Connect with us

Today News

اسلام آباد میں ایران-امریکا ‘بریک تھرو’ مذاکرات ہوتے ہوتے رہ گئے

Published

on



پاکستان نے خلیجی جنگ روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بھرپور خاموش سفارتی کوشش کی اور دو مرتبہ یہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا۔

حکومت کے پس منظر میں ہونے والی سفارت کاری سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد حال ہی میں دو مختلف اوقات میں ایرانی عہدیداروں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے دورے کے لیے تیار ہوئے تھے۔

جے ڈی وینس کی دونوں دفعہ اسلام آباد کے دورے کی کوششیں عین وقت پر تہران کی جانب سے اندرونی مشاورت اور بالآخر شرکت کے خلاف فیصلے کے بعد ناکام ہوئیں۔

حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی وفد اپنے نائب صدر کی سربراہی میں گزشتہ چند روز میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو تیار تھا، ہم بہت قریب تھے، گزشتہ 10 روز کے دوران دو مرتبہ ہم انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار تھے بدقسمتی سے دونوں مواقع پر ایران نے نظرثانی کی اور اپنی ٹیم نہیں بھیجی۔

پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے غیرجانب دار کردار کی پوزیشن سرگرم انداز میں برقرار رکھی ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر پیش کش بھی کیا ہے۔

یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کی علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر کوششیں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کے پیش نظر کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

وفاقی حکومت کے عہدیدار نے نشان دہی کی کہ امریکا نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی جبکہ ایران موجودہ حالات کے تحت مذاکرات میں شمولیت کے خطرات کا زیادہ محتاظ انداز میں جائزہ لے رہا تھا، ‘مجھے کہنے دیجیے ہم ایرانی جواب سے کسی حد تک مایوس بھی ہوئے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘امریکا کے حوالے سے ان کے تحفظات حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت قابل فہم ہیں لیکن سفارت کاری کو ہمیشہ موقع دینا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے نازک موقع پر’۔

حکومتی عہدیدار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوشش کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ تہران میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مذاکرات کے لیے دورے کی تیاری کرلی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ طے شدہ دورہ سیکیورتی خدشات کے باعث نہیں ہوسکا اور ایرانی حکام کی جانب سے آگاہ کردیا گیا کہ موجودہ حالت کے پیش نظر سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوگی جس کے باعث پاکستان کو اپنا دورہ مؤخر کرنا پڑا۔

حکومتی عہدیدار کے بیانات خطے میں جاری پس پردہ ہونے والی فعال سفارتی سرگرمیوں کی ایک بڑی جھلک کا عکاس ہیں، یہ ایسی کوششیں ہیں، جو عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

پاکستان کا کردار یہاں ثالثی تک محدود نہیں رہا، اس کا سفارتی عمل اور خاص طور پر اسرائیل پر تنقید کو خلیج کے مخصوص ممالک میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا جس کا عکس 19 مارچ کو ریاض میں منعقدہ 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا جہاں یہ ممالک خطے کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔

عہدیدار کے مطابق اجلاس سے چند لمحے قبل ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا بعد میں اسحاق ڈار بھی اس فون کال میں شامل ہوئے، اس دوران عباس عراقچی نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ اجلاس کا مشترکہ بیان یک طرفہ یا ایران پر غیرمتناسب تنقید کے ساتھ نہیں ہو۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوا تھا جب پورے ریاض میں ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن بج رہے تھے۔

پاکستانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے دوران بیان کا ایک ڈرافٹ دیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر ایران کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، پاکستان نے ڈرافٹ کی زبان پر سخت اعتراض کیا اور مؤف دیا کہ اس میں بحران کی بنیادی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے زور دیا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور بنیادی مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں’ اور کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد پاکستان کو ڈارفٹ میں اہم ترامیم، غیرجانب داری یقینی بنانے اور الزامات میں کمی لانے میں کامیابی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا یہ سخت مؤقف تمام شریک کاروں کو اچھا نہیں لگا، چند ممالک اسلام آباد کی پوزیشن پر ناخوش نظر آئے اور اس کو ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردانہ طور پر دیکھا گیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ کسی ایسے فوجی یا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے محتاط بھی رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں کثیرالملکی ٹاسک فورس کی ممکنہ تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی ہے، ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدام کو بعض لوگ ممکنہ طور پر اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔

یہ محتاط حکمت عملی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی، جس کا مقصد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا، اسلام آباد نے دعوت مسترد کر دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اقدام پاکستان کے کشیدگی کم کرنے اور غیر جانب داری کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

چلتی مسافر کوچ میں لوٹ مار، تین مسافر زخمی، ملزمان نقدی اور موبائل فونز لے کر فرار

Published

on



اسلام کوٹ سے حیدرآباد آنے والی ایک مسافر کوچ میں مسلح افراد نے دورانِ سفر لوٹ مار کی، جس کے دوران تین مسافر زخمی بھی ہو گئے۔ واردات کا واقعہ حیدرآباد-میرپورخاص روڈ پر پیش آیا۔

پولیس کے مطابق سات ملزمان میرپورخاص سے مسافروں کے بھیس میں کوچ میں سوار ہوئے اور جیسے ہی کوچ ٹنڈوالہیار کے علاقے کیہری شاخ کے قریب پہنچی تو انہوں نے اسلحہ نکال کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے کوچ میں موجود مسافروں سے کئی لاکھ روپے نقدی اور مختلف اقسام کے موبائل فون لوٹ لیے۔

پولیس کے مطابق لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں ملزمان ٹنڈوجام کے قریب باغ بی بی فاطمہ کے مقام پر کوچ رکوا کر فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد متاثرہ مسافر جب تھانہ راہوکی کی حدود میں پہنچے تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایچ او تھانہ راہوکی سب انسپیکٹر نورشہباز رند کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے ابتدائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔

آئی جی سندھ نے ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے، پٹرولنگ اور سرچ آپریشن تیز کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر پولیس پکٹنگ اور چیکنگ مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید

Published

on



وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دے دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ذرائع، خصوصاً سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے امن و مذاکرات کے فروغ کے لیے مبینہ اقدامات کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے، تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری ذرائع سے منسوب تمام ایسے بیانات غلط ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

ترجمان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جمعہ کو وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جس میں ایسے معاملات کو شامل کیا گیا جن پر نہ بات ہوئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی حساس صورتحال کے پیش نظر ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست و مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری بیانات اور میڈیا ریڈ آؤٹس پر انحصار کریں۔

ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

جنگی طیارے کی تباہی سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، ٹرمپ

Published

on



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال جنگی نوعیت کی ہے اور ایسے حالات میں اس طرح کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتا عملے کے رکن کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا کے تین جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان طیاروں کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عملہ زخمی ہوا۔

پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق امریکا کے جدید ایف 35 طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے 10 طیارہ بھی تباہ کیا گیا، قیشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو امریکی لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending