Today News
آمد رمضان کریم مبارک – ایکسپریس اردو
اﷲ تعالی کا احسان کہ اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے، اس مہینے میں اجر و ثواب بہت بڑھ جاتاہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنا کردیا جاتا ہے بل کہ اس مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔ عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق: ’’روزہ دار کے لیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں۔‘‘
روزہ باطنی عبادت ہے کیوں کہ ہمارے بتائے بغیر کسی کو یہ علم نہیں ہوسکتا کہ ہمارا روزہ ہے اور اﷲ تعالی باطنی عبادت کو زیادہ پسند فرماتا ہے۔ ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق: ’’روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔‘‘ اس مبارک مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالی نے اس میں قرآن پاک نازل فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن اترا، لوگوں کے لیے ہدایت اور راہ نمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں۔ اﷲ تعالی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے تم گنتی پوری کرو اور اﷲ تعالی کی بڑائی بولو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، سورۃ البقرہ)
اس آیت مقدسہ کے ابتدائی حصہ ’’شھر رمضان الذی‘‘ کے تخت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: ’’رمضان‘‘ یا تو ’’رحمن تعالی‘‘ کی طرح اﷲ تعالی کا نام ہے چوں کہ اس مہینہ میں دن رات اﷲ تعالی کی عبادت ہوتی ہے لہٰذا اسے شہر رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ کہا جاتا ہے‘ جیسے مسجد و کعبہ کو اﷲ تعالی کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں‘ ایسے ہی رمضان اﷲ تعالی کا مہینہ ہے کہ اس مہینے میں اﷲ تعالی کے ہی کام ہوتے ہیں۔ روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اﷲ تعالی کے مگر بہ حالت روزہ جو جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے، وہ بھی اﷲ تعالی کے کام قرار پائے اس لیے اس ماہ کا نام رمضان یعنی اﷲ تعالی کا مہینہ ہے۔ یا یہ رمضاء سے مشتق ہے‘ رمضاء موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دُھل جاتی ہے اور ربیع کی فصل خوب ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ مہینہ بھی دل کے گرد و غبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے‘ اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں۔ ’’ساون‘‘ میں روزانہ بارشیں چاہییں اور ’’بھادوں‘‘ میں چار‘ پھر ’’اسار‘‘ میں ایک‘ اس ایک سے کھیتیاں پک جاتی ہیں توا س طرح گیارہ مہینے برابر نیکیاں کی جاتی رہیں‘ پھر رمضان کے روزوں نے ان نیکیوں کی کھیتی کو پکا دیا۔ یا یہ ’’رمض‘‘ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’گرمی یا جلنا‘‘ چوں کہ اس میں مسلمان بھوک پیاس کی تپش برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کی جلا ڈالتا ہے، اس لیے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔ کنزالعمال کی آٹھویں جلد کے صفحہ 217 پر حضرت انسؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم رؤف رحیمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔‘‘ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینہ تھا اسی سے اس کا نام ہوا۔ جو مہینہ گرمی میں تھا اسے رمضان کہہ دیا اور جو موسم بہار میں آیا، اسے ربیع الاول اور جو سردی میں تھا اسے جمادی الاولیٰ کہا گیا۔ اسلام میں ہر نام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور نام کام کے مطابق رکھا جاتا ہے دوسری اصطلاحات میں یہ بات نہیں۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، حضور نبی کریمؐ کا فرمان عالی شان کا مفہوم ہے:
’’جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے، جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے ہر سجدے کی عوض (یعنی بدلہ میں) اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے، اس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے جس میں ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے پٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے‘ پس جو کوئی ماہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اﷲ تعالی مہینے کے آخر دن تک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے لیے صبح سے شام تک ستّر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے، اس ہر سجدے کے عوض اسے (جنت میں) ایک ایسا درخت عطا کیا جاتا ہے کہ اس کے سائے میں گھڑ سوار پانچ سو برس تک چلتا رہے۔‘‘
خدائے حنان و منان تعالی کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے طفیل ایسا ماہ رمضان عطا فرمایا۔ حضرت سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے:
’’ میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبیؑ کو نہ ملیں۔
٭ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالی ان کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالی نظر رحمت فرمائے گا اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔
٭ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بُو سے بھی بہتر ہے۔
٭ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
٭ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین (یعنی آراستہ) ہوجا، عن قریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔
٭ پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالی سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘
لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہُوا اور عرض کی: یارسول اﷲ ﷺ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انھیں اُجرت دی جاتی ہے۔‘‘
حضرت سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، حضور پرنورؐ کا فرمان ہے: ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہ رمضان اگلے ماہ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔‘‘
رمضان المبارک میں رحمتوں کی چھما چھم بارشیں اور گناہ صغیرہ کے کفارے کا سامان ہو جاتا ہے، گناہ کبیرہ توبہ کرنے سے معاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ ہُوا ہو خاص اس گناہ کا ذکر کرکے دل کی بے زاری اور آئندہ اس سے بچنے کا عہد کرکے توبہ کرنی ہوگی۔ مثلاً جھوٹ بولا، یہ کبیرہ گناہ ہے۔ بارگاہ خداوندی تعالی میں عرض کرے: ’’یااﷲ تعالی! میں نے جو یہ جھوٹ بولا اس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔‘‘ یہ کہتے وقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کروں گا جبھی توبہ ہے، اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ اس بندے سے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے فضائل سے کتب احادیث مالا مال ہیں۔ رمضان المبارک میں اس قدر برکتیں اور رحمتیں ہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرمایا: ’’اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘
حضرت سیدنا سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہِ شعبان کے آخری دن میں بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات (ایسی بھی ہے جو) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالی نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام تطوع (یعنی سنت) ہے، جو اس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مؤاسات (یعنی غم خواری اور بھلائی) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کچھ کمی ہو۔‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کروائے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کروائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا، اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول (یعنی ابتدائی دس دن) رحمت ہے اور اس کا اوسط (یعنی درمیانی دس دن) مغفرت ہے اور آخر (یعنی آخری دس دن) جہنم سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ اس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمھیں بے نیازی نہیں۔ پس وہ دو باتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب تعالی کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں: لاالہ الااﷲ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا۔ جب کہ وہ دو باتیں جن سے تمھیں غنا (بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں، اﷲ تعالیٰ سے جنت طلب کرنا اور جہنم سے اﷲ تعالی کی پناہ طلب کرنا۔‘‘
حدیث مبارکہ میں ماہِ رمضان کی رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کا خوب تذکرہ ہے‘ لہٰذا تمام مسلمانوں کو اس ماہ مقدسہ میں کلمہ شریف زیادہ تعداد میں پڑھ کر اور بار بار استغفار یعنی خوب توبہ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔
Today News
کراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 2 زخمیوں سمیت 3 ملزمان گرفتار
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلوں میں 2 زخمیوں سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بہادر آباد تھانے کی حدود میں کارساز روڈ کے قریب پولیس نے مشکوک موٹرسائیکل سوار ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ساتھی فرار ہوگئے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت وارث اور اشفاق کے نام سے ہوئی ہے، جن کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ، پستول بمعہ ایمونیشن اور موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی۔
زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ضابطے کی کارروائی جاری ہے اور فرار ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سعیدآباد کے علاقے میں بھی پولیس اور ملزمان کے درمیان مبینہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جہاں پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم سے اسلحہ اور چھینے گئے موبائل فون برآمد ہوئے ہیں، ملزم کی شناخت اور اس کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔
Today News
امریکی صدر کی تعریف سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا، عطا تارڑ
واشنگٹن:
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے واشنگٹن ڈی سی سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ امریکا میں منعقدہ بورڈ آف پیس اجلاس کے دوران پاکستان کو نمایاں پذیرائی اور احترام حاصل ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے عالمی منظرنامے پر پاکستان ایک اہم اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے معاملے پر مؤثر سفارتی کردار ادا کیا اور مختلف عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ سمیت دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر فلسطینی مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر اور وزیراعظم کے درمیان مثبت روابط اور خوشگوار ملاقاتوں سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور ملک عالمی معاملات میں ایک اہم و متعلقہ کردار ادا کر رہا ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور قومی قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملک عالمی سطح پر تنہائی سے نکل کر فعال اور مؤثر کردار کی جانب گامزن ہے۔
Today News
بے مقصد دھرنے اور الٹی میٹم
اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیراؤں کے ہفتہ وار احتجاج، عارضی دھرنوں، وزیر اعلیٰ کے پی کے اڈیالہ کے باربار چکروں میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات رنگ لائی اور بانی کی جسمانی صحت، بینائی کے مسئلے، بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے پر حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوا اور بانی کے وکیل نے اپنی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس پر چیف جسٹس نے حکم بھی صادر کیا مگر پی ٹی آئی نے دو تین دن کا صبر بھی گوارا نہ کیا اور بانی کی صحت پر جو سیاست شروع کی وہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور بانی کی بینائی کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نمایاں ضرور ہوئیں۔ تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔
حکومتی حامیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جیلوں میں کسی بھی وجہ سے قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں جو انھیں ملنے چاہئیں مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے نہیں دیے۔ (ن) لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کو بھی کہنا پڑا کہ کسی حکومت کو کسی کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں مگر خود بانی اپنے اقتدار میں کس طرح دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان سے بھی بانی کی حمایت نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کا موقف بھی درست تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے بروقت اقدامات حکومت کی ذمے داری ہے۔ آنکھ کا مسئلہ سیریس ہوتا ہے جس پر حکومت اور پی ٹی آئی کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بانی سابق وزیر اعظم ہیں انھیں فوری توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سلمان صفدر نے بانی سے ملاقات کی تو یہ مسئلہ سامنے آیا، اگر آنکھ کا کوئی مسئلہ تھا تو جنوری میں بانی کی ہمشیرہ جب بانی سے ملی تھیں تو اس وقت آنکھ کے علاج کی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ اور بینائی کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹروں نے ہی کرنا ہے اور حکومت نے کوئی لاپرواہی نہیں کی اور سلمان صفدر سے ملاقات سے قبل بانی نے خود کچھ نہیں بتایا تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ بانی نے بینائی کی معمولی شکایت کی تھی جس پر متعدد بار ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تھا اور دوائی بھی دی تھی۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل نے تو چارج چھوڑنے سے قبل بھی بانی کا معائنہ کرایا تھا۔
یہ بھی درست ہے کہ بانی کی بہنوں اور پی ٹی آئی کو بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کی ضرور شکایات تھیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ حکومت نے بانی سے ملنے پر کسی وجہ سے پابندی لگائی تھی کیونکہ بانی کی بہنیں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاست کر رہی تھیں اور ہر منگل چند گھنٹوں کے لیے احتجاج و دھرنا بھی ہوتا تھا۔
ملاقات نہ کرانا حکومتی مسئلہ تھا مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے بانی کی آنکھ کا مسئلہ بڑھ جانے پر حکومت نے بانی کو پمز لا کر ان کی آنکھ کا معائنہ بھی کرایا تھا مگر حکومت نے یہ حقیقت چھپائی بھی تھی جو غلط حکومتی فیصلہ تھا۔ بعد میں حکومت نے تصدیق بھی کی جس سے پی ٹی آئی کو شکایتوں کا موقعہ ملا اور سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا اور یہ تک کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری ہمارے لیے کچھ نہیں۔ اس بیان کا مقصد بینائی کے مسئلے کو سیاسی بنا کر احتجاج و دھرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جو حکومتی غلط پالیسی سے پی ٹی آئی کو مل گیا۔
بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ بانی کو رہا کرو۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹروں نے ہنگامہ کیا جس پر حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ضروری احتجاج نہ کرے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر جس سے کہیں گے حکومت بانی کا علاج کرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جنوری میں بانی کی آنکھ کی تکلیف کا بتایا گیا تھا اب ان کی صحت پر سیاست کرنا غلط ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اب لاشوں اور جھوٹوں کی سیاست نہیں چلے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت نہیں جھکے گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جو حکومت نے نہیں ہونے دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی جو اپوزیشن کا حق تھا مگر 16 فروری کا انتظار نہیں کیا گیا اور وقت سے پہلے عدالتی فیصلہ نہ آنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔
بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان بانی کی رہائی کے لیے الٹی میٹم بھی دے رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے سخت بیانات بھی آ رہے ہیں اور مخالفانہ بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 8 مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئے ہیں اور عدالتی ریلیف بھی ملنے لگا ہے جس کے بعد احتجاج، دھرنے اور دھمکی آمیز بیانات بے مقصد ثابت ہو رہے ہیں۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech6 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims