Connect with us

Today News

اسٹیٹ بینک نے عارضی طور پر خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت  دے دی

Published

on



اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات اور ملک میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت کے پیش نظر عارضی طور پر 60 دن کے لیے سی آئی ایف  کی بنیاد پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سرکلر میں مجاز ڈیلرز اور کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کی شق 5 کے تحت درآمدات کے لیے مقررہ قابل قبول انکوٹرمز میں اس عارضی نرمی کا نوٹس لیں۔

سرکلر کے مطابق موجودہ حالات اور ملک کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اجازت ہوگی۔

مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس عارضی اقدام سے متعلق اپنے تمام صارفین اور درآمد کنندگان کو آگاہ کریں اور نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

مینوئل کے تحت بعض شرائط کے ساتھ ای ایکس ورکس بنیاد پر بھی درآمدات کی اجازت دی جاتی ہے، اس صورت میں درآمدی ادائیگی شپنگ دستاویزات درآمد کنندہ کے بینک میں پیش کیے جانے پر کی جاتی ہے، جبکہ انشورنس کا انتظام درآمد کنندہ کو سپلائر کے گودام سے کرنا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ فارن ایکسچینج مینوئل میں درج انکوٹرمز کے علاوہ کسی اور بنیاد پر درآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فارن ایکسچینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ سے قبل از منظوری درکار ہوتی ہے۔

مزید بتایا گیا کہ سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی اس عارضی اجازت سے توقع ہے کہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے دوران پاکستانی تیل درآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور انشورنس سے متعلق خطرات کو زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالنے میں مدد ملے گی اور اس اقدام کا مقصد سپلائی میں ممکنہ تعطل کو روکنا اور ملکی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ریاستی ڈھانچے کی تنظیمِ نو کی اشد ضرورت

Published

on


اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔ ان میں سے ایک پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد تھے جب کہ دوسرے پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو تھے اور تیسرے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر معین قریشی تھے۔ جب سابق صدر فاروق لغاری نے اپنی پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت کو برطرف کیا تو پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ملک معراج خالد کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا۔ ملک معراج خالد نے وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ نہ لیا ۔اپنا پروٹوکول محدود کردیا، نہ اپنے کسی چہیتے کارکن کو پلاٹ الاٹ کیا۔ملک معراج خالد کیونکہ عبوری وزیر اعظم تھے اس بناء پر وہ نظامِ حکومت کو سادہ کرنے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔

جب مسلم لیگ کے صدر اور پہلی دفعہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے میاں نواز شریف اور اس وقت کے بیوروکریٹ صدر غلام اسحاق خان کے درمیان جھگڑا بڑھ گیا اور غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا مگر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا مگر میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو پھر ان کا غلام اسحاق خان سے جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ اس وقت نواز شریف اورغلام اسحاق خان دونوں کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور سنگاپور میں مقیم ڈاکٹر معین قریشی کوعبوری وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا گیا۔

ڈاکٹر معین قریشی نے پہلی دفعہ یہ شرط عائد کی کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی کی دستاویز، تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے علاوہ سرکاری رہائشی سہولتیں اختیار کرنے والے افراد کا ان سہولتوں کے چارجز ادا کرنا لازمی ہوگا، یوں بہت سے افراد اس شرط پر پورے نہیں اترے اور خاصی تعداد میں لوگوں نے سرکاری اخراجات ادا کیے۔ ڈاکٹر معین قریشی نے کسی فرد کو پلاٹ نہیں دیا۔ انھوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے قانونی ضروریات پوری کیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈاکٹر معین قریشی کی اصلاحات کو رول بیک کردیا۔

 جنرل ضیاء الحق نے ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد ملکی اور عالمی دباؤ پر ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور جنرل ضیاء الحق نے مسلم لیگ فنکشنل کے صدر پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ اگرچہ محمد خان جونیجو سیاسی طور پر ایک کمزور وزیر اعظم تھے مگر انھوں نے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو بحال کیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ سادگی اور سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کا اعلان کیا۔ محمد خان جونیجو نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم، وفاقی وزراء، وزراء اعلیٰ اور تمام سول و غیر سول سرکاری ملازمین کی بڑی گاڑیاں نیلام کردی جائیں گی اور تمام افراد چھوٹی گاڑیوں میں سفر کریں گے۔ حکومتی فیصلے کے تحت بڑی گاڑیوں کو سرکاری پول میں جمع کیا گیا، یوں ہزاروں گاڑیاں اس پول میں جمع ہوگئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے کچھ عرصے بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا، نئے انتخابات ہوئے۔ پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں بنیں۔ ہر حکومت نے کفایت شعاری کا نعرہ تو لگایا مگر عملی طور پر تمام ریاستی اداروں کے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔

 جب 2002 میں نیویارک میں ٹوئن ٹاورز کو طیاروں کے حملے میں تباہ کیا گیا، یہ کارنامہ افغانستان میں مقیم سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے حصے میں آیا ، تو امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کابل پر حملہ کیا، یوں War on terror شروع ہوئی۔ پاکستان اس ’مقدس‘ جنگ کا حصہ بنا۔ امریکا اور اتحادیوں نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کی طرح اربوں ڈالر بطور امداد لیے جس کا فائدہ سول و غیر سول بیوروکریسی کو ہوا، اور ان کا سائز بڑھتا چلا گیا۔

آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کا فارمولہ تبدیل ہوا۔ صوبوں کی آمدنی میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ اس اضافی رقم کا کچھ حصہ تو ترقیاتی کاموں پر صرف ہوا جب کہ باقی حصہ کہاںخرچ ہوا تمام صوبوںکے ترجمان اس سوال کا مختلف جواب دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت ہمیشہ آئی سی یو میں رہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی امداد سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

 جب بھی کوئی عالمی تنازع ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے زبردست مزاحمت کی۔ اس تنازع میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی مشکل ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار رک گئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 322 روپے فی لیٹر کردی جب کہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 318.81 کردی گئی۔

البتہ بھارت کی حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ وہاں مختلف شہروں میں پیٹرول 103.94 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.74 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں ڈیزل فی لیٹر 100 ٹکا، پیٹرول فی لیٹر 116 ٹکا اور کروسین آئل فی لیٹر 112 ٹکا پر دستیاب ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی ویلیو پاکستان کی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش نے پیٹرول کی راشننگ کا فیصلہ کیا۔ صدر ٹرمپ ہر ہفتے پاکستانی قیادت کے گن گاتے ہیں مگر امریکا نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی خصوصی اجازت دیدی۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی کار میں سفر کریں گے اور اپنا پروٹوکول مختصر کردیا۔ حکومت پر یہ تنقید ہوئی کہ جب حکومت کے پاس 28 دن کا پیٹرول موجود تھا تو ابھی سے اس اضافے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں آیا۔ مگر یہ اعداد و شمار وائرل ہوئے کہ اچانک پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ سے پیٹرول پمپ مالکان، ڈیلرز اور تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں روپے مل گئے۔

اس کے ساتھ سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ ان سازشی تھیوریز کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں مگر غریب آدمی جس پر پیٹرول کا بم گرا ہے اپنے ناگفتہ بہ حالات کی بناء پر اس سازشی تھوریز پر یقین کرنے پر مجبور ہوئے، یوں عام آدمی اور حکومت میں فاصلے بڑھ گئے۔ عجیب حیرت کی بات ہے کہ جب وزیر خزانہ نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تو حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے جب یہ اعلان کیا کہ ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار 200 روپے دیے جائیں گے تو وفاق ، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے مختلف اعلانات کیے۔پیٹرول ملک میں بہت کم پیدا ہوتا ہے اور پیٹرول کی بیشتر مقدار درآمد ہوتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب، خلیجی ممالک کے علاوہ ایران سے بھی تیل خریدتا تھا۔ پھر پیٹرولیم کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی کوششوں سے روس سے بھی تیل منگوایا گیا۔ امریکا نے روس سے تیل منگوانے پر سخت اعتراض کیا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ امریکا سے تیل خریدنا پڑا جس کی بناء پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ گئے۔

خارجہ تعلقات کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا مگر پاکستان امریکا کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکا کہ امریکا تیل رعایتی قیمتوں پر فراہم کرے۔ یہی صورتحال گلف اور سعودی عرب سے درآمد ہونے والے تیل کے بارے میں ہے۔ میڈیا کے امور پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر سعید عثمانی کاکہنا ہے کہ ہمارے حکمران اور وزرا مہینہ میں 20 سے 25 دن مختلف ممالک کے کامیاب دورہ پر ہوتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کو کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی بچت کے لیے جو اعلانات کیے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں مگر ان اعلانات سے عام آدمی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس پیٹرول بم کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر گہرے اثرات رونما ہونگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی یہ بات درست ہے کہ اس فیصلے سے غربت بڑھے گی اور لوگ خودکشیوں پر آمادہ ہونگے۔ اس کے علاوہ ملک میں جرائم میں اضافہ ہوگا۔ مسئلہ کا حل ریاست کے پورے نظام کی ازسرِنو تنظیمِ نو میں مضمر ہے۔ حکمران طبقہ اپنی ذاتی زندگیوں میں جب سادگی کو اپنالے گا تو عوام بھی اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونگے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان میں پھل وسبزی کی سپلائی چین میں ٹیکنالوجی محدود

Published

on



کراچی:

دنیا بھر میں روایتی منڈیوں کو بدل دینے والی ٹیکنالوجی پاکستان کی پھل اورسبزی کی سپلائی چین میں تاحال نمایاں تبدیلی نہ لاسکی۔

ماہرین کے مطابق ملک میں زرعی پیداوارکی تجارت اب بھی بڑی حد تک روایتی تھوک منڈیوں اور درمیانی افرادکے نظام کے گردگھومتی ہے۔ صنعتی مبصرین کاکہناہے کہ شہری علاقوں میں ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اورکوئک کامرس سروسز کے تیزی سے پھیلاؤکے باوجودفارم سے صارف تک رسائی کانظام بنیادی طور پر وہی پراناہے،جس میں کمیشن ایجنٹس یعنی آڑھتی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں کے مطابق آن لائن پلیٹ فارمز ابھی تک پھل اور سبزی کی مجموعی تجارت کا بہت چھوٹاحصہ سنبھال رہے ہیں۔

صدرسندھ آبادگار بورڈمحمودنوازشاہ نے کہاہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مجموعی پیداوارکاصرف دو سے تین فیصد تک ہی سنبھال سکتے ہیں،جبکہ باقی تجارت روایتی نظام کے تحت ہی ہوتی ہے، مارکیٹ کی موجودہ ساخت بھی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے،قانون کے تحت خرید وفروخت مخصوص سرکاری طور پر منظورشدہ منڈیوں، یعنی سبزی منڈیوں میں ہی کی جاسکتی ہے،جہاں مارکیٹ کمیٹیاں نظام کوکنٹرول کرتی ہیں، نظام میں آڑھتی مرکزی کرداررکھتے ہیں۔

پاکستان میں منڈیوں کاانفراسٹرکچر بھی آبادی کے مقابلے میں محدودہے،کراچی جیسے بڑی آبادی والے شہرمیں بنیادی طور پر صرف ایک بڑی تھوک سبزی و فروٹ منڈی موجودہے،محدود انفراسٹرکچر سے تجارت چندہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں کہتی ہیں کہ ان کے پلیٹ فارمز طویل مدت میں متبادل نظام تیارکررہے ہیں، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس اورکوئک کامرس کمپنیاں براہ راست خریداری،کولڈچین لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ضیاع کم کرنے اور معیار بہتر بنانے کادعویٰ کرتی ہیں۔

فوڈپانڈا پاکستان کے ڈائریکٹر سید طہٰ مغربی کے مطابق فارم سے صارف تک کے نظام کی پائیداری بڑی حد تک ضیاع کوکم کرنے پر منحصر ہے،سپلائی چین میں خراب ہونیوالی اشیا کم ہو جائیں تو اس سے کسانوں کو بہترقیمت اورصارفین کومناسب نرخ مل سکتے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کاحصہ ابھی بھی قومی سطح کی پیداوارکے مقابلے میں بہت کم ہے، پاکستان کے زرعی مارکیٹنگ نظام میں بنیادی اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت،بہترکولڈچین اورزرعی قرض تک آسان رسائی کے بغیرٹیکنالوجی کی بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کاش ہم بھی غریب ہوتے

Published

on


آج کل ہمیں اپنے آپ پرسخت غصہ آرہا ہے کہ لوگ دنیا میں کیاکیا نہیں کرتے کیاکیا بن نہیں جاتے ، کہاں سے کہاں پہنچ نہیں جاتے اورایک ہم نالائق ، نکمے نکھٹو، کہ خود کو غریب یا مستحق نہ بنا سکے۔

ان لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا

آپ سوچیں گے کہ لوگ تو ’’غربت‘‘ سے ڈرتے ہیں دور بھاگتے ہیں اورتم غربت کے تمنائی ہو، اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ،گلے لگانا چاہتے ہو، اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتے ہو اوراس کے لیے ہروقت ترستے رہتے ہو، لو جناب عالی ۔ آپ نے غربت کا مزا چکھا ہی نہیں ۔ ہائے کم بخت تم نے پی ہی نہیں ، یہ اپنا پاکستان ہے جو آئینے کے اندر ہے یہاں سب کچھ الٹا ہوتا ہے یہاں جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں اورجو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً ساری دنیا میں ہوتا یوں ہے بلکہ تاریخ میں بھی ہوتا رہا ہے کہ ہرکام کی ابتدا نیچے یعنی گراس روٹ لیول سے ہوتی ہے لیکن یہاں ہر کام اوپر سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسرے ملکوں میں لوگ امیروں کی خدمت کرتے ہیں اوریہاں سارے ’’امیر ‘‘ غریب کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں بلکہ اتنے زیادہ لگے ہوئے ہیں کہ منابھائی ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر غریب کی خدمت میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ بعد از مرگ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا کام جاری رہے

سنا ہے باپ نے بیٹے کو یہ وصیت کی

کہ میرے بعد بھی یہ میرا کاروبار چلے

اوربیٹے اتنے سعادت مند ہوتے ہیں کہ باپ سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں مثلاً محترمہ بے نظیر کو لے لیجیے، خود بھی عمربھر غریبوں کی خدمت میں مصروف رہیں اوراپنے بعد بھی اپنی جائیداد سے غریبوں کی خدمت کررہی ہیں اوربے نظیر انکم سپورٹ کاصدقہ جاریہ رواں دواں ہے ۔مطلب یہ کہ سارے عیش تو غریبوں کے ہیں طرح طرح کے کارڈ ، بھکاری خانے ،عشروزکواۃ، للسائل والمحروم، رمضان دسترخوان ، لنگرخانے ، صورت حال یہ ہے کہ جہاں کوئی غریب دکھائی دیتا ہے تو لوگ سب کو چھوڑچھاڑ کرجھپٹ پڑتے ہیں اورغریب ۔

 اس حسن کاشیوہ ہے جب عشق نظر آئے

 پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

 بخداآج کل تو یہ سوچ سوچ کر خود پر غصہ آجاتا ہے کہ اتنی عمر میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوپایا کہ خود کو غربت کے اعلیٰ منصب پر فائز کرتے یاکراتے ، کیسے کیسے لوگ آئے اوراچھے خاصے غریب بن گئے اورہم ؟

 کارواں گزراکیا ہم رہگزر دیکھاکیے

 ہرقدم پر نقش پائے راہبر دیکھاکیے

راہبر پر یادآیا ، ایک مرتبہ ہم نے ایک راہبر سے بھی رجوع کیا کہ وہ کوئی ایسا اپائے بتائے جس سے ہم اپنی منزل غربت پرپہنچ جائیں۔ اس نے جو اپائے بتایا ہم اس کے مطابق اپنے حلقے کے ایم پی اے کے پاس پہنچ گئے اورسند غربت ایشو کرنے کی درخواست کی ، ظاہرہے کہ اسے یہ تاثر دیناتھا کہ ہم تمہارے ووٹر تھے ووٹر ہیں اور ووٹر رہیں گے اس لیے تھوڑا ساجھوٹ بولنا پڑا وہ مہربان ہوئے اورٹیلی فون کھینچ کر ہمیں سند غربت عطاکرنے والے تھے کہ اس کاچمچہ خاص آکر اس کے کان میں کچھ پھونکنے لگا ، اس نے سنا تو پرایاسا منہ لے کر بولے ، ووٹ تو تم نے فلاں کو ڈالا ہے جاؤ اس کے پاس ، ہم سے کیالینے آگئے، چشم زدن میں اس کاچہرہ اتنا پرایا سا ہوگیا کہ ہم اپناسامنہ لے کر نکل آئے

ہرقدم پر ادھر مڑ کے دیکھا

اس کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے

 حالانکہ ہم نے معافی بھی مانگی کہ اس مرتبہ غلطی سے ووٹ کسی اورکو دیا ہے آیندہ ہمارا تو کیا ہماری آنے والی سات پشتوں کے ووٹ بھی آپ کے ۔ لیکن وہ ہمیں سند غربت عطا کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت

برسماع راست ہرکسی چیرنیست

طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست

 اورآج کل تو یہ احساس بہت شدت سے ہورہا ہے کیوں کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں میں غریبوں کو ’’نوازنے‘‘ کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے، لنگر خانے ہی لنگر خانے چل رہے ہیں اورغریب بس جی بھر کر چررہے ہیں ، کم ازکم اخباروں اوربیانوں میں تو یہی آرہا ہے ،اگر کچھ کمی تھی تو وہ سرکاری دسترخوان نے پوری کردی جب سے ہم نیسرکاری دسترخوان کا نام سنا ہے روپڑنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ پہلے سے دسترخوان کیا کم تھے کہ اوپر سے یہ نیا دسترخوان بھی بچھ گیا ، کبھی ہم اپنی افطاری کرتے ہوئے رمضان دسترخوان کاتصورکرتے ہیں تو آنسو بھر آتے ہیں ، ہائے وہ کیا کیا نہ ہڑپ رہے ہوں گے

 لوگ لے آتے ہیں کعبے سے ہزاروں تحفے

 ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بت خانے سے

 جی چاہتا ہے کہ باہرنکل پڑیں اورجہاں بھی کوئی سرکاری غریب نظر آئے اسے گولی ماریں۔

اوپر سے بیانات ، اب یہ تو یاد نہیں کہ کس کا بیان تھا کیوں کہ آج کل وزیر مشیر تو کیاسرکاری افسربھی بیان پر اتر آئے ہیں، چیف سیکریٹری بلکہ سیکریٹریوں کے سیکریٹری بھی روزانہ باتصویر بیان دینے لگے ہیں۔ اس لیے اب یاد نہیں کہ وہ بیان کس کاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عزم کررکھا ہے کہ کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اوریہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا اپنا تجربہ ہے کئی بار ہم نے بھوکا سونے کی کوشش کی ہے لیکن مجال ہے کہ سوئے ہوں، نیند کو منتیںسماجتیں کرکے بلاتے رہے لیکن وہ دور ہی دور رہی شاید ڈرتی تھی کہ بھوکا ہے کہیں مجھے ہی نہ ہڑپ کرلے ۔

ایک منظر یاد آیا ، بمبئی یا ممبائی میں سمندر کے اندر ایک مزارہے حاجی علی بابا، سمندر کے اندر ہی کوئی ایک کلومیٹر کا راستہ ہے جس کے کنارے دنیا جہاں کے بھکاری بڑے بڑے پتھروں پر رہائش پذیر ہوتے ہیں ، مزار کے پاس پکی پکائی دیگیں ملتی ہیں ، مالدار لوگ آتے ہیں دیگ خریدتے ہیں لیکن خود تو مصروف لوگ ہوتے ہیں، ان دیگوں والوں سے کہہ دیتے ہیں کہ ان بھکاریوں میں تقسیم کر دینا۔ ایساکوئی ایک تو نہیں ہوتا ، خیرات کرنے والوں کاتانتا بندھا رہتا ہے ، دیگیں خریدی جاتی ہیں بانٹی جاتی ہیں چنانچہ وہ کنارے کے پتھر نشین بھکاری دن بھر چاولوں میں اتناکھیلتے ہیں کہ پتھروں کے گرد بھی چاولوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، کوئی آخر کتناکھائے گا۔ یقیناً اپنے ہاں بھی آج کل غریبوں کی یہی صورت حال ہے ۔ ویسے ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ کنارے کے وہ ’’پتھر‘‘ ہزاروں روپے میں بیچے اورخریدے جاتے ہیں ۔ جن پر ڈیرے لگتے ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Trending