Connect with us

Today News

اسرائیل کے سیاہ فام یہودی

Published

on


یہ درست ہے کہ اسرائیل آئینی طور پر خالص یہودی ریاست ( جیوش ہوم لینڈ ) بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی انیس فیصد عرب آبادی سے درجہِ دوم کا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے درجہ سوم اور چہارم کا سلوک سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر اسی اسرائیلی آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ملک ان تمام یہودیوں کی محفوظ آماجگاہ ہے جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں۔وہ جب چاہیں اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔انھیں اسرائیل میں اترتے ہی بلا امتیازِ رنگ و نسل و خطہ مساوی سماجی و قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ کیا واقعی یہ سچ بھی ہے ؟

اسرائیل میں دو طرح کے یہودی آباد ہیں۔ایک وہ جو روس ، مشرقی و مغربی یورپ اور شمالی امریکا سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے۔انھیں اشکنازی یہودی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ جنھوں نے افریقہ ، عرب اور بھارت و پاکستان و وسطی ایشیا سمیت غیر مغربی دنیا سے ہجرت کی۔انھیں سفاری یہودی کہا جاتا ہے۔

اسرائیل کے قیام سے پہلے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرجوش نوجوان رہنما زیوو جیبوٹنسکی نے یہودی مراجعت کے نظریے کے تحت ارگون نامی مسلح آباد کار گروہ کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اسرائیل کے قیام سے آٹھ برس قبل اگست انیس سو چالیس میں جیبوٹنسکی کا انتقال ہو گیا۔مگر ان کا شمار اسرائیلی ریاست کے ’’ فاؤنڈنگ فادرز ‘‘ میں ہوتا ہے۔

جیبوٹنسکی ان تمام رہنماؤں کا نظریاتی گرو سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بن گوریان کی لیبر پارٹی کیبرعکس صیہونیت ، الٹرا نیشنل ازم اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے لبریز لیخود جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس انتہا پسند مذہبی قوم پرستی نے مینہم بیگن ، ایتزاک شمیر اور نیتن یاہو جیسے رہنما پیدا کیے۔مگر یہ امر محض حسنِ اتفاق نہیں ہے کہ اسرائیل میں آج تک کوئی بھی غیر اشکنازی وزیرِ اعظم نہ بن سکا ۔

جیبوٹنسکی نے نوے برس پہلے کہا تھا کہ ’’ خدا کا شکر ہے کہ تہذیبِ مشرق سے ہم یہودیوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ہمارے بہت سے ناخواندہ بھائی ( عرب ، ایشیائی و افریقی یہودی ) صدیوں پرانے فرسودہ رسوم و رواج کو مشرقیت کا نام دیتے ہیں مگر ہمیں ان کا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم انھیں ابھی سے اچھی تعلیم بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی نام نہاد مشرقی دقیانوسی سے نجات پا کر اچھے شہری بن سکیں ( یورپی یہودیوں کی طرح )۔

ہم بہت پہلے کسی مضمون میں صراحت کر چکے ہیں کہ صیہونیت کے نظریے نے روس ، مشرقی و مغربی یورپ میں آباد اشکنازیوں کے ہاں جنم لیا۔اس نظریہ کو دستاویزی شکل دینے والے تھیوڈور ہرزل کا تعلق ہنگری سے تھا اور اس کی صدارت میں سوئس شہر باسل میں اگست اٹھارہ سو ستانوے میں منعقد ہونے والی پہلی صیہونی کانگریس کے دو سو مندوبین میں غالب اکثریت اشکنازیوں کی تھی۔یعنی ابتدائی زمانے سے ہی صیہونیت کا غیر یورپی دنیا میں آباد یہودیوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

مشرق میں آباد یہودیوں کے برعکس یورپی یہودی نہ صرف دولت مند تھے بلکہ اس دولت کے سبب ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی یورپ کے ہر دربار اور حکومت میں تھا۔بینکاری نظام پر ان کی گرفت کے سبب ہر یورپی حکومت ان کی مقروض یا احسان مند تھی۔حتی کہ سترہ سو چھہتر میں جب ریاستہائے متحدہ امریکا کا جنم ہوا تو اس کی معاشی رگوں میں بھی یہودی قرضہ گردش کر رہا تھا۔ اس بارے میں بھی ہم سابقہ مضامین میں تفصیلی روشنی ڈال چکے ہیں۔

یورپ میں نازی ہالوکاسٹ سے متاثر ہونے والے یہودی بھی اشکنازی تھے۔چنانچہ اسرائیل میں روزِ اول سے ہی اشکنازیوں نے اپنی مظلومیت اور صیہونی نظریے کے پھیلاؤ میں سرگرم حصہ لینے کی بنیاد پر جس مملکت کی بنیاد رکھی وہاں نسلی تفریق کی غیر اعلانیہ پالیسی پر سنجیدگی سے عمل ہونا باعثِ حیرت نہ تھا۔

برسوں بعد ڈی کلاسیفائی ہونے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے سفاری یہودیوں کے ہزاروں بچے ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے مشنری جذبے کے تحت پیدائش کے فوراً بعد اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے چرا کر متمول اسرائیلی و بیرونِ ملک مقیم اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیے گئے۔اس منصوبے کا سب سے بڑا نشانہ یمنی نژاد یہودی بنے۔

مئی انیس سو اڑتالیس تا انیس سو چون کے دوران چار برس سے کم عمر کا ہر آٹھواں یمنی بچہ غائب کر کے اسے لاولد یا ضرورت مند اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

ایتھوپیائی یہودی اپنی شناخت ’’ بیتا اسرائیل ‘‘ گروہ کے طور پر کرتے ہیں مگر ایتھوپیا میں یہودی کمیونٹی کو مقامی امہاری زبان میں فلاشا کے توہین آمیز نام سے پکارا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے آوارہ گرد۔

انیس سو ستر کی دہائی میں ہزاروں فلاشاز کو سوڈان کے راستے اسمگل کر کے اسرائیل پہنچایا گیا۔اس وقت اگرچہ فلاشا اسرائیل کی یہودی آبادی کا دو فیصد ہیں مگر ان میں سے نصف خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ان کے محلے خستہ حال ہیں۔ نئی نسل منشیات کے استعمال ، متشدد رویے اور اسکول سے بکثرت اخراج کے سبب پہچانی جاتی ہیں۔انھیں ادنی درجے کی ملازمتوں یا فوج کے نچلے رینکس میں بھرتی کے لیے ہی موزوں سمجھا جاتا ہے۔فلاشا یہودیوں میں ڈیپریشن اور خود کشی کا تناسب کسی بھی دیگر اسرائیلی یہودی کمیونٹی سے زیادہ ہے۔

 ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی خاتون ایکٹوسٹ عورت یارس کے بقول ’’ ہمارا خون فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تو ٹھیک ہے مگر کسی اور کام کے لیے نہیں ‘‘۔

انیس سو نوے کی دہائی میں متعدد اسرائیلی اسپتالوں نے ایچ آئی وی کے خدشے کے پیشِ نظر افریقی یہودیوں کی جانب سے خون کے عطیات ضایع کر دیے۔دو ہزار بارہ میں تل ابیب میں سیاہ فام یہودیوں کا احتجاجی مظاہرہ طاقت استعمال کرکے منتشر کیا گیا۔دو ہزار پندرہ میں دو پولیس والوں نے ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی فوجی کو نسلی گالیاں دیتے ہوئے زدوکوب کیا۔اس واقعہ کی وڈیو نے آگ لگا دی اور ہزاروں سفاری یہودیوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔دو ہزار انیس میں بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوا۔مگر صیہونیت چونکہ ایک نسل پرست یورپی نظریہ ہے لہذا اشکنازی یہودیوں کی برتری ریاستِ اسرائیل کا بنیادی نصب العین ہے۔

سوچئے اگر رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنے ہم مذہبوں سے یہ سلوک ہے تو عربوں اور دیگر سے نفرت کا کیا عالم ہو گا ؟ نفرت بربریت کی شکل میں یہی صیہونیت پورے خطے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قومی اسمبلی اجلاس میں علی لاریجانی کیلیے دعائے مغفرت

Published

on


قومی اسمبلی کے اجلاس ایران کے سابق اسپیکر علی لاریجانی اور خلیجی ممالک میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایازصادق کی زیرصدارت ہوا، جس میں سینیٹر شیری رحمان کی بیٹی، رکن قومی اسمبلی اویس حیدر جھکڑ کے والد ملک نیاز احمد جھکڑ، ایران کے سابق اسپیکر علی لاریجانی اور خلیجی ممالک میں شہید ہونے والے دیگر افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

دعائے مغفرت رکن قومی اسمبلی حافظ نعمان نے کرائی۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ علی لاریجانی اسرائیلی بربریت کا نشانہ بنے، ان کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی نہایت اچھے تھے۔

اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وزارتِ صحت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزارتِ صحت کے پانچ سوالات کے جوابات نہ آنے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صحت جیسے اہم شعبے میں لاپرواہی قابلِ قبول نہیں۔

اسپیکر نے وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے استفسار کیا کہ سوالات کے جوابات کیوں فراہم نہیں کیے گئے، جس پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلے کے حل کے لیے مختلف وزارتوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔

بعد ازاں اسپیکر نے وفاقی سیکرٹری صحت کو فوری طور پر طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ ان کے چیمبر میں پیش ہوں۔

ادھر وزارتِ ریلوے نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا کہ ملک کے کسی بھی ریلوے اسٹیشن پر بینک کارڈ کے ذریعے ٹکٹ خریدنے کی سہولت موجود نہیں۔

یہ انکشاف رکن قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی کے سوال کے جواب میں کیا گیا۔

وزارتِ ریلوے کے مطابق آپٹیکل فائبر نظام کی عدم دستیابی کے باعث بینک کارڈز کے ذریعے ادائیگی ممکن نہیں، تاہم متبادل کے طور پر جیزکیش، ایزی پیسہ، یوپیسہ اور اومنی کے ذریعے ٹکٹ خریدے جا سکتے ہیں، جبکہ ملک بھر کے 57 ریلوے اسٹیشنز پر ٹکٹ وینڈنگ مشینیں نصب کی جا چکی ہیں۔

قومی اسمبلی میں الیکٹریسٹی ترمیمی بل 2026، فوجداری قانون ترمیمی بل 2026، مالیاتی ذمہ داری و تحدید ترمیمی بل 2025 اور مالیاتی ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق بل 2025 بھی پیش کیے گئے۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی ثالثی کی کوششیں

Published

on


مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک اور حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی جغرافیائی‘تجارتی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ تجارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان میں ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک اپنی خارجہ پالیسی کو انتہائی متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔موجودہ حالات میں کیونکہ جنگ کا ماحول ہے لہٰذا اس توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ایوانِ صدر میں ہونے والا اعلیٰ سطح اجلاس اسی تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک میز پر بیٹھ کر اس صورتحال کا جائزہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے گا بلکہ مستقبل کے لیے حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔

 دوسری جانب واشنگٹن سے آنے والے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس پیچیدہ اور حساس چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ طاقت، حکمت عملی اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تیل ذخائر پر قبضے اور اس کی اہم تنصیبات کو بآسانی اپنے کنٹرول میں لینے کے دعوے نے نہ صرف عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے پہلے ہی کشیدہ خطے میں ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ہورہی ہے،اس انتہائی اہم اور نازک مرحلے کے دوران کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ قیام امن کے لیے جو کوشیں ہو رہی ہیں ‘انھیں بھی نقصان پہنچنے کے اندیشہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کی وہ قیادت جو جنگ بندی کے لیے تیار ہے‘ وہ بھی مشکل سے دوچار ہو جائے گی۔ آج امریکی صدر ایران کے تیل پر قبضے کی بات کرتے ہیں تو یہ محض ایک وقتی بیان نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری کشمکش کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے توانائی کے ذخائر عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ایسے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا قبضے کی کوشش نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ خارگ جزیرہ، جسے ایران کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے، اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر اس تنصیب کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا اس پر قبضے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہوگا، مگر اس کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی سپلائی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران جیسے مسائل فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی اس تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ اگر یہاں کسی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس خطے میں اپنی برتری کا دعویٰ اور ایران کی جانب سے دفاعی تیاریوں کے اشارے، دونوں مل کر ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کا ردعمل بھی کسی طور کم اہم نہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی بیانات کو مسترد کیا ہے بلکہ امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس طرح کے الزامات اور جوابی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ جب دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں تو یہ تضاد عالمی برادری کے لیے ایک الجھن پیدا کرتا ہے۔

کیا واقعی مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے یا یہ محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے؟عالمی سطح پر اس صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی جانب سے امریکی صدر سے جنگ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت طلب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حتیٰ کہ امریکا کے قریبی اتحادی بھی اس پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ یورپی ممالک بھی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ خطے میں اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر اس کشیدگی کو بروقت قابو نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں کئی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔

اسی تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش نہ صرف ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ پاکستان کی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کا یہ اقدام ایک مثبت اور بروقت پیشکش کے طور پر سامنے آیا ہے۔

چار فریقی اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک خطے کی صورت حال پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جاری جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ اس تناظر میں مسلم امہ کے اتحاد پر زور دینا ایک حقیقت پسندانہ اور ضروری مؤقف ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔ روس کی جانب سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی نے عالمی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر چین، برازیل اور دیگر درآمدی ممالک پر مرتب ہوں گے، جب کہ پہلے سے جاری مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی یہ غیر مستحکم صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

 ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر غور کیا جائے تو کئی امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ محدود پیمانے پر فوجی جھڑپیں ہوں جو بعد میں کسی سمجھوتے پر ختم ہو جائیں۔ تاہم سب سے خطرناک امکان ایک مکمل جنگ کا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سفارتکاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو اس طرح کے تنازعات کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ہے، نہ صرف امریکا اور ایران کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا عالمی قیادت اس بحران کو دانش مندی سے سنبھالتی ہے یا یہ ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں، اگر دنیا نے اس سبق کو نظر انداز کیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان، دہشت گردی اور عالمی ضمیر

Published

on


تاریخ اقوام عالم شاہد ہے کہ جب کوئی ملک اپنی انتظامی اور سفارتی حکمت عملی کھو بیٹھتا ہے تو اس کا بین الاقوامی تشخص دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2818 محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی ایک بار پھر گونجتی ہوئی صدا ہے۔

ایک ایسی صدا جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل دہرائی جا رہی ہے، مگر جس کا عملی اثر اب تک محدود ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1999 میں منظور ہونے والی قرارداد 1267 سے لے کر آج تک، افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کی نوعیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسئلہ صرف جغرافیہ کا ہے، یا پھر حکمرانی، نظریات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ امتزاج نے اس بحران کو مستقل شکل دے دی ہے؟

1999 کی قرارداد 1267 میں طالبان حکومت کو القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینے پر واضح طور پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے ایک متفقہ مؤقف اپنایا کہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عزم کمزور پڑتا گیا، یا یوں کہیے کہ زمینی حقائق اس عزم کے برعکس ثابت ہوتے رہے۔ آج 2026 میں، قرارداد 2818 اسی خدشے کو نئے الفاظ میں دہرا رہی ہے کہ داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ بدستور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں۔

یہ تسلسل کسی ایک واقعے یا پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک گہرے اور مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ افغانستان، اپنی جغرافیائی حیثیت، تاریخی تناظر اور سیاسی عدم استحکام کے باعث طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم عنصر وہاں کی داخلی حکمرانی کا بحران ہے۔ طالبان کی واپسی کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہ عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمے دار ریاستی کردار ادا کریں گے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2818 دراصل اسی مایوسی کا اظہار ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ، تربیت گاہ یا معاونت کے مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ مختلف عسکریت پسند گروہ نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق وہ اپنی آپریشنل صلاحیت بھی بڑھا رہے ہیں۔

یہ امر نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ طالبان قیادت اس تمام تر صورتحال میں ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ایک دفاعی اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بیرونی مداخلت یا جارحیت قرار دینا، اور ساتھ ہی شہری نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ افغانستان کی داخلی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم پہلو حکمرانی کا بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ طالبان حکومت اب بھی ایک جامع اور شمولیتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ عوامل طالبان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔

در حقیقت افغانستان کا مسئلہ محض دہشت گردی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت بحران ہے جس میں سیکیورٹی، حکمرانی، انسانی حقوق اور علاقائی سیاست سب شامل ہیں۔ قرارداد 2818 اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ دنیا اب بھی افغانستان کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے نہ کہ ایک مستحکم اور ذمے دار ریاست کے طور پر، تاہم یہ تاثر تبدیل کیے بغیر نہ تو افغانستان عالمی برادری کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔

اب یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عالمی برادری کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف قراردادیں منظور کرنا کافی ہے یا پھر ایک مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض بیانات اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع اپروچ درکار ہے جس میں سفارتی دباؤ، اقتصادی مراعات، اور علاقائی تعاون سب شامل ہوں۔ ساتھ ہی، افغانستان کے اندر ایک ایسا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کرے۔

پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، مہاجرین کا مسئلہ، اور علاقائی استحکام جیسے عوامل براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی پالیسیوں میں توازن، حقیقت پسندی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ ایک طرف سیکیورٹی خدشات کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے، تو دوسری طرف سفارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ رابطے کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔

بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 2818 ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ یہ ایک جاری بحران ہے، جو وقتاً فوقتاً نئی شکلوں میں سامنے آتا رہے گا اگر اس کے بنیادی اسباب کو دور نہ کیا گیا۔ طالبان حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی،موقع اس لیے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد بحال کر سکتی ہے، اور امتحان اس لیے کہ اگر وہ اس بار بھی ناکام رہی تو افغانستان ایک بار پھر تنہائی، عدم استحکام اور بداعتمادی کے دائرے میں قید ہو جائے گا۔اب دنیا بدل چکی ہے، مگر افغانستان کے حوالے سے خدشات اب بھی وہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرائے گی، یا پھر کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے گا؟





Source link

Continue Reading

Trending