Today News
ہوگیا رخصت وہ ماہِ عظیم ۔۔۔۔۔ !
اب رمضان المبارک ہم سے بچھڑنے کو ہے۔ رمضان کے بعد دیکھتے ہیں کہ آپ کم کھاتے، کم سوتے، کم بولتے اور کیا اپنے نفس کی چوکی داری کرتے ہیں یا پہلے کی طرح پھر ویسے ہی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ؟
یاد رکھیے! اﷲ تعالی نے سورہ العمران میں ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ ترین چیز اﷲ کی راہ میں نہ دے دو۔ کھانا، پینا، آرام اور نفس کی بے لگام آزادی سے بڑھ کر انسان کی پسندیدہ چیز اور کیا ہوگی۔۔۔ ؟
کم کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مطلوبہ ضروری غذائیت کو ہی فراموش کر بیٹھیں۔ کم کھانے کا مطلب یہ کہ آپ نفس کے اندر موجود، زیادہ سے زیادہ کھانے کی حرص اور اس حوالے سے حرام و حلال دولت اکٹھا کرنے کی ہوس کو لگام ڈالتے ہیں یا نہیں ؟
ضرورت کے مطابق مال و دولت کا تو حکم ہے مگر دراصل یہ مال و دولت کی بے لگام ہوس ہے جو اﷲ انسانی زندگی سے منہا کرنا چاہتے ہیں۔ جب ایک انسان پورا مہینہ بہت کچھ نہ کھا کر اور نہ پی کر بھی زندہ رہ سکتا ہے تو زیادہ سے زیادہ کی ہوس کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔۔۔ ؟
کم سے کم سونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ جسمانی آرام کو اپنی زندگی سے خارج ہی کر دیں بل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے نظام الاوقات کو کس طرح بہترین استعمال کرکے عبادت میں اہتمام کرتے ہیں اور اﷲ کی خاطر کس قدر اپنے آرام اور بے سرو پا محفلوں سے دامن بچاتے ہوئے، اﷲ کے سامنے حاضر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مفہوم: ’’بے شک! رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے۔‘‘ (سورہ مزمل)
مفہوم: ’’دن کے دونوں سروں پر نماز قائم کرو اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی۔‘‘ (سورہ ہود)
مفہوم: ’’ان کے رب نے انھیں جو کچھ عطا فرمایا اسے لے رہے ہوں گے وہ تو اس پہلے ہی نیک تھے وہ راتوں کو بہت کم سویا کرتے تھے اور صبح کے وقت استغفار کیا کرتے تھے۔‘‘ (سورہ الذاریات)
کم بولنا زیادہ غور کرنے سے عبارت ہے۔ روزے کے دوران، شدید بھوک اور پیاس ہمیں خود بہ خود خاموش کرا دیتی ہے۔ رمضان المبارک میں اعتکاف میں بیٹھنے میں کیا مطلب سموئے ہوئے ہے ؟ دراصل اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ دنیا و مافیہا سے الگ اپنے اﷲ سے لو لگا لیتے ہیں اور اس دنیا اور اخروی دنیا سے متعلق سوالات پر غور کرتے ہیں اور اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے نفس کی چوکی داری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔
غور کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ جیسے رمضان المبارک میں اپنے روزے کی حفاظت کے لیے اس بات کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہیں کہ آپ سے کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جو اﷲ کو ناپسند ہو مبادا آپ کا روزہ ضایع ہو جائے بالکل اسی طرح غیر ِ رمضان آپ اپنے نفس کی اسی طرح کی چوکی داری کرتے ہیں یا نہیں ؟
مفہوم: ’’اس عورت نے کہ جس کے گھر میں یوسف تھا، یوسف کو ورغلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازہ بند کر کے کہنے لگی آجاؤ یوسف۔‘‘ (سورہ یوسف)
اسی طرح کی نفس کی نگرانی اﷲ تعالی نے آپ کو تمام رمضان میں سکھائی ہے۔ نفس کی نگرانی کی پورے مہینے عملی مشق کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ غیر ِ رمضان اپنی زندگی کے لمحات کیسے گذارتے ہیں۔۔۔؟
مفہوم: ’’تو جس شخص نے سرکشی کی ہوگی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے مگر ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہو گا۔‘‘ (سورہ النازغات)
حضرت معاذ ؓ سے ابن ماجہ کی حدیث میں مروی ہے کہ آپؐ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: اس کو روک رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے نبیؐ! جو گفت گو ہم عام طور پر کرتے ہیں کیا اس پر بھی مواخذہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے معاذ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں ( یعنی غیبت، بہتان، گالیوں بھری باتیں ) ہی تو ہوں گی۔‘‘
سورہ بنی اسرائیل میں اﷲ تعالی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ہے۔ تفاسیر کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قریب جانے سے مراد ان افعال، حالات اور افراد سے دور رہنا ہے جو زنا کا باعث بن سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک نے آپ کو نفس کی جس چوکی داری کا درس دیا ہے آپ زبان اور زنا کے حوالے سے کس قدر اہتمام کے ساتھ اس کی خبر رکھتے ہیں کہ وہ لوگ کون ہیں جو آپ کو غیبت، گالی، بہتان، فحش گفت گو اور لایعنی باتوں میں الجھا کر آپ کے وقت اور مستقبل دونوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔۔۔ ؟
رمضان المبارک نے آپ کو یہ درس بھی تو دیا ہے کہ بھوک، پیاس اور مادی آسائشوں کی کمی انسانی زندگی پر کس قدر شدید اثرات مرتب کرتی ہے؟ یوں آپ کو اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ بہتر رویوں اور احسان کی روش قائم رکھنے کا امتحان شروع ہونے کو ہے۔
مفہوم: ’’یقیناً! تمہارے اموال اور نفس سے تمہاری آزمائش کی جائے گی۔‘‘ (سورہ العمران)
آپؐ کی حدیث کے مطابق تو ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب ہم اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں۔
ہماری زندگی کا مقصد حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی معیاری تکمیل ہے۔ حقوق اﷲ اور حقوق العباد واضح ہیں اور آپؐ کی صورت ان حقوق کی ادائی کا معیار بھی واضح ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ان دو قسم کے حقوق کی تکمیل کے حوالے سے دنیاوی زندگی میں اپنے اختیار اور شیاطین کی موجودی میں، ایک آزمائش سے دوچار کردیا گیا ہے۔
علوم ِ قرآن و حدیث کا مقصد یہی ہے کہ ان کے ذریعے حقوق اﷲ اور حقوق العباد کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ عام لوگوں کو یہ صراط ِ مستقیم، ان کی اپنی زندگی کے تناظر میں بالکل صاف نظر آئے اور یوں زندگی میں پیش آمدہ کسی دو راہے پر صراط ِ مستقیم طے کرنے کا امکان میسر رہے۔ لیکن صراط ِ مستقیم پر چلنے کے بعد بھی کام یابی اﷲ کی مرضی پر منحصر ہے۔ ہم مسلمان، بچپن سے لڑکپن اور جوانی سے ادھیڑ عمر تک اور پھر بڑھاپے تک ، صراط ِ مستقیم کو طے کرنے کے عمل سے دوچار رہتے ہیں اور یہ سب تدریجاً ہوتا ہے۔
درس ہائے رمضان المبارک بے شمار ہیں مگر ان سب کا مقصد و منتہا یہی ہے کہ آپ انھیں کس قدر اہتمام اور شوق سے اپنی عملی زندگی میں جاری کرتے ہیں ۔۔۔ ؟ اس سلسلے میں آپ تدریج کا راستہ بھی اپنا سکتے ہیں مگر پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ شیطان بھی کہیں تدریج کے ساتھ آپ کو اپنے راستے پر نہ لے جائے۔
مفہوم: ’’پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تُونے ملعون کیا ہی ہے، میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (انسانوں) کو گم راہ کرنے کے لیے بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گذار نہیں پائے گا۔‘‘ اﷲ تعالی نے فرمایا: یہاں سے نکل جا مردود ۔ جو لوگ ان میں سے تیری پیروری کریں گے میں ( ان کو اور تم سب کو) جہنم میں بھر دوں گا۔‘‘ (سورہ اعراف)
رمضان کے بعد جب چھوٹے بڑے شیاطین آزاد ہوں گے تو ایسی صورت میں ہمیں اپنے نفس کی زبردست نگرانی کرنا ہوگی یوں ہمارا امتحاں اور بھی سخت اور محتاط رویوں کا متقاضی ہوگا۔
Today News
پانی کو ہتھیار بنانا انسانیت کے خلاف ہے، پاکستان کا عالمی فورم پر دو ٹوک مؤقف
اسلام آباد:
پاکستان نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے تہذیب، معاش اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے دیا
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری تہذیب، معاش اور ہمارے معاشی مستقبل پر حملہ ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان نے یہ خیالات عالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ظاہر کیے۔
یہ تقریب، جس کا موضوع “پانی اور صنفی مساوات” تھا، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی اور اس کا اہتمام اقوامِ متحدہ میں تاجکستان کے مستقل مشن نے کیا، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس کی مشترکہ میزبانی کی۔
وفاقی وزیر نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم اپنے خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تنازعات کے گہرے بادل منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں ہمارے ہمسایہ ملک کا یکطرفہ طور پر پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے اور سندھ طاس معاہدے جو تقریباً چھ دہائیوں سے قائم ہے کو معطل کرنا نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اس نوعیت کا اچانک اور یکطرفہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک دیرینہ تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمارے لیے پانی فطرت ہے، پانی انسانیت ہے، پانی ہماری تہذیب ہے۔ ہمارے لیے پانی زراعت ہے۔ ہم ایک زرعی معاشرہ ہیں جو عملی طور پر پانی اور زراعت کے سنگم پر قائم ہے۔
انہوں نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے میں زراعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ قریباً نصف افرادی قوت اسی شعبے سے روزگار حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی مکمل طور پر زرعی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث پانی کا مؤثر انتظام قومی بقا اور خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ خواتین کی مجموعی ملازمت کا 61 فیصد سے زائد حصہ زراعت سے منسلک ہے، جو پانی تک رسائی، خواتین کے بااختیار ہونے اور معاشی بہتری کے درمیان براہِ راست تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں موسمیاتی آفات کے انسانی اور سماجی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً 6 ہزار افراد جاں بحق، 20 ہزار زخمی یا معذور ہوئے جبکہ تقریباً 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔
ان میں تقریباً 2 کروڑ اسکول جانے والے بچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بچے کم از کم تین ماہ تک بے گھر رہیں تو اس کا مطلب تقریباً 1.8 ارب تعلیمی دنوں کا ضیاع ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی خواتین ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جب ہم پانی کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم خواتین کے حقوق کی بھی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی پالیسی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی موسمیاتی حکمت عملیوں میں صنفی شمولیت اور مقامی سطح پر شرکت کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تازہ ترین قومی سطح پر متعین کردہ شراکتیں (NDC III) موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی میں خواتین کے کردار کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔
نوجوانوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت “گرین ریولوشن” کے تحت متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں پانی کا مؤثر انتظام ایک کلیدی جزو ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کے لیے جدید خیالات اور کاروباری مواقع کو فروغ دے رہا ہے، خصوصاً زراعت، موسمیاتی مزاحمت اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق شعبوں میں۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ان اقدامات میں کم از کم 50 فیصد شرکت خواتین کی ہو۔
مزید برآں انہوں نے زراعت، پانی اور موسمیاتی امور پر مشترکہ تحقیقی فریم ورک کے قیام کا اعلان کیا، جسے گرین ورچوئل یونیورسٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے اقوامِ متحدہ کی عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کا خیرمقدم کیا اور عالمی یومِ آب کی وسیع تر اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ دن محض پانی کا جشن نہیں بلکہ حقوق کی تجدید کا دن ہے—پانی کے حقوق، خواتین کے حقوق اور کمزور طبقات کے حقوق کا دن۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ آج ہم اپنی انسانیت، اپنی تہذیب اور سب سے بڑھ کر امن کی مشترکہ امید کا جشن منا رہے ہیں۔
Today News
جمعتہ الوداع، سندھ بھر میں ہائی الرٹ، سیکیورٹی فول پروف بنانے کی ہدایت
کراچی:
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جمعتہ الوداع کے موقع پر صوبے بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں اور بڑے اجتماعات کی سیکیورٹی کو ہر صورت فول پروف بنایا جائے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ نمازِ جمعہ کے اجتماعات کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے اور اضافی نفری کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے خاص طور پر حساس اضلاع میں خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کرنے، داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کرنے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
انہوں نے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی کہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے تاکہ آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکوک افراد یا اشیاء کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں، کیونکہ شہریوں کا تعاون سیکیورٹی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے جمعتہ الوداع کے تقدس کے پیش نظر علماء کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں رواداری، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔
Today News
کراچی، عید الفطر پر زائد کرایہ وصول کرنے کے خلاف سندھ پولیس اور موٹر وے پولیس کا آپریشن
کراچی:
جامشورو ٹول پلازہ پر اوور لوڈنگ، زائد کرایہ اور ٹریفک خلاف ورزیوں کے خلاف جاری خصوصی کارروائی میں ایس پی موٹروے پولیس عدیل شہزاد اور ڈی پی او جامشورو ظفر صدیق نے شرکت کی۔
اس موقع پر موٹروے پولیس اور سندھ پولیس نے عیدالفطر کے موقع پر مسافروں کو محفوظ سفر کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔
حکام کے مطابق پبلک سروس وہیکلز میں زائد مسافر بٹھانے اور زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ڈی آئی جی جاوید اکبر ریاض کا کہنا تھا کہ حادثات کی روک تھام کے لیے پی ایس ویز کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے جبکہ ڈرائیونگ لائسنس، فٹنس سرٹیفکیٹ، روٹ پرمٹ اور اوور اسپیڈنگ کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اضافی لوڈ اور بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے والے مسافروں کو فوری طور پر اتارا جا رہا ہے اور کسی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رانگ سائیڈ ڈرائیونگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن کا حکم دیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس قیصر نیازی کے مطابق کمزور اور خراب ٹائروں کے ساتھ ہائی ویز پر سفر پر پابندی عائد ہے اور سخت چیکنگ جاری ہے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport