Today News
آپریشن غضب للحق میں وقفہ اور ناقابلِ اعتبارطالبان
عید الفطر تو امن سے گزر گئی ۔ الحمد للہ۔ آج عید کا تیسرا روز ہے ۔ اِسے بھی بعض مقامی بول چال میں ’’ٹرو مرو‘‘ کے نام سے عید الفطر ہی کا ’’ایکسٹینشن‘‘ کہا جاتا ہے ۔
آج 23مارچ 2026 بھی توہے ۔ یومِ پاکستان ! دیکھا جائے تو ’’ یومِ پاکستان ‘‘بھی عید ہی ہے کہ آج سے 86برس قبل اِسی تاریخ کو اسلامیانِ ہند نے لاہور کے ایک میدان میں ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا تھا۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، صرف سات برس کے اندر اندر، حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی بے مثل اور اولوالعزم قیادت میں مسلمانانِ برصغیر نے ’’ پاکستان‘‘ کے دلنواز نام سے ایک علیحدہ، آزاد وطن بھی حاصل کر لیا ۔
غلامی کی طویل سیاہ رات کے بعد آزادی کا سویرا حاصل کرنا ہی حقیقی عید کہلا سکتا ہے : ایک مستقل عید!! آج بوجوہ ’’یومِ پاکستان‘‘ قدرے سادگی کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔
ایران پر مسلّط کی گئی ہلاکت خیز صہیونی و مسیحی امریکی جنگ نے ہم سب کو (بظاہر) سادگی اور کفائت شعاری اپنانے پر مجبور کر دیا ہے ۔
یومِ پاکستان سے پانچ دن اور عید الفطر سے 4 روز قبل پاکستان نے افغان شہریوں ،افغانستان اور جنوبی ایشیا کے مجموعی اور وسیع تر امن کی خاطر پانچ دنوںکے لیے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں عارضی وقفے کا اعلان کیا تھا ۔
18اور19مارچ کی درمیانی شب سے لے کر 23اور24مارچ کی درمیانی شب تک مبینہ عارضی وقفہ جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات ( عطاء اللہ تارڑ) نے ساتھ ہی سب کو بتا دیا تھا کہ ’’اگر افغانستان کی جانب سے (مذکورہ ایام کے دوران) پاکستان پر حملہ ہُوا تو آپریشب غضب للحق بحال ہو کر پوری قوت سے پھر بروئے کار آ جائے گا۔‘‘
متشدد طالبان کے افغانستان کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن غضب للحق نے حقیقی معنوں میں دہشت گرد افغان طالبان کی پاکستان مخالف خونی وارداتوں کو نَتھ ڈال دی ہے۔
دہشت گرد افغان طالبان نے پاکستان کی نرمی اور بھائی چارے بارے غلط اندازے لگا لیے تھے۔ مگر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔
پاکستان نے تنگ آکر آپریشن غضب للحق جاری کیا تو افغان طالبان قیادت کی چیخیں آسمان تک بلند ہو گئیں ۔
اب پاکستان نے از راہِ مسلم اخوت اس لیے دہشت گرد افغان طالبان کے خلاف(عید کے ایام میں) مذکورہ آپریشن میں عارضی وقفہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر تین اہم اسلامی ممالک نے پاکستان کو ( بمشکل) اِس پر راضی کیا ہے ۔
طالبان نے بھی خدا کا شکر ادا کیا ہوگا کہ پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں وقفہ کیا ہے ۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ افغان طالبان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ اور یہ حرکات مذکورہ آپریشن کا وقفہ توڑنے کا باعث بن سکتی ہیں ۔
مثال کے طور پر دو روز قبل افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کے ایک نام نہاد ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) نے جھوٹ بول کر پاکستان پر بے بنیاد تہمت عائد کر دی کہ ’’پاکستان نے( آپریشن میں) وقفے بارے جو وعدہ کیا تھا، اُسے توڑ ڈالا ہے ۔‘‘
خوارزمی ’’صاحب‘‘ نے پاکستان پر یہ الزام تو لگا دیا مگر اِس کا ثبوت کوئی نہیں دیا ، بالکل اُسی طرح جس طرح جھوٹے افغان طالبان نے اگلے روز پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ ’’پاکستان نے کابل کے ایک اسپتال پر بمباری کرکے 400’’مریض‘‘ مار ڈالے ہیں۔‘‘
ہمارے وزیر اطلاعات نے اِس منافقانہ اور کاذبانہ الزام کے مقابل جو تردیدی بیان جاری کیا ہے، وہ عنائت اللہ خوارزمی کو جھوٹا ثابت کر دیتا ہے ۔
حیرت کی بات ہے کہ افغان طالبان کے ’’سپریم لیڈر‘‘ملّا ہبت اللہ نے عید کے موقع پر جو خطبہ ’’ارشاد‘‘ فرمایا ہے ، اِس میں بھی پاکستان کا نام لیے بغیر پاکستان پر اشارتاً طنز کیے گئے ہیں ۔
مُلّا ہبت اللہ کے الفاظ غیر مناسب ہیں اور دونوں ممالک میں امن سازی کی رُوح کے بالکل منافی بھی ۔ موصوف کو اِن الفاظ سے اعراض کرنا چاہیے تھا ۔ ہمیں مگر زیادہ افسوس اور رنج دہشت گرد افغان طالبان کے ترجمان (عنائت اللہ خوارزمی) کے بیان سے ہُوا ہے ۔
منافق کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اُن میں سے دو بڑی یہ ہیں:(۱) جب بھی بات کرے، جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ۔ یہ نہائت شاندار، تاریخی اور بے مثال کسوٹی ہے ۔
جب ہم اِس کسوٹی پر مُلّا و مقتدر افغان طالبان کو پرکھتے ہیں تو حیران کن طور پر یہ دہشت پسند جتھے اِن پر پورے اُترتے ہیں۔ کذب گوئی میں چھوٹی بڑی افغان طالبان قیادت یکساں ہو چکی ہے اور یوں پاکستان سمیت دُنیا بھر کے لیے ناقابلِ اعتبار بھی۔
پچھلے ہی ہفتے افغان طالبان نے دعویٰ کیا اور ریاستی سطح پر کئی ٹویٹس بھی کیے کہ ’’ پاکستان نے کابل پر حملہ کرکے ایک اسپتال میں زیر علاج 400لوگوں کو مار ڈالا ہے ۔‘‘ بھارتی میڈیا نے افغان طالبان کے اِس جھوٹ کو بانس پر چڑھانے کی ناکام کوشش کی۔
مگر بعد ازاں افغان طالبان نے اپنی ہی کی گئی جملہ ٹویٹس حذف (Delete) کردیں ۔ اور جب عالمی میڈیا نے افغان طالبان سے مبینہ400 ’’مریضوں‘‘ کے مبینہ قتل کے ثبوت مانگے تو اِس کا جواب بھی اِن کذابوں کے پاس نہیں تھا۔
افغان طالبان نے یہ جھوٹ بول کر دُنیا کی ہمدردیاں بھی سمیٹنا چاہی تھیں اور یہ بھی تمنا کی تھی کہ پاکستان نے خونخوار دہشت گردوں کے خلاف جو گرم تعاقب جاری رکھا ہُوا ہے، اِس میں بھی کمی آ جائے گی ۔
پاکستان نے آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفہ کرکے خوفزدہ افغان طالبان کی ایک تمنا تو قدرے پوری کر دی ہے ۔
وعدہ شکنی میں تو افغان طالبان نے دوامی ، عالمی اور بے نظیر شہرت حاصل کر رکھی ہے ۔ چار سال قبل دوحہ ( قطر) میں اِس جتھے نے دُنیا کے سامنے عہد کیا تھا کہ ’’افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو گی نہ افغانستان کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کو استعمال کرنے دیا جائے گا۔‘‘
وقت نے ثابت کیا کہ اِس عہد کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہُوئی تھی کہ افغانستان پر مسلّط طالبان جتھے نے عہد شکنی شروع کر دی ۔
اور اُسی پاکستان کو انھوں نے ہدف بنایا جس نے انھیں اور ان کی آل اولادوں کو برسہا تک پناہ دیے رکھی اور انھیں پالا پوسا تھا۔ اِس جتھے نے ثابت کیا کہ اِن کی گھٹی ہی میں احسان فراموشی ہے ۔ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان نے بھی اِن پر اعتبار کر لیا ۔
حالانکہ یہ وہی جتھے تھے جن کے بڑوں نے 1993 میں( خانہ کعبہ میں بیٹھ کر) افغانستان میں قیامِ امن بارے وعدے کیے اور قرآن پاک پر حلف دیے تھے، مگر پھر اِن سب نے اپنی جبلّت کے تحت سب قسمیں توڑ ڈالیں۔
حیرت انگیز بات ہے کہ اِن وعدہ شکنوں پر پاکستان نے بحیثیتِ ریاست اور پاکستانی عوام نے بطورِ قوم اعتبار کیا ۔ شائد اِسی لیے ہمارے وزیر دفاع ، خواجہ محمد آصف، کو 17مارچ2026 کو ، بالآخر،اپنی ایک ٹویٹ میں یوں کہنا پڑا:’’ ہم نے اپنی78سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں ، لیکن افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی۔
محسن کش افغان طالبان اُس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے 50سال اِنہیں پناہ دی ‘‘ ۔ خواجہ صاحب نے مذکورہ پیغام لکھ کر دراصل اِس راکشش و عفریت بارے تاریخی حقائق کو واشگاف کیا ہے ۔
ہم سب نے افغان طالبان پر اعتماد اور احسانات کرکے جو فاش غلطیاں کیں ، شائد خواجہ صاحب کا اعتراف و اقرار ہماری غلطیوں کا کچھ کفارہ ہو سکے ۔
خواجہ صاحب کا مذکورہ اعتراف و اقرار اِس امر کو بھی سب پر عیاں کرتا ہے کہ افغانستان بطورِ سر زمین اور افغان بطورِ قوم کبھی بھی ہمارے ’’برادر‘‘ نہیں تھے ۔ناقابلِ اعتبار و برادر کش افغان طالبان قیادت کے کذب وریا کو ہمارے ہاںاعلیٰ سطح پر بھی بے نقاب کیا گیا ہے ۔
یہ تازہ ’’نقاب کشائی‘‘ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی ہے ۔ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب نے چند روز قبل دلائل کے ساتھ افغان طالبان کے سبھی جھوٹوں کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔
اُن کے یہ الفاظ شائد افغان طالبان قیادت نے بطورِ وارننگ بھی سُنے ہوں گے:’’طالبان فیصلہ کرلیں کہ اُنھوں نے دہشتگردوں کو بچانا ہے یا افغانستان کو ۔‘‘ اور یہ الفاظ شائد وہ تین اسلامی ممالک بھی ( زیادہ آسان الفاظ کے ساتھ) افغان طالبان قیادت تک پہنچا دیں جن کی درخواست پر پُرعزم پاکستان نے ’’آپریشن غضب للحق‘‘ میں چند دنوں کے لیے عارضی وقفہ کررکھا ہے ۔
Today News
کراچی، ملیر رفاہِ عام سوسائٹی سے ایک شخص کی لاش برآمد
کراچی:
شہر قائد میں ملیر کے علاقے رفاہِ عام سوسائٹی کی۔مرکزی چوک سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کی وجہ موت فوری طور پر معلوم نہ ہوسکی۔
ایدھی ذرائع کے مطابق متوفی کی عمر تقریباً 55 سال بتائی جاتی ہے تاہم اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے ضابطے کی کارروائی کے بعد سہراب گوٹھ سرد خانے منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفی نشے کا عادی شخص تھا جو مبینہ طور پر نشے کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔
Today News
کراچی، بلال کالونی میں گھر سے میاں بیوی کی دو تین روز پرانی لاشیں برآمد
کراچی:
شہر قائد میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے بلال کالونی میں ایک گھر سے میاں بیوی کی لاشیں برآمد ہوئی ۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں لاشوں کو بلال کالونی تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔
ایس ایچ او تھانہ بلال کالونی انور شیخ کا کہنا ہے کہ لاشیں دو سے تین روز پرانی معلوم ہوتی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت ہما اور انور کے نام سے کی گئی ہے، جو میاں بیوی تھے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ خاتون ہما نور کی دوسری بیوی ہے۔۔پہلی بیوی کی بیٹی والد سے عید ملنے کے سے فون کیا تھا ۔
متوفی کی بیٹی نے اپنے والد کو متعدد بار فون کیا مگر کسی نے کال ریسیو نہیں کی، جس پر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور اہلخانہ موقع پر پہنچ گئے، جہاں پولیس کی موجودگی میں دروازہ توڑ کر گھر میں داخلہ لیا گیا۔
تلاشی کے دوران ایک کمرے سے خاتون کی دو روز پرانی لاش برآمد ہوئی، جبکہ گھر کی چھت سے مرد کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق واقعہ بظاہر پراسرار ہے تاہم پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔
Today News
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ پر پیغام
کراچی:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بیگم نصرت بھٹو کی 97 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں “مادرِ جمہوریت” کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی وقار، ثابت قدمی اور جمہوری اقدار سے مضبوط وابستگی کی علامت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک کٹھن دور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہو کر جرات اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر بڑے صدمات برداشت کیے، مگر جمہوریت کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں۔
1977 کے بعد، انہوں نے جمہوری تحریک کی قیادت بھرپور انداز میں کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے انہوں نے مشکل ترین وقت میں پارٹی کو متحد رکھا۔
صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے جمہوری قیادت کی اگلی نسل کی رہنمائی کی اور ایک اہم مرحلے پہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہیں۔
ان کی مثال آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور جمہوری نظام کے لیے کام کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔ مشکل حالات میں ان کی قیادت نے بہت سے لوگوں کو رہنمائی دی اور یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے ان کی خدمات ان کے ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
پاکستان بھر کے بہت سے خاندانوں کے لیے، نمائندہ سیاست کے لیے جو جگہ قائم رکھنے میں انہوں نے کردار ادا کیا، اس کے عملی اثرات سامنے آئے۔ اس کا مطلب منتخب بلدیاتی ادارے، جوابدہ نظام کے ذریعے عوامی خدمات تک رسائی، اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں ایک محدود مگر حقیقی آواز ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ قوم بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں اور بصیرت کی احسان مند رہے گی۔ الّلہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
-
Magazines1 week ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story time: The price of a typo
-
Sports2 weeks ago
Samson rises from year of struggle to become India’s World Cup hero – Sport
-
Magazines2 weeks ago
REGION: DEATH OF THE ‘RULES-BASED ORDER’ – Newspaper
-
Magazines1 week ago
STORY TIME: CLEARER THAN BEFORE – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Trio set for debuts as Pakistan commence 2027 preparations with Bangladesh ODIs – Sport
-
Magazines2 weeks ago
NON-FICTION: THE LEGACY OF PAKISTAN CRICKET – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Amber Khan & Nadia Khan On Anchors Exploiting Broken Marriages