Connect with us

Today News

آبنائے ہرمز کے قریب تھائی بحری جہاز پر میزائل حملہ، سمندر برد ہونے کا خدشہ

Published

on


مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تھائی لینڈ کا ایک مال بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ عملے کے 3 ارکان اب بھی لاپتا ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تھائی کارگو جہاز پر نامعلوم جانب سے حملہ کیا گیا۔ جس سے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحری جہاز پر 23 افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک 20 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ عملے کے 3 ارکان تاحال لاپتا ہیں۔

تھائی مال بردار جہاز ابوظہبی کے خلیفہ پورٹ سے روانہ ہوا تھا اور کئی گھنٹے بعد جب آبنائے ہرمز کے قریب پہنچا تو اس پر نامعلوم جانب سے حملہ کیا گیا۔

تھائی بحریہ نے بتایا کہ حملے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں مجموعی بیرونی قرضہ ایک ہزار 458 ارب تک پہنچ گیا

Published

on



پاکستان نے رواں مالی سال 26-2025کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار 458 ارب روپے کا نیا بیرونی قرضہ لیا ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے 12.7 فیصد زیادہ ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن حکام کے مطابق پاکستان نے نئے قرضے، رول اوور، عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی قسط سمیت مجموعی طور پر دو ہزار 857 ارب روپے حاصل کیے ہیں جس سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گیاہے۔

حکام نے بتایا کہ جولائی تا جنوری 5 ارب 17 کروڑ ڈالر کا نیا قرض لیا گیا، سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر، چین نے ایک ارب ڈالر قرض رول اوور بھی کیا، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط بھی حاصل ہوئی اور عالمی اداروں نے 7 ماہ میں دو ارب 12 کروڑ ڈالر فراہم کیے۔

اسی طرح جولائی تا جنوری 2026 اے ڈی بی نے 62 کروڑ 45 لاکھ ڈالر فراہم کیے، اس دوران عالمی بینک نے پاکستان کو 60 کروڑ 80 لاکھ ڈالرقرض دیا۔

حکام نے بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 70 کروڑ 53 لاکھ ڈالر ، چین نے پاکستان کو 26 کروڑ 94 لاکھ ڈالر قرض دیا، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت ایک ارب 48 کروڑ ڈالر قرض حاصل کیا گیا اور مزید بتایا گیا کہ اس دوران آئی ایم ایف سے 20 کروڑ 95 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔

آئی ایم ایف سے توسیع فنڈز سہولت کے تحت ملنے والے فنڈز اس  کے علاوہ ہیں، پاکستان نے 7 ماہ میں بجٹ سپورٹ کے لیے 51 کروڑ 87 لاکھ ڈالر حاصل کیے نان پراجیکٹ ایڈ 92 کروڑ، پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 53 کروڑ 62 لاکھ ڈالر ملے۔

اقتصادی امور ڈویژن حکام نے بتایا کہ رواں مالی سال نئے قرض، رول اوورز کی مد میں 25 ارب ڈالر ملنے کا تخمینہ ہے، متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر قرض رول اوور ہونا ابھی باقی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

صدر پی ایچ ایف کی پچھلے پانچ سالوں میں ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کی درخواست

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر محی الدین احمد وانی نے پاکستان کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران فیڈریشن کی کارکردگی کا جامع آڈٹ کرے۔

پی ایچ ایف کے صدر نے اپنے خط میں بتایا کہ یہ فیڈریشن ملک میں ہاکی کے فروغ، انتظام اور بین الاقوامی نمائندگی کی ذمہ دار ہے اور ماضی میں پاکستان کی عالمی کھیلوں میں وقار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں قومی ہاکی ٹیموں کی کارکردگی میں کمی، مالی استحکام کے مسائل، حکمرانی کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی صلاحیت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، جو کبھی عالمی ہاکی میں ایک طاقتور ملک تھا، اب عالمی درجہ بندی اور مقابلوں میں نمایاں کمی کا شکار ہے۔ ان حالات کے پیش نظر فیڈریشن نے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی درخواست کی ہے تاکہ بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور اصلاحات کی سفارش کی جا سکے۔

درخواست کے مطابق، مجوزہ آڈٹ میں مالی کارکردگی، عملی مؤثریت، حکمرانی کے طریقہ کار اور اسٹریٹجک نتائج کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ مالی جائزے میں سرکاری گرانٹس، اسپانسرشپس اور بین الاقوامی فنڈنگ کے ذرائع اور استعمال کے علاوہ مالی نظام اور داخلی کنٹرولز کی مؤثریت کو بھی دیکھا جائے گا۔

عملی جائزے میں تربیتی پروگرامز، ٹیلنٹ کی شناخت کے نظام، گراس روٹس ترقیاتی اقدامات، قومی ٹیموں کی تیاری، کوچنگ انتظامات اور بین الاقوامی مقابلوں کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پی ایچ ایف اور صوبائی ہاکی ایسوسی ایشنز و کلبز کے درمیان تعاون کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

آڈٹ میں فیڈریشن کے حکمرانی کے ڈھانچے، فیصلہ سازی کے عمل، آئین اور قومی کھیلوں کی پالیسیوں کے مطابق عمل درآمد، شفافیت اور جوابدہی کے طریقہ کار کا جائزہ بھی شامل ہوگا۔

مجوزہ آڈٹ میں پاکستان کی گزشتہ پانچ سالوں کی بین الاقوامی ہاکی ٹورنامنٹس میں کارکردگی کا تجزیہ، قومی ہاکی کی ترقی پر اثر انداز ہونے والی ساختی کمزوریوں کی شناخت اور عالمی ہاکی فیڈریشنز کے ساتھ پی ایچ ایف کے ماڈلز کا موازنہ بھی کیا جائے گا۔

پی ایچ ایف کے صدر نے امید ظاہر کی کہ آڈٹ کے نتائج پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی بہتری کے لیے شواہد پر مبنی بنیاد فراہم کریں گے، جس سے پاکستان کی تاریخی ہاکی کا وقار بحال ہو گا اور کھیلوں کی ترقی کے لیے مختص عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز میں ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 13 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

Published

on


مشرق وسطیٰ میں اہم سمندری راستوں پر حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور حالیہ رپورٹ کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک متعدد تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی میری ٹائم مانیٹر کا کہنا ہے کہ اسے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 13 تجارتی جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق اس کے علاوہ 4 مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جس کے بعد خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے سمندری علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی مجموعی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔

یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں تین تجارتی جہازوں سے نامعلوم پروجیکٹائل ٹکرانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک کارگو جہاز عمان کے شمالی سمندری علاقے میں موجود تھا جسے نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے جہاز کو نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق اس جہاز پر موجود عملے کو فوری امدادی کارروائی کے دوران بحفاظت نکال لیا گیا اور انہیں قریبی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ان حملوں کے باعث عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ یہی راستے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور سیکیورٹی اداروں نے خطے میں موجود جہازوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ کئی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستوں میں تبدیلی پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending