Connect with us

Today News

اسمگلنگ سے قومی معیشت کو 750 ارب روپے نقصان پہنچنے کا انکشاف

Published

on



قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جاری اسمگلنگ کے باعث پاکستان کی رسمی اور دستاویزی معیشت کو 750 ارب روپے (تقریباً 2.7 ارب امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچا ہے۔

ایف بی آرکے ممبر کسٹمز آپریشنز شکیل شاہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہا کہ اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے نفاذ سے ملک میں دستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا اور ڈیوٹی و ٹیکسوں کی چوری روکنے میں مدد ملے گی، ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے ذریعے رسک بیسڈ بیکنگ اور مانیٹرنگ ہوگی۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ کیا ٹیکنالوجی سے لیس انفورسمنٹ اسٹیشنز پر 100 فیصد گاڑیوں اور سامان کی جدید نظام کے ذریعے نگرانی اور ٹریکنگ نہیں ہوگی، جس پر ممبر کسٹمز آپریشنز نے بتایا کہ رسک بیسڈ رینڈم نگرانی ہوگی۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں جاری اسمگلنگ کے باعث پاکستان کی رسمی اور دستاویزی معیشت کو 750 ارب روپے (تقریباً 2.7 ارب امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچ چکا ہے، اسمگلنگ نے نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان سے دوچار کیا بلکہ مقامی منڈیوں کا توازن بھی بگاڑ دیا ہے، جائز کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے اور متوازی معیشت کو فروغ دیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر کے مجوزہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (2026-27) پر غور کیا گیا، جس کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے 49 ارب 22 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام سے 250 ارب روپے کی اضافی وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ممبر کسٹمز آپریشنز شکیل شاہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بلوچستان میں انسداد اسمگلنگ اقدامات کے نتیجے میں پیٹرولیم سیکٹر سے 188 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ روایتی انسداد اسمگلنگ طریقہ کار سیکیورٹی مسائل، جغرافیائی رکاوٹوں اور وسائل کی کمی کے باعث مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمت عملی کے تحت بلوچستان میں 25 ڈیجیٹل کسٹمز اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جبکہ 10 اہم چیک پوسٹوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، ان ٹیکنالوجی سے لیس انفورسمنٹ اسٹیشنز پر گاڑیوں اور سامان کی جدید نظام کے ذریعے نگرانی اور ٹریکنگ کی جائے گی تاکہ غیر قانونی نقل و حمل کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔

شکیل شاہ نے بتایا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت بورڈ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کرکے کسی بھی مقام کو ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن قرار دے سکے یا کسی موجودہ کسٹمز چیک پوسٹ کو ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کا درجہ دے دے اسی طرح بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ان اسٹیشنز کے عملے، آپریشنز اور ٹیکنالوجی سے متعلق قواعد و ضوابط مرتب کرے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عملی اقدامات کی ضرورت – ایکسپریس اردو

Published

on


سندھ اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ اسمبلی نے ہندوستان کے مسلمانوں سے ایک قرارداد کے ذریعے اپیل کی کہ وہ سندھ میں آکر آباد ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد جو مہاجر سندھ آئے سندھیوں نے انھیں خوش آمدید کہا مگر بعد میں صوبے میں لسانی تضادات ابھرے۔ برسرِ اقتدار حکومتوں میں سے کچھ نے ان تضادات سے اپنے مفادات پورے کیے اور کچھ حکومتوں نے ان تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اب اگر سندھ کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو پیدا ہونے والے تضادات کے اثرات اگلی صدی تک پڑیں گے۔

سندھ اسمبلی نے سندھ کو توڑنے کے خلاف قرارداد تو منظور کر لی مگر صوبے میں بدترین طرزِ حکومت اور عدم شفافیت کی جڑوں کو ختم کرنے کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی شہر کی اونر شپ نہیں لی بلکہ یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے علاوہ دیگر جماعتیں برسر اقتدار آئیں تو انھوں نے بھی کراچی کی اونر شپ نہیں لی۔ کبھی کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں آگے تھا مگر حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی لاہور سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔

 پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر سندھ پر 28 سال حکومت کی ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس شہر کو جدید شہر بنانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔ سب سے پہلے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ کا جائزہ لیا جائے تو حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی 70ء کی دہائی کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیچھے چلا گیا ہے۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت آئی تو اس شہر میں ڈبل ڈیکر بس، ٹرام اور سرکلر ریلوے چلا کرتی تھی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت نے ٹرام وے سروس کو بند کر دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ماس ٹرانزٹ پروگرام تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوا، جب پیپلز پارٹی نے 1988کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو ماس ٹرانزٹ پروگرام کے بارے میں کچھ فائلوں میں کام ہوا تھا۔ جب بے نظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993 میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں تو فہیم الزماں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ اس وقت وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ماس ٹرانزٹ پروگرام کا سنگِ بنیاد رکھا تھا مگر پھر فہیم الزماں پیپلز پارٹی کے نئے کلچر میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے۔

ان کے رخصت ہونے کے بعد ماس ٹرانزٹ پروگرام کہیں کھو گیا، سرکلر ریلوے بھی بند ہوگئی۔ کراچی بد امنی کا شکار ہوا۔ نجی شعبہ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بند کردی۔ جب 2008میں پیپلز پارٹی کی تیسری دفعہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومت بنی تو شہری چین کے مال برداری کے لیے تیار کردہ چنگ چی پر سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ چند سال قبل شرجیل انعام میمن کو پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ دیا گیا۔ حکومت نے 300 بسیں اور 5 ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر اپنا فریضہ پورا کر ڈالا۔ کراچی کو انڈر گراؤنڈ ٹرین، الیکٹرک ٹرام اور جدید بسوں کی ضرورت ہے مگر حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ 18 برسوں کے دوران کراچی والوں کے لیے پانی ایک نیا مسئلہ بن گیا۔ شہر کے بہت سے علاقوں میں نلوں میں پانی نہیں آتا مگر شہر میں ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی فروخت ہوتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے میئر سے یہ سوال کیا ہے کہ جب ہائیڈرنٹ پر پانی آتا ہے تو پھر نلوں میں کیوں نہیں آسکتا؟ حکومت پانی کی فراہمی کے نظام کو بجلی بند ہونے کی صورت میں آج تک متبادل نظام دینے میں ناکام رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی منصوبہ بندی کتنی اعلیٰ ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ10 سال قبل اربوں روپے سے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا اور مشکل سے یہ سڑک تیار ہوئی۔ سندھ حکومت کو ریڈ لائن بنانے کا خیال آیا اور اس نئی سڑک کو پھر توڑنے کا ٹھیکہ دیا گیا اور اب 7 سال ہونے کو ہیں مگر یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ لاکھوں افراد روزانہ اس علاقے سے گزرتے ہوئے ایسی اذیت سے گزرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اکابرین اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح مینا بازار کریم آباد انڈر پاس کا منصوبہ مسلسل التواء کا شکار ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ سندھ میں ملازمتوں کا ہے۔ انگریز دور سے نافذ کردہ قانون کے تحت ہر ضلع میں گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیاں اس ضلع کے شہریوں کے لیے مختص کرنا ضروری ہے مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس قانون کو بری طرح پامال کیا۔ اے جی سندھ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس قانون شکنی پر حکومت سندھ پر گرفت ہوسکتی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ اتنی بڑی خلاف ورزی ہے کہ جب سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جو موجودہ چیف جسٹس ظفر راجپوت پر مشتمل ہے اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تو سندھ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل تک نہیں کی۔

 سندھ پبلک سروس کمیشن کی بدحالی پر تو سندھ ہائی کورٹ مفصل فیصلہ دے چکا ہے۔ اس کمیشن میں شفافیت کا مکمل فقدان پایا جاتا ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق جو صدر آصف زرداری کے بچپن کے دوست ہیں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے کمیشن کا نظام کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش کی تو انھیں حقائق کا اندازہ ہوا اور وہ چھ ماہ بعد ہی مستعفیٰ ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ میں مسلسل یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ صوبے میں ملازمتیں فروخت ہوتی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں سیکڑوں افراد کی اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی اور پھر ان کی برطرفی اور ان افراد کے ملازمت کے لیے لاکھوں روپے بطور رشوت دینے کی داستانیں بہت سے حقائق کو اجاگر کرتی ہیں۔

کراچی میں عمارتوں کا گرنا عام سی بات ہے مگر ہر دو چار مہینے بعد کسی نہ کسی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو کبھی بھی احتساب کا عمل منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ گزشتہ سال لیاری میں ایک عمارت گری تھی۔ حکومت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کچھ افسروں کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔ یہ افسر چند دن جیل میں مہمان رہے۔ ناقص چالان کی بناء پر باعزت بری کر دیے گئے۔ گل پلازہ کے حادثے کے بعد ٹریفک کے ناقص انتظامات پر ڈی آئی جی ٹریفک کو معطل کر دیا گیا مگر وہ پھر بحال ہوگئے۔ سندھ میں قانون کی عملداری کا اندازہ ایک انگریزی اخبار میں کراچی میں زمینوں پر قبضے کے بارے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک سابق رکن کی مرضی کے بغیر ضلع غربی میں کسی پولیس افسر کا تقرر نہیں ہوسکتا۔

 کراچی میں سیوریج کا نظام اور کوڑے کے ٹیلوں کا معاملہ امریکا کے اخبارات تک پہنچ گیا۔ واٹر بورڈ کے پاس سیوریج کی لائنوں کی تبدیلی کے لیے اگست کے مہینے میں فنڈز نہیں ہوتے۔ حکومت نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لیے ایک کارپوریشن بنائی۔ اپنے چند افسروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا مگر شہر کا کون سا علاقہ ہے جہاں کوڑے کے ڈھیر نہ ہوں اور سڑک پر گندا پانی نہ بہہ رہا ہو۔ جب بارش ہوتی ہے تو شہر میں ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے۔

اس گندگی کی بناء پر ایک طرف کتوں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے اور کراچی شہر میں سیکڑوں افراد ہر سال کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سندھ سیکریٹریٹ میں شام کو رونق زیادہ ہوتی ہے، جو سرکاری ملازمین عمرہ، حج اور زیارتوں پر جاتا ہے اسے این او سی کے لیے ’’ ہدیہ‘‘ دینا پڑتا ہے۔ جو ملازم ریٹائر ہوجائے اور جو ملازم انتقال کرجائے تو اس کے لواحقین کو پنشن کی فائل مکمل کرنے کے لیے ایجنٹوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کی حکومت میں اندرون سندھ کی پسماندگی کی بناء پر ملازمتوں اور پروفیشنل کالجوں میں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ اب ہر شہر میں یونیورسٹی قائم ہے۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں کا معیار بلند ہوگیا ہے تو کوٹہ سسٹم کا جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔ تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ اسی طرح ایک یا دو اضلاع میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔

اس بات کی تحقیقاتی ہونی چاہیے کہ گزشتہ 18 برسوں میں ان اضلاع کی ترقی پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس کے کیا نتائج نکلے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے جب ایک ملاقات میں یہ سوال کیا گیا کہ کراچی میں روٹی کیوں مہنگی ہے تو انھوں نے کہا کہ سندھ کے افسروں میں کام کرنے کی اہلیت نہیں مگر یہ بیوروکریسی تو سب کوٹہ سسٹم کے تحت آئی ہے۔ بدترین طرزِ حکومت کا کیا جواز ہے؟ عجیب بات ہے کہ صدر ملک کے آئینی صدر ہیں مگر وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کرتے ہیں۔ ایوانِ صدر میں بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر کانفرنس کرتے ہیں۔ تمام گورنر اپنی جماعتوں کی سیاست کرتے ہیں۔

 صدر اور گورنر صاحبان کو اپنی جماعت کی سیاست کے بجائے آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ شہری مسائل کا حل دنیا کے جدید شہریوں کی طرح نچلی سطح کے اختیار تک کی کارپوریشن کے قیام میں ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو اور پورا کراچی اس کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ صوبائی وزراء کہتے ہیں کہ کراچی میں چھوٹا مسئلہ بڑا بن جاتا ہے۔ پہلے آمر ایوب خان کو بھی یہی شکایت تھی۔ سندھ اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری سے یہ سازش ناکام نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان میں عید کب ہو گی؟ رویت ہلال ریسرچ کونسل کی بھی بڑی پیشگوئی سامنے آگئی

Published

on



لاہور:

رویت ہلال ریسرچ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات 19 مارچ 2026ء کی شام شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں، جس کے باعث پاکستان میں عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ 2026ء کو ہونے کی توقع ہے۔

کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نیا چاند 19 مارچ کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 23 منٹ پر پیدا ہوگا تاہم اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر رویت کے لیے درکار 19 گھنٹوں سے کم یعنی 13 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ غروب شمس اور غروب قمر کے درمیان فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا ضروری ہوتا ہے وہ کراچی میں 26 منٹ جبکہ پشاور میں 30 منٹ رہے گا اس لیے مطلع صاف ہونے کی صورت میں بھی چاند کی رویت ننگی آنکھ، دوربین یا ٹیلی سکوپ سے ممکن نہیں۔

رویت ہلال ریسرچ کونسل کے مطابق شوال 1447ھ کا آغاز رمضان المبارک کے 30 روز مکمل ہونے کے بعد ہفتہ 21 مارچ 2026ء سے ہوگا اور اسی روز ملک بھر میں عیدالفطر منائے جانے کا امکان ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بے چارا سچ گیا پانی میں

Published

on


کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے

سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے

جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

کیا کمال کی شے ہے یہ جھوٹ بھی۔بلکہ یوں کہیے کہ یہ وہ سکہ ہے جو ہر ملک،ہرشہر،ہربازار،ہر مارکیٹ اور ہر دکان میں چلتا ہے بلکہ یہ واحد سکہ ہے جو ہر دور ہر زمانے میں بھی چلتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوا ہے نہ کھوٹا ہوا ہے تاریخ میں بھی چلتا ہے اور جغرافیے میں بھی چلتا ہے، تاریخ اور جغرافیہ کا حدود اربعہ وجہ تسمیہ جنرل نالج، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں بھی رواں دواں ہے۔

دین ومذہب،صنعت وتجارت اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی چلتا ہے، گلی کوچوں اور بالاخانوں، چوباروں میں چلتا ہے، چوروں ڈاکوؤں میں بھی چلتا ہے اور ان کے مخالفوں یعنی کوتوالوں، قاضیوں اور قوانین اور دساتیر میں بھی چلتا ہے صرف ڈالروں میں چلتا نہیں ہے بلکہ دوڑتا ہے اور سیاست میں تو ڈالر سے بھی زیادہ چلتا ہے جب کہ جمہوریت میں یہ صرف پیروں سے ہی نہیں چلتا بلکہ’’پروں‘‘ سے اڑتا ہے گوروں،کالوں زردوں میں سرخوں اور سبزوں میں مطلب جدھر دیکھیے جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا یہ ہی یہ ہے۔یکساں طور پر محوخرام رہتا ہے مطلب یہ کہ

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

اگر آپ ہمیں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں یہ مقبول عام سکہ نہ چلتا ہو تو ہم آپ کو’’کولمبس‘‘قرار دیں گے اور اس کے مقابل اس کا سوتیلہ بھائی سچ۔ آخ تھو ۔خود اس پر بھی اور اس منہ پر بھی۔جس سے یہ نکلے پشتو میں اسے ماں کی گالی کہا گیا ہے اور سچ کہا گیا ہے بلکہ ماں بہن کے علاوہ پوتی دادی بیوی، خالہ پھوپھی ،چچی ممانی کی بھی گالی ہے۔اب اگر آپ کسی کو گالی دیں گے تو کیا ’’سردار‘‘ خوش ہوگا شاباشی دے گا؟نہیں بلکہ لٹھ لے کر آپ کے پیچھے دوڑے گا ۔

اور جھوٹ

زباں پہ بارخدایا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے

اور بوسے کی قابل ہے بھی وہ زبان۔جس سے یہ امرت یہ آب حیات یہ شیروشکر اور یہ امرت دھارا نکلتا ہو اس میں یار جیسی خاصیت بھی ہے

ہر غنچہ کہ گل دگرے غنچہ نہ گردد

قرباں زلب یار گہے غنچہ گہے گل

ویسے تو بہت سارے علما و فضلا دانا دانشوروں اور سالکوں نے اس کی مدح سرائیاں کی ہیں قصیدے لکھے ہیں لیکن ایک صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے

کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے ؟ کیا ہے

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ ضیا ہے،کیا ہے

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے

اگر یہ اپنی صنف بدل لے اور مذکر سے مونث ہوجائے تو اسے حسینہ عالم،مس ورلڈ،مس یونیورس بلکہ مس کاسموس بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ویسے تو ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر اس کا بول بالا ہے لیکن سنا ہے کہ ایک مملکت ناپرساں عالی شان میں اس کی بہت چلن اور آؤ بھگت ہے بلکہ اس مملکت کا اصل حکمران کہیے تو بجا ہوگا کہ یہ وہاں کا آئین بھی ہے قانون بھی یہ ہے سماج بھی ہے رواج بھی اور سرتاج بھی ہے۔

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

اس مملکت میں اس کے ہزار رنگ ہزار روپ ہیں

تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے

سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے

ہم نے ایک دانا دانشور سے پوچھا کہ مملکت ناپرسان عالی شان میں اس کثیر الفوائد کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد اور کثیرالاستعمال نعمت کی اتنی زیادہ پذیرائی کی وجہ کیا ہے تو فرمایا کہ اس کی ایک الگ کہانی ہے۔کہ جب یہ مملکت وجود میں آئی جس میں ہر طرف ہر جگہ ہر مقام پر مواقع ہی مواقع تھے تو یہ مژدہ جاں فزا جھوٹ اور سچ نام کے دو سوتیلے بھائیوں نے بھی سنا جو ایک گاؤں میں رہتے تھے اور آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس نئی مملکت میں جاکر روزگار ڈھونڈا جائے چنانچہ چل پڑے۔چلتے چلتے راستے کے کنارے ایک تالاب دکھائی دیا تو جھوٹ نے سچ سے کہا بھائی کیوں نہ اس تالاب میں ڈوبکیاں لگاکر فریش ہوا جائے، سچ نے کہا ٹھیک ہے پھر دونوں نے ایک درخت کے نیچے کپڑے اتارے اور تالاب میں اتر گئے۔

دونوں نہانے لگے تیرنے لگے۔ڈبکیاں لگانے لگے اور مستیاں کرنے لگے، تھوڑی دیر بعد سچ نے دیکھا کہ جھوٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس نے پورے تالاب پر نظر دوڑائی لیکن جھوٹ دکھائی نہیں دیا، تشویش ہوئی کہ کہیں ڈوب تو نہیں گیا۔کافی انتظار کے بعد جب کنارے کی طرف دیکھا تو جھوٹ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے لیکن سچ کا لباس ندارد تھا پھر کافی دیر بعد اس کی سمجھ میں آگیا کہ جھوٹ اپنا ہاتھ کرگیا ہے وہ سچ کا لباس پہن کر بھاگ گیا ہے۔بیچارا سچ سن ہوکر رہ گیا کہ اگر جھوٹ کا لباس پہن کر جاؤں گا تو لوگ مجھے جھوٹ سمجھیں گے اور ایسے ہی ننگا لنگوٹ نکلوں گا تو لوگ دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں گے۔ دوسری طرف جھوٹ سچ کے لباس میں مملکت ناپرسان کی راج دھانی اکرام آباد پہنچ گیا تو اس کی زبردست پذیرائی کی گئی لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اہلاً و سھلاً و مرحبا۔تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو۔

اسے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اور جھوٹ مزے اڑانے لگا۔مسند پر بٹھادیا گیا اور سارے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی خاص طور پر سیاست دانوں، پارٹیوں اور لیڈروں نے تو اسے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنالیا۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا بیچارا سچ کبھی تالاب سے نکل پائے گا یا پانی میں اس کی’’جل سمادھی‘‘ ہوجائے گی؟





Source link

Continue Reading

Trending