Connect with us

Today News

آٹھ سال عقوبت خانوں میں

Published

on


ملک کے اخبارات ورسائل کے مدیران میں ایک درخشاں ستارے کا نام ہے سلیم منصور خالد۔ نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا کی مجسّم تصویر۔ کئی کتابوں کے مصنّف ہیں مگر بنگلہ دیش امور کے اسپیشلسٹ ہیں بلکہ پی ایچ ڈی ۔ بنگلہ دیش کے اصل حقائق سے وہ اپنے مضامین اور کتابوں کے ذریعے ملک کے سنجیدہ طبقوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ وہاں کے حالیہ انتخابات کے بارے میں انھوں نے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں جو کچھ تحریر کیا تھا وہ کافی حد تک درست ثابت ہوا ہے۔

ماضی میں حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیاء کی آپس میں سخت چپقلش رہی ہے، بی این پی کے خلاف عوامی لیگ کی حکومت نے بہت سختیاں بھی کی جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاء ایک طویل عرصے تک قید میں اور ان کا بیٹا طارق رحمان (موجودہ وزیراعظم) جلا وطن رہا۔ مگر وہاں نوجوانوں کے لائے گئے انقلاب کے بعد عوامی لیگ پابندی کے باعث الیکشن سے باہر ہوگئی۔ لہٰذا اس نے بی این پی سے پینگیں بڑھانا شروع کیں اور حالیہ انتخابات میں عوامی لیگ کے حامیوں کا اور ہندو کمیونٹی کا 98% ووٹ بی این پی کو پڑا ہے۔

جس نے ان کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، عالمی سطح پر بھی وہ ایک اجنبی شخصیّت ہیں، اس لیے بنگلہ دیش کے عالمی خیر خواہوں کا خیال ہے کہ اگر ڈاکٹر محمد یونس ان کے ساتھ صدر ہوں تو پھر یہ جوڑی بنگلہ دیش میں استحکام اور خوش حالی لاسکتی ہے۔ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو عملاً بھارت کی ایک ریاست میں تبدیل کردیا تھا جس کے تمام اہم فیصلے دہلی میں ہوتے تھے۔ اسی پالیسی کے تحت حسینہ نے جماعتِ اسلامی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اور بچّاس سال پہلے، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی افواج کی حمایت کرنے پر جماعت کے عمر رسیدہ لیڈروں کو بھی پھانسیوں پر لٹکا دیا، جماعت پر پابندی لگادی، اس کے دفاتر اور جائیدادیں ضبط کرلیں اور ان کا نام تک لینے والوں کے لیے جینا حرام کردیا۔ پندرہ سال ظلم اور جبر سہنے کے بعد جماعت پر سے پابندی ہٹائی گئی تو انھوں نے بھی انتخابات میں حصّہ لیا اور ستّر نشستیں جیت لیں۔ بھارت کے تجزیہ کاروں کے مطابق جماعتِ اسلامی اور ان کے اتحادیوں نے تین کروڑ سے زائد اور کل ووٹوں میں سے بتیس فیصد ووٹ حاصل کیے جو ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

مگر آج میں انتخابات کے بارے میں نہیں سلیم منصور صاحب کی بھیجی ہوئی کتاب ’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘ کے بارے میں بتانے لگا ہوں۔ یہ بنگلہ دیش کے ایک نوجوان بیرسٹر کی رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان ہے، جسے حسینہ کے دورِ حکومت میں گھر سے اٹھایا گیا اور پھر ’’غائب‘‘ کردیا گیا۔ اُس پڑھے لکھے شخص کو چند ہفتوں کے لیے نہیں آٹھ سال تک عقوبت خانوں میں رکھا گیا۔ ان آٹھ سالوں کی ہر گھڑی اس کی والدہ، بیوی اور معصوم بچیوں کے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ اس دوران مغوی نہ زندوں میں تھا اور نہ مردوں میں، اور ورثاء بھی سولی پر لٹکے رہے، انھیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہے یا اسے مار ڈالا گیا ہے۔

نوجوان بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے تھا، ان کے والد میر قاسم علی کا تعلق بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے تھا، وہ خود عملی سیاست میں نہیں تھے مگر جماعت کو مالی امداد دیاکرتے تھے۔ شیخ حسینہ نے 2008میں وزیراعظم، بننے کے بعد جماعت کے ہر سپورٹر اور خیرخواہ کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا اور پھر بھارت کی ہدایت پر پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کو خوفزدہ کرنے اور جماعت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے اس کے حامیوں کو بھی پھانسیاں دینی شروع کردیں۔ میر قاسم علی کو جب ایک نام نہاد ٹریبونل کے ذریعے پھانسی کی سزا سنائی گئی اُس وقت ان کا بیٹا ارمان برطانیہ سے بیرسٹری کی ڈگری لینے کے بعد مصر میں عربی زبان سیکھ رہا تھا۔ والد صاحب کو سزا ہونے کے بعد وہ فوری طور پر واپس لوٹا اور والد کے دفاع کے لیے قائم کردہ قانونی ٹیم کا حصہ بن گیا۔ قانونی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر عبدلرزاق نے نوجوان بیرسٹر کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے رابطوں کی ذمے داری سونپی۔ اب اس کے بعد کی کہانی اس کی اپنی زبانی سنئے۔

’’ایک ایک کرکے جماعت کے راہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا اور مقدمات شروع ہوگئے لیکن سب سے بڑا خوفناک پہلو یہ تھا کہ عدالتی عمل ہمارے بدترین خدشات سے بھی بڑھ کر وحشی درندے کی صورت میں بے نقاب ہوگیا۔ حکومت کی طرف سے قانون توڑنا، گواہوں کو ہراساں کرنا اور مقدمات کے دوران قانون میں ترمیم کرنا معمول بن گیا۔ مگر کچھ بھی میڈیا پر نہیں آنے دیا جاتا تھا۔

’’۔۔۔میرے والد صاحب کو سزائے موت سنائی گئی تو ہم نے اپیل کردی۔ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہماری طرف سے وکالت کرنے کے لیے تیار ہوگئے تو دوسرے حاضر سروس ججوں نے انھیں ڈرا دھمکا کر مقدمہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پھر ایک بار چیف جسٹس نے سزائے موت کے خلاف ریمارکس دیے تو اسے بھی دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ ان حالات میں کچھ اہم لوگوں نے مجھے بھی وارننگ دی کہ ’’فوراً ملک سے باہر چلے جاؤ‘‘، میں نے جیل میں والد صاحب سے مل کر پوچھا تو انھوں نے کہا، بیٹا! اﷲ پر بھروسہ رکھو، ملک میں رہو تاکہ مجھے الوداعی غسل دے سکو اور میری تدفین کرسکو‘‘ یہ سن کر مجھے حوصلہ ملا اور میرے اندر شدید عزم بیدار ہوگیا۔ اس کے چند روز بعد شیخ حسینہ کی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے بنائی گئی فورس Repid Action Battalion کے جوان رات کو میرے گھر آدھمکے اور زبردستی اٹھاکر لے گئے، میری بیوی اور معصوم بچیاں شور مچاتی رہیں مگر انھوں نے مجھے گاڑی میں ڈالا، ہتھکڑی لگائی اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ اور کافی دیر کے بعد گاڑی رکی، مجھے انھوں نے دھکے دے کر اتارا۔ گیٹ کھلنے کی آواز آئی، پھر وہ مجھے سیڑھیوں سے نیچے لے گئے اور ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں دھکیل دیا۔

وہاں میرے کپڑے اتروا کر انتہائی گندی سے لنگی اور بنیان پہنادی‘‘۔ بس یہ وہ عقوبت خانہ تھا جہاں ایک اعلیٰ خاندان کے پڑھے لکھے بیرسٹر کو ڈمپ کردیا گیا۔ وہاں تاریکی، بدبو، مچھر اور جیلروں کی گندی گالیاں تھیں جو ایک نارمل انسان کو پاگل بنادینے اور اس کے اعصاب توڑ دینے کے لیے کافی تھیں۔

بیت الخلاء کے بارے میں لکھتے ہیں ’’وہاں ہر جگہ غلاظت اور فضلہ پڑا تھا، میں نے ہتھکڑی سے دروازہ کھٹکھٹایا توگارڈ آیا میں نے پوچھا اس بیت الخلاء کو کیسے استعمال کرسکتا ہوں، میں تو یہاں کھڑا بھی نہیں ہوسکتا۔ یہاں صابن نہیں، وضو کے لیے جگہ نہیں۔ اس نے جواب دیا ہر کوئی اسی پانی کو بیت الخلاء کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ سمجھے۔۔ ’’یہ سن کر مجھے یوں لگا جیسے میں ایک جہنم میں ڈال دیا گیا ہوں، آخر کار مجھے وہی پانی استعمال کرنا پڑا۔ اس غلیظ سیل میں ایک پھٹا ہوا بدبو دار تولیہ ایک گندے پانی کی بوتل اور ایک زرد پیشاب کی تہہ جمی بوتل میرے ساتھی تھے۔ مجھے شدید کراہت اور ذلّت کا احساس ہوا۔ میں کوئی سوال کرتا یا وقت پوچھتا تو گندی گالیوں سے جواب دیا جاتا، شدید گرمی کے باعث میری جلد پر پہلے چھالے بنے اور پھر پھوڑے بن گئے جن سے مسلسل پِیپ رسنے لگی‘‘۔

نوجوان بیرسٹر کو جس تنگ وتاریک غلیظ اور بدبو دار کوٹھڑی میں بند کیا گیا وہاں بھی اس کی آنکھوں پر مستقل پٹی اور ہاتھوں میں ہر وقت ہتھکڑی ہوتی تھی، وہاں وقت پوچھنا جرم تھا، دن اور رات کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک ناقابلِ بیان بے بسی کا احساس تھا جو میرے سینے کو جکڑ رہا تھا۔ اس بے بسی اور ناامیدی میں مجھے صرف ایک ہستی کے نام اور سہارے نے زندہ رکھا اور وہ تھی ربِّ کائنات کی ذات۔ اُس وقت مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی ’’صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو‘‘ لہٰذا میں نے سارا وقت عبادت اور نمازوں میں صرف کرنا شروع کردیا۔ اس طرح میں جتنا زیادہ اللہ سے ہمکلام ہوتا اتنا ہی امید اور حوصلہ ملتا اور مشکل کم ہوتی‘‘۔

حسینہ حکومت کی درندگی کئی سالوں تک جاری رہی۔ بیرسٹر ارمان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہوتا رہا اور وہ اﷲ کے سہارے سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ اسی طرح دن، مہینے اور پھر سال گزرتے رہے۔ اس دوران وہ کئی بار بیمار بھی ہوئے، کئی بار بے ہوش بھی ہوئے۔ اس صورت میں ڈاکٹر بھی آجاتا اور کچھ دوائیاں بھی دے جاتا کہ مغوی زندہ رہے۔ لیکن وہ آٹھ سال تک موت سے بدتر زندگی کے دن گذارتے رہے۔ اگر وہ زندہ رہے تو صرف قرآن، عبادت اور اﷲ کی رحمت کے سہارے۔ بالآخر جب طلبا کے عظیم انقلاب کے نتیجے میں قاتل حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو گارڈ انھیںسیل سے نکال کر کسی سڑک پھینک گئے۔

جہاں وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے اسپتال پہنچے اور وہیں ان کا رابطہ اپنے پیاروں سے کرایا گیا۔ یہ ظلم اور جبر کے ساتھ ساتھ صبر، استقامت، حوصلے اور امید کی حیرت انگیز داستان ہے۔ جو ناول کی طرح پڑھی جاسکتی ہے۔ بیرسٹر ارمان حالیہ الیکشن میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ چار دوسرے شہید کیے جانے والے راہنماؤں کے بیٹے بھی پارلیمنٹ کے ممبر بنے ہیں۔ کیا ہم زمانے کے الٹ پھیر سے عبرت حاصل نہیں کریںگے؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ

Published

on



اسلام آباد:

ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار

Published

on



کراچی:

ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔

کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔

اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق

Published

on


پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔

اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔

نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔

اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔

یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔

اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Trending