Connect with us

Today News

اسکول – ایکسپریس اردو

Published

on


لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں ‘ جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔

جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی ‘ لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوںنے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی ۔ ابتدائی طور پر ‘ نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہو گی ، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔

محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر ‘ لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے ۔ والد صاحب‘ کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں ‘ وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال‘ اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب ‘ محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیںکرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔ جیل روڈ‘ کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹی سی سڑک کے گرد ‘ ان گنت ‘ ہرے بھرے درخت لگے ہوئے تھے۔

میری عادت تھی کہ دونوں اطراف کے درخت گنتا رہتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد‘ گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اور پھر بھول بھی جاتا تھاکہ کتنے درخت تھے۔ جناب!لائل پور میں مختلف شاہراہوں پر درخت ہی درخت تھے۔ چھوٹی چھوٹی بیلیں نہیں‘ بلکہ بڑے بڑے زندہ درخت ‘ بالخصوص ایگریکلچر یونیورسٹی کے شروع ہوتے ہی معلوم پڑ جاتا تھا کہ واقعی زرعی یونیورسٹی ہے۔ وہاں سے تو خیر سبزے کی ایک ایسی قطار شروع ہو جاتی تھی جو اسکول کے سامنے تک موجود رہتی تھی۔ اس لیے کہ یونیورسٹی کا رقبہ‘ اس قدر زیادہ تھا کہ پرانے اسکول کی عمارت سے بھی آگے تک موجود تھا۔ میں اس وقت بالکل بچہ تھا ۔ مگر آج تک تمام تر جزئیات ذہن پر نقش ہیں۔

ایک دن ‘ کلاس ٹیچر نے کوئی دس بجے اعلان کیا کہ اسکول کی نئی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ آج تمام بچے اپنا نیا تعلیمی ادارہ دیکھنے جائیں گے۔ گرمیوں کا آغاز تھا۔ دھوپ زیادہ نہیں تھی ۔شاید اپریل ہو گا۔ تمام بچوں نے نیلی قمیض اور خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ تمام طلبا اور طالبات ‘ لائن بنا کر نئے اسکول کی طرف پیدل گئے تھے۔ کوئی دس بارہ منٹ کی مسافت تھی۔ جب نئے اسکول کی عمارت دیکھی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی شاندار‘ اتنی بڑی ‘ بڑے بڑے کھیل کے میدان‘ جن میں گھاس لگی ہوئی تھی۔ شاید یہ مغربی پاکستان کے کسی بھی اسکول سے بڑا معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال جن جن سیاست دانوں اور سرکاری عمال نے اس طرح کے مایہ ناز اسکولوں کی داغ بیل رکھی تھی ‘ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کی نیکی کا ثمر ان کی اولاد کو بھی ملتا رہے۔

چوہدری ارشد اور ثاقب رزاق نے مجھے چند برس پہلے‘ کچھ نام بتائے تھے کہ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنھوں نے نئے اور سکہ بند اسکولوں کا جال بچھانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر میں بھول گیا ہوں۔ ارشد اور ثاقب‘ دونوں میرے پریپ اسکول کے کلاس فیلو ہے۔ آج بھی ان سے گہری وابستگی موجود ہے۔ نئے اسکول میں ہم چند ہی دنوں میں منتقل ہو گئے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ ہم ہمیشہ سے نئے اسکول میں موجود تھے پھر پرانی کوٹھی کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ نئے اسکول میں دو سیکشن تھے۔ جونیئر اور سینئر۔ لازم ہے کہ ہم جونیئر سیکشن میں تھے۔ ہیڈ مسٹرس حد درجہ شفیق مگر ڈسپلن کو قائم رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کا آفس جونیئر سیکشن کے شروع میں ہی تھا۔ ہاں‘ ایک واقعہ یاد آیا جس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر کافی شرارتی تھا۔ ایک دن‘ کلاس میں ایک بچے نے مجھ سے کسی بات پر لڑائی کی۔ اس نے مجھے ایک مکا مارا اور میرے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ گھر جا کر کسی کو نہیں بتایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پوچھا بھی کسی نے نہیں۔ میںنے کسی سے شکایت بھی نہیں کی۔ مگر پتہ نہیں کیسے‘ یہ بات کلاس ٹیچر کو معلوم ہو گئی۔

انھوں نے ہیڈ مسٹریس کو سارا واقعہ بتا دیا۔ میں ہر چیز سے بے خبر ‘ روزانہ ‘ کلاس میں آتا تھا۔ اور اسی ترتیب سے واپس چلا جاتا تھا۔ ایک دن چھٹی سے تھوڑا سا پہلے‘ مجھے ‘ ہیڈمسٹریس نے اپنے آفس میں بلوایا ۔ بچہ جس نے میرے دانت توڑے تھے ، وہ بھی موجود تھا۔ ہیڈمسٹریس کو پورا واقعہ معلوم تھا۔ انھوں نے ہم دونوںکو آفس کے باہر کھڑا کیا۔ اور مجھے حکم دیا کہ جس طاقت سے اس بچے نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا، اسی قوت سے اس بچے کے چہرے پر مکا ماروں۔ میں گھبرا گیا۔ ہیڈمسٹریس نے دوبارہ حکم دیا کہ فوراً مکا ماروں۔ میں نے آہستہ سے ‘ اس طالب علم کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مگر ہیڈ مسٹریس نے پوری طاقت سے ‘ اس شرارتی بچے کے مونہہ پر چار پانچ طمانچے مارے۔ وہ بچہ رونے لگ گیا۔ ہم دونوں واپس کلاس میں آ گئے ۔ اب جو بات عرض کر رہا ہوں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ وہ طالب علم‘ ہیڈمسٹریس کا بیٹا تھا۔ یہ بات مجھے کافی دنوں بعد معلوم ہوئی۔

تھوڑی دیر کے لیے سوچیئے کہ ہمارے مرد اور خواتین اساتذہ کتنے انصاف پسند اور عظیم لوگ تھے کہ اپنے بچوں کی غلطی کو بھی معاف کرنے سے گریزاں تھے۔ جناب ! حیرت ہوتی ہے ‘ کہ ایسے کمال انسان بھی ہمارے سماج میں موجود تھے۔ اب چاروں طرف دیکھتا ہوں تو عجیب سی مایوسی ہوتی ہے۔ نفسا نفسی‘ مال و زر کمانے کی دوڑ اور بگاڑ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ پہچانے ہی نہیں جاتے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں طاقتور درندہ ‘ کمزور جانوروں کے گوشت پر ضیافت کر رہا ہے۔ منافقت کا اتنا کثیف دھواں ہے کہ انسان کے اصلی چہرے ہی نظر نہیں آتے۔ دراصل ہمارا پورا سماج‘ اخلاقی مفلسی کا شکار ہے بلکہ قلاش ہو چکا ہے۔ نہ پچاس ساٹھ برس پہلے کی اقدار نظر آتی ہیں نہ وہ ہمدردی اور نہ ہی قناعت کی دولت۔ ہم نفسوں! زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ آج‘ ماضی کی طرف نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی خواب ہے۔ چھ دہائیوں میں سب کچھ ہی الٹ پلٹ ہو گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں رہا۔ اور شاید کچھ بھی صحیح نہیں موجود۔ دونوں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی ترتیب ختم ہو چکی ہے۔

 بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ جونیئر سیکشن میں جو بریک ہوتی تھی۔ اس میں ہم تمام بچے‘ میس جاتے تھے۔ جوجونیئر اور سینئر سیکشن کے درمیان میں تھا۔ وہاں لازم تھاکہ ہم دودھ کا ایک گلاس پئیں۔ ٹیچر نظر رکھتی تھی کہ کوئی بچہ بھی دودھ پیئے بغیر نہ جائے۔ مجھے‘ دودھ پینا کافی ناپسند تھا۔ مگر ٹیچر کی نگاہوں کے سامنے بچنا ناممکن تھا۔ اس لیے مجبوری میں ایک گلاس ضرور پینا پڑتا تھا۔ جس طرح لائن بنا کر ہم میس کی طرف جاتے تھے، اسی ترتیب سے واپس کلاس میں آ جاتے تھے۔ اور پھر تعلیم کا معمول شروع ہو جاتا تھا۔ بریک کے بعد شاید دو پریڈ ہی ہوتے تھے۔ ہمارا تمام نصاب انگریزی میں تھا ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پوری زندگی انگلش میڈیم اسکول اور کالجوں میں ہی زیر تعلیم رہا ہوں۔ اسکول کی ٹیچرز ‘ بچوں پر بہت محنت کرتی تھیں۔

شاید‘ انھیں کی جوتیوںکے طفیل زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ پایا ہوں۔ مسز خان ابھی تک یاد ہیں۔ ساڑھی زیب تن فرمایا کرتی تھیں۔ مسز چوہدری جو بعد میں ہیڈمسٹریس کے عہدے پر فائز ہوئیں ۔ حددرجہ شفیق انسان تھیں۔ چہرے پرایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے ‘ اظہر اور عامر آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔ جونیئر سیکشن کے سامنے کھیل کا میدان بھی تھا۔ بریک میں بچوں کے غل غپاڑے سے ‘ ایک ہنگامہ مچا ہوتا تھا۔ پتہ نہیں اب میرے اسکول کے کیا حالات ہیں؟ گمان ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ بہر حال مجھے تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ پتہ نہیں‘ خواب سے جاگ کیسے گیا؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کمزور ٹیموں کیخلاف بریڈ مین مگر؟

Published

on


اگر میچ سے چند گھنٹے قبل تیز بارش ہو چکی اور آغاز کے بعد بھی امکان ہو تو آپ ٹاس جیت کر پہلے کیا کریں گے؟

اگر آپ کا کوئی بولر حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہو تو آپ اسے جلد بولنگ دیں گے یا آدھی اننگز ختم ہونے کا انتظار کریں گے؟

اگر آپ کا اہم ترین فاسٹ بولر آؤٹ آف فارم ہو اور دوسرے بولر کو پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جائے تو اہم پیسر کو دوسرا اوور دیں گے یا مومینٹم برقرار رکھنے کیلیے اسپنر کو لائیں گے؟

پہلے اوور میں اسٹار بولر نے زیادہ رنز دے دیے اب آخری اوور اسے دیں گے یا کسی اور کو گیند تھمائیں گے؟

آپ اپنے سب سے بڑے بیٹر کی خامیاں میڈیا کے سامنے بیان کریں گے یا ڈریسنگ روم میں بات ہو گی؟

ایک سینئر بیٹر جس کا بڑا نام ہے آپ اسے مسلسل باہر بٹھائیں گے یا کھلائیں گے؟

اگر آپ میں تھوڑی سی بھی کرکٹ کی سمجھ ہے تو ان سوالات کے جواب مشکل نہیں لگیں گے، ظاہر ہے آپ کو اس کے پیسے بھی نہیں مل رہے لیکن اگر کوئی کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود الٹ فیصلے کررہا ہے تو اس کو کیا کہیں؟

بدقسمتی سے ورلڈکپ میں اب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایسے عجیب وغریب فیصلے کیے جس پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں، شاید وہ خود کو عقل کل اور دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے۔ 

اگر ہم دوسرے راؤنڈ میں پہنچے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، آئی سی سی کو دعائیں دیں، چونکہ پاکستان اور انڈیا میں میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین ہیں اس لیے مالی نقصان سے بچنے کیلیے دونوں ٹیموں کو ایسے گروپس میں رکھا جاتا ہے جہاں کمزور حریفوں کی موجودگی میں باآسانی دوسرے مرحلے میں پہنچ جائیں۔ 

ماضی میں جب دونوں سائیڈز آغاز میں ہی باہر ہو گئی تھیں تو کونسل کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، گوکہ انڈین ٹیم اب بہت آگے نکل گئی لیکن گرین شرٹس کے گروپ میں اگر آپ یوگینڈا، نیپال اور یو اے ای کو بھی رکھ دیں تب بھی کوئی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

امریکا کا ورلڈکپ یاد کریں جہاں ہم نوآموز میزبان ٹیم سے ہی ہار گئے تھے، اس بار تو نیدرلینڈز سے پہلے ہی مقابلے میں تقریبا شکست ہو ہی گئی تھی وہ تو فہیم اشرف نے غیرمعمولی بیٹنگ کر کے لاج رکھ لی،امریکا اور پھر نمیبیا کو ہرا کر ٹیم سپر8 میں تو پہنچ گئی۔

لیکن انڈیا سے ناکامی بھلائی نہیں جا سکتی، اب نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہو گیا تو سیمی فائنل میں رسائی کا سفر بیحد دشوار بن چکا۔ 

انگلینڈ نے گوکہ بہترین بولنگ کی بدولت سری لنکا کو تو زیر کر لیا لیکن اس کی بیٹنگ لائن فلاپ ہے، یہاں بھی قسمت ہمارا ساتھ دے سکتی ہے، انہی دونوں ٹیموں کو اگلے میچز میں ہرا دیا تو فائنل فور میں جگہ مل جائے گی۔

البتہ پھر اگلے دونوں مقابلے مضبوط ترین حریفوں سے ہوں گے، اگر ہم اب تک کی کارکردگی کی جائزہ لیں تو اسے کسی صورت بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہاں تک لانے میں بھی اہم ترین کردار صاحبزادہ فرحان کا ہے جنھوں نے نمیبیا کیخلاف سنچری بھی بنائی،اس سے پہلے وہ 50،60 رنز کو ہی کافی سمجھ کر آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اب اننگز کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ 

دوسرے اوپنر صائم ایوب کو ہم نے بہت جلدی آسمان پر چڑھا دیا،بظاہر وہ نمبر ون آل راؤنڈر ہیں لیکن کارکردگی کسی صورت اس کی عکاسی نہیں کرتی، ان کا اصل کام بیٹنگ ہے لیکن5 میچز میں 15 کی اوسط سے 63 رنز ہی بنا سکے ہیں۔ 

آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو کسی ٹیل اینڈر کے اعدادوشمار بھی اس سے بہتر ہوں گے،جتنے مواقع صائم کو ملے شاید ہی چند برسوں میں کسی اور کو ملے ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل نہ لا سکے اور ’’نولک شاٹ‘‘ کے سحر میں ہی پھنسے رہے۔ 

پاکستان میں کپتان بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ من مانیوں کا موقع مل جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر 3 اہم ترین پوزیشن ہوتی ہے، سلمان علی آغا نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن ورلڈکپ کے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے55 رنز ہی بنا سکے ہیں، بطور کپتان بھی ان کے فیصلے درست نہیں لگ رہے۔ 

بابر اعظم کو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن وہ مایوس کر رہے ہیں، اب تک صرف 66 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں. 

چوتھے نمبر پر کھیلنے سے وہ مطمئن نہیں لگتے لیکن آغاز میں بیٹنگ کرانا پاور پلے کے اوورزضائع کرنے کا سبب بنے گا، اگر بقیہ میچز میں بابر کچھ نہ کر سکے تو انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔

عثمان خان اس ٹیم کی سب سے کمزور کڑی ہیں، انڈیا کیخلاف جب میچ ہاتھ سے نکل گیا تو انھوں  نے تھوڑے رنز بنا لیے لیکن مجموعی طور پر مسلسل ناکام ہیں۔ 

انھوں نے یو اے ای کی کرکٹ کو چھوڑنے کا جو ’’احسان ‘‘ کیا اب تک اس کا پھل کھا رہے ہیں، کئی بیٹرز کمزور ٹیموں کے خلاف تو بریڈمین لگتے ہیں لیکن بڑے حریفوں کے سامنے کچھ نہیں کر پاتے۔ 

شاداب جیسے پلیئرز پر سابق کرکٹرز تنقید کریں تو وہ برا مان کر جواب دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو بیٹ اور بال موجود ہے، زبان کے بجائے اس سے اچھا پرفارم کر کے جواب دیں، آپ سوچیں کہ اس بیٹنگ لائن کے ساتھ ہم انڈیا کو ہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے؟

فخر زمان کو ساتھ لے کر تو گئے ہیں مگر کھلایا نہیں جا رہا، بولنگ میں ہمارے اہم ترین پیسر شاہین آفریدی آؤٹ آف فارم ہیں، فہیم اشرف پر تو ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں لہذا بہت کم گیند تھمائی جاتی ہے، محمد نواز اور ابرار احمد کی اسپن بولنگ کا جادو بھی نہیں چل پا رہا۔ 

البتہ عثمان طارق کے حوالے سے جتنی ہائپ بنی تھی وہ ویسا پرفارم کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، اگر انڈیا کیخلاف ان کا درست وقت پراستعمال کیا جاتا تو شاید وکٹیں اڑا دیتے، سلمان کی قیادت اور مائیک ہیسن کی کوچنگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں، دونوں نے کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔ 

اب وقت کم ہے، انگلینڈ اور سری لنکا کو کسی صورت آسان نہیں سمجھا جا سکتا، پیش قدمی جاری رہی تو آگے مزید مضبوط حریف ملیں گے، لہذا ٹیم کو کمر کس لینی چاہیے، جس طرح کھلاڑی پی ایس ایل کی نیلامی میں اپنے ریٹ کی فکرمیں ہلکان ہوئے جا رہے تھے کاش کارکردگی کے حوالے سے بھی کچھ فکر کر لیں۔ 

ابھی تک تو ٹیم نے مایوس ہی کیا ، اب دعا کی جا سکتی ہے کہ بقیہ میچز میں کچھ بہتر پرفارمنس سامنے آئے ورنہ پی ایس ایل سے ہی دل بہلا لیں گے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں پاکستانی ٹیم نہیں ہارتی لہذا کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، سائٹ ایریا کی فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے سائٹ ایریا میں نورس چورنگی کے قریب ٹیکسٹائل فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی۔

ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلاسٹک کولر بنانے والی فیکٹری میں لگی جہاں بڑی مقدار میں پلاسٹک دانہ اور فوم موجود ہونے کے باعث شعلے تیزی سے پھیل گئے۔

ترجمان فائربریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ابتدائی طور پر ایک گاڑی موقع پر پہنچی، بعدازاں مزید گاڑیاں طلب کرلی گئیں اور مجموعی طور پر چار فائربریگیڈ کی گاڑیاں آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق فائر فائٹرز آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کارروائی کر رہے ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، جمالی پل کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ جمالی پل کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا ۔

تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے جمالی پل غریب آباد کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا ، زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ 

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 30 سالہ زین دین ولد لال محمد کے نام سے کی گئی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ ہے علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending