Connect with us

Today News

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری۔ ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور اہم شرط پوری کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کے لیے نیا قانونی فریم ورک قائم کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پارلیمنٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026ء منظور کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کر دی گئی ہے۔

یہ اتھارٹی ملک میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی بھی کرے گی، ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اس قانون کا مقصد سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک سے ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور نئی ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی بھی ممکن ہو سکے گی۔

اتھارٹی کو ابتدائی طور پر جولائی 2025ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا جسے اب پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے، قانون کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا جبکہ ریگولیٹری ادارے کے مطابق پاکستان کا ضابطہ کار عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

’’جس کو بخشا تھا پیمبرؐ نے حمیرا کا لقب‘‘

Published

on


سترہ رمضان المبارک حضور ختمی مرتبت سیّد المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی چہیتی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہؓ کا یوم وصال ہے جسے حضورؐ پیار سے حمیرا کے لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ یہی وہ پاک باز اور پاک نگاہ ہستی ہے جس کے نام کے ساتھ عفت و عصمت، تقدس و تحرم اور پاک نگاہی و پاک دامنی کی آبرو وابستہ ہے۔ یہی وہ مہتمم بالشان شخصیت ہے جس کے والد ماجد کو سرکار رسالت مآبؐ کی حیات طیبہ میں ہی سترہ نمازیں آپؐ کے مصلّے پر کھڑے ہو کر پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے۔

آقائے گیتی پناہ ﷺ کی یہی وہ بلند مرتبہ زوجہ محترمہ ہے جس کے حجرہ مبارکہ میں دیگر ازواج مطہراتؓ سے مشورے کے بعد حضور ﷺ وصال سے چند یوم قبل اپنی حیات عارضی کے لمحے گزار کر حیات جاوداں کی طرف عازم سفر ہوئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہی وہ حضورؐ کی محبوب ترین زوجہ ہیں جب شدید عالم علالت میں آپؐ نے مسواک کرنے کی تمنا کا اظہار فرمایا تو سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے پہلے مسواک خود چبا کر نرم کرنے کے بعد اپنے شوہر محترم ﷺ کو پیش کی۔ یہ لامثال سعادت بھی حضورؐ کی انھی زوجہ محترمہؓ کو حاصل ہے کہ بہ وقت وصال رحمۃ للعالمینؐ کا سر اقدس ان کی آغوش میں تھا۔ حتیٰ کہ رفعت و عظمت حجر ہ عائشہؓ کے کیا کہنے کہ وہ مدفن رسالتؐ بھی بن گیا۔ اور طلوع آفتاب قیامت تک یہاں ناصرف غلامان محمد عربی ﷺ کی جبین ارادت جھکتی رہے گی بلکہ صبح و مسا ان گنت ملائکہ کا نزول رہے گا۔

انھی زوجہ محترمہؓ کو پیدائشی مسلمان ہونے کا شرف بھی حاصل ہے کیوں کہ معتبر روایات میں آیا ہے کہ جب سیّدہ عائشہ ؓ نے آنکھ کھولی تو اپنے والدین کو مسلمان پایا۔ والد ماجد بھی ناصرف مسلمان تھے بل کہ قربت بارگاہ رسالت مآبؐ میں غایتوں کی غایت اولیٰ پر تھے۔ والدہ ماجدہ ام رومانؓ بھی ممتاز صحابیات میں شامل تھیں۔ ہمشیرہ حضرت اسماءؓ اور بھائی محمد بن ابوبکرؓ بھی دولت ایمان سے بہرہ یاب تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان ایمان افروز سعادتوں سے مشرف ہونے کی وجہ سے عہد طفولیت سے ہی آپؓ پر کفر و شرک کا سایہ تک نہیں پڑا تھا۔ تمام ازواج مطہراتؓ میں مجرد آپؓ کو یہ سعادت اور انفرادیت حاصل ہے کہ حضور سرور کونین ؐ کو نکاح سے قبل ہی حضرت جبریل امینؑ کے توسط سے حضرت عائشہ ؓ کے حبالہ زوجیت کی اطلاع دے دی گئی تھی۔ چناں چہ بخاری شریف باب مناقب عائشہؓ میں اس کی صراحت آئی ہے کہ عالم رویاء میں کوئی فرشتہ ریشم میں ملبوس آپؐ کو کوئی چیز پیش کر رہا ہے۔ حضور ؐ نے وہ کھول کر دیکھا تو سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ تھیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورؐ کی سیّدہ عائشہ ؓ کے ساتھ غایت محبت کا ادراک دیگر ازواج کو بھی تھا۔ اور اس احساس کا عملی اظہار حضورؐ کے آخری ایام میں حجرہ عائشہ ؓ کا انتخاب تھا۔ جس کی اجازت دیگر امہات المومنینؓ نے بہ رضا و رغبت دی تھی۔

انھی زوجہ محترمہؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ کنج عزلت میں رفاقت نبوتؐ میسر ہوتی تو متعدد مرتبہ وحی کا نزول بھی ہوتا۔ مستدرک الحاکم میں آپؓ کی یہ فضیلت بھی رقم ہے کہ آپؓ نے جبریل امینؑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آپؓ تمام ازواج رسولؐ میں اس اعتبار سے بھی ممیز تھیں کہ آپؓ کنواری تھیں۔ اور سب سے بڑا اعزاز جو تنہا آپؓ کو حاصل ہے وہ کلام اﷲ کا آپؓ کی تقدیس و تحریم پر گواہ ہونا ہے اور صرف ایک دو آیات نہیں سورۃ نُور کا پورا ایک رکوع آپؓ کی شان عصمت کے سلسلے میں نازل ہُوا۔ اس کا اجمالی پس منظر یہ ہے کہ جب معاندین اسلام کو معرکہ ہائے حق و باطل میں پے در پے ہزیمت اٹھانا پڑی اور تخت و تاج و کفر کی دھجیاں ہوائے بسیط میں بکھرنے لگیں تو منافقین نے حضورؐ کی ایسی محبوب ترین زوجہ کی ردائے عصمت کو اپنے شر کے ناپاک چھینٹوں سے آلودہ کرنے کی جسارت کی جسے آپؐ احساس محبت سے لبریز لہجے میں حمیرا کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

کتب سیرہ میں لفظی اختلاف سے یہ واقعہ درج ہے: ( مفہوم) غزوہ بنو المصطلق میں رفاقت رسولؐ معظمؐ کے لیے قرعہ فال سیّدہ عائشہؓ کے نام نکلا۔ واپسی پر آپؓ فطری تقاضے کے لیے پڑاؤ سے دور نکلیں تو ان کے گلے کا ہار جو ان کی ہمشیرہ نے تحفتاً دیا تھا، گم ہوگیا۔ اس اثناء میں لشکر اسلام آگے نکل گیا آپ ایک عجیب عالم تذبذب میں وہیں لیٹ گئیں اور نیند غالب آگئی۔ حضور ﷺ کے صحابی صفوان بن معطلؓ سب سے پیچھے رہ کر جیش اسلام کی گری پڑی چیزیں تلاش کرتے وہاں پہنچ گئے آپؓ نے زوجہ رسولؐ کو محو استراحت دیکھا تو انا ﷲ و انا علیہ راجعون پڑھا تاآں کہ سیّدہ بیدار ہوگئیں، صفوان نے سواری آپؓ کے قریب کھڑی کی تو آپ اس پر سوار ہوگئیں اور لشکر کی اگلی قیام گاہ تک پہنچ گئیں۔ اب ذریت طاغوت کا دجل و فریب اور عیارانہ طرز عمل دیکھیے کہ ان کے ہاتھ ایسا شر پسندانہ ہتھیار آگیا جس نے مزاج نبوتؐ پر زبردست گراں باری پیدا کر دی۔ مگر امام الانبیاءؐ نے اپنی بے مثال فطرت سلیمہ اور رفیع الشان شکیبائی کا عدیم لانظیر مظاہرہ فرمایا اور ناقابل بیان تکلیف کے باوجود جس ضبط نفس، بے پایاں عزیمت و حوصلے اور کمال قوت برداشت کا مظاہرہ فرمایا وہ یقیناً دانائے سبل، ختم الرسل اور مولائے کُل ﷺ کے ارتفاع تدبّر کا ہی کمال تھا اس حد درجہ حساس معاملے سے عہدہ برآ ہونا خصائص آدمیت کی معراج پر ہونے کے باوجود کسی عام آدمی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ آپؐ نے اپنی محبوب زوجہؓ کی انتہائی تشویش اور اپنے انتہائے تذبذب کو کمال بردباری سے برداشت کرتے ہوئے معاملہ وحی حق پر چھوڑ دیا۔ جب بے قراری نبوتؐ حد سے بڑھنے لگی تو سورۃ نور کی آیات کا نزول ہوا جس میں خود خالق ارض و سما نے سیدہ عائشہؓ کی طہارت و عصمت کا ایسا اعلان فرمایا جو حقیقت میں شر پسندوں کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ تھا۔ اﷲ رب العزت کی گواہی کے نزول کے ساتھ ہی حضور ﷺ کے رخ انور پر مسرت و ابتہاج کی لہر دوڑ گئی اور لب مصطفی ﷺ پر تسکین و طمانیت کا ایک ہالہ سا بن گیا۔ اب قیامت تک ان آیات مقدسہ کی تلاوت ہوتی رہے گی اور رفعت و مقام عائشہؓ آشکار ہوتی رہے گی۔

تیری عصمت کی گواہی دی کلام اﷲ نے

تیری عزت کے نشاں ہیں گردش ایام پر

جس کو بخشا تھا پیمبرؐ نے حمیرا کا لقب

مہر و ماہ کی رونقیں قربان اس کے نام پر

جس پہ باندھا تھا خدا کے دشمنوں نے اتہام

آج تک انسان شرمندہ ہے اس الزام پر

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ طبعاً فیاض فطرت تھیں ایسا کیوں نہ ہوتا آپؓ اس عظیم باپ کی لخت جگر تھیں جس نے اسلام کے دور ابتلاء میں گھر کی کل کائنات بانی اسلام حضور سید المرسلینؐ کے قدموں پر نچھاور کر دی۔ آپؓ اس ذی شان ہستیؐ کی اہلیہ تھیں جو سائل کے دست طلب دراز کرنے پر ریوڑ کے ریوڑ عطا کر دیتا اور خود فاقہ کشی اختیار کرتا۔ چناں چہ فراخ دلی اور وسعت قلبی کے وہی اثرات آپؓ کی فطرت مطہرہ میں پائے جاتے تھے۔ بالخصوص رمضان المبارک میں تو آپ کا دست فیض اور بھی کشادہ ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ زہد و اتقاء، محبت و خشیت الٰہی سے معمور تھیں۔ فقہی امور میں بڑے نام ور اور جلیل القدر صحابہ کرام آپؓ سے مشورہ و راہ نمائی حاصل کرتے۔ اسی لیے سیرت نگار اس بات پر متفق ہیں کہ علمی کمالات، دینی اور خانگی امور کی تشریحات اور حضور سرور کائناتؐ کی تعلیمات کی اشاعت میں تمام ازواج مطہراتؓ میں سیّدہ عائشہ ؓ کا کوئی اور حریف نہیں ہو سکتا۔ آپؐ نے سترہ رمضان المبارک داعی اجل کو لبیک کہا اور جنّت البقیع میں آسودہ ہوئیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

مخدوش صورتحال! – ایکسپریس اردو

Published

on


ایران پر مسلط کی گئی ہولناک جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر جانب بربادی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو یہ نہیں معلوم کہ اس تباہی کا دورانیہ کتنا ہو گا۔ امریکی صدر‘ بذات خود چار سے پانچ ہفتے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر انھیں کے عسکری کمانڈر‘ اس اعلان کی نفی کر رہے ہیں۔ غور کیجیے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے ایماء پر اتنا بڑا قدم کیونکر اٹھا لیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر پورے امریکا میں مدلل بحث جاری ہے۔نیتن یاہو‘ جو کہ بنیادی طور پر غزہ کی جنگ کے بعد‘ ایک جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ وہ تو طویل عرصے سے ‘ ہر امریکی صدر کو ایران پر یلغار کرنے کا کہہ رہا ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ پرانے امریکی صدور‘ اس خونی تمنا کو پورا کرنے سے انکار کرتے رہے۔ مگر ٹرمپ نے نہ صرف ایک جنگی جنونی کی بات مانی ‘ بلکہ اس کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کے لیے‘ پورے ملک کے وسائل داؤ پر لگا دیئے؟ یہودی شدت پسندوں کی توقع سے بڑھ کرامریکا کی دفاعی ساکھ پر بھی سوالہ نشان کھڑے کروا دیئے؟ یہ حد درجہ سنجیدہ سوالات ہیں۔ پہلی بات ‘ جو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس برس کے آخر میں امریکا‘ مڈٹرم الیکشن کی طرف جا رہا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے حساب سے ٹرمپ اور اس کی سیاسی جماعت ‘ حد درجہ شکست کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ریٹنگ ‘ شرمناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر‘ تجزیاتی رپورٹوں سے حد درجہ پریشان بلکہ خوف زدہ ہے۔ ایک تقریر کے دوران ‘ فی البدیہہ مونہہ سے نکل گیا کہ امید ہے کہ اس برس کے آخر میں‘ میرے خلاف عدم اعتماد کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ مجھے گرفتاری کا مونہہ بھی نہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ‘ ٹرمپ ‘ کے متعلق امریکی میڈیا اور سیاسی مخالفین‘ ثبوت مہیا کر رہے ہیں کہ وہ شدید مالیاتی بے ضابطگیوں میں ملوث ہے۔ اقتدار کے دوران اپنے کاروبار کو بہت بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے ۔

جس میں کرپٹو کرنسی کی دکان داری سرفہرست ہے ۔ کرپٹو میں ٹرمپ خاندان کی کمپنی ‘ کمزور ممالک کے طاقت ور حلقوں کو حصص خریدنے پر زور دے رہی ہے۔ کاروباری معاہدے خاندان کے افراد کے ذریعے طے پا رہے ہیں۔ اس لیے یہ مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے کہ ٹرمپ اپنے ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدے کو استعمال کر رہے ہیں۔ کسی طاقتور ملک نے امریکی صدر کی کرپٹو کرنسی کی کمپنی کو اہمیت نہیں دی ۔ مگر ہمارے جیسے ملک جو ہر طریقے سے امریکا کے سامنے زانوئے ادب طے کر چکے ہیں وہ بخوشی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ امریکا کے آزاد میڈیا میں اس کی باز گشت حد درجہ طاقتور طریقے سے سامنے آ رہی ہے۔ تھوڑا سا مزید گہرائی میں جائیے تو ایک اور خوفناک ترین بحران سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ ایپسٹین فائلز وہ دستاویزات ہیں جو موساد کے ایک مستند کارندے یعنی اپیسٹین کی موت کے بعدوقفے وقفے سے عوام کے سامنے لائی جا رہی ہیں۔ یہ کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی وہ طویل داستان ہے جس میں امریکا اور یورپ کی اشرافیہ مکمل دھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایپسٹین ایک حد درجہ اعیار انسان تھا جس نے امریکا میں ایک جزیرہ خرید رکھا تھا ۔ وہاں منظم نظام کے ذریعے کم عمر بچیوں کو لایا جاتا تھا۔ پھر دنیا کے امیر ترین لوگ وہاں داد عیش دینے پہنچ جاتے تھے ۔

برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی بھی اسی سلسلہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس میں ملوث چند لوگ بدنامی کے خوف سے خود کشی بھی کر چکے ہیں۔ چند سابقہ صدور اور وزرائے اعظم گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔یہ ایک ایسا سکینڈل ہے جس کی وسعت بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تک جو مواد شائع کیا گیا ہے، اس میں ٹرمپ کا نام کم از کم 28ہزار جگہ آتا ہے۔ امریکی انتظامیہ ابھی تک مکمل فائلز اور ان کا مواد ‘ پبلک کے سامنے نہیں لا رہی کیونکہ امریکی صدر کے ملوث ہونے کے مزید ثبوت عام لوگوں کے سامنے آ سکتے ہیں۔بالکل اسی طرح امریکی عدالتوں میں ‘ ایپسٹین فائلز میں ملوث لڑکیوں نے عدالتوں میں موجودہ صدر کے خلاف مقدمے بھی دائر کر رکھے ہیں۔ اب آپ کڑیوں سے کڑیاں ملانی شروع کر دیں۔ اس برس کے آخر میں مڈٹرم الیکشن کا خوف ‘ کرپشن کے الزامات اور موساد کی جانب سے ایک ایجنٹ کی شائع کردہ معلومات ۔ مجموعی طور پر اگر ہم دیکھیں تو ٹرمپ کا تمام سیاسی مستقبل اسرائیل کے ہاتھوں میں جا چکا ہے ۔نیتن یاہو کے پاس ‘ ٹرمپ کے متعلق مبینہ طور پر ایسی شرمناک تفصیل موجود ہیں جو اس کے سیاسی اور کاروباری معاملات کو فنا کر سکتی ہیں۔

مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ایران کے رہبراعلیٰ اور ان کی ٹیم گزشتہ تین دہائیوں سے مکمل طور پر اقتدار میں ہے ۔ ایرانی انقلاب آنے کے بعد توقع تھی کہ رضا شاہ پہلوی نے مخالفین سے نبٹنے کے لیے جو سخت گیر پالیسی اپنا رکھی تھی اس سے نجات مل جائے گی۔مگر معاملہ بالکل متضاد نکلا ۔ سابقہ جبر کے مقابلے میں نئی طرز کی سخت گیری پالیسی کا اجرا کر دیا۔ جس سے ایران جیسا ترقی پسند تشدد پسندی کی غار میں گھستا چلا گیا ۔ ایران کی مذہبی قیادت کسی کے سامنے جواب دہ نہیں تھی اور نہ ہی آج ہے ۔

وہاں الیکشن تو ہوتے رہے ۔ بہتر کردار کے صدور بھی چناؤ کے ذریعے اقتدار میں آتے رہے ۔ مگر ان کو مکمل بااختیار کبھی بھی نہیں کیا گیا۔ رہبر اعلیٰ کے سامنے ایرانی صدر کی حیثیت کچھ بھی نہیںتھی۔ ریاست اور حکومت کا پورا زور ‘ اس بات پر تھا کہ خواتین نے باقاعدہ طور پر چادر لی ہوئی ہے یا نہیں۔اگر کوئی بچی ‘ اپنی مرضی سے چادر نہ اوڑھے تو وہ فوری طور پر حکومتی گرفت میں آجاتی تھی۔ یہ نقطہ بھلا دیا گیا کہ ڈر اور خوف سے حکومتیں مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ساتھ ساتھ ایک اور معاملہ بھی چلتا رہا ۔ وہ تھا کہ نعرے بازی کی حد تک امریکا اور اسرائیل کو ختم کرنے کی زبانی جمع خرچ کی گئی ۔ مگر اس کے لیے جو تیاری کرنی چاہیے تھی ‘ اس سے مکمل گریز کیا گیا ۔مذہبی نعروں کو ‘ ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔ عرض کرنے کا مقصد بالکل سادہ ہے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جو نفرت بٹھائی گئی ۔ اس کے حساب سے کوئی عسکری تیاری نہیں کی گئی۔

امریکا اور اسرائیل‘ایران کی ساری کمزوریوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے حد درجہ عیاری سے ایران کی بلند ترین انتظامی اور عسکری سطح پر اپنے ایجنٹ بٹھا دیئے تھے ۔ موساد اور سی آئی اے دونوں ایرانی نظام میں بھرپور طریقے سے سرایت کر چکے تھے۔ بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ نظام پر اندر سے قابض ہو چکے تھے ۔ اس میں ہندوستانی ریاستی عنصر بھی شامل تھا۔ ایران کے زیرک ترین رہنما آخری وقت تک یہ بھانپ نہ سکے کہ ہندوستان‘ اسرائیل اور امریکا کے منفی ہتھکنڈے ان کی سالمیت پر ضرب کاری لگا چکے ہیں۔

غداری کا المیہ دیکھئے کہ آیت اللہ اور ان کی ٹیم کے تمام سربراہان کی موجودگی کی اطلاع اسرائیل کو ایران سے ہی باہم پہنچائی گئی تھی ۔ امریکی اور اسرائیلی ایئرفورس نے جو کارروائی کی‘ اس سے ملک اپنی بلند ترین سطح کی قیادت سے محروم ہو گیا۔ تین دہائیوں سے موجود راہبر اعلیٰ کی شہادت ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ اس خلا کو پورا کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران‘ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلز سے حملہ آور ہے مگر یہ قوت بھی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ ثبوت یہ ہے کہ ایرانی جوابی حملے اسی فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ اس کی فضائیہ اور بحریہ کو تقریباً تقریباً ختم کیا جا چکا ہے۔ آنے والے دن اس ملک کے لیے بہت مخدوش نظر آتے ہیں ۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر نکل سکتی ہے ۔ جو سازش ایران کے خلاف کی گئی وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی صورت میں پاکستان کے خلاف بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے بھی وہی کردارہیں جو ہمسایہ ملک یعنی ایران کی تباہی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے بروقت طالبان کے خلاف صائب قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ابھی تک مشرق وسطیٰ سے یہ جنگ پاکستان آنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ مگر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ پاکستان کے ریاستی اور حکومتی قائدین‘آج کے دن تک ایک بہتر خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ مگر ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اس قدر بڑھ چکا ہے جس سے نبردآزما ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی روش کو ختم کیا جائے اور ملک میں مقبول سیاسی فریقین کو حکومت سونپی جائے تاکہ ہم اندرونی خلفشار سے نجات پا سکیں۔شاید ہم جنگ کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور پاکستان کے مسائل

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں مجھے بھی شامل کیا جانا چاہیے، وہ ایسے رہنما کو قبول نہیں کریں گے جو سابق ایرانی سپریم لیڈرکی پالیسیوں کو جاری رکھے۔ دوسری جانب یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جہاں ایک طرف عالمی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ایران کے قریبی سفارتی اتحادی روس اور چین نے سخت بیانات کے باوجود براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

 عالمی سیاست کے افق پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور غیر یقینی کی علامت بن چکا ہے۔ ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی سیاسی توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں انھیں بھی شامل کیا جانا چاہیے اور وہ ایسے رہنما کو قبول نہیں کریں گے جو سابق ایرانی سپریم لیڈر کی پالیسیوں کو جاری رکھے، بین الاقوامی سفارت کاری کے اصولوں کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور متنازع اظہار سمجھا جا رہا ہے۔

کسی خود مختار ریاست کی داخلی قیادت کے انتخاب میں بیرونی طاقت کی اس نوعیت کی خواہش نہ صرف عالمی قوانین کی روح سے متصادم ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب بھی عالمی سیاست کو طاقت کے روایتی پیمانوں کے تحت دیکھتی ہیں۔دوسری طرف خطے میں جاری جنگی ماحول نے انسانی بحران کو بھی جنم دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً دو سو بچے اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ جنگ کے اعداد و شمار اکثر سیاسی اور عسکری تجزیوں میں ایک عددی شکل اختیار کر لیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر ہلاک ہونے والا بچہ ایک خاندان کا خواب، ایک ماں باپ کی امید اور ایک معاشرے کے مستقبل کا حصہ ہوتا ہے۔

جب جنگوں کے نتیجے میں بچوں کی جانیں ضایع ہوتی ہیں تو دراصل انسانیت کا ضمیر مجروح ہوتا ہے۔یہ بات تاریخ کے ہر دور میں دیکھی گئی ہے کہ جنگیں اگرچہ ریاستیں لڑتی ہیں لیکن ان کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی نے اگرچہ فوجی قوت میں اضافہ کیا ہے، مگر اس کے باوجود شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکی۔ ڈرون حملے، میزائل کارروائیاں اور فضائی بمباری اکثر ایسے علاقوں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں عام شہری رہتے ہیں۔ حالیہ بحران میں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے ۔اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ روس اور چین نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت بیانات دیتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، تاہم اب تک انھوں نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

یہ رویہ دراصل عالمی طاقتوں کے اس محتاط توازن کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنے اتحادیوں کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن کسی ایسی جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے بچنا چاہتے ہیں جو عالمی سطح پر ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔روس اور چین دونوں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے پیمانے کی جنگ کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ توانائی کی عالمی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی مالیاتی نظام سب اس طرح کے بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر بیانات سخت ہوتے ہیں، لیکن عملی طور پر بڑی طاقتیں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتی نظر آتی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے اور وہ عالمی سفارتی نظام کی کمزوری ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اصولی طور پر عالمی امن کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بڑی طاقتوں کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں تو یہ ادارے اکثر مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا نظام کئی مواقع پر عالمی امن کی کوششوں کو محدود کر دیتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اس خطے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اگر اس خطے میں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی معیشت بھی اس بحران سے متاثر ہونے کا خدشہ رکھتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑے جنگی بحران کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر مشکل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی معیشتیں پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ طاقت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی پالیسی ہمیشہ پائیدار نتائج نہیں دیتی۔ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی ایک محفوظ اور مستحکم دنیا کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف اور مکالمے کی سیاست کو فروغ دینا ہوگا۔ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ خطے میں جاری جنگ کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات محسوس کرتا ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے بالواسطہ اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے بڑا خطرہ بیرونی عوامل سے زیادہ اندرونی بدانتظامی اور ذخیرہ اندوزی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

مارکیٹ میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو جاتی ہے جس کا فایدہ بعض مفاد پرست عناصر اٹھاتے ہیں۔ یہ عناصر پٹرولیم مصنوعات سے لے کر آٹا، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جا سکے۔ عوام کو لمبی قطاروں، مہنگائی اور قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ ذخیرہ اندوز غیر قانونی منافع کما رہے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس پورے کھیل میں بعض اوقات بیوروکریسی، انتظامیہ اور سرکاری محکموں کے کرپٹ اہلکار بھی کسی نہ کسی شکل میں شریک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے قانون کی عمل داری کمزور پڑ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اپنی قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود گزشتہ دو، تین دنوں کے دوران کراچی میں گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے شہریوں کو خصوصا افطار کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے، یہاں پر محکمانہ سطح پر بیوروکریسی بحران کی ذمے دار ہے۔

ہمارے یہاں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے لیے دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب، ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان تک آنے والی سپلائی لائنز آبنائے ہرمز کی بجائے مختلف سمندری راستوں سے آتی ہیں اور ہر صورتحال میں فوری تعطل کا امکان ضروری نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اگر ملک کے اندر مصنوعی بحران پیدا کر دیا جائے تو عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں حکومت کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ مارکیٹ پر کڑی نظر رکھے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور متعلقہ اداروں کو فعال بنانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت کو بروقت روکا جا سکے، اگر حکومتی ادارے سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ اپنی ذمے داریاں ادا کریں تو ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل کو بڑی حد تک قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف سخت قانونی اقدامات کرے بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لے۔ شفاف معلومات کی فراہمی، موثر نگرانی اور فوری کارروائی ایسے اقدامات ہیں جو بحران کی فضا کو ختم کر سکتے ہیں۔ اگر ریاست بروقت اور مضبوط فیصلے کرے تو نہ صرف ذخیرہ اندوزوں کی شاطرانہ چالوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بلاوجہ پیدا ہونے والی مشکلات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی ممکنہ بیرونی بحران کو اندرونی بدعنوانی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے عوامی مصیبت میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔





Source link

Continue Reading

Trending