Connect with us

Today News

آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے 27 امریکی اڈوں پر شدید حملے

Published

on



ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود 27 امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ بمباری کے جواب میں چھٹے مرحلے کے حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔

آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 27 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیل کے تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز ہاکیریا، اور اسی شہر میں ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس پر بھی حملے کیے گئے۔

آئی آر جی سی نے مزید خبردار کیا کہ ایرانی افواج انتقام کا ایک مختلف اور سخت قدم اٹھائیں گی اور پے در پے تھپڑ رسید کرے گی۔

ایران کے جوابی حملے سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر ابہام؛ فرانس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان

Published

on


فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے یورپ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ملک کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس، جرمنی اور نیٹو نے بھی ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنے اپنے مؤقف واضح کر دیے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑا اپنی خودمختار دفاعی پالیسی کے تحت جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔

خیال رہے کہ فرانس یورپی یونین کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ پورے یورپ کی سیکیورٹی پالیسی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحران کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب جرمنی نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کا اس تنازع میں عسکری شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور برلن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

نیٹو اتحاد نے بھی ایران سے متعلق کسی ممکنہ جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا ہے۔

اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اس وقت خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم کسی مشترکہ فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ کیلئے فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی سے کھربوں کا نقصان

Published

on



مشرق وسطیٰ کے لیےفضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی سے ائیرلائنز کو کھربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے سات انتہائی مصروف ہوائی اڈوں پرپروازوں کی منسوخی سے ائیرلائنز کو اب تک اندازاً دو کھرب 15 ارب روپے سے زائد ریونیو نقصان ہوچکا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سے پروازوں کی  منسوخی کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے اور4 دن میں صرف پاکستان کے بین الاقوامی ائیرپورٹس سے  منسوخی سے ایئرلائنز کو 10 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مزید بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال مزید سنگین رہی اور فضائی آپریشن بحال نہیں ہوا تو ائیرلائنز کا بزنس ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پروازوں کی منسوخی سے مسافروں کو ریفنڈز اور رہائش کے اضافی اخراجات بھی ائیرلائن کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی ایم ایف تکنیکی معاونت مشن کی پیشکش پھر مسترد

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان نے ایک بار پھرآئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اور انسدادِ بدعنوانی فریم ورک میں موجود خامیاں دور کرنے کیلیے تکنیکی معاونت مشن بھیجنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پیکج کے جائزہ اجلاس کے دوران آئی ایم ایف نے یہ پیشکش دہرائی، تاہم وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیارکیاکہ حکومت کے پاس 142 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمدکیلیے اندرونی صلاحیت موجودہے۔

ذرائع کاکہناہے کہ اس سے قبل بھی آئی ایم ایف پاکستان میں گورننس مضبوط بنانے اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے چیلنج سے نمٹنے کیلیے تکنیکی معاونت کی خواہش ظاہرکرچکاہے،حکومت پہلے ہی برطانیہ کے فارن،کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس سے اس ایکشن پلان پر عملدرآمد میں معاونت حاصل کررہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کیلیے 59 ترجیحی اور 83 تکمیلی اقدامات پر مشتمل اصلاحاتی منصوبہ جاری کیا تھا، جن پر آئندہ تین برس میں عملدرآمدکیاجانا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ تقریباً دو ماہ کی تاخیر سے اس وقت جاری کی جب آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالرکی قسط کی منظوری کیلیے اسے پیشگی شرط قرار دیا۔

ادھرگلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کی حالیہ رپورٹ میں آئی ایم ایف کی تشخیصی رپورٹ کو تجزیاتی طور پر مضبوط اور غیر معمولی حد تک واضح قرار دیاگیا،جس میں اہم امورکو نظراندازکیاگیا۔

رپورٹ کے مطابق عملدرآمد کے طریقہ کارکمزور ہیں،حساس اصلاحات کومؤخریاکمزورکردیاگیا،صوبائی سطح کی گورننس کاناکافی جائزہ لیاگیااور ادارہ جاتی خودمختاری کومؤثر انداز میں یقینی نہیں بنایاگیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت سے گورننس ایکشن پلان پر عملدرآمدکی سہ ماہی رپورٹس جاری کرنے کابھی مطالبہ کیاہے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی دریافت کیاکہ آیاتینوں عملدرآمدکمیٹیوں میں سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں یانہیں،حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ سول سوسائٹی کوشامل کیاجائیگا۔

آئی ایم ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کامزید جائزہ لینے کیلیے بھی ورچوئل اجلاس منعقدکیاہے۔

پاکستان نے  وعدہ کیاکہ وہ منی لانڈرنگ مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن مؤثر بنائے گا،مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹس کے معیار اور تعدادمیں اضافہ کریگا،مالیاتی تحقیقات کیلیے اداروں کی صلاحیت بڑھائے گااور اثاثہ جات کی ریکوری میں تعاون بہتر بنائیگا۔





Source link

Continue Reading

Trending