Connect with us

Today News

اسرائیل کی فضائی حدود کا قابل ذکر حصہ ہمارے کنٹرول میں ہے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ

Published

on



پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی حملوں کا آغاز کردیا ہے اور صہیونی حکومت کی ایرو اسپیس مانٹیرنگ کی صلاحیت کو مؤثر انداز میں متاثر کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے فضائی حدود کا قابل ذکر حصہ اب ہمارے کنٹرول میں ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ شب قدر کے موقع پر ایک سے دو ٹن وزنی وار ہیڈ بردار 30 سپر ہیوی بلیسٹک میزائل مقبوضہ علاقوں میں اہداف پر فائر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی کے ذریعے اسرائیل کا کلیدی ایرواسپیس مانیٹرنگ اور سرویلینس سسٹمز کو کامیابی سے متاثر اور تباہ کردیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں صہیونی حکومت کی فضائی حدود کا قابل ذکر حصہ اب ہمارے کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی مراکز کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی فوسز نے اعلان کیا تھا کہ اب یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جارحیت پر اپنے پچھتاوے کا اظہار نہیں کرتے۔

ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران کے پاس جدید ہتھیار ہیں جو دشمن کے ہماری فوجی طاقت کے حوالے سے پائے جانے والے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکا کا مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کی معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان

Published

on



امریکا نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 اہم ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان کردیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران کے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔

محکمہ خارجہ نے کہا کہ جو بھی فرد ایران کے ان 10 اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا وہ امریکا منتقل ہونے کا اہل بھی بن سکتا ہے اور اس کے لیے 10 ملین امریکی ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔

Got information on these Iranian terrorist leaders?

Send us a tip. It could make you eligible for a reward and relocation. pic.twitter.com/y7avkqdGWw
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) March 13, 2026

وہ ایرانی رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر انعام رکھا گیا ہے ان میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ، ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب، سیکرٹری برائے سپریم کونسل علی لاریجانی، نائب چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی، میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی اور بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ  آج تہران میں یوم القدس ریلی کے موقع پر علی لاریجانی اور دیگر اہم شخصیات عوامی ریلی میں شریک ہوئے، ایرانی رہنماؤں نے کسی بھی دھمکی اور خوف کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ریلی کے شرکا کے ساتھ سیلفیز بنوائیں اور امریکا مخالف نعرے بھی لگائے۔ 



Source link

Continue Reading

Today News

جنگ اور نسل کشی سستا کھیل نہیں رہا

Published

on


مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کیوں کرتا ہے مگر تاریخ پڑھنے سے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ جب کسی ہوس زدہ ذہنیت کی حامل ریاست کے برے دن آتے ہیں تو وہ ایک پنگے سے ابھی باہر نہیں نکلتی کہ ایک اور مہنگا والا خرید لیتی ہے۔ اسرائیل کا بھی یہی معاملہ ہے۔غزہ سے ہاتھ نہیں بھرے اور جنوبی شام اور لبنان میں گھس گیا اور اب اپنے منہ کے سائز سے بھی دوگنا ایرانی نوالہ حلق میں پھنسا لیا ہے۔امریکا کا تو ایرانی جنگ میں دو ارب ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا ہے جو وہ وینزویلا کا تیل بیچ کر پورا کر لے گا۔جنگ طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کیا کرے گا جس سے اب تک غزہ کی نسل کشی کا خرچہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔

مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ان دنوں نسل کشی بھی آسان نہیں رہی۔چنانچہ اگر کسی ملک کو کسی ہمسائے کی نسل کشی کے لیے دو برس میں پچھتر ہزار سے ایک لاکھ لوگ اسلحے اور محاصرے سے مارنے ہوں ، مزید دو لاکھ زخمی یا اپاہج کرنے ہوں اور تمام شہری و زرعی املاک کو صفحہِ ہستی سے بھی مٹانا ہو تو کتنا پیسہ اور وسائل صرف ہوں گے ؟

بینک آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل غزہ کی مہم جوئی پر ایک سو بارہ بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے ستتر بلین ڈالر جنگ پر خرچ ہوئے اور ساڑھے دس ارب ڈالر ان شہریوں کی املاک کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے پر صرف ہوئے ہیں جنہوں نے بطور ریزرو اپنے روزمرہ کاموں سے چھٹی لے کر غزہ میں ’’ خدمات‘‘ انجام دی ہیں۔  دفاع سے جڑی سویلین مدوں میں اٹھارہ ارب ڈالر لگے ہیں جب کہ جنگی اخراجات کے لیے جو قرضہ لیا گیا اس پر اب تک چھ ارب ڈالر سود ادا کیا گیا ہے۔

عسکری معیشت کے امور سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مشیر جل پنچاس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل جیب سے اس جنگ پر فروری دو ہزار پچیس تک اڑتالیس ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ یعنی چھیانوے ملین ڈالر روزانہ۔فلسطینیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے کمیشنر فلیپے لازارانی کے بقول روزانہ اوسطاً ایک سو فلسطینی اس عرصے میں قتل ہوئے۔

جل پنچاس کا کہنا ہے کہ غزہ پر جو اسلحہ اور گولہ بارود اس عرصے میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا اس کی مالیت ایک سو آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔اس میں سے زیادہ تر پیسہ مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ملا۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا اندازہ ہے کہ ایران سے گذشتہ برس جون میں بارہ دن کی لڑائی میں اسرائیل کو دو ارب ڈالر روزانہ صرف کرنے پڑے۔جب کہ دوران ِ جنگ کئی دن ایسے بھی آئے جب خرچہ چار ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ گیا کیونکہ ایرانی حملے کے لیے جو ہمہ اقسام میزائیل شکن میزائیل استعمال کیے گئے ان میں سے ہر ایک کی لاگت سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں حزب اللہ کے خلاف بھر پور جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے حزب اللہ اور لبنانی شہریوں کے زیراستعمال تقریباً چودہ ہزار پیجرز تباہ کیے۔اس مہم پر تین سو اٹھارہ ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔

اسرائیل کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور اسے چار لاکھ پینسٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔( اسرائیل میں چالیس برس تک کی عمر کے ہر زن و مرد کو دو سے تین برس لازمی فوجی خدمت انجام دینا پڑتی ہے )۔ تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو پہلے سال کے دوران غزہ میں تعینات کیا گیا۔ گذشتہ سوا دو برس میں ان ریزرو فوجیوں پر ساڑھے بائیس ارب ڈالر اور باقاعدہ فوج پر دو ہزار پچیس کے پہلے دس ماہ میں پانچ ارب ڈالر صرف ہوئے۔

بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایک ریزرو فوجی پر اس کے اصل کام کے پیداواری گھنٹے ضایع ہونے کی لاگت سمیت ایک ماہ میں بارہ ہزار ایک سو ڈالر کا خرچہ ہے۔ ایران پر تازہ حملے سے قبل اسرائیل کے سرکردہ لبرل اخبار ہاریتز کا تبصرہ تھا کہ مہم جویانہ اخراجات دن بدن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آیندہ اسرائیل کو ایک نئی جنگ چھیڑ کر اسے مختصر وقت میں نمٹانے کے لیے کم ازکم ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرنا ہو گا۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی جنگی لاگت سے متعلق رپورٹ کے مطابق امریکا نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اسرائیل کو بائیس ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی۔جب کہ اسرائیل کی محبت میں امریکا نے اس عرصے میں یمن اور ایران سمیت متعدد علاقائی ممالک میں جو عسکری کارروائیاں کیں ان پر مجموعی لاگت کا اندازہ تیرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔یعنی اگر اسرائیل کو براہِ راست فوجی امداد اور اسرائیل کی خاطر اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک کی امریکی دفاعی کارروائیوں کا مجموعی خرچہ دیکھا جائے تو امریکی ٹیکس دھندگان کی کم ازکم چونتیس ارب ڈالر کی کمائی ان لاحاصل جنگوں میں جھونک دی گئی۔

اتنے پیسے لگا کر اسرائیل اور امریکا نے جس طرح غزہ کے انفراسٹرکچر کو حرفِ غلط سمجھ کے مٹایا ہے۔اس کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کم از کم ستر ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو عمارتی ڈھانچے بظاہر اب بھی کھڑے ہیں۔ان کی اندرونی چوٹیں اس قدر شدید ہیں کہ شائد ہی کوئی ڈھانچہ ایسا ہو جسے گرا کر دوبارہ تعمیر نہ کرنا پڑے۔

تب تک غزہ کی پوری آبادی ( تئیس لاکھ ) کو کثیر سمتی روزمرہ شدید انسانی مصائب سے گذرنا پڑے گا۔ان مصائب میں صاف پانی کی عدم دستیابی ، تعلیمی سہولتوں کا فقدان ، نقل و حرکت کا محدود ہونا ، اس کے نتیجے میں کم از کم پچاس فیصد بے روزگاری اور تین چوتھائی کنبوں کی بے گھری اور ناکافی غذائیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔اب تو ایران سے جنگ کے سبب میڈیا کے تھوڑے بہت کیمرے بھی غزہ سے ہٹ گئے ہیں۔لہذا وہاں کے انسانی مصائب کو غیر معینہ ہی سمجھئے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

کفایت شعاری اور سادگی عارضی کیوں؟

Published

on


وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا ۔ پی ٹی آئی حکومت میں جب پٹرول مہنگا ہوتا تھا تو پارٹی کے جذباتی نوجوان میڈیا پر بیان دیتے تھے کہ ہم پانچ سو روپے لیٹر بھی پٹرول خریدیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر وزیر اعظم، وفاقی وزرا، ملک کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے تمام وزیروں کو بھی تنخواہیں اور سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔ سیاسی اہمیت رکھنے والے تمام وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور ان کے وزیروں مشیروں میں کوئی غریب ہے نہ کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ منتخب ہونے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرکے منتخب ہونے کی مالیت حیثیت رکھتے ہیں ، جب کہ سینیٹروں کو منتخب ہونے کے لیے واقعی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے مگر وہ اکثریت میں نہیں ہیں اور ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے منتخب ہو جاتے ہیں۔سینیٹروں اور ارکان اسمبلی میں وہ تمام اربوں نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہیں اور ان میں کوئی بھی مرحوم عبدالستار ایدھی نہیں جو وفاقی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے کراچی سے اسلام آباد بس سے جایا کرتے تھے اور ایدھی ٹرسٹ کی گاڑی بھی استعمال نہیں کیا کرتے تھے۔

ملک میں شاید ہی کوئی ملک معراج خالد جیسا وزیر اعظم نہیں رہا جو کرائے کے گھر میں رہتا رہا ہو اور عام آدمی ہو۔پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

کفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ اس ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending