Connect with us

Today News

آپریشن غضب للحق اور خطے کی بدلتی حقیقتیں

Published

on


حکومت نے عیدالفطر کے پیش نظر اپنے طور پر اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں 5 روز تک عارضی طور پر وقفہ کردیا ہے۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارا افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں، جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے عیدالفطر کے پیش نظر افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق‘‘ میں پانچ روزہ عارضی وقفے کا اعلان ایک ایسا فیصلہ ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان نے اس وقفے کا اعلان نہ صرف اپنے طور پر کیا بلکہ برادر اسلامی ممالک کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی اور اسلامی دنیا میں اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔

ماضی میں کئی بار پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس بار ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں، ایک اہم نکتہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم مسئلہ ان عناصر کا ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی معقول ہے جس پر افغانستان حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو افغان طالبان کو اس معاملے میں واضح اور موثر اقدامات کرنے سے روکتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہو سکتا ہے کہ طالبان حکومت خود اندرونی اور بیرونی پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے ، دوسری طرف مختلف عسکری گروہوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ایک حقیقت ہیں۔

تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک ریاست کے طور پر افغانستان کو اپنی سرزمین کے پرامن استعمال کی ذمے داری لینا ہوگی۔کابل میں عسکری اور ڈرون اسٹوریج کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک نہ صرف منظم ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسی کو مزید مؤثر بنائے اور ایسے خطرات کا بروقت سدباب کرے۔ افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید اپنی جگہ، مگر پاکستان کا یہ کہنا کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں، معاملے کو واضح کر دیتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔اس پورے تناظر میں بھارت کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔

یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ بھارت کا یہ گھناؤنا کردار نیا نہیں، بلکہ ماضی میں بھی ایسے شواہد سامنے آتے رہے ہیں جو اس کے تخریبی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کرنا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہی ان کے اپنے مفاد میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا یہ فیصلہ اگرچہ وقتی ہے، مگر اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا قدم ہے جو نہ صرف اس کی داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا دیگر فریقین بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اقدام ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک عارضی وقفہ بن کر رہ جائے گا جس کے بعد پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا پڑے گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ٹھکانے فراہم کرنے پر افغان طالبان کیخلاف عوام کا شدید ردعمل

Published

on


پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کیخلاف افغان طالبان رجیم کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا حوالگی کے حوالے سے پاکستان کی ڈیمانڈ بالکل جائز ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج پاکستان میں معصوم شہریوں کو مساجد میں شہید کرتے ہیں۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل میں اسلحہ کے ڈیپو کو تباہ کیا یہی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتا تھا، پاک فوج کا حق ہے کہ پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے بارودی ڈیپو کو تباہ کرے۔ 

پاکستانی عوام نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں یا ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان یہ نہیں کریں گے تو پاک فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔ دہشت گردی کا فروغ کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے افغان طالبان کو چاہیے کہ امن کیلئے پاکستان کی شرائط پر عمل کرے۔

شہری نے کہا کہ افغان طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہم ہرگز کمزور ملک نہیں ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کاسا۔1000منصوبے میں  پاکستان کی اہم اقتصادی کامیابی، 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت

Published

on



اسلام آباد:

کاسا۔1000 منصوبے میں پاکستان کو اہم اقتصادی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت ہوئی ہے۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے  مذاکرات میں پاکستان نے کاسا-1000 منصوبے کے کنٹریکٹر کے تخمینہ شدہ اخراجات میں کمی لا کر 27 ملین ڈالر سے زائد کی بچت کی ہے۔

بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ کیا گیا۔ پہلے پاکستان کے لیے کیئر اینڈ کسٹڈی کی لاگت 32.9 ملین ڈالر تھی، اب یہ 9 ملین ڈالر ہو کر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تقسیم ہوگی، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی بچت حاصل ہوگی۔

افغانستان کی صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار کاسا-1000 منصوبے کی نئی ٹائم لائن کے مطابق ایچ وی ڈی سی نظام کی تکمیل ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔ حکام نے اہم تنصیبات کی عبوری حفاظت اور فعالیت برقرار رکھنے اور فروری 2028 تک توسیع پر اتفاق کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں جمعے کو عید منانے کا اعلان

Published

on



مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور اضلاع میں 20 مارچ کو عید الفطر منانے کے اعلانات کردیے گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے عید الفطر 21 مارچ کو ہو جانے کے اعلان کے باوجود خیبر پختون کے بعض علاقوں اضلاع کی مساجد میں آج عید الفطر منانے کے اعلانات ہو گئے ہیں۔

جس کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان اس کے متصل علاقوں، بنوں، باجوڑ اور پشاور کے حیات آباد، سفید سنگ میں جمعے کو عید منائی جائے گی۔

مرکزی اور مقامی کمیٹی کے اعلانات کے مطابق پشاور میں آج 30 واں روزہ مکمل ہو جائے گا۔

قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رات ساڑھے 8 بجے عید 21 مارچ بروز ہفتے کا اعلان کیا جبکے مقامی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس رات ساڑھے 10 بجے تک جاری رہا۔

مقامی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں جس کا قائمقام چیئرمین کمیٹی مولانا خیرالبشر نے شہادتوں کا شرعی جائزہ لیا اور ان شہادتوں کو غیر شرعی قرار دیا۔

اس دوران مردان اور سے اس متصل علاقوں میں گواہوں کی روشنی میں عید الفطر کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ پشاور ہی کے بعض مضافاتی علاقوں میں بھی چاند کی رویت کا اعلان مقامی مسجد کی جانب سے کردیا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور کے جن علاقوں میں عید اور روزہ سعودی عرب کیساتھ ہوتا ہے وہاں پر چاند کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

 



Source link

Continue Reading

Trending