Connect with us

Today News

اسلام آباد ٹریفک پولیس کی وردی تبدیل، جدید الیکٹرک گاڑیاں بھی شامل کرنے کا فیصلہ

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس کی وردی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ذرائع کے مطابق نئی یونیفارم کو کالے اور گرے رنگوں میں متعارف کرایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا عمل دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ٹریفک پولیس کے دفاتر میں تعینات عملے کی وردی تبدیل کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں فیلڈ اسٹاف کو نئی یونیفارم فراہم کی جائے گی۔

مزید برآں ٹریفک پولیس کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے نئی الیکٹرک ایس یو وی گاڑیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق درجن بھر الیکٹرک ایس یو ویز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو ٹریفک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دیں گی۔

اطلاعات کے مطابق چینی کمپنی کی تیار کردہ یہ الیکٹرک گاڑیاں عید کے موقع پر اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر تعینات کی جائیں گی تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کا امریکا کے جنگی طیارے ایف 35 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیو بھی وائرل

Published

on


پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایک کارروائی کے نتیجے میں امریکی جدید جنگی طیارہ ایف 35 متاثر ہوا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے کو مبینہ طور پر فائرنگ کا سامنا کرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طیارہ ایک جنگی مشن پر تھا جب اسے اچانک تکنیکی یا حملے سے متعلق صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے تصدیق کی کہ ففتھ جنریشن کا یہ طیارہ محفوظ طریقے سے لینڈ کر گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاہم انہوں نے کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب ایرانی موقف اس سے کہیں زیادہ جارحانہ ہے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے رات تقریباً 2 بج کر 50 منٹ پر طیارے کو نشانہ بنایا اور امکان ظاہر کیا کہ طیارہ شدید نقصان کا شکار ہوا۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی بہتر صلاحیتوں کا ثبوت ہے، اور وہ اس سے قبل بھی متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

ایرانی میڈیا پر جاری ویڈیوز میں ایئر ڈیفنس یونٹس کو ایک طیارے کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ امریکی فضائی بیڑے میں شامل ایف 35 اسٹیلتھ طیارہ ففتھ جنریشن کا جدید ترین جہاز ہے جس کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زائد ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مہنگائی گزیدہ پاکستانیوںاور جنگ زدہ ایرانیوں کی عید!

Published

on


رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے ۔خوش بخت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کی مقدور بھر کوششیں کیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اگلے رمضان شریف کی برکات کون سمیٹ سکے گا اور کون اِن کے فیوض سے مستفیض ہو سکے گا۔ عید مگر آ رہی ہے۔ شائد آج بروز جمعہ عیدالفطر ہو ہی جائے ۔ یہ’’ شائد‘‘ کا بھی عجب معاملہ ہے۔پکی بات نہیں ہے کہ آج 20مارچ 2026کو عید ہو گی یا نہیں ۔ ہر سال عید الفطر کی آمد آمد پر ایسا ہی ’’شائد‘‘ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ۔

شائد اِسی لیے 16مارچ کو اسلام آباد کے ایک شہری ( عبداللہ شفیق)نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک انوکھی درخواست دائر کی ۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ’’ روئتِ ہلال کمیٹی کو عید الفطر کا چاند نظر آنے پر جَلد اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے کہ عید کے اعلان میں تاخیر کے باعث لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے کے باعث بازاروں میں اچانک رَش بھی بڑھ جاتا ہے اور انتظامیہ کے لیے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘

دیکھا جائے تو عدالتِ عالیہ کے رُو برو یہ درخواست اتنی بے جا بھی نہیں ہے ۔ مگر کیا کِیا جائے کہ ہماری عید جناب چاند صاحب کے طلوع ہونے سے مشروط ہے ۔ مگر یہ عید بھی کیا عید ہے ؟ بے لگام اور بے انتہا مہنگائی نے اگر اکثریتی پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو ایرانیوں اور اہلِ غزہ کو جنگ نے پریشان حال اور در بدر کر رکھا ہے ۔ امریکی و اسرائیلی طاغوت نے مل کر ایران اور غزہ پر جنگوں کے مہیب اور مہلک سائے مسلّط کر رکھے ہیں ۔ غزہ کی راکھ اور کھنڈرات پر مظلوم و برباد شدہ فلسطینی عید منائیں بھی تو کیسے ؟ یہی حال ایرانی بھائیوں کا ہے ۔

اِس وقت عالمِ اسلام کی جو مجموعی صورتحال ہے ، اِس پر کچھ عرصہ قبل ممتاز عالمِ دین و مفکر و مصنف علامہ یوسف القرضاوی( جو تھے تو مصری، مگر اُنھوں نے زندگی کا زیادہ حصہ قطر میں گزارا اور وفات کے بعد بھی قطر ہی میں دفن ہُوئے )نے عید کی آمد پر کہا تھا:’’ہم عید کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ہم عید کیسے منائیں؟ جب کہ ہماری اُمت اِس حال میں ہے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو قتل اور ذبح کیا جارہا ہے ، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزررہی ہیں ، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اِن مصیبت زدگان کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں ۔ ایسے میں ہم زندگی اور عیدین سے کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں؟ہم کیسے ہنس اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں؟۔‘‘

علامہ یوسف القرضاوی مرحوم نے ٹھیک اور درست ہی تو لکھا اور کہا تھا۔ہم اِس عید کے موقع پر بھی سرکش و غاصب صہیونی اسرائیل اور منہ زور و انتہائی طاقتور امریکا کی جانب دزدیدہ و خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عید ایسے حال میں آئی ہے جب اسرائیل و امریکا متحد و متفق ہو کر ایران کے سب سے بڑے اور بزرگ ترین روحانی رہنما، 86سالہ جناب آئیت اللہ علی خامنہ ای کو (اُن کے کئی فیملی ممبرز سمیت) شہید کر چکے ہیں ۔17مارچ 2026کو صہیونی اسرائیل نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ، علی لاریجانی ، اور اُن کے صاحبزادے ( مرتضیٰ لاریجانی) کو بھی شہید کر ڈالا۔  اِس عید پر ہم سب اِنہیں شدت سے یاد کر رہے ہیں ۔

تہران و اصفہان ایسے مرکزی ایرانی شہر صہیونی اسرائیلی و مسیحی امریکی بموں اور میزائلوں کے دھماکوں سے تقریباً کھنڈر بن رہے ہیں ۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی ناجائز جنگ کو مسلّط ہُوئے آج تیسرا ہفتہ ہو چکا ہے ۔ تقریباً دو ہزار ایرانی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ 36لاکھ ایرانی گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ مگر شاباش دینی چاہیے دلیر ایرانی حکام اور ایرانی عوام کو کہ پوری ہمت کے ساتھ جارح و قاہر قوتوں کے خلاف ڈٹے ہُوئے ہیں۔ ایرانی افواج و اسٹیبلشمنٹ نے آبنائے ہرمز کی شہ رَگ پکڑ کر پاکستان سمیت امریکا و یورپ اور عالمِ عرب کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے (سابق) سربراہ ، علی لاریجانی شہید، نے کہا تھا : ’’آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر بند رہے گی ۔‘‘

پاکستان تو ایران کے دشمنوں میں سے نہیں ہے ۔ الحمد للہ۔ ایران کے وزیر خارجہ ( جناب عباس عراقچی) نے تو 16مارچ کو اپنے’’ ایکس‘‘ اکاؤنٹ پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی محبتوں اور تعاون کی تعریف بھی کی ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ اِس سے قبل پچھلے سال ( جب جون میں صہیونی اسرائیل نے ایران پربے جا حملہ کیا تھا) بھی ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کا تشکر کیا تھا کہ پاکستان نے کسی بھی خطرے اور کسی کی بھی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہُوئے ایران کی زبردست حمائت کی تھی۔

پاکستان جاری پُر خطر حالات میں شاندار سفارتکاری کرتے ہُوئے مستحسن کوششوں میں ہے کہ کسی طرح امریکا اور ایران میں سفارتی اور مکالماتی تعلقات بحال ہو جائیں اور دُنیا جاری بڑے جنگی عذابوں اور مالی بحرانوں سے نجات پا جائے ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان اور پاکستانی عوام بجا طور پر توقعات رکھتے ہیں کہ بہادر اور غیور اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں اُن پاکستانی ٹینکروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو پاکستان کے لیے تیل اور گیس لا رہے ہیں ۔

ہم یہ عید کیسے منائیں جب حملہ آور صہیونی اسرائیل و امریکا کے ہاتھوں ہمارے ایرانی اسلامی بھائیوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہو ۔ جب ایران کے چپے چپے پر آتش و آہن کی بارش ہو رہی ہو ۔ہم یہ عید خوشی ، مسرت اورامن کے ساتھ کیسے منا سکتے ہیں جب خلیجی ریاستیں جنگ کے مہیب سایوں میں اپنا امن و چَین کھو چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں دینی فریضہ سمجھ کر عید الفطر تو بہرحال منانی ہی ہے۔یہ عید ایسے حالات میں پاکستانیوں پر طلوع ہُوئی ہے جب نئی مہنگائی کے شکنجے نے سارے پاکستانیوں کو بے بسی اور بے کسی کے آہنی چنگل میں جکڑ رکھا ہے ۔

جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں رُوح فرسا اور کمر شکن اضافہ ہو چکا ہے ۔ جب خورو نوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کا گراف بے تحاشہ بلند ہو چکا ہے اور اِس گراف کے نیچے آنے کی کوئی صورت و شکل سامنے نہیں آ رہی ۔ بلکہ یہ ہوشربا خبریں گردش میں ہیں کہ ابھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ مطلب غریب اور چند نوالوں کے محتاج عوام کی محتاجیاں اور عسرتیں مزید قیامت خیز ہونے والی ہیں ۔ ایسے مایوس کن حالات میں پاکستانی عید منائیں بھی تو بھلا کیسے ؟

 عید تو خوشیوں اور مسرتوں کا نام ہے ،مگر جب جیب مطلوبہ روپوں سے خالی ہو ، جب ہاتھ تہی ہو گئے ہوں تو کیسی عید ؟محدود سی تنخواہ اور مزدوری پانے والے بھی عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے خرید کر دینا چاہتے ہیں ۔ مگر بازار میں آسمان سے لگی قیمتیں دیکھ کر دل تھام کر اور نظریں جھکا کر رہ جاتے ہیں۔ مایوسیوں اور دل گرفتگی کی کوئی حد نہیں ہے۔دوسری طرف وطنِ عزیز کے اعلیٰ سرکاری مراعات یافتہ طبقات ، اعلیٰ ترین جملہ سرکاری افسران و بیوروکریسی ، خود ساختہ اشرافیہ اور بے مہار کاروباری طبقات کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اکثریتی عوام کے دلوں اور دماغوں پر مہنگائی اور گرانی کی جو بجلیاں گررہی ہیں۔

 اِن سے اِن طبقات کا کوئی تعلق ہے نہ کوئی واسطہ اورنہ ہی کوئی سروکار۔ہر محلے، ہر گلی ،ہر شہر میں کئی سماجی خلیجیں جنم لے چکی ہیں ۔ محروم و محتاج تر ہوتے طبقات میں غصہ بڑھ رہا ہے ۔ سماجی پریشر کُکرمیں بھاپ روز افزوں ہے ۔ مراعات یافتہ سرکاری طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے اللے تللے دیکھ کر عوام کئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں ۔ مگر حکمران قوانین کا سہارا لے کر عوام کو ڈرا رہے ہیں : خبردار ، کوئی سوال مت پوچھنا ، وگرنہ دَھر لیے جاؤ گے !وفاقی وزیر قانون اور پنجاب کی ایک سینئر وزیر نے ابھی اگلے روز ہی ہم سب کو متنبہ کیا ہے ۔ شاد لکھنوی نے کہا تھا:نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے /گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے !!





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کا اسرائیل کی آئل ریفائنری پر بڑا میزائل حملہ، حیفہ کو بجلی کی فراہمی معطل

Published

on


ایران کی سب سے بڑی توانائی تنصیبات پارس گیس فیلڈ پر صیہونی حملے کے بعد جوابی کارروائی میں اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنری پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، تاہم زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نقصان معمولی نوعیت کا ہے اور کسی بڑے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے توانائی کے منصوبوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور تہران کی جانب سے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو “زیرو ریسٹرینٹ” کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending