Today News
آبنائے ہرمز، خلیج اور اسرائیل میں حملے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 13 ویں دن بھی حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
ایران کی طرف سے جاری میزائل حملوں، سائبر حملوں اور آبنائے ہرمز میں سمندری تناؤ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے میں امیر سعید ایراوانی کے مطابق اب تک 1,348 شہری جاں بحق اور 17,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یونیسف کے مطابق 1,100 سے زائد بچے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ ختم کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں: ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، معاوضہ ادا کیا جائے اور مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کے لیے بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔
ایران کے سائبر حملے میں ’ہنڈالا‘ گروپ نے طبی آلات بنانے والی کمپنی ’اسٹرائیکر‘ کے نیٹ ورک کو متاثر کیا اور 50 ٹیرا بائٹ ڈیٹا چرایا۔ علاوہ ازیں، ایران نے پاسداران انقلاب کے ذریعے اسرائیل پر حزب اللہ کے ساتھ مشترکہ میزائل حملے کیے۔
خلیج کے ممالک بھی متاثر ہوئے: سعودی عرب نے دو ایرانی ڈرون مار گرائے، عمان میں تھائی لینڈ کا جہاز حملے کے بعد بچایا گیا، بحرین اور یو اے ای نے بھی ایرانی حملوں کی مزاحمت کی۔ کویت میں ڈرون حملے سے بجلی کی کئی لائنیں متاثر ہوئیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کو شکست دی جا چکی ہے اور جنگ میں اب مزید دیر نہیں لگے گی۔ اسرائیل میں 14 فوجی زخمی ہوئے جبکہ لبنان کے بیروت میں اسرائیلی حملے میں سات ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔
تیل اور عالمی تجارت پر بھی اثر پڑا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی 400 ملین بیرل خام تیل مارکیٹ میں جاری کر رہی ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے۔
Today News
بغیر پروٹوکول سہیل آفریدی کی پشاور صدر بازار آمد، عوام میں گھل مل گئے
پشاور:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بغیر سیکیورٹی اور سرکاری پروٹوکول کے رات گئے اچانک پشاور کے مصروف علاقے صدر بازار پشاور کا دورہ کیا جہاں وہ عام شہریوں میں گھل مل گئے۔
وزیراعلیٰ نے بازار کے مختلف حصوں کا پیدل جائزہ لیا، دکانداروں اور خریداروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل بھی سنے۔
اس غیر رسمی دورے کے دوران شہریوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز بنوائیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کا یہ دورہ بغیر کسی پیشگی اعلان کے کیا گیا، جس کا مقصد عوامی مسائل کا براہ راست مشاہدہ کرنا تھا۔
Today News
جنگ بندی کی خلاف ورزی پر طالبان ترجمان کا دعویٰ پاکستان نے مسترد کر دیا
اسلام آباد:
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزارتِ دفاع ترجمان کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے عیدالفطر کے پیشِ نظر کیے گئے عارضی وقفے کی خلاف ورزی کی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان نے مغربی سرحد پر اس عارضی جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی ہے اور اس کی خلاف ورزی سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد، لغو اور سراسر جھوٹ ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈا ممکنہ طور پر افغان طالبان حکومت کے اندر موجود بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی پیدا کرنا یا دہشت گردی کے لیے جھوٹا جواز فراہم کرنا ہو سکتا ہے۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
◼️The claim of so called Ministry of Defence / spokesperson of Taliban regime that Pakistan has violated the temporary pause, initiated itself by Pakistan in view of Eid ul Fitr, is frivolous. No violation of the temperory… pic.twitter.com/TeO11FLGft
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 19, 2026
بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اگر افغان طالبان حکومت یا اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی، سرحد پار حملہ یا ڈرون کارروائی کی گئی تو عارضی وقفہ فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
حکام نے مزید کہا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں آپریشن غضب للحق کو مزید شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
وزارتِ اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے جھوٹے بیانیے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
Today News
چشم نَم سے آپ کو کہتے ہیں الوداع ۔۔۔۔۔!
رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں، ہم بھی دیدہ و دل فرش راہ ہوتے ہیں لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ رب تعالی کا یہ مہینا تو واقعی مہمان تھا، آیا اور پھر کس تیزی سے گزر گیا اور پھر ہم پھر سے ایک ناقابل بیان کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ کھو سا گیا ہے، وہ ماہ مبین آیا، اس نے ہمیں سرشار کیا اور دبے پاؤں رخصت بھی ہوگیا، الوداع۔۔۔۔۔۔۔!
رمضان کی آخری چند گھڑیاں ہی باقی ہیں جو ہمیں اپنے محاسبے اور جائزے کے لیے ملے ہیں۔
رمضان المبارک ہمارے گناہوں کو جلا ڈالتا اور ہمیں نئے سرے سے زندگی و توانائی دینے آتا ہے، تو کیا ہم اس میں کام یاب ہوئے۔۔۔ ؟
روزے کا اجر صرف رب تعالی کو معلوم ہے اور یہ بھی کہ ہمارے روزے قبول ہوئے کہ خدا نہ خواستہ ہم صرف بھوکے پیاسے رہ کر محروم ہوجانے والوں میں تو نہیں۔
آئیے! اس امید کے ساتھ کہ اﷲ تعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا اور ان سے درگزر کرتا ہے، اپنا احتساب و جائزہ لیں لیکن کیا جائزہ لیا جائے۔۔۔۔ ؟
اگر چند جملوں میں روزے کا مقصد سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ روزہ قُرب الہی کا ذریعہ ہے تو کیا ہم اﷲ کے قریب ہونے میں کام یاب ہوئے۔۔۔؟ اﷲ کے قُریب ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بس تسبیح کے دانے گرتے رہیں، تلاوت جاری رہے، سجدوں سے پیشانی سیاہ ہوجائے، یہ سب تو قرب الہی کے ذرائع ہیں اور ان اعمال کا بجا لانا ازحد ضروری ہے، قُرب کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اﷲ کی محبّت میں اپنے نفس کی خواہشات کو مار ڈالا ہے۔۔ ؟ اگر ہماری خواہشات اﷲ کے حکم سے ٹکراتی ہیں تو ہم نے رب کی محبت میں اسے قربان کرنا سیکھا یا نہیں ؟ اور سب سے اہم یہ کہ یہ محبت چند روزہ ہے یا دائمی ؟ رمضان ختم ہوتے ہی کہیں ہم دوبارہ تو ان امور میں مبتلا تو نہیں ہوجائیں گے جس سے رب نے منع کیا ہے۔
رمضان میں تو اﷲ تعالی حلال کاموں پر بھی پابندی لگاتے ہیں، لوگ رک جاتے ہیں لیکن جو ممنوعات ہیں ان میں پورا سال مبتلا رہتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ شریعت میں تو یہ ویسے ہی منع ہیں۔ تو اپنا جائزہ لیں کہ ہم خود کو روک پائے ہیں کہ نہیں؟ روزہ محنت کی عادت ڈالتا ہے تو کیا ہم نے آرام طلبی کو اپنی زندگی سے نکالا ؟ ہم نے محنت و مشقت کرنا سیکھا ؟ روزہ ہم دردی ایثار پیدا کرتا ہے تو اپنا جائزہ لیں کہ ہمارے اندر یہ صفات پیدا ہوئیں؟ روزہ برائیوں سے روکتا ہے تو کیا ہم رک گئے، آنکھ کان زبان کے گناہ سے خود کو بچا پا رہے ہیں ؟ اگر ہم ایسا کرنے میں کام یاب ہوئے تو ہمارے لیے مقام شکر ہے کہ اﷲ نے ہمیں توفیق دی اور شُکر کے نوافل و سجدے ادا کریں کہ شُکر اجر کو بڑھاتا ہے اور اگر ان مقاصد کے حصول میں کمی رہی، سستی و کاہلی دکھائی ہے جو کام اﷲ کو ناپسند ہیں وہ نہیں چھوڑے ہیں تو اب بھی وقت ہے یہ چند گھڑیاں بھی سچے دل سے مانگنے والوں کے لیے نعمت عظمی ہیں، سچے دل سے توبہ کی جائے اﷲ کی مدد و مغفرت طلب کی جائے، رحم مانگا جائے کہ ہمارا عمل تو نہیں اس قابل آپ دینے و عطا کرنے والے ہیں ہمیں خوش نصیبوں میں شامل فرما لیجیے۔
رمضان المبارک برکتیں لایا تھا تو جائزہ لیجیے اپنا کہ ہم نے ایسا کیا کچھ کِیا ہے جو بارگاہ الہی میں قبول ہو ؟ کہیں ہماری عبادت جھوٹ، دھوکا دہی، بددیانتی، دکھاوے و نمود و نمائش سے آلودہ تو نہیں ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہ ہے تو اترائیے بھی نہیں کہ یہ بھی بس توفیق الہی کے بنا ناممکن تھا، بس شکر کیجیے اور شُکر بھی خوف کے ساتھ کہ کہیں نیّت میں کوئی کھوٹ تو نہ تھی کہ رب کو ریا کاری و خودنمائی قبول نہیں۔ اب کمر کس لیجیے، جسمانی و مالی کسی عبادت سے نہ رکیے، ہاتھ تنگ کیجیے نہ دل کہ رب کو یہی مقصود ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
‘There will be nerves’: India face New Zealand for T20 World Cup glory – Sport
-
Magazines5 days ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines6 days ago
Story time: The price of a typo
-
Entertainment2 weeks ago
Troubling News About Rahat Fateh Ali Khan & His Family
-
Sports1 week ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport