۔ واقعہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں ۔ یہ جناب شہباز شریف کی حکومت اور ہماری عسکری قیادت کے لیے ایک نئی اور منفرد آزمائش بھی ہے ۔ اُمیدیں بہرحال یہی ہیں کہ جس طرح جنگ بندی کروانے کی کوششوں کے دوران دُنیا پاکستان کی تعریف و تحسین کررہی تھی، کسی’’ اسلام آباد اکارڈ ‘‘ کی بھی دُنیا بھر میں پاکستان کی تعریف کی جائے گی ۔ انشاء اللہ !!
ایران پر مسلّط کی گئی صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی جنگ نے جارح امریکا اور اسرائیل کا جانی و مالی نقصان تو کم کیا ہے ، مگر ایران کا جانی و مالی نقصان اور تباہی کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایران کی صفحہ اوّل کی قیادت شہید ہو چکی ہے۔ دو ہزار سے زائد ایرانی شہری بھی شہادت پا چکے ہیں ۔ ایران کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے تعمیرِ نَو میں برسوں لگ جائیں گے ۔ اب جب کہ پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کے طفیل ایران اور امریکا میں دو ہفتوں کے لیے متارکہ جنگ یا جنگ بندی یا سیز فائر ہو چکا ہے ، ہمیں فلسطین کے قومی اور عظیم مزاحمتی شاعر ، محمود درویش ، کی ایک چھوٹی سی نظم شدت سے یاد آ رہی ہے :جنگ ختم ہو جائے گی / متحارب ملکوں کے لیڈر آپس میں مصافحہ کر لیں گے /مگر ضعیف بُڑھیا اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرتی رہے گی /جوان لڑکی اپنے محبوب شوہر کے انتظار میں بیٹھی رہے گی / بچے اپنے اُس ہیرو باپ کے انتظار میں گھر کی دہلیز پر منتظر رہیں گے جو جنگ میں کھیت رہا / مجھے نہیں معلوم کس نے میرے وطن میں جنگ کی آگ دہکائی / لیکن مَیں نے دیکھا کس نے اِس کی قیمت چکائی !!
Today News
کراچی، ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات آج سے شروع
کراچی:
شہر قائد میں ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات آج سے شروع ہو گئے ہیں، جن میں 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شرکت کر رہے ہیں۔
امتحانی عمل کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے حکام کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
پرچوں کی بروقت ترسیل کے لیے شہر کے 18 ٹاؤنز میں 25 حب قائم کیے گئے ہیں، جبکہ امتحانی مراکز کے اطراف سیکیورٹی سخت کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ کرنے کی درخواست دی گئی ہے، جبکہ نقل کی روک تھام کے لیے قریبی فوٹو اسٹیٹ دکانیں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات کا آغاز پہلے 7 اپریل سے ہونا تھا، تاہم بعد ازاں تاریخ تبدیل کر کے 10 اپریل کر دی گئی۔ امتحانات صبح اور دوپہر کی شفٹ میں لیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین میٹرک بورڈ آج صبح 9 بجے میڈیا کے ہمراہ مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کریں گے تاکہ انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
Today News
راولپنڈی میں ریلوے اراضی پر بڑا آپریشن، کروڑوں کی زمین واگزار
راولپنڈی:
ریلوے پولیس نے قبضہ مافیا کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے گڈز اپروچ روڈ پر گرینڈ اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی واگزار کرا لی۔
ترجمان کے مطابق آپریشن میں ریلوے پولیس اور انجینئرنگ ٹیم نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 12 کروڑ روپے مالیت کی زمین خالی کروائی۔
اس دوران 15 پختہ تجاوزات سمیت متعدد کمرشل دکانیں مسمار کر دی گئیں جبکہ رہائشی و کمرشل دونوں نوعیت کی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 2 کنال قیمتی کمرشل زمین واگزار کرائی گئی ہے۔
محمد وصال فخر سلطان راجہ نے قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اراضی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے ایسے آپریشن ناگزیر ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریلوے پولیس تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
Today News
پاکستان دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا، ایران امریکا امن مذاکرات آج اسلام آباد میں ہوں گے
اسلام آباد:
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے اعلیٰ حکام آج وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے۔
ذرائع کے مطابق آج بات چیت کے پہلے دور میں دونوں ممالک کے وفود شرکت کریں گے اور کل صبح ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا طے کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات ایک محفوظ، خفیہ مقام پر میڈیا کی رسائی سے دور منعقد ہوں گے،امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا گیا۔
مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحق ڈار شریک ہوںگے ، ان مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس قیادت کریں گے،وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی کے خدوخال اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے فریقین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے،ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور موجودہ بحران میں پاکستان نے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، موجودہ شدید کشیدگی اور جھڑپیں تقریبا 20 دن سے جاری ہیں۔
دونوں ممالک نے جنگ بندی کے لیے مطالبات رکھے تھے جسے پاکستان نے سعودی عرب ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے آسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ڈرافٹ کی شکل میں تیار کر کے امریکہ اور ایران کے حوالے کیا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فریقین کو اسلام آنے کی دعوت دے دی جس کا امریکہ اور ایران نے خیر مقدم کیااور پوری دنیا میں پاکستان کو بڑی پزیرائی ملی۔
امریکہ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ 15 نکاتی تجویز کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں اہم خدشات پر بھی بات ہوگی جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ،خطے میں مسلح جدوجہد کی حمایت بند، بیلسٹک میزائلوں کی اپ گریڈیشن پر پابندیاں، سمندری راستوں کی سلامتی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وسیع تر علاقائی استحکام شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ 10 نکاتی فریم ورک پیش کر رہا ہے جس میں مستقبل کی فوجی کارروائی کے خلاف مضبوط ضمانتوں کا حصول، خطے میں امریکی فوجی موجودگی، مداخلت میں کمی، آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئے انتظامات، اور ایک جامع علاقائی کشیدگی میں کمی کا طریقہ کار، امریکی پابندیوں کا خاتمہ ، تیل کی برآمدات میں آسانی شامل ہے،پاکستان نے مذاکرات کے لیے میزبانی اور ثالثی فراہم کی ہے جس پر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن ساز اور مثبت ثالث کے طور پردیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب تھی تاہم پاکستان نے سفارتی سطح پر مداخلت کی اور تہران کو صبر و تحمل سے کام لینے اور جوابی کارروائی سے گریز کرنے کے لیے قائل کیا جواس تنازع کو دوبارہ بھڑکا سکتی تھی،ان بیک ڈور رابطوں نے عالمی بحران میں پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پرشہرت کی بلندی تک پہنچا دیا ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا کردارشہرت حاصل کرنیکی کوشش نہیں بلکہ دو ایسے مخالفین کے درمیان بامعنی مکالمے کی سہولتکاری ہے جو دہائیوں سے دشمنی میں جکڑے ہوئے ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Today News2 weeks ago
Rain with Strong Winds and Thunderstorms Forecast in Karachi on Saturday