Today News
اسرائیل اور امریکا – ایکسپریس اردو
امریکیوں کی یہودیوں سے دوستی ہی نہیں، محبت پوری دنیا پر آشکار ہے۔ امریکی حکومتوں نے ہر مرحلے پر یہودیوں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور اس قوم کو وہ مقام دیا ہے جو کسی دوسری قوم نے نہیں دیا ہے۔
یہودیوں سے محبت اور ان کے مفادات کا تحفظ شاید اس لیے امریکا کے لیے ضروری ہے کہ یہودیوں سے امریکا کے اپنے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ اس وقت امریکا میں لاکھوں یہودی آباد ہیں، وہ وہاں امن و سکون سے رہ رہے ہیں اور نہ صرف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں بلکہ کاروبار میں بھی بہت آگے ہیں۔
امریکی یہودیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے مال دار ہیں کہ اگر وہ امریکی بینکوں سے اپنی دولت نکال لیں تو امریکا کنگال ہو جائے گا۔ آج امریکا اپنی دولت اور فوجی برتری کی وجہ سے پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔
کوئی ملک امریکی فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اسی لیے امریکا اپنی من مانی کرتا رہتا ہے وہ جس ملک پر جب چاہے پابندی لگا دیتا ہے اور جس ملک پر مہربان ہو جائے تو فرش سے عرش پر پہنچا دیتا ہے یعنی کہ یہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے آگے اقوام متحدہ کی بھی نہیں چلتی۔
سلامتی کونسل اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں اس کے یہودیوں اور ان کے ملک اسرائیل پر مہربان ہونے نے ان کا دماغ خراب کر دیا ہے اور وہ اپنے آگے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ سراسر ناجائز ہے مگر وہ گزشتہ 70 سالوں سے شان و شوکت سے حکومت کر رہا ہے اور پڑوسی عرب ممالک کے 1967 میں مزید کئی علاقوں پر قبضہ کرکے انھیں اپنی مملکت کا دائمی حصہ بنا چکا ہے۔
جب کہ عرب ممالک اس سے اپنے علاقے واپس لینے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں مگر ناکام ہیں، اس لیے کہ اسرائیل کی پشت پر امریکا ہے جو اسرائیل کے قیام کا بھی ذمے دار ہے اور اب اس کا محافظ بھی ہے امریکا کے دنیا پر حاوی ہونے کی وجہ صرف اس کی دولت ہی نہیں بلکہ حربی طاقت بھی ہے۔
امریکی مہلک جدید فوجی ساز و سامان کی ایجادات میں یہودی انجینئرزکا اہم کردار ہے۔ امریکا کے پاس آج جو طرح طرح کے جدید ہتھیار موجود ہیں وہ یہودیوں کی دماغی اختراع کا بھی شاہکار ہیں۔
یہ بات بہت مشہور ہے کہ جب نازی جرمنی کو شکست ہوئی تو اس کے ایٹمی شعبے میں کام کرنے والے سائنسدانوں اور ماہروں کو امریکا نے اپنے ملک منتقل کر دیا تھا مگر امریکا اس سے پہلے ہی ایٹم بم بنا چکا تھا جو سراسر یہودیوں کی ہی ایجاد تھا۔
امریکا میں ایٹمی ٹیکنالوجی کا موجد ایک جرمن یہودی Robert Oppenheimer تھا۔ ایٹم بم کا فارمولا تیار کرنے والا بھی ایک یہودی تھا جو آئن اسٹائن کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے، تو اوپر جو کچھ بھی کہا گیا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ دنیا کو تباہ و برباد کرنے کا نسخہ بھی ایک یہودی نے ہی دریافت کیا تھا اور آئن اسٹائن کے فارمولے سے ایٹم بم بنانے والے بھی یہودی تھے۔
ایٹم بم یقینا انسان دشمن ہتھیار ہے جس کا سب سے پہلے نشانہ جاپان بنا جہاں کے ناگاساکی اور ہیروشیما شہروں پر یہ گرائے گئے۔ ان بموں نے چشم زدن میں وہاں کی لاکھوں کی آبادی کو تہس نہس کر دیا تھا اور ان ہنستے بستے شہروں کو شہر خموشاں میں تبدیل کر دیا تھا۔
کاش کہ یہودی قوم اپنے ماضی سے ہٹ کر انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لیے کوئی کام کر کے اپنے روٹھے ہوئے خدا کو منا لیتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم کا ماضی خدا کی نافرمانی میں گزرا اور اسی لیے یہ ہمیشہ ہی راندہ درگاہ رہے اور خدا کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
یہ مصر سے نکالے گئے پھر مشرق وسطیٰ میں آئے یہاں بھی مارے مارے پھرتے رہے مگر کوئی پائیدار حکومت قائم نہ کر سکے اور کسی بھی سرزمین پر اپنا مستقل ملک نہ بنا سکے۔
اس وقت یہودی امریکا کی مہربانی کی وجہ سے ایک ملک یعنی اسرائیل کے مالک بن گئے ہیں مگر وہ اپنی پرانی جبلت کے مطابق پڑوسی ممالک کی زمین کو ہڑپ کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک امریکی سفیر مسٹر مائک ہکابی (Mike Huckabee) نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ فلسطین اور اس سے ملحقہ زمین خدا نے یہودیوں کو دی ہے انھیں اس پورے خطے پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔
اسرائیل، لبنان، شام، اردن، عراق اور سعودی عرب کے علاقوں کو حاصل کر کے انھیں اپنے ملک سے جوڑ سکتا ہے اور اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ خدا نے یہودیوں کو خود ہی دریائے نیل اور دریائے فرات کے تمام درمیانی علاقے عطا کیے ہیں جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔
اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں ان ہی ممالک کے علاقوں کو دکھایا گیا ہے مگر یہ نقشہ بھارت کے مہا بھارت کے نقشے کی طرح خواب و خیال کی باتیں ہیں، کیوں کہ جن ممالک کے علاقوں کو اس نقشے میں دکھایا گیا ہے وہ ان علاقوں کے قانونی مالک ہیں اور وہ ان سے کیسے دست بردار ہو سکتے ہیں۔
امریکی سفیر کوئی معمولی آدمی بھی نہیں ہیں وہ امریکی ریاست ارکانسس (Arkansas)کے گورنر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاست میں بھی ان کا دخل رہا ہے وہ2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔
وہ اس حقیقت سے بھی واقف نہیں ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کیسے اپنے پڑوسیوں کے علاقوں کو اپنا بنا سکتا ہے، اگر سفیر موصوف کے موقف کو درست سمجھا جائے تو دنیا کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہانی شروع ہو جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہکابی کا بیان ایک سازش ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی ایک سازش ہے۔ ہکابی کے پورے انٹرویو کو صرف عرب ممالک نے ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام نے رد کر دیا ہے۔
اب ہکابی پوری مسلم دنیا کی جانب سے اس پر سخت تنقید کے بعد اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے مگر اس کا انٹرویو لینے والے صحافی ٹکرکارلسن نے کہا ہے کہ ہکابی کا الزام غلط ہے اس نے وہی پیش کیا ہے جو ہکابی نے کہا تھا۔
ہکابی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ متنازعہ شخص ہے وہ یہودیوں سے گہری قربت رکھنے کی وجہ سے عیسائیوں سے دور ہو گیا ہے۔ لگتا ہے اسے یہودیوں نے اپنے مفاد میں آواز بلند کرنے کے لیے کرائے کا مبصر مقرر کیا ہے۔
اسلامی ممالک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہکابی کا موقف دراصل اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا دفاع کرتا ہے۔
اس کے بیان سے خطے میں اسرائیل کی جارحیت مزید بڑھ سکتی ہے اور اس سے سب سے بڑا نقصان اس وقت صدر ٹرمپ کے جاری غزہ امن منصوبے کو ہو سکتا ہے۔
چنانچہ صدر ٹرمپ کو اپنے اس سفیر کی خبر لینا چاہیے اور اسے فوراً سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرنے پر فارغ کر دینا چاہیے، ورنہ یہ سفارتکار ان کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔
Today News
آیت اللہ کے بیٹے اور ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں؟
ایران میں آیت اللہ کے جانشین کے طور پر سب سے مقبول و معروف شخصیت ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جن کی خیریت کے بارے میں بڑا بیان سامنے آگیا۔
ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی حملے کا نشانہ نہیں بنے اور وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت اپنے خاندان کے شہدا سے متعلق امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ملک کے اہم معاملات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت یا زخمی ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ کے دوسرے بیٹے ہیں اور انھیں ملک کے بااثر مذہبی اور سیکیورٹی حلقوں میں اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ایران کے آئینی طریقہ کار کے تحت رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار مجلس خبرگان کے پاس ہوتا ہے اس لیے کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فیصلہ اسی فورم پر ہونا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر اعتماد کریں۔
یاد رہے کہ اتوار کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ان کی اہلیہ کے دوران علاج جانبر نہ ہونے کی خبروں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں متضاد اطلاعات کو فروغ دیا تھا۔
Today News
سعودیہ اور قطر میں موساد کے ایجنٹس گرفتار؛ بم حملوں کی تیاری کر رہے تھے
امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور نامور کالم نگار ٹکر کارلسن نے ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے ایک ہولناک انکشاف کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹکر کارلسن نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے۔
جن پر ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے تاکہ ان خلیجی ممالک میں مزید بےچینی پھیلانے اور موجودہ کشیدگی کو وسیع کیا جاسکے۔
ٹکر کارلسن نے مزید کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ خلیجی ممالک جیسے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت کو بھی اپنے مقاصد کے لیے نشانہ بنا رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہو چکا ہے۔
اب تک سعودی عرب، قطر یا اسرائیل کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھی اس حوالے سے مستند رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔
Today News
خامنہ ای کے بعد ایران میں حکومت کس کی ہوگی؟ شاہ ایران کی بیوہ کا بیان آگیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پہلے بار شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی کا بیان سامنے آگیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق شاہِ ایران رضا پہلوی کی اہلیہ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیا ہے۔
فرح پہلوی نے کہا کہ ایک شخص کی موت چاہے وہ طاقت کے ڈھانچے میں کتنے ہی اہم کیوں نہ ہو خودکار طور پر متحرک و سرگرم نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بن سکتی۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن اس کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے آمرانہ نظام کا خاتمہ خودبخود نہیں ہوجائے گا۔
فرح پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی عوام کی صلاحیت ہوگی کہ وہ پُرامن، منظم اور قانون کی حکمرانی پر مبنی نظام قائم کر سکیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی اس عبوری نظام کے منصوبے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے ذریعے ہوا تھا اور شاہی خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا تھا۔
فرح پہلوی اپنے شوہر اور خاندان کے ہمراہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران سے جلا وطن ہو کر تاحال پیرس میں مقیم ہیں۔
ان کے بیٹے رضا پہلوی چند ماہ سے امریکا اور برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition