Today News
احسن تقویم ، اسفلہ سافلین
یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔
ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔
آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔
اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔
چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔
زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔
جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔
چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔
اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے
ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی
جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ
ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔
Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے
Today News
کراچی، خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد
کراچی:
شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ایدھی کے رضا کاروں عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا رضوان قریشی نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 22 سالہ مسکان کے نام سے کی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی لاش اس کا بھائی اور والدہ اسپتال لیکر گئے تھے جبکہ پولیس کو اسپتال سے ہی واقعے کی اطلاع ملی تھی۔
تاہم شواہد حاصل کرنے کے لیے متوفیہ کی رہائش گاہ پر کرائم سین یونٹ کو روانہ کیا ہے جبکہ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو بیان دیا ہے کہ مسکان نفسیاتی مسائل کا شکار تھی جبکہ واقعہ گلے میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کا بتا رہے۔
جس وقت واقعہ پیش آیا متوفیہ گھر میں اکیلی تھی تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز