Connect with us

Today News

آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو مہنگے داموں فروخت

Published

on



بھارتی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں پر مشتمل ایک کنسورشیم نے کامیابی کےساتھ  آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بینگالورو تقریباً 1.78 ارب امریکی ڈالر کی خطیر رقم کے عوض خرید لیا۔ اس ’آل-کیش‘ ڈیل کا اعلان یونائیٹڈ اسپرٹس لمیٹڈ (یو ایس ایل) کی جانب سے اعلان کیا گیا، جو آئی پی ایل اور وی پی ایل میں آر سی بی ٹیموں کی موجودہ مالک ہے۔

یو ایس ایل کی جاری کردہ میڈیا ریلیز کے مطابق اس کے بورڈ نے فرنچائز کو ایک ایسے کنسورشیم کو فروخت کرنے کی منظوری دی ہے جس میں ادتیا برلا گروپ، دی ٹائمز آف انڈیا گروپ، بولٹ وینچر اور بلیک اسٹو ن کی پرپیچوئل پرائیویٹ ایکویٹی اسٹریٹیجی بی ایکس پی ای شامل ہیں۔

اس معاہدے کے بعد یو ایس ایل نے بتایا کہ آر سی بی کی دونوں ٹیمیں، جو اس کی ذیلی کمپنی رائل چیلنجرز اسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے تحت چل رہی تھیں، اب مکمل طور پر اسی کنسورشیم کی ملکیت اور انتظام میں ہوں گی۔

اس رقم کے غیر معمولی ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ 2021 میں بی سی سی آئی کی جانب سے فروخت کی گئی لکھنؤ اور احمد آباد آئی پی ایل فرنچائزز کی مجموعی مالیت 1.69 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری میں جب کم از کم آٹھ سرمایہ کاروں کو آر سی بی کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، اُس وقت یہ کنسورشیم  تشکیل بھی نہیں پایا تھا، جبکہ آر سی بی کی مردوں اور خواتین کی ٹیمیں اس وقت آئی پی ایل اور وی پی ایل کی موجودہ چیمپئنز ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کا مکمل خاتمہ کوئی آپشن نہیں، مذاکرات ہی واحد حل ہے؛ قطر

Published

on


قطر نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترجمان ماجد الانصاری کہا کہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تمام رسمی اور غیر رسمی سفارتی راستوں کی حمایت کرتے ہیں۔ خطے میں امن کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ قطر اس وقت امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی براہ راست ثالثی عمل کا حصہ نہیں ہے نہ ہی ہماری جانب سے ایسی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی مکمل تباہی کوئی قابل قبول آپشن نہیں ہے۔ ہم ہمسائیہ تھے اور رہیں گے۔ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر رہنے کا راستہ نکالنا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قطر کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود جنگ کے پھیلاؤ سے بچنے اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کے خواہاں ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی ایئرپورٹ پر نجی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، 160 مسافر محفوظ

Published

on



کراچی:

اسلام آباد سے سعودی عرب کے شہر ریاض جانے والی نجی ایئرلائن ایئر سیال کی پرواز پی ایف 768 کو فضا میں اچانک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔

ذرائع کے مطابق طیارہ جیسے ہی پاکستان کی فضائی حدود سے نکل کر بحیرہ عرب کے اوپر پہنچا تو اس میں فنی خرابی پیدا ہوگئی۔

صورتحال کے پیش نظر کپتان نے فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کیا اور ایئر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کیا۔

کپتان کی مہارت کے باعث طیارے کو بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ طیارے میں سوار تمام 160 مسافر محفوظ رہے۔

ایئر سیال انتظامیہ کے مطابق مسافروں کو کراچی ایئرپورٹ کے ٹرانزٹ لاؤنج منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں دوسرے طیارے کے ذریعے ریاض روانہ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ايران ميں اس بار’درست لوگوں‘ سے بات چیت جاری ہے؛ وہ معاہدے کیلیے بے چین ہیں؛ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام معاہدے کے لیے بے تاب ہیں اور اس وقت بھی ایران کے درست لوگوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہم کئی اہم شخصیات کے ذریعے رابطے میں ہیں اور جلد کسی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں اس وقت درست افراد سے بات چیت کر رہا ہے اور موجودہ حالات میں ایران بھی معاہدے کی طرف بڑھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی بحریہ، قیادت اور دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جس سے خطے میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن انھوں نے اپنے قریبی مشیروں جیرڈ کشنر، اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کا نام لیا جو اس عمل میں شامل ہیں۔

ٹرمپ کے بقول امریکا کا ایران کے ساتھ جاری بات چیت میں واضح کردیا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور صدر ٹرمپ کے بقول ایران نے اس شرط کو تسلیم کرلیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے اہم توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ایران نے حالیہ دنوں میں رابطہ کرکے مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کی جس کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اگر کوئی رابطہ ہوا بھی ہے تو وہ براہ راست بات چیت کے بجائے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے تک محدود رہا ہے۔

ٹرمپ نے خطے میں اتحادیوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اب تک مثبت کردار ادا کیا ہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس تنازع میں نیٹو کے زیادہ فعال کردار کے خواہاں ہیں۔

ایران نے تاحال ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے اور ایسے بیانات کو سیاسی دباؤ دالنے، جنگ میں وفقہ لینے اور پیٹرول کی قیمتیں میں کمی لانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending