Connect with us

Today News

اسلام آباد: دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر عورت مارچ کی 11 خواتین اور تین مرد گرفتار

Published

on


اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر عورت مارچ میں شریک 11 خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے سیکٹر ایف 6 سے یہ گرفتاریاں کی ہیں، مذکورہ افراد عورت مارچ کے نام پر ریلی نکال رہے تھے، انہوں ںے سیکٹر ایف 6 سے ڈی چوک تک عورت مارچ کا اعلان کیا تھا، گرفتاری کے وقت سڑک بند کردی گئی تاہم گرفتاریوں کے بعد سڑک کھول دی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق عورت مارچ کے حوالے سے کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا، شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ دوسری جانب عورت مارچ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ہم نے ایک ماہ قبل این او سی کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، ڈپٹی کمشنر آفس نے اسے منسوخ نہیں کیا۔

ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے کہا کہ عورت مارچ کی مرکزی قیات اور متعدد حامی جی 7 تھانے میں گرفتار ہیں، مظاہرین کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے، تھانے میں آکر احتجاج کرنے والوں کو کار سرکار میں مداخلت کرنے پر حراست میں لیا ہے ان کے خلاف 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر

Published

on


جناب ممنون حسین گورنر سندھ کے منصب کا حلف اٹھا کر دفتر میں ابھی بیٹھے ہی ہوں گے کہ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگران کے پہلے انٹرویو کا موقع مجھے میسر آئے۔اس خیال نے مجھے آسودہ کیا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے بے تکلف قہقہ بلند ہوا پھر پوچھا :’سب ٹھیک ہے، فاروق بھائی؟‘یہ نہال ہاشمی تھے۔ اِن کے اور میرے درمیان گفتگو اسی بے تکلفی سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے بھی انھیں اپنا رٹا رٹایا جواب دیا: ’اب خیر، سب خیر۔نہال ہاشمی مزید کھلکھلائے پھر کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہوں چلے آؤ۔

گورنر ہاؤس میں اس وقت وہ کہاں براجمان تھے، یہ تو ذہن میں نہیں، اتنا یاد ہے کہ باتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ اے ڈی سی کا وہاں سے گزر ہوا۔ نہال نے ان سے کہا کہ یہ ہمارے دوست فاروق ہیں، گورنر صاحب کے انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ اے ڈی سی نے کہ جیسے ایسے دفاتر کے اہل کار کیا کرتے ہیں، کسی توقف کے بغیر جواب دیا، ان کا اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے۔ ’اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے لیکن یہ آئے ہوئے ہیں۔‘

سفید وردی میں ملبوس نوجوان نے میری طرف دیکھا پھر کہا کہ میں گورنر صاحب سے پوچھ کر آتا ہوں۔ نوجوان فوراً ہی پلٹا اور ہمیں لیتا ہوا گورنر کے چیمبر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ہمارے ساتھ نہال ہاشمی تو تھے ہی، ایک صاحب اور بھی تھے۔ چلتے چلتے میں نے نہال سے پوچھا کہ یہ کیا کہانی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں مبارک باد دینے کے لیے پہنچا تو آپ کی یاد آئی ، یوں میں نے آپ کا نمبر ملا دیا۔ کہانی کا باقی حصہ آپ کے سامنے ہے۔ شکر گزاری کے طور پر میں نے ان کے ہاتھ پر نرمی سے تھپکی دی اور انھیں بتایا جس وقت آپ کا فون آیا، میں یہی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح گورنر صاحب کا انٹرویو ہو جائے تو لطف آ جائے۔

’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، فاروق بھائی!‘

نہال ہاشمی نے گورنر چیمبر میں داخل ہوتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔ جانے قبولیت کی وہ کیسی گھڑی تھی کہ میری خواہش پوری ہوئی، صرف میری خواہش پوری نہیں ہوئی، اس واقعے کے ٹھیک ربع صدی بعد نہال ہاشمی اسی چیمبر میں آن بیٹھے ہیں اور میں سحری کے بعد پاکیزہ ماحول میں بیٹھا خوش دلی سے ان واقعات کی ترتیب کو یاد کر رہا ہوں۔

 نہال ہاشمی سے میرے تعلق کا آغاز زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ تھر میں ترقیاتی کام کرنی والی کسی این جی او کی بے ضابطگی کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے چھان بین کے بعد اسے شائع کر دیا۔ رپورٹ کی اشاعت سے کہرام تو مچا لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے ایک نوٹس بھی موصول ہوا جس میں این جی او کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں کروڑوں روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوٹس بھیجنے والے وکیل کا نام نہال ہاشمی تھا۔ ان دنوں رپورٹنگ آسان نہ تھی۔رپورٹر کے پاؤں پکے بھی ہوتے تو اسے اپنی ساکھ کی فکر ہوتی۔ میں بھی اسی فکر میں پریشان تھا کہ برادر عزیز اصغر عمر سے ملاقات ہو گئی۔

یہ اصغر عمر کے کیرئیر کا ابتدائی دور تھا لیکن اس کے باوجود کورٹ رپورٹنگ میں ان کا نام گونج رہا تھا۔ کہنے لگے کہ اس میں فکر کی کیا بات ہے، یہ نوٹس تو ابھی واپس ہو جائے گا۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ ہم شاہراہِ فیصل کی کسی اونچی بلڈنگ کے مختصر سے دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ چائے پیتے پیتے اصغر عمر نے نہال ہاشمی کو مخاطب کیا اور پوچھا:’پھر اس نوٹس کا کیا ہو گا، نہال بھائی؟‘ ’کون سا نوٹس؟ رات گئی، بات گئی۔‘

بات واقعی رات کی ظلمت میں گم کہیں ہو گئی اور نہال ہاشمی کے ساتھ تعلق استوار ہو گیا۔ کہاں میں اس سانولے سلونے وکیل سے طویل لڑائی کے منصوبے باندھ رہا تھا اور کہاں چائے کی ایک پیالی نے صورت حال ہی بدل ڈالی۔ اس کایا کلپ میں عزیز بھائی اصغر عمر کی معاملہ فہمی کو تو دخل تھا ہی لیکن نہال ہاشمی کی رواداری اور کشادہ دلی کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟ اس واقعے نے مجھے صرف نہال ہاشمی سے ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ انسانی مزاج کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

میری سمجھ میں یہ آیا انسان کو یک رخا نہیں ہونا چاہیے۔ رمز اس بات میں یہ ہے کہ نہال ہاشمی اگر ایک طرف مسلم لیگ ن کے کارکن تھے تو دوسری طرف وہ رفاہی سرگرمیوں کے لیے بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی ایک نمایاں شخصیت کے ہم کار بھی تھے۔ وسیع المشربی کی یہ خوبی اس زمانے میں کم از کم کراچی کی حد تک معدوم ہو رہی تھی کیوں اس شہر میں ان دنوں الطاف حسین کی سیاست اور اخلاقیات کا چلن عام تھا۔

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر میرے سامنے ہے۔ وہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کا حصہ بنے جب الطاف حسین کا سورج نصف النہار پر تھا۔ سیاست کے لیے لوگ ان کے دست حق پرست پر بیعت کرتے یا پھر گھر بیٹھ جاتے۔ نہال ہاشمی نے اس کے الٹ کیا اور اپنی بساط کے مطابق کھڑے رہے۔ اس میدان میں ان کا اصل کریڈٹ وفاداری ہے۔ سیاسی اونچی نیچ کی پروا کیے بغیر اپنے سیاسی عقیدے سے انھوں نے وفا کی، خاص طور پر ۲۰۱۴ء سے۲۰۱۸ ء تک کے پر آشوب زمانے میں جب انھوں نے اپنے قائد اور جماعت کے حق میں پوری قوت سے آواز بلند کی اور سینیٹر شپ قربان اور قید و بند کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی۔

یہی سبب ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی متوسط طبقے کے اس عام کارکن کو یاد رکھا اور عزت سے نوازا۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقرر سے ہمارے کئی تصور ٹوٹے ہیں۔ اوّل یہ کہ بڑے مناصب صرف بڑے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اور دوم ،مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقررنے یہ تاثر کمزور کر دیا ہے۔

نہال ہاشمی کے گورنر بننے سے سندھ میں مسلم لیگ ن کے احیا کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے۔ سندھ میں ن لیگ کی تنظیم اور کارکن دونوں مایوسی کا شکار رہے ہیں۔ وہ خود کو نظر انداز کیا ہوا اور پچھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ سندھ میں اس جماعت کے اثر و نفوذ میں کمی ہوئی ہے۔ شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر اوردیگر لیگی کارکنوں اور راہ نماؤں نے ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ وہ مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ خواجہ طارق نذیر کئی دہائیوں تک مسلسل متحرک رہنے کے بعد تقریباً گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ناصر الدین محمود اور دیگر راہ نما خاموش ہیں یا کسی دوسری جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کا تقرر مسلم لیگ ن سندھ کے لیے خوش آئند ہے۔ بہتر ہو کہ شاہ محمد شاہ، خواجہ طارق نذیر، علی اکبر گجر اور دیگر مخلص راہ نماؤں کو مرکز اور صوبے میں ذمے داریاں سونپی جائیں ۔ یوں یہ خوابیدہ جماعت سندھ میں ایک بار پھرطاقت پکڑ سکتی ہے۔

آخر میں گورنر صاحب کے لیے ایک ضروری مشورہ، صدر ممنون حسین مرحوم و مغفور نے خصوصی دل چسپی لے کر انجمن ترقیِ اردو کی عمارت تعمیر کرائی تھی اور اس ادارے کو تباہی سے بچایا تھا۔ بھائی نہال ہاشمی کو اپنے پیش رو کے اس ورثے کی حفاظت کرنی ہے اور قومی زبان کی خدمت کرنے والے ادارے کے سر پر دست شفقت رکھنا ہے۔میں ذاتی طور پر اُن سے بس یہی چاہتا ہوں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان دوراہے پر! – ایکسپریس اردو

Published

on


تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں انسانیت کے حق میں کبھی اچھی ثابت نہیں ہوئیں بلکہ ہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم ہوتی ہے۔ شکست و فتح سے قطع نظر جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔

دنیا کے طاقت ور حکمرانوں نے اپنی انا کی تسکین اور تکبر و گھمنڈ کے نشے میں چور ہو کر اپنے سے کمزور ملکوںو ریاستوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور اپنا تسلط قائم کرنے اور انھیں اپنا دست نگر بنانے کے لیے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے اور خون کی ہولی کھیلنے سے دریغ نہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر زمین پر جو قیامت صغریٰ برپا کی جاپانی قوم کئی دہائیوں تک اس کے مضر اثرات سے باہر نہ آ سکی۔ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن امریکا پر کمزور ملکوں کو تسخیر کرنے کا جنون آج بھی سوار ہے، ویت نام، سیریا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد اب ایران اس کے نشانے پر ہے۔ بدقسمتی سے امریکا پر صدر ٹرمپ جیسے شخص کی حکمرانی ہے جس کے قول و فعل میں اتنے تضادات ہیں کہ اعتماد و اعتبار کرنا آسان نہیں۔ اس پہ مستزاد ٹرمپ کے مشیران ووزرا ہیں جو انھیں بہکانے اور اکسانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایران پر حملے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ انھیں ان کے مشیروں اور وزیروں نے بتایا کہ ایران امریکا پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ایران پر ہم نے حملہ کیا۔ جنگ کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آڈیو بیان میں دو ٹوک اور صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے ہر اس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ میں شہید ہوا ہے۔ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی انھوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں بصورت دیگر ان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیوں کہ میں ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں۔

امریکا اور ایران ہر دو جانب سے قیادت کے سخت گیر بیانات اور غیر لچکدار رویے کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، امریکا نے ایران پر شدید ترین حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اور B-2 طیارے حملے کے لیے روانہ کر دیے ہیں، مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ ایران میں اپنے مطلوبہ اہداف جلد حاصل نہ کرسکے اور ایران کی مزاحمت تادیر جاری رہی، جس کے امکانات بعیداز قیاس نہیں، تو وہ اپنی فتح کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتے ہیں جو تباہی و بربادی کی یقینا ایک نئی خون آشام داستان رقم کرے گا، ٹرمپ نے پانچ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دنیا بھر کے رہنما صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جی 7 گروپ نے امریکا سے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین اگرچہ سفارتی سطح پر جنگ رکوانے کے لیے اپنی غیر مرئی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل و امریکا کی ہٹ دھرمی کے باعث چین و روس کی کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے صدر ٹرمپ روس سے یوکرین کے خلاف جنگ رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پیوٹن نے ٹرمپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ غالباً اسی باعث روس ایران امریکا جنگ رکوانے میں موثر کردار ادا نہیں کر پا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے۔

اگرچہ پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی بھرپور مذمت کی ہے تاہم حکومتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ایسا کوئی مطالبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس جنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

چوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند ماہ قبل ایک سیکیورٹی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔ سعودی عرب میں بھی قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ بقول مجتبیٰ خامنہ ای مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں موجود فوجی اڈے بند کیے جانے تک حملے جاری رہیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ وہ حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ سعودی عرب ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ناامیدی کو ذہن سے نکال دیجیے!

Published

on


رابرٹ بریٹ (Robert Barrat) 1957 میں لندن میں پیدا ہوا۔ اسے بچپن سے گہرے پانیوں میں زندگی گزارنے کا شوق تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ نیلگوں سمندر اور اس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ ہے۔ اسکول مکمل کرنے کے بعد‘ فیصلہ کیا کہ اپنے ملک کی بحریہ میں ملازمت کرے گا۔ حکومتی اداروں سے رابطہ کرنے کے بعد‘ پتہ چلا کہ برطانوی نیوی میں آنے کے لیے کڑے امتحان کی ضرورت ہے۔

اب کالج جا رہا تھا۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد گراؤنڈ میں چلا جاتا اور بہت سخت کوش ورزش کرتا۔ ساتھ ساتھ جم بھی کرنا شروع ہو گیا۔ چند ماہ بعد ‘ ایسے لگتا تھا کہ اس کا جسم فولاد کا بنا ہوا تھا۔ چھ فٹ سے زیادہ قد اور ایک کسرتی باڈی ۔خیر ‘ بحریہ میں جانے کا امتحان دے ڈالا۔ جو اس نے آسانی سے پاس کر لیا۔ اب اسے برطانوی نیوی میں نوکری مل گئی۔ زندگی کا خواب مکمل ہو گیا۔ تعیناتی‘ ایک جنگی جہاز پر ہوئی۔ جو تقریباً چار ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جب واپس بندرگاہ پر آیا تو رابرٹ اپنے سینئر افسر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بالکل چھٹیاں نہیں کرنا چاہتا۔ اسے جتنی بھی جلدی ہو‘ فوراً کسی دوسرے جنگی جہاز پر دوبارہ سمندر میں بھیج دیا جائے۔ سینئر افسر حیران رہ گیا۔ کیونکہ ایسا ہوتا نہیں تھا۔ جو بھی افسر ‘ چار پانچ ماہ ‘ مسلسل بحری بیڑے کا حصہ رہتا تھا۔ اسے دو ہفتہ کے لیے چھٹیاں دی جاتی تھیں۔ اس رویے کے برعکس رابرٹ ضد کر رہا ہے کہ اسے فوراً سے پیشتر ‘ دوبارہ پانی میں بھیج دیا جائے۔ حکم دیا کہ ڈاکٹر اس کا ذہنی توازن دیکھیں۔ بحریہ کے ڈاکٹرز نے بڑی محنت سے اس کا نفسیاتی معائنہ کیا۔ لکھ کر دیا کہ رابرٹ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی زندگی میں سب سے بڑا عشق گہرے پانیوں میں نوکری کرنا ہے۔

سینئر افسر نے رپورٹ پڑھی ۔ اسے ‘ ایک ایسے جنگی جہاز میں تعینات کر دیا جو کافی مدت کے لیے ایک مہم پر جا رہا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔ رابرٹ ‘ اپنے شوق کی بدولت پوری برطانوی بحریہ میں بہترین افسروں کی فہرست میں آ گیا۔ دو بلکہ ڈھائی دہائیاں گزر گئیں۔ ایک دن رابرٹ عرشے پر آرام سے پیدل چل رہا تھا کہ ایک بھاری مشین کا ٹکڑا حادثاتی طور پر اس پر آن گرا‘ اس کی بائیں ٹانگ کچلی گئی۔ درد کی شدت سے بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو ایک اسپتال میں تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے‘ ایک نزدیکی برطانوی اسپتال میں لایا گیا تھا۔ جیسے ہی ہوش میں آیا تو ایک تجربہ کار سرجن‘ ملنے کے لیے آیا۔ بتانے لگا کہ اس نے پوری کوشش کی ہے ۔ مگر اب اس کی ٹانگ کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ہڈی‘ اتنی بری طرح کچلی جا چکی ہے کہ اس کا جڑنا ناممکن ہے۔

اب ایک ہی حل ہے کہ اس کی ٹانگ کو کاٹ دیا جا ئے۔ رابرٹ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔معلوم تھا کہ اس کی بقیہ زندگی ایک اپاہج کے طور پر گزرے گی کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کاٹ دی گئی ۔ ایک ماہ اسپتال گزارنے کے بعد‘ جب واپس اپنے گھر آیا تو بیساکھی کے سہارے چل رہا تھا۔ چارماہ گزر گئے۔ رابرٹ واپس سرجن کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بیساکھیوں کا سہارا لینا بہت معیوب لگتا ہے۔ اسے مصنوعی ٹانگ لگا دی جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ اسپتال میں مصنوعی اعضا کے ڈیپارٹمنٹ نے اس کے لیے بہت اچھی‘ مصنوعی ٹانگ بنا دی۔ رابرٹ اس کے بعد‘ بیساکھیوں کے بغیر چلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑا سا لنگڑاتا ضرور تھا ۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔

مگر ابھی بہت کچھ ہونا باقی تھا۔ رابرٹ عزم و ہمت کا ایک پہاڑ تھا۔ ایک دن ‘ اپنے گھر کے نزدیک ایک گراؤنڈ میں گیا۔ وہاں کے کوچ سے ملا۔ اسے تمام صورت حال بتائی اور کہا کہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ دوڑنا چاہتا ہے۔ کوچ پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اسے‘ ایک معذور آدمی کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ مگر صرف اتنا اندازہ تھا کہ معذور لوگوں کو دوڑنے کی تربیت دینے کے لیے ایک پورا محکمہ موجود ہے۔ رابرٹ کو وہاں بھیج دیا گیا۔ جب منتظمین نے رابرٹ کی ہمت دیکھی تو ایک کہنہ مشق کوچ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس نے رابرٹ کی ٹریننگ شروع کر دی۔ ایک سال بعد‘ کوچ اور رابرٹ کی ریاضت رنگ لے آئی اور وہ بڑی آسانی سے گراؤنڈ میں بھاگنا شروع ہو گیا۔ اس کی رفتار بھی بہت تیز تھی ۔ 1988 میں سوئل (Seoul) میں پیرا اولمپکس تھیں۔

کوچ نے رابرٹ کو کہا کہ وہ پیرا اولمپکس کی تیاری شروع کر دے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ رابرٹ کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ مگر ایک ٹانگ کے ساتھ‘ میں کیسے دوسروں کا مقابلہ کروں گا؟ کوچ نے اسے ہمت دلائی۔ اس کی ٹریننگ مزید سخت کر ڈالی۔ پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے‘ اب رابرٹ مکمل طور پر تیار تھا۔ تیز رفتار دوڑ دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اس نے اپنے لیے ‘ سو میٹر کی دوڑ منتخب کی جو کہ حددرجہ دشوار تھی۔ جب اپنے مخصوص اسپورٹس میں دوڑ لگائی‘ تو لوگ رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ساتھ ساتھ رابرٹ نے سو میٹر کی وہ دوڑ بھی لگائی جس میں چار ایتھلیٹ ‘ ٹیم بنا کر دوڑتے ہیں۔ دونوں ریسوں میں کامیاب ٹھہرا۔اسے کانسی کے تمغے سے نوازا گیا۔ اب رابرٹ ہر مقابلہ میں حصہ لیتا تھا۔

بار سیلونا میں 1992 کی پیرا اولمپکس میں بھی حصہ لیا۔ اس میں بھی اسے امتیازی تمغہ سے نوازا گیا۔ دس برس کے عرصہ میں رابرٹ نے یورپ اور اپنے ملک یعنی یو کے ، کے ہر مقابلہ میں حصہ لیا۔ مختلف مقابلوں میں گولڈ میڈل تک لیتا رہا۔ بارسلونا کی پیرا اولمپکس کے بعدریٹائر ہو گیا اور ایک بینک میں ملازمت کر لی۔ اس کا جذبہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی توانا رہا۔ تین مختلف رگبی ٹیمز کا کھلاڑی بن گیا۔ ساتھ ساتھ قومی سطح پر معذور لوگوں کو اسپورٹس سکھانے کا کوچ بن گیا۔ آج کل ‘ لندن کی والی بال ٹیم سے بھی منسلک ہے۔ ساتھ ساتھ ‘ برف پر اسکیٹنگ کرنے کا بھی شوقین ہے۔ رابرٹ آج بھی ایک بھرپور اور آسودہ حال زندگی گزار رہا ہے۔

سوچ رہے ہوں گے کہ ایک معذور آدمی کی سچی کہانی سنانے کا کیا مقصد ہے؟ جناب یہ حقائق آپ کی زندگی تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی طرح‘ نامکمل ہوتا ہے۔ کوئی ذہنی آزمائش میں مبتلا ہے۔ تو ایک خاص اقلیت ‘ جسمانی معذوری کا شکار ہے۔ جسمانی طور پر نامکمل ہونا تو نظر آتا جاتا ہے۔ مگر ذہنی طور پر مسائل دوسروں کو بہت کم ہی معلوم پڑتے ہیں۔ تمام انسانوں کی بات نہیں کر رہا۔ مگر ایک محدود تعداد‘ کسی نہ کسی سقم کا شکار ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں ‘ جہاں بے بس لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دوسرے انسان اکثر ایک منفی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ وہاں‘ سب سے بڑا مسئلہ ‘ امید کا ختم ہو جانا ہے۔

ان گنت نوجوان پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تو مسائل ہی بہت گھمبیر ہیں؟ یہ رویہ ذہنی ہو یا جسمانی ۔ دراصل یہی رویہ آپ کاسب سے بڑا دشمن ہے۔ اور کامیابی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے ‘ ناامیدی سب سے پتھریلی رکاوٹ ہے۔ جس نے آپ کی صلاحیت کو مقید کر رکھا ہے۔ مسائل جو کچھ بھی ہوں ۔ اگر آپ میں آگے بڑھنے کا عزم ہے تو یقین فرمائیے کوئی بھی دنیاوی طاقت راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بہت سے نوجوان یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کاروبار کرنے کے لیے کوئی سرمایہ بھی نہیں ہے۔

یقین فرمائیے اگر آپ ہمت دکھائیں تو یہ کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔تھوڑا عرصہ پہلے‘ کووڈ کی بلا نے پورے پاکستان کو بند کر رکھا تھا۔ ہمارا ملک ہی کیا ‘ پوری دنیا ہی جمود کا شکار تھی۔ لاہور میں ایک سولہ سترہ سال کے نوجوان نے اپنے ہاتھ سے برگر بنانے شروع کر دیے۔ لاہوری ذائقہ کے مطابق بنے ہوئے یہ برگر‘ پہلے مقامی آرڈر پر بناتا رہا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ‘ اس نے آن لائن آرڈر لینے شروع کر دیے۔ صرف تین برس میں اس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ آج لاہور ہی میں اس کے تین ریسٹورینٹ ہیں۔ جو صرف برگر بنا کر بیچتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گھر کے نزدیک ہے۔ وہاں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ انتظار تقریباً تیس منٹ تک کا ہے۔ لوگ بڑے آرام سے انتظار کرتے ہیں۔یہ کامیابی بالکل سامنے کی بات ہے۔

دراصل رابرٹ نے ایک چیز ثابت کی ہے کہ ناامیدی ‘ کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending