Connect with us

Today News

استقبال ماہ رحمت، برکت و مغفرت

Published

on


رمضان المبارک، رحمٰن کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا آسمان، بے پایاں رحمت کا سائبان اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر حقیقت کھل جائے اور اس کی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جائے جو فرشتوں کی آمد و رفت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ دم بہ خود رہ جائے اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے۔ اس کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کی آمد ہوتی ہے۔ چار سُو نور کا سماں ہوتا ہے، فضا پُرسکون، اور موسم میں سرور نظر آتا ہے۔

آسمانوں سے رحمتوں کی چھما چھم بارش، مقرب ملائکہ کا نزول، گناہ گاروں کے لیے جہنم سے نجات کے پروانے، نیکو کاروں کے لیے درجات میں بلندی کی خوش خبری، سحر و افطار کی بابرکت گھڑیاں، دعاؤں کی قبولیت کے اشارے، تراویح کی راحتیں، نماز تہجد کی لذتیں، تلاوت قرآن سے فضاؤں کا معطر ہونا، حمد باری تعالی اور نعت مصطفی ﷺ کی ہر طرف گونج، روزہ داروں کے پُرنور چہرے، مساجد کا مسلمانوں سے بھر جانا، کثرت سے صدقات و خیرا ت کی تقسیم، عبادت میں خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔

یہ کیفیتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں یقیناً کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، کریم رسول ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔ وہ مہینہ جس کا ہر لمحہ برکتوں والا، جسے اﷲ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی اس ماہ مقدس کی فضیلت کے بار ے میں بتایا ہے: جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پا بہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔

’’جو شخص بہ حالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘ مزید فرمایا: یہ ایک مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصہ رحمت، اور درمیانی حصہ مغفرت کے لیے ہے اور تیسرے حصہ میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ ﷺ فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ غور کرنے کی بات ہے جب کوئی بہت ہی عزیز مہمان ہمارے گھر آرہا ہو تو دل کی کیفیت عجیب ہوتی ہے، انتہائی خوشی اور بے قراری سے مہمان کی آمد کا انتظار رہتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ آنے والا کوئی نہایت خاص مہمان ہے۔

اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے اس ماہ کی آمد کو اپنی زندگی کے لیے خوش نصیبی تصور کر ے۔ اور شکر ادا کرے کے رب تعالیٰ نے اسے ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے، ایک بار پھر اپنے رب کو راضی کرلے، جو لوگ اس ماہ رمضان کی برکات و ثمرات سے اپنی جھولی کو نہ بھر سکے، اور اس کی فضیلت و اہمیت کو نہ سمجھ سکے، اور اپنی عبادات سے اپنے رب کو راضی نہ کرسکے وہ بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہوگی؟ اس ماہ مقدس کی بہ دولت ہم سب پر کچھ ذمے داریاں عاید ہوتی ہیں، تاکہ اس ماہ میں نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے خوب لطف اندوز ہوسکیں۔

طہارت کا خاص اہتمام

ہمارے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق تو صفائی ویسے بھی ایمان کا حصہ ہے، لہذا رمضان المبارک میں کیوں کہ عبادات کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے لہذا اپنے جسم اور لباس کو پاک صاف رکھنے کی کوشش کرے، گندگی اور ناپاک چھینٹوں سے خود کو بچائیں، باوضو رہنے کی کوشش کریں، حالت جنابت میں فی الفور غسل کریں تاکہ روزے کے ثمرات مکمل طور پر حاصل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ گھر کو بھی پاک صاف رکھنا ضروری ہے۔ خوشبو عطر وغیرہ کا استعمال کریں۔

نماز باجماعت ادا کرنا

جیسا کہ رمضان میں ہر نیکی کا اجر ستّر گنا زیادہ کردیا جاتا ہے، عام طور پر با جماعت نماز ادا کرنے پر پچیس، پچاس اور کچھ روایات کے مطابق ستر گنا زیادہ اجر دیا جاتا ہے، تو پھر رمضان میں تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ہوگا لہذا ہمیں چاہیے کہ رمضان میں خاص طور پر مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام کریں۔

قرآن کریم اور وظائف، کا پڑھنا

عام دنوں میں قرآن کریم کے ایک حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جب کہ رمضان المبارک میں ایک نیکی کا بدلہ ستّر گنا دیا جاتا ہے، لہذا فضول کاموں میں وقت ضایع کرنے کے بہ جائے قرآن کریم کم از کم دو یا تین مرتبہ ختم کریں، ایک مرتبہ تفسیر کے ساتھ پڑھیں تو اور بھی بہتر ہے، دیگر وظائف، دعاؤں میں دل لگائیں۔ اس کے علاوہ رمضان اور روزوں کے متعلق مسائل کا مطالعہ کریں، سیر ت طیبہ اور اسلامی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کریں۔ ایک روایت کے مطابق روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندۂ مومن کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: اے اﷲ تعالیٰ دن کے وقت میں نے اس کو کھانے اور شہوت سے روکے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے جگائے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ پس دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔

سحری و افطاری کا اہتمام کرنا

سحری کرنا مستحب ہے لہذا سستی کی وجہ سے اس کو نہ چھوڑیں، سحری و افطاری دعا کی قبولیت کے اوقات میں شامل ہیں، لہٰذا سحری و افطاری سے کچھ وقت پہلے اپنے لیے، والدین اور اہل و عیال، تمام امت مسلمہ کے لیے خاص دعا کریں، اپنے روزے اور عبادات کی قبولیت کے لیے دعا کریں۔

نیکی کے کاموں میں رغبت اختیار کرنا

کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑیں، اپنے ہر کام کو سنت ِ رسول کریم ﷺ کے مطابق کرنے کی کوشش کریں، نیکی کی دعوت کو عام کریں اور بڑھ چڑھ کر نیکی کے کاموں میں حصہ لیں، خود بھی برائیوں سے بچیں اور اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کی کوشش کریں۔

نماز تراویح کی پابندی

تراویح اس ماہ کی خاص عبادت ہے، لہذا کوشش کریں نماز تراویح کو مسجد میں با جماعت ادا کریں اور پورا قرآن سننے کی سعادت حاصل کریں۔

فضول کاموں ، جھگڑوں اور فضول گوئی، جھوٹ سے بچنا

رمضان المبارک کی ہر ایک ساعت کو قیمتی سمجھے، اس کی ہر ساعت میں ہزاروں لوگ بخش دیے جاتے ہیں، اور لاکھوں لوگوں کو جہنم سے نجات مل جاتی ہے، فحش الفاظ سننے اور سنانے سے بچیں، گانے، فلمیں دیکھنے سے بچیں، غیبت، چغلی، تہمت لگانے سے پرہیز کریں اور بُری عادت سے سچے دل سے توبہ کریں، اور جو لوگ ایسے کریں تو ان کو اچھے انداز میں سمجھائیں اور اس ماہ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔

تاکہ وہ بھی اس رحمت والے مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے میں کام یاب ہوجائیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: جو شخص (بہ حالت روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر (برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو ا تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔

اعتکاف

اگر ممکن ہو تو اعتکاف کے لیے وقت نکالیں، اعتکاف کے دوران دنیاوی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں، اعتکاف کی صورت میں دوستوں احباب سے ملاقات سے گریز کریں، موبائل فون کا ہرگز استعمال نہ کریں، زیادہ وقت عبادات میں گزاریں۔

طاق راتوں میں عبادت کرنا

شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ طلوع فجر تک اس میں انوار و ملائک کا نزول ہوتا رہتا ہے، اگر اعتکاف نہ بھی کریں تب بھی طاق راتوں میں عبادات کا خاص اہتمام کریں، زیادہ تر وقت مسجد میں گزاریں، اس رات کروڑوں گناہ گاروں کی بخشش کردی جاتی ہے، عمل و ریاضت کے شیدائیوں کے لیے شب قدر خاص اہمیت و کشش رکھتی ہے کیوں کہ اس میں انتہائی مختصر وقت میں حیرت انگیز حد تک زیادہ سے زیادہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔

چاند رات سے متعلق چند باتیں

عیدالفطر کی رات کو حدیث میں ’’لیلتہ الجائزہ‘‘ یعنی انعام کی رات فرمایا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے، مفہوم: ’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذوالحجہ، نو ذوالحجہ۔ (یعنی عید الاضحیٰ)۔ دس ذوالحجہ۔ عیدالفطر۔ اور پندرہ شعبان کی رات۔ (شبِ برات)۔‘‘ شیطان کو چوں کہ معلوم ہوتا ہے کہ چاند رات انتہائی فضیلت والی رات ہے اس لیے اس کی فضیلت سے محروم کرنے کے لیے اس نے یہ راستہ نکالا ہے کہ لوگوں کو اس رات مختلف قسم کے گناہوں میں مبتلا کردیتا ہے، چاند نظر آتے ہی ہر طرف خرافات کا ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے۔ ہوشیار رہیے! یہ شیطان کا وہ جال ہے جس میں ہر شخص بہ آسانی پھنس کر اپنا اجر گنوا دیتا ہے۔

ان فتنوں سے جس طرح رمضان میں احتیاط کی، رمضان کے بعد بھی اجتناب کریں۔ اس رات کو اﷲ کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں عطا کی جاتی ہیں، لیکن ہم بے خبر ہوجاتے ہیں اور حاصل کرنے والے انعامات ضایع کرنے کے درپے ہوتے ہیں، لہذا ہمیں اس رات بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا، بورڈ آف پیس کا افتتاح آج ہو گا، غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے 5 ارب ڈالر فنڈ کے اعلان کا امکان

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج واشنگٹن میں اپنے نام نہاد بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں غزہ کی تعمیرِ نو، حکمت عملی اور مالی وسائل کے اعلان پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں دنیا بھر سے مدعو کیے گئے ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ طور پر 50 ممالک کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اب تک 35 رہنماؤں نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ 26 ممالک باضابطہ طور پر شامل ہو کر بانی اراکین قرار پائے ہیں۔ کم از کم 14 ممالک نے دعوت مسترد کر دی ہے۔

افتتاحی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا غزہ کی تعمیرِ نو کا جامع منصوبہ ہے۔ غزہ کی پٹی گزشتہ مہینوں کی شدید جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہو چکی ہے، جس کے بعد انسانی بحران نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔

امریکی انتظامیہ سفارتی سطح پر جنگ بندی اور بحالی کے اقدامات پر زور دے رہی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکا غزہ کی انسانی ہمدردی اور تعمیرِ نو کی کوششوں کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر 5 ارب ڈالر کے فنڈ کے قیام کا اعلان کرے گا۔

اس کے علاوہ ایک مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس سے متعلق تفصیلات بھی سامنے آ سکتی ہیں، جو غزہ میں سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے تعینات کی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے

Published

on



واشنگٹن:

وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شریک ہوں گے جہاں غزہ کی موجودہ صورتحال اور قیامِ امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی موجود ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم کی امریکی قیادت اور دیگر شریک عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

تفتان میں گیس باؤزر میں دھماکے سے خوفناک آگ بھڑک اٹھی، 4 افراد جھلس گئے

Published

on



تفتان:

بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں ہولناک آتشزدگی اور دھماکے نے پورے علاقے کو لرزا کر رکھ دیا۔

تفتان بازار میں کھڑے ایل پی جی گیس باؤزر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرگئی، اور ریسکیو آپریشن کے دوران باؤزر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے بعد آگ نے قریبی علاقے اور گیس پلانٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آگ کے بلند شعلے کئی کلومیٹر دور سے دکھائی دے رہے تھے، جس سے بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر تفتان موقع پر پہنچ گئے جبکہ فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں۔

تاہم آگ کی شدت کے باعث فائربریگیڈ کے چار اہلکار، جن میں دو رضاکار بھی شامل ہیں، جھلس کر زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ایک شخص کو تشویشناک حالت میں نوکنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کو بھی آگ کی شدت کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ محفوظ رہے۔

واقعے کے باعث بڑے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

پولیس اور امدادی ادارے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending