Today News
ادبی اداروں کی خود مختاری
حکومت بلوچستان نے بلوچستان کی چاروں زبانوں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیزکی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان کی چار زبانوں کی اکیڈمیز میں اصلاحات کے لیے محکمہ کلچرل ٹوارزم اور آرکائیو کے سیکریٹری کی قیادت میں 21 جولائی 2026ء کو ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی۔
اس کمیٹی کی سفارشات کو بلوچستان کی کابینہ نے منظورکیا۔ ان سفارشات کے تحت Balochistan Regional Languages Academies and Literary Society Act 2025 کی منظوری دی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت ان اکیڈمیز کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس بورڈ کے سربراہ وزیر تعلیم ہونگے۔ بورڈ کے وائس چیئرمین سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ہونگے۔
اس بورڈ کے اراکین میں سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کی زبانوں بلوچی، براہوی، ہزارگی اور پشتو کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی بورڈ کے رکن ہونگے۔ اس بورڈ میں چاروں اکیڈمیز کے چیئرمینز کو بھی شامل کیا گیا۔ اس بورڈ میں ہر زبان کا ایک ایک ماہر بھی شامل ہوگا۔ اب یہ بورڈ ان اکیڈمیز کے انتظامات کے بارے میں تمام فیصلوں کا مجاز ہوگا۔ یوں چاروں زبانوں کی اکیڈمیز کی پہلے والی خود مختاری باقی نہیں رہے گی۔
بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے لسانی اور ثقافتی تنوع کی امین رہی ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبانیں، بلوچی، پشتو، براہوی، جدگالی اور ہزارہ کمیونٹی کی زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعورکی علامت ہیں۔ انھی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے قائم ادبی و تحقیقی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ’’ بلوچستان ریجنل لینگوئجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025‘‘ نے ادبی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔
حال ہی میں کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کے زیر اہتمام ادبی و لسانی اداروں کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین ہیبتان عمر نے کی۔ اجلاس میں پشتو اکیڈمی، براہوی اکیڈمی اور ہزارگی اکیڈمی سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ بل ادبی اداروں کی خود مختاری سلب کرکے انھیں محکمہ کلچر اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے زیرِ انتظام لانے کی کوشش ہے۔ ادبی ادارے صرف سرکاری دفاتر نہیں ہوتے، وہ فکری آزادی اور تخلیقی اظہار کے مراکز ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی اصل قوت ان کی خود مختاری میں مضمر ہے، جو انھیں سرکاری دباؤ یا بیوروکریٹک رکاوٹوں سے آزاد رکھتی ہے۔
یہی آزادی انھیں زبانوں کی تحقیق، لغت سازی، نصابی معاونت، کلاسیکی ادب کی اشاعت اور نئی نسل کی تربیت کے لیے فعال بناتی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ بل نہ صرف ادبی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کی روح کے بھی منافی ہے، جس کے تحت یہ ادارے بطور خود مختار تنظیمیں کام کر رہے ہیں۔ چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا آئین ہر قوم کو اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
ایسے میں بغیر مشاورت کوئی قانون سازی جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ اداروں کو سرکاری نظم و نسق میں لا کر مالی اور انتظامی شفافیت بہتر بنائی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کا تجربہ اس دعوے کی تائید کرتا ہے؟ محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بلوچستان آرٹ کونسل کی غیر فعالیت اور تعلیمی شعبے کی موجودہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ محض سرکاری تحویل مسائل کا حل نہیں۔ براہوی اکیڈمی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوی نے بجا طور پر کہا کہ جب محکمہ تعلیم اور ثقافت سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صوبے میں تعلیمی پسماندگی ختم نہ کر سکے تو ادبی اداروں کو سرکاری بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنا ان کی کارکردگی کو مزید سست کر سکتا ہے۔
بلوچستان میں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں، ایسے میں زبانوں کی ترقی کا بوجھ بھی انھی محکموں پر ڈال دینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں زبان محض ثقافتی موضوع نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حساسیت بھی رکھتی ہے۔ یہاں کی زبانیں طویل عرصے تک قومی بیانیے میں حاشیے پر رہی ہیں۔ ادبی اداروں نے اسی خلا کو پُرکرنے کے لیے شبانہ روز محنت کی ہے۔
لغات کی تیاری،کلاسیکی شعرا کی تدوین، جدید ادب کی اشاعت اور نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی، یہ سب کام بیوروکریٹک فائلوں کے بجائے فکری جذبے سے ہوتے ہیں۔ بلوچستان مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ بدامنی کی صورتحال ختم ہوتی نظر نہیںآتی۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں۔ بلوچ طلبہ اپنے کیریئر کو بنانے کے لیے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی طرف بھی آتے ہیں۔ بلوچ طلبہ میں کیریئر بنانے کا رجحان بلوچستان کے مخصوص حالات میں ایک دیے کی روشنی کی طرح ہے۔ اربابِ اختیار ان طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کر کے امید کے اس دیے کو روشنی کے میناروں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ادبی اداروں میں تخلیقی علم اس وقت پروان چڑھا ہے جب ادارے ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔
ادبی اداروں کے ریاستی کنٹرول میں آنے کا مطلب تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے دورِ اقتدار میں رائٹرزگلڈ کا قیام عمل میں آیا مگر جب رائٹرز گلڈ مکمل طور پر سرکاری ہوئی تو اس ادارہ کا کردار ختم ہوگیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اردو اور اردو ڈکشنری بورڈ وغیرہ بیوروکریسی کے کنٹرول میں آنے کے بعد ایسے حقیقی خوف سے دور ہوگئے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ بلوچستان کے ادبی اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھا جائے جب کہ وفاقی اور بلوچستان کی حکومت ان اداروں کو مالیاتی امداد فراہم کرتی رہے، اگر ان اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تو خدشہ ہے کہ تخلیقی سرگرمیاں روایتی سرکاری طریقہ کارکی نذر ہو جائیں گی۔ فن اور ادب کی دنیا میں حکم نامے نہیں، مکالمہ اور تخلیقیت چلتی ہے۔
سرکاری ڈھانچے میں شامل ہونے کے بعد بجٹ، تقرریوں اور پالیسیوں پر سیاسی اثر و رسوخ کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جو ادبی آزادی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ادیبوں کے اس مشترکہ اجلاس کے شرکاء کا بنیادی اعتراض یہی تھا کہ بل کی تیاری میں متعلقہ اداروں سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک ایسا قانون جو براہ راست ادبی و لسانی تنظیموں کو متاثرکرے، اس کی تشکیل میں انھی اداروں کو شامل نہ کرنا، جمہوری روح کے منافی ہے۔ ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی زبانوں کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے اداروں کو مضبوط کرنے، مالی معاونت بڑھانے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کرنی چاہیے نہ کہ ان کی انتظامی ساخت بدل کر انھیں سرکاری تحویل میں لے آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت اور ادبی ادارے آمنے سامنے کھڑے ہوں۔
ایک متوازن حل یہ ہو سکتا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے مشترکہ مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیات اور ماہرینِ لسانیات شامل ہوں۔ اس طرح نہ صرف اداروں کی خود مختاری برقرار رہے گی بلکہ حکومتی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ علاوہ ازیں، زبانوں کو نصاب میں مؤثر طور پر شامل کرنا، ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا اور نوجوان نسل کو مقامی زبانوں کی تعلیم سے جوڑنا زیادہ سود مند اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ زبانوں کی ترقی کا اصل راستہ انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ تعلیمی اور سماجی شمولیت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کو واپس لے کر ادبی اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
یہ مطالبہ صرف ادارہ جاتی مفاد کا نہیں بلکہ صوبے کی لسانی شناخت اور ثقافتی بقا کا سوال ہے۔ بلوچستان کی سیاسی اور ادبی امور کے ماہر اورکئی کتابوں کے مصنف عزیز سنگھور کے مطابق زبانیں قوموں کی روح ہوتی ہیں، اگر ان کے محافظ اداروں کی آزادی سلب کر لی جائے تو تخلیقی عمل ماند پڑ جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی عجلت کے بجائے فکری سنجیدگی سے دیکھے۔ بلوچستان کی لسانی وراثت ایک مشترکہ اثاثہ ہے، اسے مضبوط کرنے کا راستہ شراکت اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ سرکاری تحویل کے یک طرفہ فیصلوں سے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون سازی سے پہلے مکالمہ ہو، اختلاف کو سنا جائے، اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے واقعی معاون ثابت ہوں۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ ایک اچھے مقصد کے نام پر اٹھایا گیا قدم لسانی و ادبی زوال کا پیش خیمہ بن جائے۔
Today News
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.0 ریکارڈ
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق لانڈھی اور کورنگی کے مختلف علاقوں میں اچانک جھٹکے محسوس ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شہر کے جنوب میں 4.0 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں سمندر میں تھا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ یہ زلزلہ 1 بج کر 27 منٹ پر ریکارڈ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔
Today News
جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا (آخری حصہ)
دنیا کی معیشت کی ایک عجیب عادت ہے جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل گہرے ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف دوڑنے لگتی ہیں اور آبنائے ہرمز تو ایک شعلہ بنتا ہے جیسے ہی اس کے گرد جنگی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو لندن اور نیویارک کی تیل کی منڈیوں میں آگ لگ جاتی ہے،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ 20 ملین بیرل سے بھی زائد تیل اسی تنگ گزرگاہ سے گزر کر مختلف ملکوں کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس بحری راستے کی سانس جیسے ہی تنگ ہونے لگتی ہے، پاکستانی معیشت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ ان لمحات میں حکومت کا یہ فیصلہ خوش آیند ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں استعمال کیے جانے والے پٹرول کو آدھا کردیا جائے۔
پٹرول کے خرچے میں نصف کٹوتی دراصل ایک انتظامی فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک پیغام ہے جو ہرمز کی لہروں نے ہمیں دیا ہے کہ جب عالمی معیشت کے طوفان تیز ہو جائیں تو قوموں کو اپنی کشتی کا وزن کم کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی غیر ضروری سرکاری دوروں پر پابندی عائد کر دی ہے اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی کئی چیلنجز سے گزر رہی ہے۔
پاکستان کی برآمدات سے دگنی مالیت اب درآمدات کی ہو کر رہ گئیں جس کے باعث اب تک8 ماہ میں برآمدات سے کہیں زیادہ تجارتی خسارہ ہو چکا ہے، اگر حکومت اس قسم کے اقدامات نہ اٹھاتی تو تجارتی خسارہ برآمدات سے دگنا ہو سکتا تھا، کیونکہ تجارتی خسارے کی کہانی میں اگر کسی ایک کردار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ تیل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پاکستان کے درآمدی بل کا اب تک تقریباً چوتھائی حصہ بنتا ہے، لیکن اب یہ 35 سے 40 فی صد تک جا سکتا ہے۔
جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت کی لاگت، خوراک سمیت مکانوں کے کرائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ دنیا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تیل ہی اس کا مرکزی کردار نظر آتا ہے۔ جب 1973 میں تیل کا بحران آیا تو مغربی معیشتیں ہل کر رہ گئیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے کنویں جلتے رہے اور دنیا بھر کی معیشتوں کو اس کی تپش جھلساتی رہی۔ اب جب کہ امریکا، ایران جنگ میں جیسے جیسے تیزی آ رہی ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال ہمیشہ امتحان بن جاتی ہے کیونکہ معیشت کے بڑے حصے کا دار و مدار درآمدی توانائی پر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی فیصلے کرنے کے بجائے پاکستان کو ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کے پاس سورج کی روشنی کا پورے سال کا خزانہ موجود ہے، سولر سسٹم کے ذریعے اس خزانے سے بڑی مقدار میں بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ بڑے بڑے بہتے دریاؤں پر بند باندھے جا سکتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسی طرح الیکٹرک ٹرانسپورٹ بھی پٹرول کی بچت کا اہم ذریعہ ہے، اگر بڑے شہروں میں الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کو فروغ دیا جائے تو پٹرول کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی لہریں اب بھی کراچی کے ساحل سے ٹکرا رہی ہیں، ان لہروں کے شور میں ایک خاموش پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ قومیں اپنی معیشت کو مضبوط نہ کریں تو ایک دن توانائی کی قیمتیں ہی ان کے بجٹ کا فیصلہ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے قبل کہ وہ وقت آ جائے حکومت نے خوش آئند اعلان کر دیا کہ پٹرول آدھا کر دیا گیا ہے، لیکن اب بھی یہ ایک عارضی حل ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان کا توانائی پر درآمدی انحصار ہے۔ جب تک پاکستان ملک میں موجود تیل اور گیس کے کنوؤں کی پیداوار نہیں بڑھاتا، نئے نئے ذخائر تلاش نہیں کرتا، قابل تجدید توانائی کو فروغ نہیں دیتا، پاکستان عالمی توانائی کے بحران سے نمٹتے نمٹتے مافیاز کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کس طرح ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوکر رہے گا، لہٰذا وہ ہر مال سے اپنے گوداموں، ذخیرہ گاہوں کو بھر لیتے ہیں۔ پہلے ہی قیمت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب ہر شے کی قلت پیدا کر کے اس کے دام دگنے سے تگنے کر دیے جاتے ہیں اور اربوں روپے منافع کما کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
حکومت نے فیصلہ کیا کہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری روک دی جائے۔ اس فیصلے کو کئی سالوں کے لیے کیا جانا ضروری ہے کیونکہ کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جس کے پاس گاڑیوں کی طویل قطار نہ ہو۔ کئی اچھی گاڑیاں معمولی خرابی کی بنا پر ایک طرف کھڑی کر دی جاتی ہیں اور بہت جلد ان کو نیلام کرنے کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ نیلام کرنے والوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ یہ گاڑی کتنی اچھی ہے اور خریدار بھی جانتا ہے کہ بس معمولی خرابی ہے۔
چند لاکھ خرچ کیے گاڑی خرید کر چند ہزار میں معمولی نقص دور کرا دیا اور کروڑوں کی گاڑی ہاتھ لگ جاتی ہے، لہٰذا انھی معمولی یا زیادہ خراب گاڑیوں کو درست کرایا جائے تاوقت یہ کہ انتہائی ضرورت کے عالم میں نئی گاڑی بشرطیکہ زیادہ قیمتی نہ ہو وہ خرید لی جائے۔ وزیر اعظم کے اعلانات کے تحت جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ ایک مثبت قدم ہے۔ خاص طور پر پٹرول کے خرچ کو آدھا کر دینے کے مثبت اثرات توانائی کے اخراجات پر مرتب ہوں گے جس سے ملک کے بڑھتے ہوئے ہوش ربا تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
Today News
وحشی آدم خوروں کے درمیان
ہم بھی کیا؟بات کیا شروع کی تو پہنچ گئے کہاں؟ چلے تھے چین پہنچ گئے جاپان۔بات ہم نے عاملوں کاملوں،پروفیسروں،جادو گر بنگالیوں پرتگالیوں بلکہ سراسر گالیوں کی شروع کی تھی جو ایک دانشور ڈاکٹر کے مطابق سیدھی سادی بیماریوں کو جنات سے منسوب کرکے اللہ کی گائے یعنی عوام کالانعام کو جی بھر کر دوہتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے ایسی تمام بیماریوں کی نشان دہی کرکے مشورہ دیا ہے کہ ان نوسربازوں کے پاس جانے کی بجائے ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔اور یہی ہمارا نکتہ اعتراض ہے اگر ڈاکٹر صاحب آدم خوروں سے رجوع کرنے کو کہتے یا وحشی جنگلیوں کے پاس جانے کا مشورہ دیتے، خونی درندوں کے آگے خود کو ڈالنے کے لیے کہتے تو ہم مان بھی لیتے اور کالانعاموں سے بھی منوانے کی کوشش کرتے لیکن۔ڈاکٹر؟کیا اس بے مہار ملک میں ڈاکٹر سے بھی زیادہ کوئی درندہ ہے؟یہ تو بارش بلکہ بوندہ باندی سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے بیٹھنے والی بات ہوگئی۔
ڈاکٹروں نے ثابت کردیا ہے کہ ان سے ’’بڑا‘‘کوئی بھی کہیں بھی نہیں ہے۔ہاں’’ایک‘‘ہے لیکن لوگ اس کے پاس جاتے نہیں بلکہ وہ خود لوگوں کے پاس جاتا ہے اور جب لوگوں کو اپنے پنجہ استبداد میں لے لیتا ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتا نام تو اس کے بہت سارے جاتے ہیں منتخب نمائندہ۔جمہوری شہنشاہ‘ سیاسی دادا‘ جمہوری ڈکٹیٹر،فنڈہضم‘بجٹ ہضم،ملازمت فروش وغیرہ لیکن آج یہ مینڈیٹ کہلاتا ہے دراصل یہ برہمن اور کشتری ہوجاتے ہیں اور کالانعاموں کو شودر بنادیتے ہیں۔خیر مینڈیٹ اور مینڈیٹ فروشوں کو چھوڑیے کہ اب ہمارا مستقل نصیبہ ہوچکے ہیں اپنی اصل بات پر۔یعنی ڈاکٹر؟ سینہ کے تیر۔ سانپ بچھو کے ڈنک،پھیپھڑے کے جبڑے۔
پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر ہی کے انساں پائے ہیں
تم ’’شہر‘‘ سمجھتے ہو جس کو ہم جان بچاکر آئے ہیں
’’شفاخانے‘‘سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم بھی وہاں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
کبھی کسی کونے کھدرے میں اکادکا ایسے ہوں جو اگلے وقتوں کے مسیحا ہوں گے باقی وہ اجرتی قاتل۔جو قتل کا معاوضہ بھی مقتول سے وصول کرتے ہیں
ابھی تم قتل گہہ کو دیکھتا آساں سمجھتے ہو
نہیںدیکھا شناور جوئے خوںمیںاس کے ’’توسن‘‘کو
اور یہ قتل گہہ ہر جگہ ہر مقام ہر شہر ہربازار ہر گلی ہر کوچے میں پھیلے ہیں۔مذکورہ ڈاکٹر کو یا تو پتہ نہیں یا جان بوجھ کر کاروباری انداز سے کام لے رہا ہے ورنہ
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
کہتے ہیں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ بھیڑیے کے منہ میں اپنا سر دے دیجیے۔ہم نے تو عرصہ ہوا ان کو یہ فضول قسم کے غلط سلط ناموں جیسے ڈاکٹر،معالج،مسیحا وغیرہ کہنا چھوڑ دیا ہے سیدھے سیدھے اصلی نام سے یاد کرتے ہیں ایجنٹ۔جسے دیسی زبان میں مختلف ناموں سے پکارتے ہیںاور وہ بھی کسی ایک نہیں بیماریوں کے ڈسٹری بیوٹر،کمپنیوں کے ایجنٹ۔اور موت کے ہرکارے لوٹ ماروں کے لٹیروں کے سردار بلکہ ہمارا خیال ہے کہ موت کے سوداگر بھی اتنے بُرے نہیں، مرنا تو سب کو ہے اور بروقت آجائے تو کوئی بات نہیں۔ لیکن نچوڑ نچوڑ کر چوس چوس کر دھیرے دھیرے مارنا۔ قسطوں میں مارنا؟ظلم کی انتہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا وسیع پیمانے پر رواں دواں ہے کہ شہروں میں مکانات دھڑا دھڑ ڈھائے جارہے ہیں اور ان کی جگہ کلینک اسپتال، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ابھر رہی ہیں۔
ہمارے چند دوست ڈاکٹر تھے ہم جن کے پاس جب جاتے تھے تو ہم سے فیس نہیں لیا کرتے بلکہ کبھی سیمپل بھی دے دیا کرتے تھے لیکن اس وقت یہ ’’تازہ‘‘ زہریلی ہوا نہیں چلی تھی، انسان کچھ کچھ انسان اور ڈاکٹر میں کچھ کچھ ڈاکٹر بھی ہوا کرتے تھے۔
بیچ میں کافی عرصہ گزر گیا ہے اب جب ہم ان کے پاس جاتے ہیں تو مروت برقرار رکھے ہوئے ہیں حسب معمول فیس نہیں لیتے لیکن جب وہاں سے نکلتے ہیں تو دس پندرہ ہزار کا جرمانہ بھر کر نکلتے ہیں کیونکہ ٹیسٹوں، ایکسریز اور دواؤں کے تھیلے ساتھ ہوتے ہیں۔اور یہ ان کی بھی مجبوری ہے جن لوگوں نے ان کو بٹھایا اس لیے ہے کہ ان کے گلشن کا کاروبار خوب چلے۔لیکن۔ڈاکٹر تو پھر بھی مرد ہیں اور مرد تو اکثر ظالم اور پتھردل ہوتے ہیں بہت زیادہ دکھ ان خواتین ڈاکٹروں۔معلوم نہیں قصائی کی مونث کیا ہے شاید قصائین ہاں تو ان قصائیوں کو دیکھ کر دل لہولہان ہوجاتا ہے کہ عورت تو سراسر پیار ہی پیار رحم ہی رحم، مامتا ہی مامتا ،شفقت ہی شفقت اور قربانی ہوتی ہے۔
یہ کیسی عورتیں ہیں جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی عورت ہمارے ہاں سے صحیح سلامت پیٹ لے کر نہیں جائے گی حالانکہ بچہ جننا کوئی بیماری نہیں ہے ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کسی جانور کے بارے میں تو کبھی نہیں سنا ہے کہ بچہ جننے کے دوران اس کا پیٹ کاٹنا اور پھاڑنا پڑا ہو۔ پیٹ ہیں کہ پھاڑے جارہے ہیں ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی عورت سالم پیٹ والی نظر نہ آئے گی ان قصائیوں کے سوا اور ہاں وہ ایک کہاوت کہ بستی ابھی بسی نہیں کہ ڈاکو آگئے۔اس میں تھوڑی سی صرف ایک لفظ میں ایک دو حروف کی تبدیلی کرنا پڑے گی بستی ابھی بسی نہیں کہ…آگئے کیونکہ ہم نے ایسے ایسے مقامات پر بھی کلینک دیکھے ہیں جہاں دور دور تک کوئی بستی نہیں ہوتی ۔ہمارے پڑوس ایک بیوہ خاتون تھی جو پاس کے قصبے میں ایک ڈاکٹرنی عرف قصائین کے کلینک میں ملازم تھی ایک دن معلوم ہوا کہ ڈاکٹرنی نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔
وجہ پوچھی تو بولی کہ ایک کیس آیا تو ڈاکٹرنی اس وقت موجود نہیں تھی ، مریضہ کو بستر پر لٹا کر میں نے ڈاکٹرنی کو فون کرنا چاہا تو میرے موبائل میں پیسے نہیں تھے، جلدی سے باہر نکلی، فون کا پیٹ بھرا ، ڈاکٹرنی کو فون پر کلینکس کی اطلاع دی لیکن ڈاکٹرنی کے آتے آتے نارمل ڈیلیوری ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے آرے ہاتھوں لیا ، میں نے بہت سمجھایا فون میں بیلنس نہ ہونے کی بات کی لیکن اس نے مجھے نکال دیا کہ تو نے بر وقت مجھے اطلاع نہیں دی اور شکار صحیح سلامت اور سالم پیٹ لے کر نکل گیا۔ یقین نہیں آتا کہ ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جسے اسلام کا مرکز ثانی کا دعویٰ ہے، تلقین ہی تلقین، ہدایت ہی ہدایت، رہنمائیاں ہی رہنمائیاں، دعوے ہی دعوے، عبادتیں ہی عبادتیں،بیان ہی بیان۔اور بلکہ لگتا ہے جیسے ہم افریقہ کے کسی دور دراز جنگل کے اندر آدم خور بستی میں ہوں۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person