Today News
اسرائیلی وزیراعظم کی ایران کی نئی قیادت کو قتل کی دھمکی؛ مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ پر پابندی
اسرائیل نے آج مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے اور یوم القدس منانے کے لیے ریلی نکالنے پر پابندی عائد کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے یہ پابندی سکیورٹی خدشات کے باعث عائد کی اور صرف چند بزرگ فلسطینوں کو نماز کے لیے بیت المقدس میں داخل ہونے دیا۔
جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان فلسطینیوں نے مسجد الاقصیٰ کے باہر نماز جمعہ ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔ جن کے ساتھ خواتین کی بھی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
تاہم اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے اطراف بھی سخت پابندیاں عائد کر دیں تاکہ نماز کے بعد شرکا القدس ریلی نہ نکال سکیں۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاوہو نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں قیادت تبدیل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تاہم انھوں نے ایران کی نئی ایرانی قیادت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر اور حزب اللہ کے رہنما کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے لیکن حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ بالآخر ایرانی عوام کو کرنا ہوگا۔
Today News
جنگ اور نسل کشی سستا کھیل نہیں رہا
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کیوں کرتا ہے مگر تاریخ پڑھنے سے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ جب کسی ہوس زدہ ذہنیت کی حامل ریاست کے برے دن آتے ہیں تو وہ ایک پنگے سے ابھی باہر نہیں نکلتی کہ ایک اور مہنگا والا خرید لیتی ہے۔ اسرائیل کا بھی یہی معاملہ ہے۔غزہ سے ہاتھ نہیں بھرے اور جنوبی شام اور لبنان میں گھس گیا اور اب اپنے منہ کے سائز سے بھی دوگنا ایرانی نوالہ حلق میں پھنسا لیا ہے۔امریکا کا تو ایرانی جنگ میں دو ارب ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا ہے جو وہ وینزویلا کا تیل بیچ کر پورا کر لے گا۔جنگ طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کیا کرے گا جس سے اب تک غزہ کی نسل کشی کا خرچہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔
مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ان دنوں نسل کشی بھی آسان نہیں رہی۔چنانچہ اگر کسی ملک کو کسی ہمسائے کی نسل کشی کے لیے دو برس میں پچھتر ہزار سے ایک لاکھ لوگ اسلحے اور محاصرے سے مارنے ہوں ، مزید دو لاکھ زخمی یا اپاہج کرنے ہوں اور تمام شہری و زرعی املاک کو صفحہِ ہستی سے بھی مٹانا ہو تو کتنا پیسہ اور وسائل صرف ہوں گے ؟
بینک آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل غزہ کی مہم جوئی پر ایک سو بارہ بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے ستتر بلین ڈالر جنگ پر خرچ ہوئے اور ساڑھے دس ارب ڈالر ان شہریوں کی املاک کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے پر صرف ہوئے ہیں جنہوں نے بطور ریزرو اپنے روزمرہ کاموں سے چھٹی لے کر غزہ میں ’’ خدمات‘‘ انجام دی ہیں۔ دفاع سے جڑی سویلین مدوں میں اٹھارہ ارب ڈالر لگے ہیں جب کہ جنگی اخراجات کے لیے جو قرضہ لیا گیا اس پر اب تک چھ ارب ڈالر سود ادا کیا گیا ہے۔
عسکری معیشت کے امور سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مشیر جل پنچاس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل جیب سے اس جنگ پر فروری دو ہزار پچیس تک اڑتالیس ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ یعنی چھیانوے ملین ڈالر روزانہ۔فلسطینیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے کمیشنر فلیپے لازارانی کے بقول روزانہ اوسطاً ایک سو فلسطینی اس عرصے میں قتل ہوئے۔
جل پنچاس کا کہنا ہے کہ غزہ پر جو اسلحہ اور گولہ بارود اس عرصے میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا اس کی مالیت ایک سو آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔اس میں سے زیادہ تر پیسہ مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ملا۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا اندازہ ہے کہ ایران سے گذشتہ برس جون میں بارہ دن کی لڑائی میں اسرائیل کو دو ارب ڈالر روزانہ صرف کرنے پڑے۔جب کہ دوران ِ جنگ کئی دن ایسے بھی آئے جب خرچہ چار ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ گیا کیونکہ ایرانی حملے کے لیے جو ہمہ اقسام میزائیل شکن میزائیل استعمال کیے گئے ان میں سے ہر ایک کی لاگت سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں حزب اللہ کے خلاف بھر پور جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے حزب اللہ اور لبنانی شہریوں کے زیراستعمال تقریباً چودہ ہزار پیجرز تباہ کیے۔اس مہم پر تین سو اٹھارہ ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔
اسرائیل کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور اسے چار لاکھ پینسٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔( اسرائیل میں چالیس برس تک کی عمر کے ہر زن و مرد کو دو سے تین برس لازمی فوجی خدمت انجام دینا پڑتی ہے )۔ تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو پہلے سال کے دوران غزہ میں تعینات کیا گیا۔ گذشتہ سوا دو برس میں ان ریزرو فوجیوں پر ساڑھے بائیس ارب ڈالر اور باقاعدہ فوج پر دو ہزار پچیس کے پہلے دس ماہ میں پانچ ارب ڈالر صرف ہوئے۔
بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایک ریزرو فوجی پر اس کے اصل کام کے پیداواری گھنٹے ضایع ہونے کی لاگت سمیت ایک ماہ میں بارہ ہزار ایک سو ڈالر کا خرچہ ہے۔ ایران پر تازہ حملے سے قبل اسرائیل کے سرکردہ لبرل اخبار ہاریتز کا تبصرہ تھا کہ مہم جویانہ اخراجات دن بدن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آیندہ اسرائیل کو ایک نئی جنگ چھیڑ کر اسے مختصر وقت میں نمٹانے کے لیے کم ازکم ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرنا ہو گا۔
امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی جنگی لاگت سے متعلق رپورٹ کے مطابق امریکا نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اسرائیل کو بائیس ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی۔جب کہ اسرائیل کی محبت میں امریکا نے اس عرصے میں یمن اور ایران سمیت متعدد علاقائی ممالک میں جو عسکری کارروائیاں کیں ان پر مجموعی لاگت کا اندازہ تیرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔یعنی اگر اسرائیل کو براہِ راست فوجی امداد اور اسرائیل کی خاطر اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک کی امریکی دفاعی کارروائیوں کا مجموعی خرچہ دیکھا جائے تو امریکی ٹیکس دھندگان کی کم ازکم چونتیس ارب ڈالر کی کمائی ان لاحاصل جنگوں میں جھونک دی گئی۔
اتنے پیسے لگا کر اسرائیل اور امریکا نے جس طرح غزہ کے انفراسٹرکچر کو حرفِ غلط سمجھ کے مٹایا ہے۔اس کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کم از کم ستر ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو عمارتی ڈھانچے بظاہر اب بھی کھڑے ہیں۔ان کی اندرونی چوٹیں اس قدر شدید ہیں کہ شائد ہی کوئی ڈھانچہ ایسا ہو جسے گرا کر دوبارہ تعمیر نہ کرنا پڑے۔
تب تک غزہ کی پوری آبادی ( تئیس لاکھ ) کو کثیر سمتی روزمرہ شدید انسانی مصائب سے گذرنا پڑے گا۔ان مصائب میں صاف پانی کی عدم دستیابی ، تعلیمی سہولتوں کا فقدان ، نقل و حرکت کا محدود ہونا ، اس کے نتیجے میں کم از کم پچاس فیصد بے روزگاری اور تین چوتھائی کنبوں کی بے گھری اور ناکافی غذائیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔اب تو ایران سے جنگ کے سبب میڈیا کے تھوڑے بہت کیمرے بھی غزہ سے ہٹ گئے ہیں۔لہذا وہاں کے انسانی مصائب کو غیر معینہ ہی سمجھئے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
کفایت شعاری اور سادگی عارضی کیوں؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت میں جب پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو پارٹی کے جذباتی نوجوان میڈیا پر بیان دیتے تھے کہ ہم پانچ سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گے۔
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر وزیر اعظم، وفاقی وزرا، ملک کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے تمام وزیروں کو بھی تنخواہیں اور سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ سیاسی اہمیت رکھنے والے تمام وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور ان کے وزیروں مشیروں میں کوئی غریب ہے نہ کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہونے کی مالیت حیثیت رکھتے ہیں ، جب کہ سینیٹروں کو منتخب ہونے کے لیے واقعی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے مگر وہ اکثریت میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے منتخب ہو جاتے ہیں۔سینیٹروں اور ارکان اسمبلی میں وہ تمام اربوں نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہیں اور ان میں کوئی بھی مرحوم عبدالستار ایدھی نہیں جو وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد بس سے جایا کرتے تھے اور ایدھی ٹرسٹ کی گاڑی بھی استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔
ملک میں شاید ہی کوئی ملک معراج خالد جیسا وزیر اعظم نہیں رہا جو کرائے کے گھر میں رہتا رہا ہو اور عام آدمی ہو۔پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
کفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ اس ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔
Today News
ادبی اداروں کی خود مختاری
حکومت بلوچستان نے بلوچستان کی چاروں زبانوں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیزکی خود مختاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان کی چار زبانوں کی اکیڈمیز میں اصلاحات کے لیے محکمہ کلچرل ٹوارزم اور آرکائیو کے سیکریٹری کی قیادت میں 21 جولائی 2026ء کو ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی۔
اس کمیٹی کی سفارشات کو بلوچستان کی کابینہ نے منظورکیا۔ ان سفارشات کے تحت Balochistan Regional Languages Academies and Literary Society Act 2025 کی منظوری دی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت ان اکیڈمیز کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے گا۔ اس بورڈ کے سربراہ وزیر تعلیم ہونگے۔ بورڈ کے وائس چیئرمین سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ہونگے۔
اس بورڈ کے اراکین میں سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، سیکریٹری فنانس اور سیکریٹری کلچرل ڈپارٹمنٹ شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی کی زبانوں بلوچی، براہوی، ہزارگی اور پشتو کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی بورڈ کے رکن ہونگے۔ اس بورڈ میں چاروں اکیڈمیز کے چیئرمینز کو بھی شامل کیا گیا۔ اس بورڈ میں ہر زبان کا ایک ایک ماہر بھی شامل ہوگا۔ اب یہ بورڈ ان اکیڈمیز کے انتظامات کے بارے میں تمام فیصلوں کا مجاز ہوگا۔ یوں چاروں زبانوں کی اکیڈمیز کی پہلے والی خود مختاری باقی نہیں رہے گی۔
بلوچستان کی سرزمین صدیوں سے لسانی اور ثقافتی تنوع کی امین رہی ہے۔ یہاں بولی جانے والی زبانیں، بلوچی، پشتو، براہوی، جدگالی اور ہزارہ کمیونٹی کی زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تاریخ، شناخت اور اجتماعی شعورکی علامت ہیں۔ انھی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے قائم ادبی و تحقیقی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ایسے میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ’’ بلوچستان ریجنل لینگوئجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائیٹیز بل 2025‘‘ نے ادبی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔
حال ہی میں کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کے زیر اہتمام ادبی و لسانی اداروں کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین ہیبتان عمر نے کی۔ اجلاس میں پشتو اکیڈمی، براہوی اکیڈمی اور ہزارگی اکیڈمی سمیت دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ بل ادبی اداروں کی خود مختاری سلب کرکے انھیں محکمہ کلچر اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے زیرِ انتظام لانے کی کوشش ہے۔ ادبی ادارے صرف سرکاری دفاتر نہیں ہوتے، وہ فکری آزادی اور تخلیقی اظہار کے مراکز ہوتے ہیں۔ ان اداروں کی اصل قوت ان کی خود مختاری میں مضمر ہے، جو انھیں سرکاری دباؤ یا بیوروکریٹک رکاوٹوں سے آزاد رکھتی ہے۔
یہی آزادی انھیں زبانوں کی تحقیق، لغت سازی، نصابی معاونت، کلاسیکی ادب کی اشاعت اور نئی نسل کی تربیت کے لیے فعال بناتی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ بل نہ صرف ادبی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کرے گا بلکہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کی روح کے بھی منافی ہے، جس کے تحت یہ ادارے بطور خود مختار تنظیمیں کام کر رہے ہیں۔ چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر حافظ رحمت نیازی نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا آئین ہر قوم کو اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
ایسے میں بغیر مشاورت کوئی قانون سازی جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ اداروں کو سرکاری نظم و نسق میں لا کر مالی اور انتظامی شفافیت بہتر بنائی جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کا تجربہ اس دعوے کی تائید کرتا ہے؟ محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام بلوچستان آرٹ کونسل کی غیر فعالیت اور تعلیمی شعبے کی موجودہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ محض سرکاری تحویل مسائل کا حل نہیں۔ براہوی اکیڈمی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سوسن براہوی نے بجا طور پر کہا کہ جب محکمہ تعلیم اور ثقافت سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صوبے میں تعلیمی پسماندگی ختم نہ کر سکے تو ادبی اداروں کو سرکاری بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنا ان کی کارکردگی کو مزید سست کر سکتا ہے۔
بلوچستان میں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں، ایسے میں زبانوں کی ترقی کا بوجھ بھی انھی محکموں پر ڈال دینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں زبان محض ثقافتی موضوع نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حساسیت بھی رکھتی ہے۔ یہاں کی زبانیں طویل عرصے تک قومی بیانیے میں حاشیے پر رہی ہیں۔ ادبی اداروں نے اسی خلا کو پُرکرنے کے لیے شبانہ روز محنت کی ہے۔
لغات کی تیاری،کلاسیکی شعرا کی تدوین، جدید ادب کی اشاعت اور نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی، یہ سب کام بیوروکریٹک فائلوں کے بجائے فکری جذبے سے ہوتے ہیں۔ بلوچستان مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ بدامنی کی صورتحال ختم ہوتی نظر نہیںآتی۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں۔ بلوچ طلبہ اپنے کیریئر کو بنانے کے لیے پنجاب کے تعلیمی اداروں کی طرف بھی آتے ہیں۔ بلوچ طلبہ میں کیریئر بنانے کا رجحان بلوچستان کے مخصوص حالات میں ایک دیے کی روشنی کی طرح ہے۔ اربابِ اختیار ان طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کر کے امید کے اس دیے کو روشنی کے میناروں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ادبی اداروں میں تخلیقی علم اس وقت پروان چڑھا ہے جب ادارے ریاستی کنٹرول سے آزاد ہوتے ہیں۔
ادبی اداروں کے ریاستی کنٹرول میں آنے کا مطلب تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے دورِ اقتدار میں رائٹرزگلڈ کا قیام عمل میں آیا مگر جب رائٹرز گلڈ مکمل طور پر سرکاری ہوئی تو اس ادارہ کا کردار ختم ہوگیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اردو اور اردو ڈکشنری بورڈ وغیرہ بیوروکریسی کے کنٹرول میں آنے کے بعد ایسے حقیقی خوف سے دور ہوگئے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ بلوچستان کے ادبی اداروں کی خود مختاری کو برقرار رکھا جائے جب کہ وفاقی اور بلوچستان کی حکومت ان اداروں کو مالیاتی امداد فراہم کرتی رہے، اگر ان اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تو خدشہ ہے کہ تخلیقی سرگرمیاں روایتی سرکاری طریقہ کارکی نذر ہو جائیں گی۔ فن اور ادب کی دنیا میں حکم نامے نہیں، مکالمہ اور تخلیقیت چلتی ہے۔
سرکاری ڈھانچے میں شامل ہونے کے بعد بجٹ، تقرریوں اور پالیسیوں پر سیاسی اثر و رسوخ کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جو ادبی آزادی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ادیبوں کے اس مشترکہ اجلاس کے شرکاء کا بنیادی اعتراض یہی تھا کہ بل کی تیاری میں متعلقہ اداروں سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک ایسا قانون جو براہ راست ادبی و لسانی تنظیموں کو متاثرکرے، اس کی تشکیل میں انھی اداروں کو شامل نہ کرنا، جمہوری روح کے منافی ہے۔ ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی زبانوں کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے اداروں کو مضبوط کرنے، مالی معاونت بڑھانے اور تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کرنی چاہیے نہ کہ ان کی انتظامی ساخت بدل کر انھیں سرکاری تحویل میں لے آئے۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت اور ادبی ادارے آمنے سامنے کھڑے ہوں۔
ایک متوازن حل یہ ہو سکتا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے مشترکہ مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ادبی شخصیات اور ماہرینِ لسانیات شامل ہوں۔ اس طرح نہ صرف اداروں کی خود مختاری برقرار رہے گی بلکہ حکومتی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ علاوہ ازیں، زبانوں کو نصاب میں مؤثر طور پر شامل کرنا، ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا اور نوجوان نسل کو مقامی زبانوں کی تعلیم سے جوڑنا زیادہ سود مند اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ زبانوں کی ترقی کا اصل راستہ انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ تعلیمی اور سماجی شمولیت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان ریجنل لینگویجز بل 2025 کو واپس لے کر ادبی اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے۔
یہ مطالبہ صرف ادارہ جاتی مفاد کا نہیں بلکہ صوبے کی لسانی شناخت اور ثقافتی بقا کا سوال ہے۔ بلوچستان کی سیاسی اور ادبی امور کے ماہر اورکئی کتابوں کے مصنف عزیز سنگھور کے مطابق زبانیں قوموں کی روح ہوتی ہیں، اگر ان کے محافظ اداروں کی آزادی سلب کر لی جائے تو تخلیقی عمل ماند پڑ جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی عجلت کے بجائے فکری سنجیدگی سے دیکھے۔ بلوچستان کی لسانی وراثت ایک مشترکہ اثاثہ ہے، اسے مضبوط کرنے کا راستہ شراکت اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ سرکاری تحویل کے یک طرفہ فیصلوں سے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون سازی سے پہلے مکالمہ ہو، اختلاف کو سنا جائے، اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے واقعی معاون ثابت ہوں۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ ایک اچھے مقصد کے نام پر اٹھایا گیا قدم لسانی و ادبی زوال کا پیش خیمہ بن جائے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person