Connect with us

Today News

آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے!

Published

on


انقلابی اسلامی جمہوریہ ایران پر یہودی اسرائیل اور مسیحی امریکا کے مشترکہ اور تباہ کن حملوں کو آج 13واں روز ہے۔اِن حملوں میں تہران کے ساتھ ایران کے نہائت خوبصورت تاریخی شہر ’’اصفہان‘‘ کو بھی صہیونی و امریکی میزائلوں اور جنگی طیاروں نے لاتعداد بمباری سے بے پناہ نقصان پہنچایا ہے ۔ بقول ایرانی حکومت: گذشتہ 13دنوں کے دوران اسرائیلی و امریکی حملوں میں1300سے زائد ایرانی شہید ہو چکے ہیں۔ایران مگر ڈٹا ہُوا ہے ۔ ایرانی عزم کے سامنے امریکی و اسرائیلی حکمران خود کو بے بس ، بلکہ شکست خوردہ محسوس کررہے ہیں ۔

امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی دھمکیوں کے باوصف ایرانیوں نے جرأت کے ساتھ اپنا نیا رہبرِ اعلیٰ( مجتبیٰ خامنہ ای) بھی منتخب کر لیا ہے۔ امریکی صدر کے تضادات و کہہ مکرنیاں بھی سامنے آ رہی ہیں ۔ ایرانی تباہ کن کروز میزائلوں کے ہاتھوںتل ابیب و حائفہ ایسے اہم ترین اسرائیلی شہروں کی تباہی بھی ہو رہی ہے ۔ اسرائیلی جہنم واصل بھی ہو رہے ہیں ، مگر صہیونی اسرائیل نے اپنے میڈیا پر اتنے سخت پہرے بٹھا رکھے ہیں کہ دُنیا کو اسرائیلی تباہی کی خبریں کم کم مل رہی ہیں ۔

ایسے میں ایک عجب منظر بھی دُنیا نے دیکھا ہے۔ 6مارچ2026کو وہائیٹ ہاؤس کے ’’اووَل آفس ‘‘ میں درجن سے زائد امریکا کے ممتاز ترین پادری اور مسیحی مذہبی لیڈرز اکٹھے ہُوئے ۔ تصویر میں نظر آرہا ہے کہ اِن سب نے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہُوئے ہیں اور وہ بلند آوازوں میں امریکا اور امریکی صدر کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ ایران پر مسیحی امریکا کو فتح نصیب ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسرت سے یہ دعائیں لیتے نظر آ رہے ہیں ۔ دُنیا حیران ہے کہ جنگ کی سخت آزمائش آئی ہے تو سیکولر امریکا نے کٹڑ مسیحی مذہب میں پناہ لینے کو ترجیح دی ہے ۔ یعنی: رنج دیا بتوں نے تو خدا یاد آیا ۔

پہلے ’’بی جے پی‘‘ کے زیر نگیں بھارت نے سیکولرازم کو خیر باد کہا اور اب امریکا سیکولرازم سے پیچھا چھڑاتا نظر آ رہا ہے ۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی صدر نے وہائیٹ ہاؤس میں دانستہ جس طرح بنیاد پرست مسیحی پادریوں کو بلا کر دعائیں کروائی ہیں ، یہ درحقیقت ہلال و صلیب کے نئے اور ممکنہ تصادم کی شروعات ہو سکتی ہیں۔ خدا نہ کرے ایسا ہی ہو ، مگر امریکی و مغربی حکمرانوں کے دماغوں میں ، کہیں نہ کہیں ، ہلال و صلیب کے تصادم کا جرثومہ کلبلا ضرور رہا ہے ۔

ستمبر 2001 میں بھی ہلال صلیب (Crusade) کے ممکنہ ٹکراؤ کا خدشہ دُنیا کے سامنے آیا تھا۔ اُس وقت امریکا میں نائن الیون ہو چکا تھا ۔ مبینہ طور پر افغانستان میں پناہ گیر ’’القاعدہ‘‘ کے رہنما، اسامہ بن لادن ، کے تربیت یافتہ ساتھیوں نے نیویارک میں ایستادہ Twin Towers( جو امریکی دولت و حشمت کے باجبروت نشان کہے جاتے تھے) پر بیک وقت دو جہازی حملے کرکے امریکا میں زلزلہ پیدا کر دیا تھا؛ چنانچہ امریکا نے ہیجان میں آکر افغانستان میں طالبان کے مُلّا عمر کے زیر سایہ پناہ یافتہ اُسامہ بن لادن ، اُن کے جملہ ساتھیوں اور پوری طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے بھرپور جنگ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اُس وقت کے امریکی صدر ، جارج ڈبلیو بش، نے 16ستمبر 2001 کو امریکی قوم کے سامنے ٹی وی پر جو پُرجوش تقریر کی تھی، اس میں ہلال و صلیب یعنی مسیحیوں اور مسلمانوں کے نئے ممکنہ باہمی ٹکراؤ کا ذکر بھی دَر آیا تھا۔ مذکورہ امریکی صدر نے کہا تھا:This crusade , this war on terrorism, is going to take a while .   امریکی صدر ، جارج ڈبلیو بش، چونکہ خود بھی مسیحی مذہب کی طرف رجحان اور جھکاؤ رکھتے تھے۔

 اس لیے اُن کی زبان سے ’’کروسیڈ‘‘ کا ذکر نادانستہ نہیںتھا اور نہ ہی یہ Slip of Tongueتھی ۔ بعد ازاں وہائیٹ ہاؤس اِن الفاظ سے مکر گیا۔ جون2004میں موصوف نے ایک بار پھر سابق امریکی صدر ، آئزن ہاور ، کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہُوئے ہلال وصلیب کی تاریخی جنگوں کا ذکر کر ڈالا۔پھر ردِ عمل آیا تو اِس حساس موضوع کی مناسبت سے مذکورہ امریکی صدر نے اکتوبر2004ء کو اپنے انٹرویو میں تاسف کا اظہار کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’جی ہاں ، مَیں نے ہلال و صلیب کا ذکر کیا تھا ، لیکن مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘‘

اِس تاسف اور تردید کے باوصف کہا جاسکتا ہے کہ امریکی حکمرانوں کے ذہنوں کے کسی کونے کھدرے میں اب بھی ہلال و صلیب کے تصادم کا ہیولہ پایا جاتا ہے ۔ اِسی کے پس منظر میں مشہور و معروف امریکی دانشور اور فلسفی، سیموئل ہنٹنگٹن، نے 1996میںایک تہلکہ خیز کتاب بعنوان The Clash of Civilizations( تہذیبوں کا تصادم) لکھی ۔ یہ کتاب اِنہی خیالات یا تصورات کی لفظی تصویر ہے کہ بعد از سرد جنگ، مستقبل قریب میں تین بڑی تہذیبوں ( اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ اِس خیال یا تصور یا پیش گوئی کو سرے سے مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ جب بھی دُنیا میں دہشت گردی کی کوئی بھی بڑی واردات ہوتی ہے ، مغربی میڈیا میں بیٹھے انتہا پسند دانشور ، مبصر یا مصنف ہلال و صلیب کی مڈ بھیڑ کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔

 ہمارے ہاں بھی یہ الفاظ اکثر سُننے کو ملتے ہیں: ’’القدس الشریف پھر کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کا منتظر ہے ‘‘ یا ’’ بیت المقدس کو آزاد کروانا ہے تو ہمیں اپنی رگوں میں رُوحِ صلاح الدین ایوبی بیدار کرنا ہوگی۔‘‘ تو جب ہم صلاح الدین ایوبی کا ذکر کرتے ہیں تو ہم دانستہ یا نادانستہ طور پر ہلال و صلیب کے تاریخی تصادموں کو یاد کررہے ہوتے ہیں ۔ اُردو لٹریچر میں ہلال و صلیب کی جنگوں پر مبنی کئی ناولز لکھے گئے۔ مثلاً: چھ عشرے قبل قاضی عبدالستار کا لکھا گیا معرکہ خیز ناول’’صلاح الدین ایوبی‘‘۔ یہ بھی دراصل ہلال و صلیب کے تصادموں کی اُس باز آفرینی ہی کا نام ہے جن میں اسلام و مسلمان حکمرانوں کو مسیحی حکمرانوں پر شاندار فتوحات نصیب ہُوئیں ۔ چند بار مسلمان لشکروں کا بھی شکستیں مقدر بنیں۔ مگر1187 اور1192 کے درمیان ’’حطین‘‘ کے تاریخ ساز ہلال و صلیب کے خونریز معرکوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے یورپ و مشرقِ وسطیٰ کے صلیبی سرداروں اور بادشاہوں (مثلاً:گائی آف لوسگان، ریجنالڈ، ریمنڈ،ریڈ فورڈ،رچرڈ شیر دل اور فلپ آگسٹس ) کے مشترکہ و متفقہ مسیحی مذہبی جنگی اتحاد کو شرمناک و عبرتناک شکستِ فاش دے کر اِن سب کی کمر توڑ دی ۔’’ القدس الشریف‘‘ اور یروشلم صلیبیوں کے شکنجے سے آزاد ہو کر مسلمانوں کے پاس آ گیا تھا۔

 اگر ہم مسلمانوں کو ہلال و صلیب کے تصادم نہیں بھول رہے تو یہ تاریخی حقائق امریکیوں اور مغربیوں کے ذہنوں میں بھی مٹے اور محو نہیں ہُوئے ہیں ۔ شائد اِسی پس منظر میں اب جب کہ ایران پر مسیحی امریکا اور یہودی اسرائیل نے مل کر تباہ کن یلغار کر رکھی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی قصرِ ابیض میں امریکی مسیحی مذہبی رہنماؤں اور پادریوں کی دعائیں لینا یاد آ گیا ہے ۔ اِسی لیے وہ ہمیں وہائیٹ ہاؤس میں ، غیر معمولی طور پر، عیسائی پادریوں کے جھرمٹ میں بیٹھے نظر آ رہے ہیں ۔ اِس کا آخر کیا مطلب ہے ؟ شائد یہی کہ عالمِ اسلام کو کچھ یاد دلانا مقصود و منظور ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر خارجہ، مارکو روبیو، بھی کسی ’’مقدس جنگ‘‘ کا ذکر اذکار کررہے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر نائیجیریا کی شدت پسند مسلم تنظیم ’’بوکو حرام‘‘ پر امریکی ائر فورس یہ کہہ کر بمباری کررہی ہے کہ’’یہ مسلم تنظیم مقامی عیسائیوں کو قتل کررہی ہے ۔‘‘ اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ( Mike Huckabee ، جو ماضی قریب میں پادری بھی رہے ہیں)نے حال ہی میں امریکی صحافی (Tucker Carlson) کو انٹرویو میں یہ انتہائی خطرناک بات کہی ہے کہ’’ اگراسرائیل بائبل میں لکھے گئے احکامات و ارشادات کے تحت دریائے نیل سے دریائے فرات تک(یعنی تقریباً سارا مشرقِ وسطیٰ) کے علاقے پر قبضہ کر لیتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘سوال یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے خلاف یہ بھڑکاؤ بیانات چہ معنی دارد ؟اور صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے فروری2026 جس ’’بنیاد پرست محوروں‘‘ کے اتحاد(Hexagon of Alliances) کا بیان دیا ہے ، یہ بھی دراصل عالمِ اسلام کے خلاف مسیحی و صہیونی اتحادی تصادم ہی کی تصویر کشی کرتا ہے : آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے/ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ؟؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

فیکٹ چیک: افغان طالبان کے دعوے کے برعکس ’امید اسپتال‘عسکری کیمپ تھا

Published

on


افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اس حوالے سے فیکٹ چیکٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔

افغان طالبان کا دعویٰ

افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ ایک فضائی حملے میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے قائم ’امید اسپتال‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حقائق سامنے آ گئے

  • وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ ایک عسکری تنصیب تھی، نہ کہ کوئی فعال اسپتال۔
  • حکام کا کہنا ہے کہ اصل ’امید اسپتال‘اس مقام سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔
  • دستیاب تصاویر کے مطابق اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بننے والا مقام کنٹینرز اور عارضی ڈھانچوں پر مشتمل تھا۔ نشانہ بننے والے مقام پر اسلحہ اور بارود موجود تھا۔

متنازع پہلو

افغان طالبان کے دعوے اور پروپیگنڈے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:

  • اگر یہ مقام واقعی بحالی مرکز تھا، تو وہاں عسکری سرگرمیوں کی موجودگی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔
  • دوسری جانب سرکاری مؤقف بھی مکمل طور پر غیر جانبدار بین الاقوامی تصدیق سے نہیں گزرا۔

مبینہ اے آئی پروپیگنڈا

ایک سرکاری افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے متعلقہ ویڈیو اور پوسٹ کو بعد میں حذف کیا گیا ہے، جس کی کوئی ٹھوس اور واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر غلط معلومات پر مبنی پوسٹ تھی، جس سے اس کی صداقت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

علاوہ ازیں مبینہ طور پر ویڈیو اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے بنائی گئی تھی، جو فیکٹ چیکٹ اور تصدیق کے آزاد ذرائع پر دباؤ کا سامنا نہ کر سکی اور افغان حکام کو اسے ڈیلیٹ کرنا پڑا۔





Source link

Continue Reading

Today News

حکومت کا منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

Published

on



لاہور:

حکومت نے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ غیر قانونی ذرائع سے بیرون ممالک رقوم بھجوانے والے بڑے کاروباری افراد اور اداروں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا اور اس ضمن میں کسی بھی بڑے فرد یا ادارے کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رقوم صرف بینکنگ اور دیگر قانونی چینلز کے ذریعے بیرون ممالک بھجوائی جا سکیں گی جبکہ منی چینجرز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کے عمل کو بھی اسٹریم لائن کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں بیرون ممالک رقوم بھجوانے کے پورے میکنزم کو شفاف اور فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ا س حوالے سے کہا گیا کہ غیر قانونی ذرائع سے رقوم کی ترسیل کے تمام چینلز کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے گا اور حوالہ ہنڈی کا کاروبار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی پر مشتمل ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو تمام متعلقہ امور پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لے گا۔

اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کے نظام پر بریفنگ دی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے، گورنر اسٹیٹ بینک اور وفاقی سیکرٹری خزانہ نے بھی شرکت کی۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

Published

on



اسلام آباد:

افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔

وزارت اطلاعات  کے مطابق اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا۔ یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟  یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے ڈیلیٹ ویڈیو پر سوال اٹھا دیے

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی۔

اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending