Today News
اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ ملک کو بچانے کے لیے ہے، ایم کیو ایم پاکستان
کراچی:
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ ملک کو بچانے کے لیے ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین مرکزی کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جاگیرادرانہ جمہوریت ہے۔ ایران کی کامیاب مزاحمت کی وجہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے۔ ہمارا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ ملک کو بچانے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگانے سے پہلے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔ جنگ کے بعد حکومت نے فعال کردار ادا کیاہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے اس معاملے میں پاکستان کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان جو ثالثی کا کردار ادا کررہا ہم اس کے ساتھ ہیں۔ ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ پاکستان کا دفاع کرنے والی فوج پیشہ ور ہے۔ جنگ کے دور میں صرف فوج نہیں پوری قوم لڑتی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر دشمن نے کوئی نقصان پہچانے کا فیصلہ کیا تو پہلا نشانہ کراچی ہوگا۔ کراچی کو اس حالت میں رکھ کر پاکستان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت ہمارا مطالبہ منظور کرے تو حکومت بچانے کے لیے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ گزشتہ دو تین دہائیوں سے جس آگ کا تذکرہ کیا جا رہا تھا وہ ہماری دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک اس جنگ میں پاکستان کی قیادت نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ تاحال اس بات کا اندازہ نہیں کہ پاکستان کا کیا کردار ہوگا۔ دنیا کو بھی اندازہ ہے کہ افواج پاکستان اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لے تیار ہے۔ جب ایسے حالات ہو جائیں تو اقتدار گلی محلوں میں منتقل کردیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم کے قیام سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ووٹ دینے والوں سے زیادہ ذمہ داری ووٹ لینے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ ایرانی قوم کے اتحاد کی ایک وجہ تہران کی بلدیاتی حکومت ہے۔ ہمیں امید تھی کہ 28 ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں گے۔ لاک ڈاؤن کی باتیں ہو رہی ہیں، معاشی بحران کی بات ہو رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اختیارات کو گلی محلوں تک منتقل کر کے تیاری کرلی جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک مختصر اقلیت کی وجہ سے اختیارات کی عوام کو منتقلی کو روکا جاتا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایم کیو ایم کی قیادت کی درخواست پر فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعظم بتائیں کہ ایم کیو ایم نے جمہوریت کے تسلسل کے لیے آپ سے کیا مانگا تھا؟۔ ہم نے صرف ایک مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کے آئین کو پاکستان کے عوام کے لیے آسان بنا دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت سے مخاطب ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کی 28 ویں ترمیم متعارف کروائی جائے۔ ہمیں جواب دیجیے تاکہ ہم حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے کا حتمی فیصلہ کر سکیں۔ ایک متحد پاکستان ہی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم گل پلازہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے حق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑا تو اس سے درگزر نہیں کریں گے۔ اس شہر کی انتظامیہ چھٹیوں میں اپنے آبائی علاقوں کو چلی جاتی ہے۔ ہنگامی حالات کے دوران شہر میں ان کی غیر موجودگی شہر میں افراتفری اور بد امنی کو مزید بڑھائے گی۔ پاکستان کے عوام ہی پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم پیشہ ور سیاستدانوں کی جماعت نہیں۔
ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں جاگیردارانہ جمہوریت کو شراکتی شمولیتی جمہوریت میں تبدیل کیا جائے۔عوام کو اپنی تقدیر بدلنے کے فیصلے کا حق دیا جانا چاہیے۔ مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 144 اضلاع اور شہروں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا فارمولا ایم کیو ایم پیش کرچکی ہے۔ اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔ کل اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں حتمی سماعت ہے۔ عوام کی تقدیر کا فیصلہ 1200 قومی و صوبائی اسمبلی کے نمائندے نہیں کر سکتے۔ اختیار دے کر ہی آپ کسی میئر یا ٹاؤن ناظم کو بااختیار بنا سکتے ہیں۔
مصطفی کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا نے دیکھا کہ جنگوں کے دوران سول ایڈمنسٹریشن فوج کے ساتھ متحرک ہوتی ہے۔ پاکستان کا آج کا نظام 4 وزرائے اعلیٰ کے پاس ہے۔ پاکستان میں 400 شہر ہیں جن پر حکومت کرنا موجودہ نظام کے ذریعے ناممکن ہے۔ توانائی کا بحران قابو کرنا بھی مقامی نمائندوں کے ذریعے ناممکن ہے۔ یہ پاکستان کا نیشنل سیکورٹی ایشو بن چکا ہے۔ خطے میں جاری جنگ کے حالات میں ایم کیو ایم کی اس آئینی ترمیم کی ماضی سے زیادہ ضرورت ہے۔
Today News
پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگز مین اور ملتان سلطانز کے میچ سے متعلق بڑی خبر!
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں حیدرآباد کنگز مین نے ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول ایونٹ کے آٹھویں میچ میں کنگز مین کے کپتان مارنس لبوشین نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کنگز مین اپنے ابتدائی دونوں میچز میں شکست سے دو چار ہوچکی ہے۔
Source link
Today News
آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کیوں جوائن کی؟ ایڈم زمپا کے چونکا دینے والے انکشافات
آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے انڈین پریمیئر لیگ کے بجائے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زمپا نے واضح کیا کہ انہوں نےانڈین پریمئر لیگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا اور پاکستان شپر لیگ میں شامل ہوکر کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے لگے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زمپا کا کہنا تھا کہ ان کی مہارت کے لحاظ سے آئی پی ایل میں انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ جیسے اسپنر کو وہ مالی معاوضہ نہیں دیا جاتا جو دیگر مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کو ملتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی ایل کا دورانیہ بھی کافی طویل ہوتا ہے جس کے مقابلے میں اسے کھیلنا ان کے لیے مناسب فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ اول تو میرا کرکٹ سے کچھ ٹائم کے لیے وقفہ لینے کا ارادہ تھا، تاہم پی ایس ایل میں کھیلنے کا موقع ملا اور اسے قبول کرلیا۔
واضح رہے کہ زمپا اس وقت پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
Today News
کراچی سمیت سندھ میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کروانے کیلیے تین ماڈل پیش
کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے ہیں۔
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے۔ ان منصوبوں کو جدید اور پائیدار نظام بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں ایڈشنل چیف سیکریٹری سندھ وسیم شمشاد علی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی طارق علی نظامانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر سوئپ محمد عثمان معظم اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر ایم اینڈ ڈی نے اجلاس کے دوران صوبہ سندھ کے لیے مجوزہ آپریشنل ماڈل پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے تین مختلف ماڈلز پیش کیے جن میں ہائبرڈ ماڈل، ہائبرڈ پلس ماڈل اور لوکل ماڈل شامل ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ تمام ماڈلز جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، جو نہ صرف لاگت کے لحاظ سے مؤثر ہیں بلکہ ان میں بلدیاتی اداروں کو بھی نظام کی حکمت عملی، پائیدار منصبوبہ بندی اور عمل درآمد میں شامل کیا جائے گا۔ ان ماڈلز کے تحت صفائی کا نظام مختلف سطحوں پر چلایا جا سکتا ہے، جس میں بلدیاتی کمیٹیوں کی بنیاد پر انتظام، یا سندھ بھر میں میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے ایف ای سی مینجمنٹ شامل کی جا سکتی ہے۔ کام کو چھوٹے یونٹس جیسے ٹاؤن لیول پر تقسیم کرنے سے نگرانی اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے گی۔
مزید برآں، ٹاؤن انتظامیہ کو جدید سی ایم ایس (CMS) سسٹم کے ذریعے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا سکتی ہے جس سے صفائی کے عمل کی مانیٹرنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔ بریفنگ میں منصوبوں کی مدت کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں، جن کے مطابق ان ماڈلز کو 3+1 یا 4+1 سال کے عرصے کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں بتایاگیا کہ تینوں ماڈلز میں مشینری اور عملے کو ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جائے گا، جس سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ اس حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ایک پائیدار (Sustainable) صفائی نظام بھی قائم کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ بریفنگ میں سندھ بھر میں لینڈ فل سائٹ کے لئے جگہ مختص کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں جس میں کشمور کندھ کوٹ، لاڑکانہ، کوٹ ڈی جی، نواب شاہ، سہون، ملکیار حیدرآباد، عمرکوٹ، دھابیجی لینڈفل سائٹس کی تجاویز شامل ہیں تاکہ کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے۔
ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے بتایا کہ جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کی تکمیل کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی یہ منصوبے مکمل ہو جائیں گے جبکہ جام چاکرولینڈ فل سائٹ کی تعمیر و ترقی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، جہاں اب تک ایک سیل مکمل کیا جا چکا ہے، مزید پر کام جاری ہے۔ انجینئرڈ سینیٹری لینڈفل سائٹ جلد فعال ہو جائے گی۔
اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تقریباً 20 ملین ڈالر کاربن کریڈٹس حاصل ہونے کی توقع ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرے گا۔
اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پیش کیے گئے ماڈلز کو مزید بہتر اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ ان پر اعلیٰ سطح پر غور کیا جا سکے اور وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ آئندہ اقدامات کے لیے مشاورت کی جا سکے۔
وزیر بلدیات نے سختی سے ہدایت کی کہ کچرا مقررہ ڈسٹ بن کے بجائے کھلے عام پھینکنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پولیس کو نشاندہی کرنے، ملبہ پھینکنے والی گاڑیوں کو روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید حکمت عملی، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون کے ذریعے سندھ کے شہروں کو صاف ستھرا اور ماحولیاتی طور پر محفوظ بنایا جائے گا۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper