Connect with us

Today News

آٹھ مارچ ، غور و فکرکا دن

Published

on


دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بظاہر خوشی، یکجہتی اور عورتوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے مگر اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے پیچھے خوشی سے زیادہ درد مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ عورت کی آزادی کا یہ سفرکسی ایک لمحے میں شروع نہیں ہوا بلکہ یہ صدیوں کی ناانصافیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب صنعتی انقلاب آیا تو دنیا کے بڑے شہروں میں کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں، تب ان کارخانوں میں ہزاروں عورتیں بھی مزدوری کرنے لگیں۔ ان عورتوں کی زندگی نہایت سخت تھی۔ انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اورکام کی جگہوں پر کسی قسم کے تحفظ کا تصور بھی موجود نہ تھا۔ نیویارک اور یورپ کے کئی صنعتی شہروں میں عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں نیویارک کی ہزاروں مزدور عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر بہتر اجرت کم اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج دراصل ایک بڑی عالمی تحریک کی ابتدا تھی۔

1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک کی خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی اور جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔ چند ہی برسوں بعد روس میں یہ دن ایک تاریخی موڑ کا سبب بن گیا۔

1917 میں روس کی خواتین مزدوروں نے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بھوک کے خلاف روٹی اور امن کے نعرے کے ساتھ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج بعد میں ایک بڑے عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس میں نئی حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے آٹھ مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں یہ دن مزدور تحریکوں اور ترقی پسند حلقوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتا گیا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اسے عالمی دن کے طور پر تسلیم کر لیا۔

عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔ اسے جائیداد سمجھا گیا اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں رہے اور اس کی زندگی اکثرگھر کی چار دیواری میں قید رہی۔ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اس کی محنت کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا کارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین ان کی محنت ہمیشہ معیشت کی بنیاد رہی مگر ان کے حصے میں عزت اور انصاف کم ہی آیا۔ بیسویں صدی میں جب عورتوں نے تعلیم اور شعور حاصل کرنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اس آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود عورتوں کی جدوجہد جاری رہی۔

آج اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عورتوں کو قانونی حقوق حاصل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی شکلیں اب بھی موجود ہیں۔ گھریلو تشدد جنسی ہراسانی کم عمری کی شادیاں تعلیم سے محرومی اور جنگوں کے اثرات آج بھی لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ایسے میں جب ہم آٹھ مارچ کی بات کرتے ہیں تو ایک اور دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران میں جنگ کے نتیجے میں ایک سو پینسٹھ معصوم بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے نکلی تھیں مگر نفرت اور تشدد کی آگ نے ان کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں جو خالی پن رہ گیا ہے وہ کسی بھی جشن کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔

یہ سانحہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ابھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں عورت اور بچی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ایک بچی خوف کے سائے میں اسکول جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔اسی لیے آٹھ مارچ کے دن یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ دن واقعی جشن کا دن ہے یا یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ کیا ہم صرف تقریبات، سیمیناروں اور نعروں کے ذریعے عورتوں کے مسائل حل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں سماج کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عورت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جب کسی سماج میں عورت کو عزت اور برابری حاصل نہیں ہوتی تو وہ سماج حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ عورت کی آزادی دراصل انسان کی آزادی ہے اور عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔

آٹھ مارچ کو اگر واقعی بامعنی بنانا ہے تو اسے صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے جہاں عورت کو خوف کے بغیر جینے کا حق حاصل ہو جہاں اس کی تعلیم اور اس کے خواب محفوظ ہوں اور جہاں اس کی آواز کو برابری کی اہمیت دی جائے۔جب تک دنیا کی ہر بچی محفوظ نہیں ہو جاتی جب تک ہر عورت کو انصاف اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی تب تک آٹھ مارچ کی اصل معنویت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس دن کو ایک عہد کے دن کے طور پر دیکھنا ہوگا، ایسا عہد کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے اپنی ذمے داری ادا کریں گے۔

آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں ہر باشعور انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہو،کیونکہ جب تک دنیا کی آدھی آبادی کو مکمل عزت اور آزادی حاصل نہیں ہوگی، تب تک انسانیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان کا لبنان کے خلاف اسرائیلی فوجی جارحیت پر اظہار مذمت

Published

on



پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جہاں اب تک سیکڑوں شہری شہید، درجنوں زخمی اور 5 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں سینکڑوں شہری جاں بحق اور تقریباً 5 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل لبنان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی کوششوں کو کمزور کر رہا ہے اور اسرائیلی اقدامات خطے میں جاری سیکیورٹی اور انسانی بحران کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت، شہریوں کو نشانہ بنانے اور لبنان کی سالمیت کی خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے۔

مزید کہا گیا کہ اور پاکستان تمام مقبوضہ لبنانی سرزمین سے اسرائیل کے فوری، مکمل اور غیر مشروط انخلا کا مطالبہ کرتا ہے، جارحیت کے مقابلے میں لبنانی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان لبنان اور پورے خطے میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

توانائی بحران…قومی معیشت کا امتحان

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جب کہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ انھوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر انحصارکرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست یہاں کے عوام اور معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے قوم سے خطاب میں جو اقدامات اعلان کیے گئے ہیں، ان کا بنیادی مقصد اسی ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنا ہے۔ بظاہر ہنگامی نوعیت کے یہ اقدامات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک بڑی معاشی اور توانائی سے متعلق حکمت عملی کار فرما ہے۔

پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، بجلی اورگیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور عام شہری کی قوت خرید میں کمی نے معاشرتی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ یا ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے بحران کو محض ایک تکنیکی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوامی زندگی پر پڑتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، انھیں ایک حد تک مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ماضی میں اسی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ دفاتر میں اوقات کارکم کرنا،گھروں سے کام کی حوصلہ افزائی کرنا اور غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کرنا ایسی حکمت عملیوں کا حصہ ہوتا ہے جن کے ذریعے ایندھن کی کھپت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پتاہم اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرکاری وسائل کے استعمال کا مسئلہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سرکاری اداروں میں گاڑیوں، بجلی اور دیگر وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ موجودہ بحران نے اس مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو مستقل پالیسی بنایا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی بہتر ہو سکتا ہے، اگرچہ حکومت نے موجودہ حالات کے پیش نظر کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات وقتی نہ ہوں بلکہ انھیں مستقل پالیسی کی شکل دی جائے۔

 ملک میں کئی دہائیوں سے توانائی کی قلت اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے مسائل موجود ہیں مگر ان کے مستقل حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، اگر ماضی میں متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال پر بھرپور توجہ دی جاتی تو آج پاکستان اس قدر بیرونی ایندھن پر انحصارکرنے پر مجبور نہ ہوتا۔دنیا کے کئی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یورپ، چین اور دیگر خطوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہاں توانائی کے بحران کے اثرات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

پاکستان کے پاس بھی قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی سال کے بیشتر حصے میں دستیاب رہتی ہے جب کہ ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود ان وسائل سے مکمل فایدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔موجودہ بحران ایک طرح سے پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر ہم نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں ایسے بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کی درآمدات پر انحصارکا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی ہر تبدیلی ہمارے معاشی نظام کو متاثرکرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کی پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر مرتب کیا جائے اور مقامی وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔

 سیاسی میدان میں بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال کو جواز بنا کر عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جب کہ اشرافیہ اپنی مراعات میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان میں یہ بحث نئی نہیں ہے۔ ہر معاشی بحران کے دوران یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا ہے کہ قربانی کا بوجھ کس طبقے پر پڑ رہا ہے، اگر عام شہری مہنگائی کا شکار ہو اور دوسری طرف حکمران طبقات کی مراعات برقرار رہیں تو اس سے عوامی ردعمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب بھی کسی بحران یا قلت کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو بعض عناصر اس صورتحال سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضروری اشیاء کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سخت نگرانی کرے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیازکارروائی کرے، اگر منڈیوں میں ناجائز منافع خوری کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عوامی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کا ایک اہم پہلو سفارتی بھی ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے اس خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا آیا ہے اور کئی معاملات میں ان ممالک کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون بھی موجود ہے۔ اس لیے موجودہ بحران میں پاکستان کو ایک متوازن اور ذمے دارانہ سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی سطح پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ معاشی استحکام کے بغیرکوئی بھی ملک بیرونی بحرانوں کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتا، اگر معیشت مضبوط ہو، توانائی کے ذرائع متنوع ہوں اور مالیاتی نظم و ضبط موجود ہو تو عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات نسبتاً کم محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کمزور معیشت والے ممالک ہر عالمی بحران سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے، اگر اس بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کے نتیجے میں توانائی، معیشت اور حکمرانی کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو یہ ملک کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ توانائی کی بچت، قابل تجدید ذرائع کا فروغ، حکومتی اخراجات میں کمی اور شفاف معاشی پالیسی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف موجودہ بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ملک کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور اجتماعی ذمے داری کی ہے۔ حکومت، اپوزیشن،کاروباری طبقہ اور عوام سب کو مل کر اس مشکل دور کا مقابلہ کرنا ہوگا، اگر سیاسی اختلافات کو ایک حد تک پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو ایسے حالات میں بہتر فیصلے ممکن ہو سکتے ہیں۔ بحران کے اوقات میں قومیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اجتماعی حکمت عملی اور مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا توانائی بحران ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی حالات کس قدر تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دانشمندانہ پالیسی، ذمے دار قیادت اور عوامی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موجود ہے کہ وہ اس بحران کو محض ایک مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاحات اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اگر ایسا کیا گیا تو ممکن ہے کہ آج کا یہ مشکل وقت مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ثابت ہو۔





Source link

Continue Reading

Today News

اشرافیہ کا نظام حکمرانی – ایکسپریس اردو

Published

on


پاکستان کا حکمرانی کا نظام عوامی مفادات کے تناظر میں اپنی اہمیت کھوچکا ہے ۔کیونکہ حکمرانی کی نظام کی بنیاد جہاں عوامی مفادات کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے وہی نظام ریاست کے اندر اپنی سیاسی، سماجی،آئینی ،قانونی اور معاشی ساکھ بھی قائم کرتا ہے۔یہ نظام اور اس میں موجود حکمرانی کا طرز عمل طاقت ور طبقات کے مفادات کے گرد گھومتا ہے اور اسے حق حکمرانی میں ایک مخصو ص طبقہ پر مبنی طبقاتی حکمرانی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔

اس ملک کی حکمران اشرافیہ طاقت ور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے اور جو بھی پالیسیاں یا قانون سازی یا عملی اقدامات کسی تناظر میں بھی سامنے آتی ہیں اس کے پیچھے طاقت ور طبقات کے باہمی مفادات کے کھیل کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اس طرز کے نظام کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں جو بھی حالات برے ہوتے ہیں یا جو بھی آفات یا حادثات سامنے آتے ہیں اس کا بوجھ طاقت ور طبقات کے مقابلے میں کمزور یا عام افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔یعنی اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ خود اپنے اوپر کسی بھی طرز کا بوجھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کے حکمرانی کے نظام میں ریاست،حکومت ،طاقت ور طبقات اور عام افراد کے درمیان سیاسی ومعاشی خلیج کا عمل بڑھتا جارہا ہے ۔

حالیہ امریکا اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلا بوجھ بھی اس حکومت یا طاقت ور اشرافیہ نے خود پر ڈالنے کی بجائے لوگوں پر پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کی صورت میں کیا ہے ۔حالانکہ حکومت کی جانب سے عوام کو بتایا گیا تھا کہ ابھی ہمارے پاس کئی ہفتوں کا تیل موجود ہے مگر اچانک رات کی تاریکی میں قیمتوں میں اضافہ کرکے اس ملک کی سیاسی اشرافیہ نے یہ ہی ظاہر کیا ہے کہ ان کے سامنے عوامی اور کمزور طبقات کے مفادات کی ترجیحات کی کتنی اہمیت ہے ۔

حکمران طبقات جس سیاسی ڈھٹائی سے قیمتوں میں اضافہ کا جواز پیش کررہے ہیں وہ کافی حد تک شرمناک ہے۔یعنی اس سیاسی اور حکمران اشرافیہ نے جنگ کو بنیاد بنا کر عملی طور پر لوگوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالا ہے اور خود اپنی تجوریاں بھری ہیں ۔وزیر اعظم سیاسی کفایت شعاری یا بچت کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے یہ خوش نما نعروں کی عملی کوئی حیثیت نہیں۔ان کی اپنی جماعت اور خاندان کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں جو مہنگا ترین جہاز اور جہاز کا مہنگا ترین عملہ سمیت صوبائی بیوروکریسی کے لیے مہنگی ترین گاڑیاں خریدی ہیں اس پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ہم جن حالات کی بنیاد پر معاشی بدحالی یا بحران کا شکار ہیں تو ایسے میں طاقت ور طبقات یا سیاسی اشرافیہ کی سیاسی عیاشیاں اور ان کا شاہانہ حکمرانی کا طرز عمل ہم دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھ سکتے ۔حکمران طبقات کی یہ ساری سیاسی عیاشیاں عوامی وسائل اور بجٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اورہم انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے یا ان کی ترقی پر پیسہ لگانے کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر اور سیاسی عیاشیوں پر لگاتے ہیں ۔ہم صرف حکومت اور ریاستی سطح پر موجود افراد،اداروں اور اعلی عہدے داروں جو پروٹوکول کی بنیاد پر مراعات دے رہے ہیں کچھ اس کا ہی تجزیہ کرکے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ حکمرانی او رحکمرانوں کے طاقت ور نظام کی ہم کتنا بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔

کمزور لوگوں کو طاقت ور طبقات کے خلاف آواز اٹھانے یا ان کے سامنے اپنی بات کرنے کے لیے اداروں کی موجودگی ہوتی تھی اور لوگوں کو یہ یقین ہوتا تھا کہ ہمیں ان اداروں سے اپنے حقوق یا حق کے تناظر میں انصاف مل سکے گا۔لیکن اسی طاقت سیاسی اشرافیہ نے ایک مخصوص پالیسی کے تحت اداروں میں سیاسی مداخلتیں کرکے ان کو جہاں کمزور کردیا ہے وہیں یہ ادارے مفلوج بھی ہوگئے ہیں ۔لوگوں کا اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور ان کولگتا ہے ادارے بھی عام افراد کے مقابلے میںطاقت ور افراد کے ساتھ کھڑے ہیں ۔گورننس کا نظام جس پر حکومتی سطح سے اربوں روپے لگائے جارہے ہیں مگر سب سے کمزور پہلو بھی گورننس کا نظام ہی ہے ۔یہ مسئلہ محض کسی ایک صوبہ تک محدود نہیں بلکہ ہم وفاق سے لے کر صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع اور اضلاع سے لے کر تحصیل یا محلوں اور گاوں کی سطح پر دیکھیں تو بنیاد ی حق حکمرانی کا نظام برے طریقے پامال کیا جارہا ہے ۔ترقی کے عمل ذمینی حقایق سے زیادہ اخبارات ، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیاکی سطح پر بڑے بڑے اشتہاری تشہیر کی سطح پر دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ہم اس وقت رمضان المبارک سے گزرہے ہیں ۔ہمیں لوگوں کی معاشی ترقی کے مقابلے میں ہر طرف یہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ملک میں خیرات کی بنیاد پر راشن کی تقسیم ،سحری اور افطاری کا مفت بندوبست،محلوں یا گلیوں یا بازاروں کی سطح پر قائم دستر خوان وہ بھی حکمرانوں کے ناموں کے ساتھ ہماری معاشی حیثیت کی اصل کہانی کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔حقیقی حکمرانی کا نظام لوگوں کی معاشی حیثیت کو مضبوط بناتا ہے نہ لوگوں کو خیرات کے ماتحت کرکے ان کی سفید پوشی کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔میں ایسے کئی سفید پوش افراد کو جانتا ہوں جو اپنی عزت کے لیے حکومتی امدادی پروگراموں تک رسائی کرنے کی طرف رجوع نہیں کرتے اور بعض لوگوں کو تو جو امداد دی جاتی ہے اس پر حکمرانوں کی ذاتی تصاویر ہوتی ہیں جو خود غریب اور مجبور لوگوں کے ساتھ سنگین مذاق ہے ۔سوال یہ ہے اس حکمرانی کے نظام میں ہمارا حکمران طبقہ باعزت روزگار کیونکر پیدا نہیں کررہا اور کیوں ملک میں چھوٹی اور بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی۔جب یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کی حقیقی معاشی حیثیت بھی بہتر نہیں ہوسکے گی۔

حکومت ہر دفعہ آئی ایم ایف کے سامنے یہ اعتراف کرتی ہے کہ وہ ملک میں مختلف نوعیت کی اصلاحات کی بنیاد پر نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرے گی ۔لیکن عملا ہم آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کرتے اور خود آئی ایم ایف جیسے اداروں کا ہماری حکومتوں کے بارے میں جوابدہی کا نظام اتنا کمزور ہوتا ہے یا وہ سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموش رہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہماری جیسی طاقت ور سیاسی حکمران اشرافیہ داخلی اور خارجی سطح پر کہیں بھی جوابدہ نہیں ہوگی تو ان کی اصلاح کا عمل کیسے سامنے آسکے گا۔جب تک آئی ایم ایف جیسے ادارے ہماری حکومتوں کی جوابدہی کے نظام کو موثر اور شفاف اور جوابدہی کی صورت میں مضبوط نہیں بنائیں گے ہمارے حکمرانوں کے طر ز عمل میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہوگی ۔حکمران طبقات کا یہ سیاسی مشغلہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی سطح پر بڑی بڑی گورننس کانفرنس یا فورمز کی صورت میں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنی رپورٹس اور پریزنٹیشن پیش کرتے ہیں جس میں سب اچھے یا بڑے بڑے دعووں کی رپورٹ ہوتی ہے ،مگر زمینی حقایق گورننس کے حوالے سے بہت کڑوے ہوتے ہیں۔ہم آج بھی گورننس کے نظام میں بدترین حالات کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری وفاقی اور صوبائی یا مقامی حکومتوں کی سطح پر کچھ بھی بہتری کے تناظر میں دیکھنے کو نہیں مل رہا اور اسی بنیاد پر ہماری بنیادی حقوق اور شہری افراد کی سہولتوں کے حوالے سے عالمی درجہ بندی واضح فرق ،تفریق اور خلیج دیکھنے کو ملتی ہے۔آئی ایم ایف پہلے ہی ہمیں انتباہ کرچکا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی ،قانونی اور انتظامی بنیادوں پر فوری طور پر سخت گیر اصلاحات نہ کی تو ان کی سیاسی اور معاشی ترقی کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔

اصل مسئلہ نئی نسل کے لیے روزگار پیدا کرنا ہے مگر ہماری ترجیحات عملا اس وقت ملکی ترجیحات یا عوامی ترجیحات سے مختلف نظر آتی ہیں ۔ایسے لگتا ہے کہ اس ملک کی طاقت ور سیاسی اشرافیہ ایک طرف اور ملک کے عوام دوسری طرف کھڑے ہیں اور دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس ملک کے نظام کو اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ نہ اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اور اس کھیل میں عام اور کمزور طبقات کے لیے سوائے سیاسی و معاشی سطح کے استحصال کے اور کچھ نہیں ہے۔یہ جو ہم نے سیاست اور جمہوریت کے نام پر سیاسی ادارے پارلیمنٹ کی سطح پر قائم کیے ہوئے ہیں یہ بھی طاقت ور اشرافیہ کے سیاسی کلب کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں ۔کیونکہ ہمارے سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ طاقت ور افراد کی اپنی سیاسی بیٹھکوں میں ہوتے ہیں جہاں کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار کی تقسیم کا کھیل سجایا جاتا ہے ۔اس لیے اس نظام کی بہتری کے لیے کوئی معمولی اصلاحات درکار نہیں ہیں ۔یہ جو حالات ہیں یہ لوگوں کے تناظر میں غیر معمولی ہیں اور ان کے اقدامات بھی غیر معمولی بنیادوں پر ہی ممکن ہوسکیں گے ۔لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending