Connect with us

Today News

ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ کیوں؟

Published

on


پارلیمنٹ نے اپنے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے کا جب فیصلہ کیا تھا تو ملک کے عوامی و سماجی حلقوں اور پارلیمنٹ سے باہر کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے عوام سے چھپانے کے اس پارلیمنٹ کے فیصلے کی مذمت کی تھی جس کے بعد اب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پارلیمنٹ کے ارکان کے اثاثے خفیہ رکھنے پر اعتراض کر دیا ہے اور اس ترمیم کو واپس لینے کا کہہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نومنتخب ارکان کو اپنے اثاثے تحریری طور فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد اب بھی ہر سال ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں مگر ہر سال ہوتا یہ ہے کہ ارکان وقت پر اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے جس پر الیکشن کمیشن ان کی رکنیت معطل کر دیتا ہے اور معطل ارکان کے نام اشاعت کے لیے میڈیا کو فراہم کر دیے جاتے ہیں اور معطل ارکان جن میں وزیر و مشیر بھی شامل ہوتے ہیں کو اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا نیا موقعہ دیا جاتا ہے جس کے بعد ارکان اپنی بحالی کے لیے اثاثے جمع کرانا شروع کرتے ہیں تو ان کی رکنیت بحال کرنے کا سلسلہ الیکشن کمیشن شروع کرتا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی رکنیت معطلی اور بحالی کوئی نئی بات نہیں بلکہ سالوں سے یہ ہوتا آ رہا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے معطلی کے باعث معطل ارکان اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکتے اور انھیں تنخواہ و مراعات بھی نہیں ملتیں تو وہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اثاثے مجبوری میں انھیں ظاہر کرنا پڑتے ہیں تاکہ معطلی ختم اور بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے اور وہ ان مراعات کے حق دار بن سکیں جو قانونی طور ان کا حق بنتا ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی صورت شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا مگر جب حکومت اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گی تو الیکشن کمیشن بھی مجبور ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی قانون کا پابند ہے۔

حکومت کے لا ڈویژن نے بھی آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے اب تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی ہے جنھیں پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر اور شازیہ مری نے متعارف کرایا تھا جو نجی قانون سازی کے تحت ہوا تھا۔ واضح رہے کہ بعد میں قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ دیا تھا تاکہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کو عوام سے خفیہ رکھا جا سکے۔

آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سینیٹ نے اب تک ان ترامیم کی منظوری نہیں دی جس کی وجہ سے یہ ترامیم قانون کا حصہ نہیں بن سکی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن منتخب ارکان کے فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات میڈیا کو فراہم کرتا ہے تو انھیں پڑھنے والے عوام ہنستے ہیں اور سر پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اتنے غریب ارکان پارلیمنٹ، وزیر اور وزیر اعظم بھی موجود ہیں جن کے اپنے نام پر کوئی گھر ہے نہ گاڑی اور وہ جس گھر میں رہتے ہیں یا گاڑی استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی نہیں بلکہ بیوی، بیٹوں، بیٹیوں، بھائیوں و عزیزوں کے نام ہیں جنھیں وہ اپنے ذاتی اثاثوں میں ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ ارکان پارلیمنٹ اور منتخب ارکان اسمبلی کی حیثیت سے انھیں حکومت مراعات دیتی ہے جو سرکاری ہوتی ہیں اور ان سرکاری مراعات کا جن میں گھر، گاڑیاں و دیگر سہولتیں ہوتی ہیں ان کا وزیر اعظم، وزیر، مشیر، اسپیکرز، چیئرمین سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کے ارکان بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ہر رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی وزیر و مشیر بننا چاہتا ہے مگر قانونی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی ہر حکومت اپنوں کو نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور وہ اپنے تمام حامیوں کو نہیں نواز سکتی پھر بھی اپنوں کو سرکاری مراعات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے تاکہ کوئی ناراض نہ ہو۔ پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ بلوچستان میں صرف ایک رکن اپوزیشن میں تھا اور باقی تمام ارکان مختلف حیثیتوں میں حکومت میں شامل تھے۔اٹھارہویں ترمیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد سے کابینہ بنے گی مگر پھر بھی اس قانون پر عمل نہیں ہوا۔ ہر حکومت نے اپنوں کو مختلف عہدے دے کر مالی فوائد پہنچائے۔

ایمانداری کے دعویدار پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے جو خود پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے انھوں نے اپنے عزیزوں کو نوازنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی بلکہ غیر ممالک سے بھی اپنے دوستوں کو ہلا کر حکومتی عہدے دیے تھے۔پیپلز پارٹی اپنے حامیوں کو نوازنے کا دیگر پارٹیوں سے زیادہ نوازنے کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم بھی پی پی ارکان نے کرائی تھی تاکہ عوام کو ان کے اثاثوں کا پتا نہ چل سکے۔ سرکاری مراعات تو اثاثوں میں ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے ذاتی دولت گھر، سونا، گاڑیاں، ذاتی اثاثے ہوتے ہیں مگر اکثر ارکان ذاتی اثاثے بھی اپنے ظاہر نہیں کرتے کہ نیب کی پکڑ میں نہ آ جائیں۔ کیسے ممکن ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے پاس اپنا گھر اور گاڑی نہ ہو مگر وہ ظاہر نہیں کیے جاتے اور وہ بھی عوام سے چھپانے کے لیے ترمیم منظور کرائی گئی جس پر آئی ایم ایف نے بھی اعتراض کیا ہے جو بالکل جائز ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے منتخب نمایندے کے پاس کتنا مال تھا اور منتخب ہو کر اس کے پاس کتنا مال آ گیا مگر پوچھنے کا عوام کو حق نہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سندھ میں 12سال گزرنے کے باوجود تھیلیسیمیا ایکٹ پر عمل درآمد نہیں ہوسکا

Published

on



سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ  کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی اج تک نافذ نہیں ہوسکا۔

سندھ اسمبلی نے 2013 میں سندھ پریونیشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا جس کا مقصد سندھ خون کے مرض تھیلیسیمیا کا خاتمہ کرنا تھا، تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، والدین اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو دو یا تین میں سے ایک بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مرض لے کر پیدا ہوتا ہے، اس بیماری میں  تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کو ہر ماہ انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔

تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ یقینی بنایا جائے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ کو نکاح نامہ کے ساتھ منسلک کیا جائے لیکن بدقسمتی 12 سال گزرنے کے باوجود اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔

ملک میں کسی بھی بل یا ایکٹ کو منظور کروانے میں حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں کیونکہ بل کی منظوری کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، حکومت اسمبلی سے بل منظور کروالیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

خیال رہے کہ تھیلیسیمیا کے بل پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی پیدائش اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے بلڈ بینکوں میں خون کی ڈیمانڈ ہولناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سالانہ 24 لاکھ سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہر بچے کو ماہانہ 2خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں 25 ہزار سے زائد بچے اس مرض میں مبتلاہیں، ہرسال 5 ہزار بچے یہ مرض لے پیدا ہو رہے ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ماہ انتقال خون کی ضرورت ہوتی ہے،کراچی میں جناح، سول اور چند ادارے موجود ہیں جو تھیلیسیمیا کے مرض پر کام کررہے ہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں تھیلیسیمیا سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اور اس کے متعلقہ علاقوں سے بھی تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کراچی اپنا علاج کروانے کراچی آتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں ہر ماہ 12سے 15 ہزار تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح صرف سندھ میں ہر ماہ 22سے 25ہزار خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ سالانہ 2 لاکھ 40 ہزار بوتل بنتی ہے۔

سندھ میں بیشتر تھیلیسیمیا سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں اور یہ سینٹر اپنی مدد آپ کے تحت خون کے عطیات کے لیے مختلف کیمپس لگاتے ہیں، خون جمع کرنے کے کیمپس مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں لگائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون کے علاوہ ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ایک تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کی ادویات کا سالانہ خرچہ 2لاکھ 40ہزار جبکہ ٹیسٹ کے 2لاکھ روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تھیلیسیمیا کی صورتحال بہت خراب ہے، حال ہی میں حکومت سندھ نے کچھ تھیلیسیمیا سینٹر کی مدد کرنا شروع کی لیکن یہ ناکافی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ سمیت پاکستان میں سرکاری سطح پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، ملک میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی کوئی نیشنل رجسٹری نہ ہونے کی وجہ سے درست اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

درین اثنا، دیگر طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں تھیلیسیمیا کے حوالے سے کوئی مستند اعدادوشمار موجود نہیں ہیں لیکن 2022 میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 9.8 ملین افراد تھیلیسیمیا کے مرض کا شکار ہیں جو کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی وجہ کزن میرج ہے، سندھ پریوینشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیاایکٹ 2013 کی منظوری میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا تھا جبکہ اس مرض کی جینیٹک کونسلنگ اور تشخیصی سہولیات متعارف کروائی جانی تھی۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے اور اس ٹیسٹ کے نتائج کی رجسٹری بنائی جائے تاکہ صوبے میں اس مرض کے حوالے سے اعداد وشمار مرتب کیے جاسکیں لیکن قانون پر عمل درامد نہ ہونے کی وجہ سے اب تک اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں جس کی وجہ سے تھیلیسیمیا کے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں پر بھی مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ اس مرض کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہے۔

اسی طرح حکومت سندھ نے صوبائی اسمبلی سے سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں منظور کرایا تھا لیکن ابھی تک اس قانون پر بھی عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا اور آج بھی بچوں کے لیے مصنوعی ڈبے کھلے عام فروخت کیے جارہے ہیں۔

صوبائی اسمبلی سے منظورشدہ سندھ پروٹیکشن اینڈپروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 میں واضح طور پر  کہا گیا ہے کہ صوبے کے تمام میڈیکل اسٹوروں پر بچوں کے لیے مصنوعی دودھ ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت نہیں کیے جاسکے گا، اگر کوئی ڈاکٹر کسی بچے کو غیر ضروری طور پر مصنوعی دودھ تجویز کرتا ہے تو اس ڈاکٹر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی سزا دی جائے گی۔

قانون کے مطابق اسپتالوں میں مصنوعی دودھ کے تشہیر پر پابندی عائد کی گئی ہے، اگر نوزائیدہ کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصنوعی دودھ دیا گیا تو اسپتال میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر چند دن کے لیے یہ دودھ دیا جاسکتا ہے، اس قاںو ون کا مقصد بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کو فروغ دینا اور بریسٹ فیڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

قومی ادارہ برائے اطفال برائے صحت کے سابق ڈائریکٹر اور نیونیٹل چائلڈ انسٹیٹوٹ کے سربراہ  ماہر امراض اطفال پروفیسر جمال رضا، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے صدر پروفیسر وسیم جمالوی اور ڈاکٹر خالد شفیع نے بتایا کہ پاکستان میں ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی شرح 48 فیصد ہے جبکہ 52 فیصد مائیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ نہیں کراتیں جس کی وجہ انہیں وہ تمام غذائیت نہیں ملتی جو کہ بریسٹ فیڈنگ سے ملتی ہے اور نہ ہی بچوں میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ کرتا ہے، مصنوعی دودھ پینے کی وجہ سے بچے کم عمری میں خسرہ، اسہال، نمونیہ، ٹائیفائیڈ سمیت مختلف انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمارے ملک میں بیشتر مائیں مصنوعی یا فارمولا ملک کو ترجیحی دیتی ہیں، مارکیٹ میں ملنے والے مصنوعی دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کم عمری میں بچے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت فارمولا دودھ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئیں ہیں، مصنوعی دودھ کو فروغ دینے والے ڈاکٹروں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا ہوگی، اس کے علاوہ، اسپتالوں اور کلینکس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات یا پروموشنل مواد کا ڈسپلے نہیں کیا جائے گا۔

مزید بتایا کہ فارمولا دودھ صرف ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہنگامی استعمال کے لیے اجازت دی جائے گی اور ایسے معاملات میں بھی، یہ محدود وقت کے لیے استعمال کرایا جائے گا، یہ قانون سندھ میں بچوں کی صحت کی بہتری اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس میں تعمیل کو یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں عمل درآمد یقینی بنانے اور ماں کے دودھ کی اہمیت وافادیت کے بارے میں فریم ورک دیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

حیرت سے دریافت تک – ایکسپریس اردو

Published

on


انسانی تاریخ کے طویل اور پُرپیچ سفر میں اگر کسی ایک جذبے کو تخلیق، دریافت اور فہمِ کائنات کی بنیاد کہا جائے تو وہ حیرت و تجسس ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن کا یہ قول محض ایک فلسفیانہ جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ حیرت وہ پہلا دروازہ ہے جو انسان کے باطن میں کھلتا ہے، اور تجسس وہ چراغ ہے جو اس دروازے کے پار اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو غاروں کی دیواروں پر لکیریں کھینچنے سے لے کر کہکشاؤں کے اسرار سمجھنے تک لے آیا۔ اگر انسان اشیاءکو دیکھ کر چونکنا چھوڑ دے، سوال کرنا ترک کردے اور نامعلوم کو قبول کرنے کی خواہش کھو بیٹھے تو نہ فن باقی رہتا ہے نہ سائنس، نہ فکر زندہ رہتی ہے نہ تہذیب۔

حیرت دراصل جمود کے خلاف پہلی بغاوت ہے۔ جب انسان کسی منظر، کسی حقیقت یا کسی سوال کے سامنے رک کر یہ کہتا ہے کہ ”یہ ایسا کیوں ہے؟“ تو وہ لمحہ محض سوال نہیں ہوتا بلکہ ایک تخلیقی ارتعاش ہوتا ہے۔ یہی ارتعاش شاعر کے دل میں استعارہ بن جاتا ہے، مصور کے ہاتھ میں رنگوں کی صورت اختیار کرتا ہے اور سائنس دان کے ذہن میں نظریے کی شکل لے لیتا ہے۔ حیرت انسان کو معمول سے غیر معمول کی طرف لے جاتی ہے، اور تجسس اسے غیرمعمول کو سمجھنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ آئن اسٹائن اسی لیے اس جذبے کو حقیقی فن اور حقیقی سائنس کا گہوارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ جہاں حیرت ختم ہو جائے وہاں تحقیق محض مشق رہ جاتی ہے اور فن صرف نقل۔

سائنس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑی دریافت محض معلومات کے انبار سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک سادہ مگر گہرا سوال اس کے پیچھے کارفرما تھا۔ نیوٹن کے ذہن میں گرتا ہوا سیب اس لیے معنی خیز بنا کہ اس نے اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس پر حیران ہوا۔ اسی حیرت نے کششِ ثقل کے قانون کی بنیاد رکھی۔ آئن اسٹائن خود اگر وقت اور مکان کو جامد حقیقت مان لیتے تو اضافیت کا تصور کبھی جنم نہ لیتا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حساب کیسے کیا جائے، اصل سوال یہ تھا کہ کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ یہی حیرت سائنس کو زندہ رکھتی ہے اور اسے محض تکنیکی ہنر بننے سے بچاتی ہے۔

فن کی دنیا میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ عظیم فن پارے اس وقت تخلیق ہوتے ہیں جب فن کار کسی عام تجربے میں غیرمعمولی معنویت دریافت کرلیتا ہے۔ ایک شاعر کے لیے شام کا ڈھلنا صرف سورج کا غروب نہیں ہوتا بلکہ وقت کے زوال، جدائی کے دکھ یا امید کے چراغ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ سب حیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو فن کار دنیا کو دیکھ کر چونکتا نہیں، جو منظر کے پیچھے چھپی معنویت پر ٹھٹک کر نہیں رکتا، اس کا فن محض سجاوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقی فن وہ ہے جو دیکھنے والے کے اندر بھی سوال پیدا کرے، اسے سوچنے پر مجبور کرے اور اس کے شعور میں ارتعاش پیدا کرے۔

جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی نے حیرت کو دبا دیا ہے۔ ہر سوال کا فوری جواب، ہر مسئلے کا تیار حل اور ہر شے کی فوری تشریح انسان کو مطمئن تو کردیتی ہے مگر متجسس نہیں رہنے دیتی۔ ہم جاننے لگے ہیں مگر سوچنا بھول گئے ہیں۔ سرچ انجن ہمیں معلومات دیتے ہیں مگر حیرت کا ذائقہ نہیں چکھاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ علم بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے، ڈیٹا جمع ہو رہا ہے مگر بصیرت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا قول اس تناظر میں ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر ہم نے حیرت کے جذبے کو زندہ نہ رکھا تو سائنس محض صنعت بن جائے گی اور فن محض تفریح۔

تعلیم کا مقصد بھی دراصل اسی جذبے کی آبیاری ہونا چاہیے۔ وہ نظامِ تعلیم جو بچوں کو سوال کرنے سے روکے، حیران ہونے پر شرمندہ کرے اور صرف درست جواب یاد کروانے پر زور دے، وہ ذہن نہیں بناتا بلکہ فائلیں تیار کرتا ہے۔ ایک زندہ ذہن وہ ہے جو سوال اٹھاتا ہے، شبہ کرتا ہے اور تلاش کے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ استاد کا اصل کام معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ حیرت جگانا ہے۔ جب طالب علم کے اندر “کیوں” اور “کیسے” کا سوال زندہ ہو جائے تو علم خود اس کی طرف چل کر آتا ہے۔

حیرت و تجسس محض سائنسی یا فنی دائرے تک محدود نہیں بلکہ انسانی اخلاق اور روحانیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کائنات پر غور، زندگی کے مقصد پر سوال اور وجود کے اسرار پر سوچ ہی انسان کو سطحی زندگی سے بلند کرتی ہے۔ جو شخص کائنات کو ایک مشینی تماشا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے وہ جلد بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے، مگر جو شخص اس میں معنی تلاش کرتا ہے وہ شکر، عاجزی اور ذمے داری کے احساس تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے فکر و روحانیت میں بھی غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔

آئن اسٹائن خود مذہبی عقائد کے روایتی سانچوں میں مقید نہیں تھے مگر کائنات کے حسن اور ترتیب کے سامنے ان کی حیرت عمیق تھی۔ وہ جانتے تھے کہ علم جتنا بڑھتا ہے، اسرار اتنے ہی گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے مسلسل طالبِ علم بنائے رکھتا ہے۔ حقیقی سائنس دان وہی ہے جو جاننے کے باوجود یہ مانتا ہے کہ وہ بہت کچھ نہیں جانتا، اور یہی اعترافِ لاعلمی اسے مزید تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیرت و تجسس انسانی روح کی سانس ہیں۔ جب یہ سانس رک جائے تو فکر گھٹنے لگتی ہے، تخلیق مرجھا جاتی ہے اور علم جامد ہو جاتا ہے۔ آئن اسٹائن کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا کم زوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے، اور حیران ہونا نادانی نہیں بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہمیں حقیقی فن اور حقیقی سائنس کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنے اندر اس بچے کو زندہ رکھنا ہوگا جو آسمان دیکھ کر سوال کرتا ہے، ستاروں کو گنتا ہے اور کائنات کے حسن پر خاموشی سے چونک جاتا ہے۔ یہی چونکنا انسان کو انسان بناتا ہے، اور یہی جذبہ اسے آگے بڑھنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلیے منفرد مثال قائم کر دی

Published

on



پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلٸے منفرد مثال قائم کر دی ، اپنے الاؤنسز ابھرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو دینے کا اعلان کر دیا۔

 پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی نے کانگریس اجلاس میں شرکت کا اپنا الاؤنس پاکستان انڈر 20 ٹیم کے کھلاڑی محمد عبداللہ کو دے دیا۔ انہوں نے یہ انعام اسلام آباد میں جاری ساف انڈر 20فٹبال چیمپین شپ کی تیاری کے موقع پر محمد عبداللہ کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہوے دیا۔

واضح رہے کہ محمد عبداللہ ساف انڈر 17 چیمپئن شپ میں پاکستان کے لیے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے چھ گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے تھے۔

محسن گیلانی کا اس موقع پر کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف فیڈریشن کے صدر نہیں بلکہ تمام کھلاڑیوں کے بھی صدر ہیں اور ہر باصلاحیت کھلاڑی کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔امید ہے کھلاڑی ملک کا نام روشن کرینگے۔

دوسری جانب پاکستان انڈر 20 فٹبال ٹیم ساف انڈر 20 چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے 21 مارچ کو مالدیپ روانہ ہوگی جہاں گروپ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت اور بنگلا دیش سے ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Trending