Today News
آئی ایم ایف کا ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض
اسلام آباد:
عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف ) نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے کی قانونی ترمیم پر اعتراض کر دیا ہے اور اسے واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ کمیشن کسی صورت شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کریگا۔
لاء ڈویژن نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے ابھی تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے، جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی نے نجی قانون سازی کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے لاء ڈویژن سے واضح موقف اختیار کرنے کو کہا ہے ۔ قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں یہ ترمیم قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کے عوامی افشا کو محدود کرنے کے لیے صرف اس وقت منظور کی جب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے ان ترامیم کے بارے میں استفسار کیا ہے ۔ بتایا گیا کہ یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بنیں کیونکہ سینیٹ نے بل پر ووٹ نہیں دیا ہے۔
بل قومی اسمبلی میں گزشتہ سال مئی میں ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے پیش کیا تھا، قومی اسمبلی نے دفعہ 138 میں ترمیم کی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری گزٹ میں ہونے والے انکشافات کی حد کا تعین سرکاری گزٹ میں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے این اے او میں حالیہ ترامیم کے بارے میں بھی بریفنگ لی۔ صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے این اے او (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی تھی جس کے تحت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی تھی۔
نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد کی مدت ملازمت گزشتہ ہفتے ختم ہونے والی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ 2022 کی حکومت نے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع سے متعلق اصل شق کو حذف کیا تھا تو آئی ایم ایف نے اس پر اعتراض کیا تھا اس وقت آئی ایم ایف کا خیال تھا کہ توسیع سے پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم اب آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین سمیت اہم تقرریوں کے لیے زیادہ شفاف طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Today News
توانائی بحران…قومی معیشت کا امتحان
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جب کہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ انھوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر انحصارکرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست یہاں کے عوام اور معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے قوم سے خطاب میں جو اقدامات اعلان کیے گئے ہیں، ان کا بنیادی مقصد اسی ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنا ہے۔ بظاہر ہنگامی نوعیت کے یہ اقدامات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک بڑی معاشی اور توانائی سے متعلق حکمت عملی کار فرما ہے۔
پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، بجلی اورگیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور عام شہری کی قوت خرید میں کمی نے معاشرتی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ یا ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے بحران کو محض ایک تکنیکی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوامی زندگی پر پڑتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، انھیں ایک حد تک مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ماضی میں اسی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ دفاتر میں اوقات کارکم کرنا،گھروں سے کام کی حوصلہ افزائی کرنا اور غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کرنا ایسی حکمت عملیوں کا حصہ ہوتا ہے جن کے ذریعے ایندھن کی کھپت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پتاہم اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرکاری وسائل کے استعمال کا مسئلہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سرکاری اداروں میں گاڑیوں، بجلی اور دیگر وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ موجودہ بحران نے اس مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو مستقل پالیسی بنایا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی بہتر ہو سکتا ہے، اگرچہ حکومت نے موجودہ حالات کے پیش نظر کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات وقتی نہ ہوں بلکہ انھیں مستقل پالیسی کی شکل دی جائے۔
ملک میں کئی دہائیوں سے توانائی کی قلت اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے مسائل موجود ہیں مگر ان کے مستقل حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، اگر ماضی میں متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال پر بھرپور توجہ دی جاتی تو آج پاکستان اس قدر بیرونی ایندھن پر انحصارکرنے پر مجبور نہ ہوتا۔دنیا کے کئی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یورپ، چین اور دیگر خطوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہاں توانائی کے بحران کے اثرات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
پاکستان کے پاس بھی قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی سال کے بیشتر حصے میں دستیاب رہتی ہے جب کہ ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود ان وسائل سے مکمل فایدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔موجودہ بحران ایک طرح سے پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر ہم نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں ایسے بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کی درآمدات پر انحصارکا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی ہر تبدیلی ہمارے معاشی نظام کو متاثرکرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کی پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر مرتب کیا جائے اور مقامی وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔
سیاسی میدان میں بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال کو جواز بنا کر عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جب کہ اشرافیہ اپنی مراعات میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان میں یہ بحث نئی نہیں ہے۔ ہر معاشی بحران کے دوران یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا ہے کہ قربانی کا بوجھ کس طبقے پر پڑ رہا ہے، اگر عام شہری مہنگائی کا شکار ہو اور دوسری طرف حکمران طبقات کی مراعات برقرار رہیں تو اس سے عوامی ردعمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب بھی کسی بحران یا قلت کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو بعض عناصر اس صورتحال سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضروری اشیاء کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سخت نگرانی کرے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیازکارروائی کرے، اگر منڈیوں میں ناجائز منافع خوری کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عوامی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کا ایک اہم پہلو سفارتی بھی ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے اس خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا آیا ہے اور کئی معاملات میں ان ممالک کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون بھی موجود ہے۔ اس لیے موجودہ بحران میں پاکستان کو ایک متوازن اور ذمے دارانہ سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی سطح پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ معاشی استحکام کے بغیرکوئی بھی ملک بیرونی بحرانوں کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتا، اگر معیشت مضبوط ہو، توانائی کے ذرائع متنوع ہوں اور مالیاتی نظم و ضبط موجود ہو تو عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات نسبتاً کم محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کمزور معیشت والے ممالک ہر عالمی بحران سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے، اگر اس بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کے نتیجے میں توانائی، معیشت اور حکمرانی کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو یہ ملک کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ توانائی کی بچت، قابل تجدید ذرائع کا فروغ، حکومتی اخراجات میں کمی اور شفاف معاشی پالیسی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف موجودہ بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ملک کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور اجتماعی ذمے داری کی ہے۔ حکومت، اپوزیشن،کاروباری طبقہ اور عوام سب کو مل کر اس مشکل دور کا مقابلہ کرنا ہوگا، اگر سیاسی اختلافات کو ایک حد تک پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو ایسے حالات میں بہتر فیصلے ممکن ہو سکتے ہیں۔ بحران کے اوقات میں قومیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اجتماعی حکمت عملی اور مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا توانائی بحران ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی حالات کس قدر تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دانشمندانہ پالیسی، ذمے دار قیادت اور عوامی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موجود ہے کہ وہ اس بحران کو محض ایک مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاحات اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اگر ایسا کیا گیا تو ممکن ہے کہ آج کا یہ مشکل وقت مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ثابت ہو۔
Today News
اشرافیہ کا نظام حکمرانی – ایکسپریس اردو
پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے ۔کیونکہ حکمرانی کی نظام کی بنیاد جہاں عوامی مفادات کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے وہی نظام ریاست کے اندر اپنی سیاسی، سماجی،آئینی ،قانونی اور معاشی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔یہ نظام اور اس میں موجود حکمرانی کا طرز عمل طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد گھومتا ہے اور اسے حق حکمرانی میں ایک مخصو ص طبقہ پر مبنی طبقاتی حکمرانی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔
اس ملک کی حکمران اشرافیہ طاقت ور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے اور جو بھی پالیسیاں یا قانون سازی یا عملی اقدامات کسی تناظر میں بھی سامنے آتی ہیں اس کے پیچھے طاقت ور طبقات کے باہمی مفادات کے کھیل کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اس طرز کے نظام کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں جو بھی حالات برے ہوتے ہیں یا جو بھی آفات یا حادثات سامنے آتے ہیں اس کا بوجھ طاقت ور طبقات کے مقابلے میں کمزور یا عام افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔یعنی اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ خود اپنے اوپر کسی بھی طرز کا بوجھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے حکمرانی کے نظام میں ریاست،حکومت ،طاقت ور طبقات اور عام افراد کے درمیان سیاسی ومعاشی خلیج کا عمل بڑھتا جارہا ہے ۔
حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلا بوجھ بھی اس حکومت یا طاقت ور اشرافیہ نے خود پر ڈالنے کی بجائے لوگوں پر پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کی صورت میں کیا ہے ۔حالانکہ حکومت کی جانب سے عوام کو بتایا گیا تھا کہ ابھی ہمارے پاس کئی ہفتوں کا تیل موجود ہے مگر اچانک رات کی تاریکی میں قیمتوں میں اضافہ کرکے اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے یہ ہی ظاہر کیا ہے کہ ان کے سامنے عوامی اور کمزور طبقات کے مفادات کی ترجیحات کی کتنی اہمیت ہے ۔
حکمران طبقات جس سیاسی ڈھٹائی سے قیمتوں میں اضافہ کا جواز پیش کررہے ہیں وہ کافی حد تک شرمناک ہے۔یعنی اس سیاسی اور حکمران اشرافیہ نے جنگ کو بنیاد بنا کر عملی طور پر لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے اور خود اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔وزیر اعظم سیاسی کفایت شعاری یا بچت کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے یہ خوش نما نعروں کی عملی کوئی حیثیت نہیں۔ان کی اپنی جماعت اور خاندان کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں جو مہنگا ترین جہاز اور جہاز کا مہنگا ترین عملہ سمیت صوبائی بیوروکریسی کے لیے مہنگی ترین گاڑیاں خریدی ہیں اس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم جن حالات کی بنیاد پر معاشی بدحالی یا بحران کا شکار ہیں تو ایسے میں طاقت ور طبقات یا سیاسی اشرافیہ کی سیاسی عیاشیاں اور ان کا شاہانہ حکمرانی کا طرز عمل ہم دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھ سکتے ۔حکمران طبقات کی یہ ساری سیاسی عیاشیاں عوامی وسائل اور بجٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اورہم انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے یا ان کی ترقی پر پیسہ لگانے کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر اور سیاسی عیاشیوں پر لگاتے ہیں ۔ہم صرف حکومت اور ریاستی سطح پر موجود افراد،اداروں اور اعلی عہدے داروں جو پروٹوکول کی بنیاد پر مراعات دے رہے ہیں کچھ اس کا ہی تجزیہ کرکے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ حکمرانی او رحکمرانوں کے طاقت ور نظام کی ہم کتنا بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔
کمزور لوگوں کو طاقت ور طبقات کے خلاف آواز اٹھانے یا ان کے سامنے اپنی بات کرنے کے لیے اداروں کی موجودگی ہوتی تھی اور لوگوں کو یہ یقین ہوتا تھا کہ ہمیں ان اداروں سے اپنے حقوق یا حق کے تناظر میں انصاف مل سکے گا۔لیکن اسی طاقت سیاسی اشرافیہ نے ایک مخصوص پالیسی کے تحت اداروں میں سیاسی مداخلتیں کرکے ان کو جہاں کمزور کردیا ہے وہیں یہ ادارے مفلوج بھی ہوگئے ہیں ۔لوگوں کا اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور ان کولگتا ہے ادارے بھی عام افراد کے مقابلے میںطاقت ور افراد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔گورننس کا نظام جس پر حکومتی سطح سے اربوں روپے لگائے جارہے ہیں مگر سب سے کمزور پہلو بھی گورننس کا نظام ہی ہے ۔یہ مسئلہ محض کسی ایک صوبہ تک محدود نہیں بلکہ ہم وفاق سے لے کر صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع اور اضلاع سے لے کر تحصیل یا محلوں اور گاوں کی سطح پر دیکھیں تو بنیاد ی حق حکمرانی کا نظام برے طریقے پامال کیا جارہا ہے ۔ترقی کے عمل ذمینی حقایق سے زیادہ اخبارات ، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیاکی سطح پر بڑے بڑے اشتہاری تشہیر کی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ہم اس وقت رمضان المبارک سے گزرہے ہیں ۔ہمیں لوگوں کی معاشی ترقی کے مقابلے میں ہر طرف یہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ملک میں خیرات کی بنیاد پر راشن کی تقسیم ،سحری اور افطاری کا مفت بندوبست،محلوں یا گلیوں یا بازاروں کی سطح پر قائم دستر خوان وہ بھی حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ ہماری معاشی حیثیت کی اصل کہانی کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔حقیقی حکمرانی کا نظام لوگوں کی معاشی حیثیت کو مضبوط بناتا ہے نہ لوگوں کو خیرات کے ماتحت کرکے ان کی سفید پوشی کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔میں ایسے کئی سفید پوش افراد کو جانتا ہوں جو اپنی عزت کے لیے حکومتی امدادی پروگراموں تک رسائی کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے اور بعض لوگوں کو تو جو امداد دی جاتی ہے اس پر حکمرانوں کی ذاتی تصاویر ہوتی ہیں جو خود غریب اور مجبور لوگوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔سوال یہ ہے اس حکمرانی کے نظام میں ہمارا حکمران طبقہ باعزت روزگار کیونکر پیدا نہیں کررہا اور کیوں ملک میں چھوٹی اور بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی۔جب یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کی حقیقی معاشی حیثیت بھی بہتر نہیں ہوسکے گی۔
حکومت ہر دفعہ آئی ایم ایف کے سامنے یہ اعتراف کرتی ہے کہ وہ ملک میں مختلف نوعیت کی اصلاحات کی بنیاد پر نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرے گی ۔لیکن عملا ہم آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کرتے اور خود آئی ایم ایف جیسے اداروں کا ہماری حکومتوں کے بارے میں جوابدہی کا نظام اتنا کمزور ہوتا ہے یا وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموش رہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہماری جیسی طاقت ور سیاسی حکمران اشرافیہ داخلی اور خارجی سطح پر کہیں بھی جوابدہ نہیں ہوگی تو ان کی اصلاح کا عمل کیسے سامنے آسکے گا۔جب تک آئی ایم ایف جیسے ادارے ہماری حکومتوں کی جوابدہی کے نظام کو موثر اور شفاف اور جوابدہی کی صورت میں مضبوط نہیں بنائیں گے ہمارے حکمرانوں کے طر ز عمل میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی ۔حکمران طبقات کا یہ سیاسی مشغلہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی سطح پر بڑی بڑی گورننس کانفرنس یا فورمز کی صورت میں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنی رپورٹس اور پریزنٹیشن پیش کرتے ہیں جس میں سب اچھے یا بڑے بڑے دعووں کی رپورٹ ہوتی ہے ،مگر زمینی حقایق گورننس کے حوالے سے بہت کڑوے ہوتے ہیں۔ہم آج بھی گورننس کے نظام میں بدترین حالات کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری وفاقی اور صوبائی یا مقامی حکومتوں کی سطح پر کچھ بھی بہتری کے تناظر میں دیکھنے کو نہیں مل رہا اور اسی بنیاد پر ہماری بنیادی حقوق اور شہری افراد کی سہولتوں کے حوالے سے عالمی درجہ بندی واضح فرق ،تفریق اور خلیج دیکھنے کو ملتی ہے۔آئی ایم ایف پہلے ہی ہمیں انتباہ کرچکا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی ،قانونی اور انتظامی بنیادوں پر فوری طور پر سخت گیر اصلاحات نہ کی تو ان کی سیاسی اور معاشی ترقی کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔
اصل مسئلہ نئی نسل کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے مگر ہماری ترجیحات عملا اس وقت ملکی ترجیحات یا عوامی ترجیحات سے مختلف نظر آتی ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ اس ملک کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ ایک طرف اور ملک کے عوام دوسری طرف کھڑے ہیں اور دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس ملک کے نظام کو اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ نہ اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اس کھیل میں عام اور کمزور طبقات کے لیے سوائے سیاسی و معاشی سطح کے استحصال کے اور کچھ نہیں ہے۔یہ جو ہم نے سیاست اور جمہوریت کے نام پر سیاسی ادارے پارلیمنٹ کی سطح پر قائم کیے ہوئے ہیں یہ بھی طاقت ور اشرافیہ کے سیاسی کلب کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ۔کیونکہ ہمارے سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ طاقت ور افراد کی اپنی سیاسی بیٹھکوں میں ہوتے ہیں جہاں کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار کی تقسیم کا کھیل سجایا جاتا ہے ۔اس لیے اس نظام کی بہتری کے لیے کوئی معمولی اصلاحات درکار نہیں ہیں ۔یہ جو حالات ہیں یہ لوگوں کے تناظر میں غیر معمولی ہیں اور ان کے اقدامات بھی غیر معمولی بنیادوں پر ہی ممکن ہوسکیں گے ۔لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔
Today News
کراچی، یوم قدس کے دن شاہراہ فیصل پر ریلی کی اجازت نہیں ہوگی، ناصر حسین شاہ
کراچی:
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے یومِ قدس کے موقع پر اپنے ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ سندھ حکومت نے جمعۃ الوداع کے روز صوبے بھر میں عام تعطیل کا فیصلہ کیا ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی کی ایک اہم شاہراہ کو رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کے پیش نظر جمعۃ الوداع کے موقع پر شاہراہ فیصل پر ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیر بلدیات نے تمام شیعہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ یومِ قدس کے موقع پر اپنے روایتی روٹس کے مطابق ریلیاں نکالیں اور قانون و ضابطے کی پابندی کریں۔
ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ یومِ قدس کے اجتماعات پرامن اور منظم انداز میں منعقد ہوں۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!