Connect with us

Today News

آبنائے ہرمز، تیل کی درآمد کرب سے دوچار

Published

on


  جدید معاشیات کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ ہم نے ترقی کو چند فی صد جی ڈی پی گروتھ اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں قید کردیا ہے جب کہ حقیقت ان محنت کشوں کے پسینوں اور غریب لوگوں کے سامنے سے غائب ہوتی روٹی میں پنہاں ہے جو غربت کی گھاٹی میں مسلسل گرتے چلے جا رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل بڑھتے ہوئے قرضوں ، سود کی ادائیگی اور مہنگائی، بے روزگاری کی اونچی ترین شرح کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔

ان میں کچھ بیانیے ایک جیسے نظر آتے ہیں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میکرو استحکام کی بات کرتی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹیں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، ایک عجیب قسم کا معاشی استحکام آ رہا ہے جو خوشی لانے کی بجائے ایک چکر میں ڈالتا چلا جا رہا ہے جہاں سے ابھی تک نکل نہیں سکے۔ ہم بحران میں پھنسے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ ملتا ہے وقتی سکون پھر تنزلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہم کسی بھی قسم کے اصلاحات کرنے میں آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، دوسری طرف سے اتنی شرائط کو پورا کرتے کرتے غربت کا بڑھ جانا، مہنگائی کا بڑھتے رہنا، مسلسل بے روزگار رہنے کا عذاب سہتے رہنا، اب غریب عوام کا مقدر بن گیا ہے۔

پاکستان شرح ترقی کے معاملے میں کبھی منفی اورکبھی 2 سے 3 فی صد پر اکتفا کر بیٹھتا ہے جو دراصل لاکھوں افراد کو مسلسل بے روزگار رکھنے کے مترادف ہے، جہاں مسلسل مہنگائی کا عذاب سہنا مقدر بن گیا ہے۔ ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان مسلسل مستقل اور مستقبل کے لیے ایک ایسے خطرناک چکر میں گھوم رہا ہے جہاں آئی ایم ایف اپنے اصلاحی پروگرام، شرائط و ضوابط اور قرض کا جال بچھا کر امید دلاتا ہے، وقتی سکون حاصل ہوتا ہے لیکن پھر وہی بے چینی پھر معیشت کا اسی طرح سے چکر میں گھومتے چلے جانا۔ اس مسئلے کے حل کا سرا اسی وقت ہاتھ میں آئے گا جب ہم ان دیکھی طاقتوں اور دوسروں کے مشوروں کو چھوڑ کر اپنا راستہ خود منتخب کریں گے۔ اب بھی وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں کیونکہ ایک عالمی جنگ ہمارے دہانے پر کھڑی ہے اگرچہ یہ ایران، امریکا کی جنگ ہے لیکن یہاں عالمی سپلائی چین کی شہ رگ ’’آبنائے ہرمز‘‘ پر لٹکتی تلوار کا معاملہ ہے۔

تادم تحریر عملی طور پر یہ راستہ بند نہیں ہوا، لیکن اس کے خدشات کے پیش نظر تیل مہنگا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا کی ضرورت کا 20 تا 25 فی صد تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں ’’برینیٹ کروڈ آئل‘‘ کی قیمت راتوں رات 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اگرچہ اوپیک نے کہا ہے کہ مارکیٹ استحکام کے لیے پیداوار 2 لاکھ بیرل تک بڑھائی جائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے دفتر خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔

پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔ جولائی تا دسمبر 2025 ان 6 ماہ کے دوران مجموعی درآمدی بل 27 ارب 84 کروڑ ڈالر رہا جوکہ گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 6.52 فی صد زیادہ تھا اور ان 6 ماہ کے دوران پٹرولیم گروپ کی درآمدات ایک فی صد اضافے کے ساتھ 8 ارب 8 کروڑ ڈالر رہیں۔ البتہ خام تیل کی مجموعی مقدار میں 16.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے 4.29 ملین ٹن کے مقابلے میں 4.98 ملین ٹن ہو گئی۔ اگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی بات کی جائے تو 6 ماہ کی مجموعی مقدار 52 لاکھ 40 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ایل این جی کی درآمدات میں 1.95 فی صد اور ایل پی جی کی درآمدات میں 54.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اب ان تمام اعداد و شمار اور مزید تازہ ترین اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بڑے پیمانے پر فوری تیل کی درآمد کا انتظام کرنا پڑے گا۔ بصورت دیگر اس وقت ہم ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے سائے میں تیل کی درآمد کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ پاکستانی معیشت کا منظرنامہ ابھی سے لرز رہا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے سائے میں تیل کی درآمد کرب سے دوچار ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بحرین، ایران کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر مزید گرفتاریاں

Published

on



MANAMA:

بحرین میں ایران کے حملوں سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے اور مبینہ طور پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے پر مزید چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کے مطابق اب تک 8 افراد کو سوشل میڈیا پر ایرانی حمایت یافتہ مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی اشاعت عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور شہریوں و رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے، جو ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

یہ گرفتاریاں اس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں حکام ایسے مواد کو ایرانی جارحیت کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کی پوسٹس قوم سے غداری کے مترادف ہیں۔

واضح رہے کہ بحرین میں سنی حکومت قائم ہے جبکہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعض حلقے شیعہ اکثریتی ملک ایران کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

حملہ نہ کرتے تو 2 ہفتوں میں ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ حملہ نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آجاتا۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی امریکی افواج کو مضبوط بنانے پر کام کیا اور آج انہیں اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر ہے۔

ان کے بقول ایران کے خلاف کارروائی میں طاقت کا بہترین مظاہرہ کیا گیا اور ایرانی میزائلوں و لانچرز کو تباہ کر دیا گیا۔

ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین نیوکلیئر ڈیل کی تھی جسے انہوں نے چار سال قبل ختم کر دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں نے ایران کو جوہری پروگرام میں کافی پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب امریکہ ایران میں مستحکم پوزیشن میں ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہا، تاہم امریکی کارروائی نے اس سلسلے کو روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاگل لوگوں کے پاس ایٹم بم ہونا دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں عوام کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور امریکہ کو وہاں سے تیل کی فراہمی بھی جاری ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور جنگ میں امریکہ کو برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

اگلی باری کس کی ؟

Published

on


ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل بھی وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔لیکن ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی سیز فائر کا کوئی اعلان نہیں۔ نہ ایران کو ابھی کوئی فتح ملی ہے اور خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکا اور اسرائیل کو بھی کوئی فتح نہیں ملی ہے۔ ایران کے میزائل ابھی چل رہے ہیں۔ یہی اس کی فتح ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ لیکن کوئی راستہ ابھی نظر نہیں آرہا ۔

ایک سوال جو بہت پوچھا جا رہا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری کس کی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ سعودی عرب کی باری ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ ترکی کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا جواب بھی آیا ہے کہ پاکستان ایک نیو کلئیر ملک ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ اس لیے یہ تھیوری کہ اس کے بعد پاکستان کی باری ہے غلط ہے۔ اسرائیل کو علم ہے کہ پاکستان دفاعی طو رپر بہت مضبوط ہے۔ بھارت اسرا ئیل سے بڑا ملک ہے۔ دفاعی طور پر بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جب بھارت پاکستان سے نہیں لڑ سکتا تواسرائیل کیا لڑے گا۔

میں اس وقت ایران کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان دنیا میں کوئی تنہا بھی نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان کی باری کے حوالہ سے جتنی بھی گفتگو ہو رہی ہے وہ فضول ہے۔ اس میں کوئی دلیل نہیں۔ البتہ اس بات کے حق میں کافی دلائل موجود ہیں کہ پاکستان کی باری نہیں آسکتی۔ ہم دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ دنیا کے نظام میں ہمارا ایک فعال کردار ہے۔ ہم اسلامی دنیا میں بھی کوئی تنہا نہیں ہیں پھر ہماری فوجی طاقت بے مثال ہے۔ جہاں تک ترکی کی بات ہے۔ میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان اور اسرائیل کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن ترکی نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا ہو اہے۔ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ بلکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تو تجارت بھی موجود رہی ہے،آجکل معطل ہے۔

ترکی کا فلسطین کے لیے موقف قابل قدر ہے۔ ترکی غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں بھی آواز بلند کرتا ہے، ترکی بورڈ آف پیس کا بھی ممبر ہے لیکن ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ میں ترکی پر تنقید نہیں کر رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات غزہ کے بحران کے دوران بھی قائم رکھے۔صرف تجارت معطل کی ہے اور اب ایران تنازعہ میں بھی ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ ترکی نیٹو کا بھی ممبر ہے۔ اس طرح ترکی امریکا کا اتحادی بھی ہے، ترکی کی امریکا سے بھی کوئی لڑائی نہیں، بلکہ نیٹو ممبر کی وجہ سے ترکی پر حملہ تمام نیٹو ممالک پر حملہ تصور ہوگا ۔ اس لیے ترکی پر اسرائیل کا حملہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد پر تشویش ہے ۔ اسرائیل سے کچھ ایسے بیان آئے ہیں کہ یہ اتحاد اسرائیل کے لیے تشویشناک ہے۔ لیکن ابھی نہ تو یہ اتحاد بنا ہے۔ ابھی ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ اس لیے یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارتی راہداریوں پر بات چیت ر ہتی ہے۔ ترکی دفاعی طور پر بھی ایک مضبوط ملک ہے۔

اس کی دفاعی طاقت بہت زیادہ ہے۔ اس کے پاس نیو کلئیر پاور نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا دفاع بہت مضبوط ہے۔اگر ایران کے ساتھ جنگ اتنی مشکل ہے تو ترکی کے ساتھ تو بہت مشکل ہوگی۔ ترکی خطے کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، اس لیے اسرائیل کا ترکی کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہے۔اسرائیل اور ایران کی جنگ کی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر غلط حملہ کیا ہے، یہ حملہ ناجائز ہے، اس کی کوئی قانونی وجہ نہیں ہے، یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ ایران حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے ذریعے مسلسل اسرائیل کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ اسرائیل اور امریکا بھی معاشی پابندیوں اور دیگر حربوں سے ایران کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اب حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فائنل جنگ ہے، اس کے بعد ایران اسرائیل اور امریکا کی کوئی جنگ نہیں ہو سکے گی۔ دنیا میں جنگیں جاری رہتی ہیں۔ امریکا کو جنگوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے لیکن موجودہ جنگ امریکا کے لیے آسان نہیں ہے۔ آج بھی زیادہ تر دفاعی تجزیہ نگار امریکا کی جیت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ لیکن جیت کیا ہوگی، سوال یہی ہے فوج کس کی اور کب داخل ہوگی۔ اسرائیل کے پاس ایسی کوئی فوج نہیں جو وہ ایران میں داخل کر سکے۔

امریکا بھی کوئی بڑی فوج ایران کے پاس لے کر نہیں آیا ہوا کہ ہم کہہ سکیں کہ امریکی فوج داخل ہو جائے گی۔ اس لیے جہاں امریکی جیت کی بات ہو رہی ہے وہاں یہ سوال موجود ہے کہ فوج کس کی اور کب جائے گی۔ ابھی تک اس کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی۔ ابھی تک دنیا کا کوئی بھی ملک ایران میں فوج بھیجنے کو تیارنہیں۔ نیٹو بھی ساتھ نہیں۔ اس لیے یہ سوال موجود ہے کہ رجیم چینج فوج بھیجے بغیر ممکن نہیں اور فوج بھیجنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگلی باری کس کی ہے یہ ایک ثقیل بحث ہے۔ ہر جگہ نظر آرہی ہے ۔ پاکستان اور ترکی کو ایران کے ساتھ کھڑے ہوکر اس جنگ میں شامل ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اگلی باری آپ کی ہے۔ امریکا نے پہلے عراق کو گرایا، شام کو گرایا، لیبیا کو گرایا، اب ایران کو گرا رہا ہے پھر آپ کی باری ہے۔ اس لیے آج ہی اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن دوسری طرف یہ دلیل بھی ہے کہ ایک مفروضہ پر تو کسی جنگ میں شامل نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن آج کل یہ بحث ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending