Connect with us

Today News

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے

Published

on



کولمبو:

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں واقعی آنسو تھے، پریماداسا اسٹیڈیم میں میچ کے بعد گرین شرٹ پہنے اس لڑکے کو تسلی دینے کیلیے جب میں آگے بڑھنے لگا تو اس سے پہلے ہی شاید اس کے دوست یا کزن جو بھی تھے وہ آگئے ،او تم رو رہے ہو ہا ہا کب بڑے ہو گے، ہار گئے تو ہار گئے چھوڑو اب رونا دھونا۔

اس نے غصے سے انھیں گھورا اور کہا کہ میں رو نہیں رہا آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا، چلو اب ہوٹل چلتے ہیں، یہ کہہ کر وہ تو چل دیے لیکن میں جانتا تھا کہ اتوار کی شب ملک سے محبت کرنے والے بہت سے پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ 

کوئی مذاق اڑانے سے بچنے کیلیے آنکھ میں کچھ جانے کا بہانہ کر رہا ہو گا اور کسی نے آنکھوں سے باہر آنسو نہیں آنے دیے ہوں گے کہ لوگ کیا کہیں گے، خواتین تو رو لیتی ہیں مردوں کو یہ لبرٹی حاصل نہیں، کرکٹ کے شائقین کو سب برداشت ہے لیکن انڈیا سے ہار نہیں۔ 

مجھے سری لنکا میں ہی پاکستان سے کال آئی کہ ہمیں بڑی امیدیں تھیں لیکن افسوس آپ بھی پی سی بی کو کچھ نہیں کہتے، ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو ,,گلوری فائی,, کر رہے ہوتے ہیں، صرف کھلاڑیوں پر ہی زورچلتا ہے۔ 

میں نے کہا شاید آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن کیوں اس کی وجہ بھی جانتے ہیں،ویسے ہم بہت عجیب ہیں اتنے عجیب کہ خیالی پلاؤ بھی بناتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ خواب میں بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، جو ٹیم ایشیا کپ میں انڈیا سے مسلسل تین میچز ہار گئی، جسے نیدرلینڈز کو زیر کرنے کیلیے ناکوں چنے چبانے پڑے۔ 

ہمیں لگا انڈین سائیڈ خود فتح پلیٹ میں رکھ کر اسے پیش کر دے گی،میچ سے قبل کیا ہوا؟ ایک سابق اسٹار نے کہا اس بارمجھے ٹیم بہت مضبوط لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے، دوسرے نے کہا کہ سری لنکن کنڈیشنز سے ہم آہنگی حاصل ہو چکی، انڈین ٹیم تو ابھی وہاں پہنچی ہے انھیں پچ کا کچھ پتا نہیں اس لیے ہم جیت جائیں گے۔ 

تیسرے نے کہا کہ ہمارے اسپنرز کمال کے ہیں ہم جیت جائیں گے، چوتھے نے کہا ایسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، پانچویں نے کہا ویسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، ہم سے ٹی وی پر اینکر نے پوچھا تھا سلیم صاحب کیا لگتا ہے،میں نے جواب دیا ارے جناب مجھے تو ٹیم بہت اچھی لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے۔. 

کسی اور میڈیا والے سے ٹی وی پر پوچھا تو اس نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم جیت جائیں گے، البتہ دل میں ہم جانتے تھے کہ بھائی کیسے جیت جائیں گے، ہمارے پاس اسپنرز ہیں تو انڈیا کے پاس بھی تو ہیں، ہمارے پیسرز آؤٹ آف فارم ہیں مگر انڈیا کے تو فارم میں ہیں ہماری بیٹنگ کچھ نہیں کر رہی مگر انڈینز تو ہر حریف کو ہراتے چلے آ رہے ہیں، ایسے میں کیسے جیت جائیں گے،

کیا فہیم اشرف کے چھکوں سے جیتیں گے یا صائم ایوب کے نو لک شاٹ سے جیتیں ہیں، ہمارے پاس دنیا کی سب سے عجیب و غریب ٹیم ہے،2 پیسرز میں سے ایک فہیم کی بولنگ پر ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں اور انھیں گیند ہی نہیں تھمائی جاتی،ہاں وہ کبھی کبھار چھکے لگا دیتے ہیں۔

 دوسرے پیسر شاہین کی فارم روٹھ گئی ہے اور انھیں اب آرام کرنا چاہیے، صائم سے جارحانہ بیٹنگ کی توقع ہوتی ہے اور وہ وکٹیں لے رہے ہیں، بابر اعظم کا دور لگتا ہے اب ختم ہو گیا اور کتنے سال ان کو بڑے اسکور کی آس میں کھلایا جاتا رہے گا، کم از کم ٹی ٹوئنٹی سے تو وہ ریٹائر ہی ہو جائیں تو مناسب رہے گا۔

صاحبزادہ فرحان سے بڑی توقعات تھیں وہ بھی کچھ نہیں کر سکے، سلمان نے کپتان بننے کے بعد اتھارٹی منوانا شروع کر دی اور سابقہ کپتانوں کی طرح من پسند بیٹنگ پوزیشن پر قابض ہو گئے۔

چلیں ٹھیک ہے مگر اسکور بھی تو کریں ناں،عثمان خان کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا کہ وہ اس لیے تھوڑے رنز بنا گیا کیونکہ انڈیا نے اس پر ورک ہی نہیں کیا، جو پلیئر ہر میچ میں صفر پر آؤٹ ہو رہا ہو اس سے بھلا کوئی حریف کیوں ڈرے گا،انھیں ہیرو بننے کا اچھا موقع ملا تھا جو گنوا دیا۔

 ہمارے آل راؤنڈرز بھی ایسے ہیں کہ وہ خود اپنے نام کے سامنے یہ لکھا دیکھ کر شرما جاتے ہوں گے کہ او اچھا ایسا ہے، انھیں پتا ہی نہیں کہ بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ، بعض تو دونوں ہی شعبوں میں ناکام ہیں۔

آل راؤنڈر عمران خان،وسیم اکرم، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، اظہر محمود تھے، جنھوں نے ٹیم کو میچز بھی جتوائے، کولمبو میں پاکستانی ٹیم کو سری لنکنز کی بھی حمایت ملی۔

 ایک صاحب کو گرین شرٹ میں دیکھ کر جب میں نے  اردو میں کچھ کہا تو جواب ملا میں بنگلہ دیشی ہوں انگریزی میں بات کریں اردو زیادہ نہیں آتی، ان کے ہاتھ میں جتنا بڑا پاکستانی پرچم تھا شاید ہم یوم آزادی پر اپنے گھر میں بھی نہیں لگاتے ہوں گے،

کوئی پاکستانی لندن، دبئی تو کوئی امریکا سے میچ دیکھنے آیا تھا، البتہ اس سپورٹ کا کوئی فائدہ نہ ہوا کھلاڑی اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ ان سے بیٹنگ ہی نہ ہو سکی، وہ تو شکر کریں کہ ٹیم کی سنچری بن گئی،کیا صاحبزادہ میں دم نہیں،

کیا صائم باصلاحیت نہیں، کیا بابر ختم ہو چکا، کیا سلمان کچھ نہیں کر سکتا؟ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن انڈیا سے کھیلتے ہوئے  نجانے سب کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول جاتے ہیں، ماہر نفسیات کھلاڑیوں کیلیے تو کچھ نہیں کر سکے شاید وطن واپس جا کر خود انھیں ہی سیشنز لینے پڑیں۔ 

اب نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکا بھی پوائنٹس ٹیبل پر ہم سے آگے ہے، ہاں ہاں مجھے یاد ہے امریکا نے ہمیں گزشتہ ورلڈکپ میں ہرا دیا تھا، اب نمیبیا سے میچ جیتنے کی دعائیں کرنا پڑیں گی،

سوشل میڈیا دیکھنا میری مجبوری ہے لیکن انڈینز نے وہ طوفان بدتمیزی مچایا ہوا ہے کہ کیا بتاؤں،ظاہر ہے ہم ہارے جو جا رہے ہیں تو انھیں موقع مل گیا ہے، ہماری فوج نے انھیں جنگ میں ہرا دیا، ان کے کئی رافیل گرا دیے، دنیا بھر میں ہمارے نام کا ڈنکا بج گیا لیکن کرکٹ میں ہم کچھ نہیں کر پاتے۔

کاش یہاں بھی کوئی ایسا تگڑا کپتان مل جائے جو کسی انسان سے نہ ڈرے اور ہر حریف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، کاش کرکٹ میں بھی بہادر ائیرفورس کے پائلٹس جیسے جی دار کھلاڑی مل جائیں جو وکٹیں اڑائیں اور رنز بنائیں،

جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم کچھ نہیں کر سکتے، آپریشن کے نام پر پلیئر اے کو نکالیں گے، بی کو لے آئیں گے، پھر اگلی ہار پر اے واپس آ جائے گا اور بی باہر ہوگا، شائقین کی بھی یہی سوچ ہے،وہ بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں،انھیں جو باہر ہو وہ اچھا لگتا ہے پھر واپس آ جائے تو دوبارہ باہر نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کون سے بریڈ مین، میلکم مارشل یا شین وارن ہمارے پاس موجود ہیں جنھیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا،میں اس وقت فلائٹ میں بیٹھ کر یہ لکھ رہا ہوں, باقی باتیں انشااللہ اگلے کالم میں ہوتی ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سانحہ گل پلازہ: بروقت امداد نہ ملنے سے نعشوں کے ڈھیر لگ گئے

Published

on


شہرِ قائد ایک بار پھر آگ، چیخوں، دھوئیں اور لاشوں کے سائے میں ڈوب گیا۔ گل پلازہ میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک کمرشل عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی نااہلی، ناقص شہری منصوبہ بندی، کمزور نگرانی اور انسانی جانوں سے مجرمانہ غفلت کی ایسی لرزہ خیز مثال بن کر سامنے آیا جس نے پورے کراچی کو سوگوار کر دیا۔

ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 72 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے ، باقی لا پتہ افراد کے اہلخانہ سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئیں لیکن وہ نہیں آئے۔ جاں بحق 72 افراد میں سے 69 افراد کی باقیات اہلخانہ کے سپرد کی جاچکی ہیں۔ 3 جاں بحق افراد کی باقیات تاحال ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔ سانحہ گل پلازہ گزشتہ ماہ 17 جنوری بروز ہفتہ، رات سوا دس بجے کے قریب پیش آیا۔ اس وقت گل پلازہ میں خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ میزانائن فلور پر قائم مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ میں ماچس یا لائٹر کے استعمال سے آگ بھڑکی، جس نے چند ہی لمحوں میں پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حیرت انگیز اور تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ انتظامیہ ایک دکان میں لگنے والی آگ پر بروقت قابو نہ پا سکی۔ عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 12 منٹ کے اندر پوری عمارت شعلوں کی زد میں آ گئی۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اور کالا دھواں پورے علاقے پر چھا گیا۔

چند لمحوں میں گل پلازہ ایک دہکتے ہوئے انگارے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آگ کے وقت پلازہ میں دکانداروں، ملازمین اور خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ دھواں بھرنے کے باعث سانس لینا محال ہو گیا۔ بجلی کی بندش اور عمارت سے باہر نکلنے والے متعدد راستوں کی بندش نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ حدِ نگاہ ختم ہو گئی، لوگ اندھیرے اور دھوئیں میں ایک دوسرے سے بچھڑتے چلے گئے۔ کئی افراد مارکیٹ کی بھول بھلیوں میں راستہ بھٹک کر پھنس گئے اور بے بسی کے عالم میں ایسی موت کا شکار ہو گئے جس کا تصور بھی شاید انہوں نے کبھی نہ کیا ہو۔

سانحہ کے بعد گل پلازہ کی مینجمنٹ کمیٹی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، آگ سے بچاؤ اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آخر کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ انکشاف ہوا کہ گل پلازہ میں نہ فائر الارم نصب تھا اور نہ ہی اسپرنکلر سسٹم موجود تھا۔ حادثے کے فوراً بعد شہر کا سیاسی ماحول بھی شدید گرم ہو گیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فوری استعفوں کا مطالبہ کر دیا۔ سانحے کے بعد ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے دفتر میں لاپتہ افراد کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا۔ یہاں جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ انسان کے دل کو چیر دینے والے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔ جلنے والی دکانوں کے مالکان کے لیے ریلیف پیکیج اور گل پلازہ کی نئی عمارت کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا۔

کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ سانحے کے دوران گل پلازہ کی عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ملبے تلے دبنے سے کے ایم سی کا فائر فائٹر فرقان علی فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو گیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گل پلازہ کی باقی ماندہ عمارت کو بھی مخدوش قرار دے کر گرانے کا حکم جاری کر دیا، جبکہ زمین بوس حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تنقید فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں پر کی گئی۔ شہریوں اور متاثرین کا الزام ہے کہ آگ لگنے کے باوجود فائر بریگیڈ بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔

جو گاڑیاں پہنچیں وہ ناکافی آلات اور پانی کی شدید کمی کا شکار تھیں۔ واٹر ٹینکرز سے فراہم کیا جانے والا پانی بھی تاخیر سے پہنچا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی ایک گھنٹے میں مؤثر ریسکیو آپریشن کیا جاتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ عمارت میں پھنسے افراد مدد کے لیے پکارتے رہے، مگر نظام کی بے حسی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔

سانحے کی چشم دید گواہ بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں یاسمین اور بیٹی عائشہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیس سال کی جمع پونجی صرف بیس منٹ میں جلتے ہوئے دیکھ لی۔ ان کے مطابق بیسمنٹ میں اعلان کیا گیا کہ اپنی دکان بند کر کے فوراً باہر نکلیں، اوپر آگ لگ چکی ہے۔ جب وہ اپنی والدہ اور ملازمین کے ساتھ باہر نکلیں تو ہر طرف دھواں اور شعلے تھے، ہر سمت بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ان کی بیسمنٹ میں گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نبی بخش پولیس نے واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او نبی بخش کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل بالسبب سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا اور مزید تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دی گئی۔

کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر دی گئی۔ پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ بعد 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو 10 بج کر 30 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیم 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچی۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ آگ گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ سے لگی۔ سانحے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ حسب روایت چند افسران معطل ہوں گے، ایک اور کمیٹی بنا دی جائے گی اور پھر فائلیں بند ہو جائیں گی، مگر جو لوگ دھوئیں اور آگ کے درمیان دم توڑ گئے، ان کے اہلخانہ کا کرب کون محسوس کرے گا؟۔ سانحہ گل پلازہ آج کراچی کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب بن چکا ہے، لیکن سوال آج بھی وہی ہے کہ کیا ہم نے کچھ سیکھا؟ یا یہ سانحہ بھی ماضی کے حادثات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟ 





Source link

Continue Reading

Today News

وہ سماں اب کہاں !

Published

on


گزشتہ کالم میں راقم نے ریڈیو پاکستان کراچی کی مشہورگلوکارہ منی بیگم اور ان کی ایک غزل کا ذکرکیا تھا جس کو بہت سے قارئین نے پسندکیا اورکہا کہ ریڈیو پاکستان اور اس سے وابستہ شخصیتوں سے ان کی حسین یادیں وابستہ ہیں، ان کا اس طرح مختصر ذکر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اچھی طرح سے ان بیتے لمحوں پر بات ہونی چاہیے۔

بات یہ ہے کہ خود راقم کی بھی ریڈیو سننے کے ضمن میں ریڈیو پاکستان سے حسین یادیں وابستہ ہیں خاص کر ایک پروگرام ’’ بچوں کی دنیا‘‘ سن کر ہم گھر ہی میں اس کی نقالی کیا کرتے تھے اور یہی سوچتے تھے کہ کاش! ہم بھی کبھی اس پروگرام کا حصہ بنیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب ہم میڈیا کے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے طلبہ کو ریڈیو پاکستان کے دورے پر لے کرگئے اور بچپن میں جو کانوں سے سنتے تھے، وہ سب آنکھوں سے دیکھا۔

بہرکیف ریڈیو پاکستان کراچی کے تمام پروگرام اور ان کے فنکار اپنی حسین یادیں چھوڑ گئے ہیں جن میں قاضی واجد (معروف ریڈیو اداکار اور میزبان)، عظیم سرور (ریڈیو پاکستان کراچی کے معروف اناؤنسر اور پروڈیوسر)، سبحانی با یونس، انور سولنگی، محمود علی، حسن شہید مرزا، طلعت حسین، ساجدہ سید، ابراہیم نفیس، طلعت صدیقی، آغا جہانگیر، منّی باجی، عامرخان (حامد میاں)، جمشید انصاری، اطہر شاہ خان (جیدی)، عشرت ہاشمی، سید ناصر جہاں، صدیق اسماعیل اور مظفر وارثی وغیرہ۔

ریڈیو پاکستان کا یہ دور عوام کے لیے ایک گلیمرکا دور بھی تھا جیسا کہ میرے استاد پروفیسر انعام باری (مرحوم) جو خود ریڈیو سے برسوں وابستہ رہے، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک کی معروف گلوکارہ، منی بیگم اپنے کیریئر کے اوائلی دور میں صرف اپنی آواز سے پہچانی جاتی تھیں۔ اخبارات میں ان کی کوئی تصویر نہیں آیا کرتی تھی۔ جب وہ ریڈیو کے پروگرام میں آتی تھیں تو لوگ ان کو دیکھنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کے باہر بیٹھے رہتے کہ دیکھیں منی بیگم کی شخصیت کیسی ہے۔

 ریڈیو پاکستان جو عوام کی تفریح کا ایک بہترین ذریعہ تھا اور جو ہر ایک کی دسترس میں تھا، چنانچہ ایک میں ہی کیا، نہ جانے کتنے لوگوں کی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کا ایک کردار تھا۔ ہماری صبح کا آغاز ریڈیو پاکستان کے ساتھ ہوتا تھا۔ صبح ریڈیو سے نشر ہوتی خبریں اور اسکول و دفتر کی تیاری پھر چھٹی کے دن صبح صبح ’’ حامد میاں کے ہاں‘‘ کا پروگرام سننا یا پھر اس کے بعد ’’ بچوں کی دنیا ‘‘ پروگرام سننا، ہماری بچپن کی دنیا کو اور بھی لاجواب بنا دیتا تھا۔

دوپہر میں نئی فلموں کے تعارفی پروگرام اور ’’ آئیڈیل کی تلاش‘‘ نامی گیتوں بھری کہانی کا پروگرام، شام میں ’’ مزدور بھائیوں‘‘ اور ’’فوجی بھائیوں‘‘ کے لیے ہی نہیں خواتین کے لیے بھی پروگرام تمام طبقات کو ریڈیو کے دامن میں سمیٹ لیتا۔ رات میں خبروں کے علاوہ ’’میری پسند‘‘ فلمی گانوں کے ساتھ ایک الگ ہی مزہ دیتا تھا۔

اس پروگرام میں لوگ خط لکھ کر بھیجتے اور اپنی پسند کا کوئی فلمی گیت سننے کی فرمائش کرتے اور جب یہ پروگرام نشر ہوتا تو میزبان ابتداء میں ان خطوط لکھنے والوں کے تمام نام پڑھ کر سناتا اور پھر اس کے بعد پسند کیے گئے فلمی گیت نشر کیے جاتے۔ بعض لکھنے والے اس قدر زیادہ خطوط بھیجتے تھے کہ پروگرام میں ان کے نام بار بار لیے جانے پر وہ ہمیں یاد ہوگئے، جیسے ایم آرزو، شمع آرزو وغیرہ۔

 اسی طرح ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ کون بھول سکتا ہے؟ کیا کیا ڈرامے ہوتے تھے اور اس قدر مقبول اور دل کو چھو لینے والے کہ سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا اور لوگ ریڈیو سے کان لگائے ڈرامہ سنتے رہتے۔ ایک عجیب ہی مزہ تھا، ایک الگ ہی سماں ہوا کرتا تھا، ایک عجب ہی دنیا تھی جس سے خاندان جڑے ہوئے تھے، جب گھر میں بہار ہوتی تھی، سکون ہوتا تھا۔ آپ ریڈیو بھی سنتے رہیں کانوں سے اور ہاتھوں سے اپنے کام میں بھی مصروف رہیں۔ یہ ایک ایسا میڈیم تھا جس سے ہمارے کام میں کبھی حرج نہیں ہوتا تھا بلکہ کام کا مزا دوبالا ہوجاتا تھا، اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ہم اپنی پسند کے پروگرام سنتے رہتے تھے۔ آج یہ گزرا زمانہ جب ہم یاد کرتے ہیں تو جیسے خواب لگتا ہے۔

آاحمد رشدی کا ایک مشہورگانا جو ریڈیو پاکستان کراچی کی شناخت بن گیا تھا جس کو لوگ سنتے ہی جھوم اٹھتے۔

بندر روڈ سے کیماڑی

میری چلی رے گھوڑا گاڑی

بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

یہ آیا ریڈیو پاکستان

ہے گویا خبروں کی دکان

تُو اس کے گْنبد کو پہچان

کہیں مسجد کا ہو نہ گمان

کہ یہاں ہوتا ہے درس قرآن

کبھی گمشدگی کا اعلان

بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

ریڈیو سے سینماؤں میں لگی فلموں کے کمرشل پروگرام بھی بڑے دلچسپ ہوتے تھے، جس میں حسن شہید مرزا نہایت انوکھے انداز میں کسی سنیما میں لگی فلم کی کہانی سناتے مگر پروگرام کے اختتام پر کہانی کو بہت خوبصورت انداز میں ادھوری چھوڑ دیتے اور سننے والوں کے تجسس کو بڑھاتے ہوئے سامعین سے سوال کرتے مثلاً۔

 ’’ کیا فلم کا ہیرو اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکا؟ کیا اس نے اپنی محبوبہ کو حاصل کرلیا؟ بس اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے آج ہی فلاں سینما میں جا کر فلم دیکھیے! ‘‘

ریڈیو پاکستان موسیقی اور تفریح کے پروگراموں میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ صابر ظفر کا کلام غلام علی کی آواز میں اور بھی لاجواب ہوجاتا تھا اور ہم بھی گنگناتے پھرتے تھے۔

دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے

اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں

جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

یہی ریڈیو پاکستان روحانی کیفیت کو بھی چار چاند لگا دیتا تھا جب صبح صبح درود شریف کی آواز ہرگھر سے گونجتی تھی۔ اسی طرح ناصر جہاں کا کلام ہو یا مظفر وارثی کا کلام یہ روحانی کیفیت کو بڑھا دیتے تھے۔ محرم الحرام کے ماہ میں ناصر جہاں کا کلام ایک سماں باندھ دیتا تھا۔

 مزاحیہ پروگرام کا بھی ایک اپنا ہی معیار تھا۔’’ ہنسنا منع ہے‘‘ اور ’’آئینہ‘‘ جیسے پروگرام سنجیدہ سے سنجیدہ سامعین کو بھی ہنسنے پر مجبورکردیتے تھے جب کہ اطہر شاہ خان (عرف جیدی) کے مزاحیہ پروگرام اور اس میں ان کے معصومانہ جملے تو ہر چھوٹے بڑے کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیتے تھے۔

آج دنیا بدل چکی ہے، ایجادات کی جدت نے سب کچھ ہی بدل دیا ہے مگر ریڈیو کی جو دنیا تھی اور اس وقت جو ماحول تھا، جو اس کے بعد ہم نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اب دیکھ سکیں، شاید یہ ہماری عمر کی جنریشن کا خاصہ تھا جو صرف ہمارے حصے میں آیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

غلط العام نام اورالفاظ (دوسرا اور آخری حصہ)

Published

on


زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے ، فصل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اوروہیں پر مستقل رہائش بھی اختیار کرنا پڑتی، بستیاں بسانا پڑتی ہیں ۔ جب کہ جانور پالوں کو اپنا اوراپنے جانوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کبھی یہاں کبھی وہاں کوچ اورگردش کی مجبوری ہوتی ہے۔

ایک جگہ جانوروں کی خوراک ختم ہوتی ہے یا موسم سخت ہوجاتا ہے تو دوسری جگہ خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے اور ہندوستان یا ایشیا کے مختلف مقامات پر جو لوگ ہمیں تاریخ میں سرگرم نظر آتے ہیں، وہ سارے کے سارے خانہ بدوش ، مویشی پال یا گلہ بان اساک یا تورانی یاکشتری تھے ، آریا نہیں تھے لیکن آریا کیوں مشہور ہوئے، اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ ہم اپنی بات کو صرف ہندوستان تک محدود رکھیں گے کیوں کہ یہاں کے نوشتے تسلسل میں ہیں ۔

یہاں جو لوگ آئے اساک ہونے کے باوجود کیوں آریا کہلائے، وہ اپنے ساتھ ’’رگ وید‘‘ کے بجھن لائے تھے جب کہ ایراینوں کا نوشتہ اوویستا تھا ، دونوں سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ رگ وید خانہ بدوشوں کا نوشتہ ہے جس میں بارش کے دیوتا ’’اندر‘‘ کی مدح سرائیاں ہیں جب کہ اوویستا میں سب کچھ زراعت سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں ساری مدح سرائیاں آہورمزدا (سورج) کی ہوئی ہیں لیکن جب یہ اساک خانہ بدوش اور مویشی پال لوگ ہند جیسی سرسبز اورمالامال سرزمین پہنچے تو یہیں کے ہوگئے، خوشحال اورفارغ البال ہوگئے۔یہ باتیں جب ایران، آج کے افغانستان کے آریاؤں کومعلوم ہوئیں تو وہاں سے بھی آہورمزدا کے پرستار آنا شروع ہوگئے ، میں نے پیچھے پروفیسر محمد مجیب کی کتاب کاحوالہ دیا ہے، اس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ہند کے برھمن دراصل ایران کے مذہبی لوگ تھے ۔

واضح رہے کہ ہم جب ہند کی بات کرتے ہیں تو پرانے ہند کی بات کرتے ہیں جس میں ہمارے یہ پاکستان کاخطہ بھی شامل تھا اورہندوکش کا علاقہ بھی ، مجموعی طورپر چاردانگ عالم میں سو نے کی چڑیا کی شہرت رکھتا تھا ، اوویستائی مندرجات میں اسے ستہ سندو یا ھیتہ ھندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا گیا ہے جس میں گنگا اورجمنا کے دودریا بھی شامل تھے ، یہ ایرانی مہکی اورمہرجب ایران سے چلے تو مجموعی طورپر ’’پارسو‘‘ تھے کیوں کہ اس زمانے کے مطابق ان کا جنگی ہتھیار ’’پرسو‘‘عین کلہاڑا تھا ۔ہندی مذہبی نوشتوں میں پرسورام کابہت ذکر ہے جو وشنو کااوتار تھا، ذات کابرھمن تھا اوراس نے سارے کشتریوں کو مارڈالاتھا ، پرسو کوئی فرد نہیں بلکہ وہ آریائی گروہ تھا جو کشتریوں کے تلوار کے مقابل کلہاڑا لے کر اٹھے تھے۔

یہ لفظ پارسو، پارس، پارسا بھی بہت دوردور تک گیا ہے ،انھی کی وجہ سے ایران کا نام پارس، فارس ہوگیا اورزبان بھی پارسا گرد اورپرسی پولس نامی شہربھی ان سے موسوم ہوئے تھے جب کہ موجودہ پشاورکا نام بھی پہلے پرس پور تھا کیوں کہ ایران سے چل کر یہ پہلے اس خطے میں پہنچے تھے اوربرھمن بن گئے تھے چنانچہ لفظ پارسا ، پارسائی اب بھی مذہبی اورعبادت گزار لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔

ان پارسو یا برھمنوں کے آنے سے پہلے یہاں کھشتریوں نے جو نظام یامعاشرہ قائم کیاتھا، وہ صرف تین ذاتوں کھشتری (حکمران) ویش (کمانے والوں) اور شودروں( غلاموں) پر مشتمل تھا۔برھمنوں کایہ چوتھا طبقہ اس میں نہیں تھا، اورہاںیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان کی آمد یک دم اورکسی ایک وقت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ڈھائی ہزارسال قبل مسیح سے شروع ہوکر ایک ہزار قبل مسیح تک جاری رہی تھی ، جتھے آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے بلکہ یہ سلسلہ ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے تک بھی جاری تھا ، کوچی پاوندے خانہ بدوش آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے۔

پارسو اورکھشتریوں میں پہلے تو جنگ وجدل، کش مکش اورماراماری ہوتی رہی، پھر دونوں میں وہ سمجھوتہ ہوگیا جو دنیاکے ہرخطے میں ہوتا رہا ہے ، تلوار اورقلم ، کتاب وتخت ، مندراورمحل کا تاج اورچوٹی کاسمجھوتہ اوربرھمنوں کو چوتھا گوٹ تسلیم کیاگیا ، یہ پارسو آریا ، مہگی اورمہر لوگ چونکہ مدنی تھے اور پڑھت اورلکھت کے لیے متمدن ماحول چاہیے ہوتا ہے، اس لیے پڑھے لکھے تھے جب کہ کھشتری خانہ بدوش تھے اورخانہ بدوشی میں لکھت پڑھت کا نہ موقع ملتا ہے نہ ماحول ۔ وہ صرف جنگجو اورتلوار کے دھنی تھے چنانچہ برھمنوں نے ان کو بڑے کمال سے آریا بناکر اپنی پہچان سے محروم کردیا اوروہ برھمنوں کے دیے ہوئے صفاتی ناموں اورنام کی صفات میں خوش ہوگئے اورآریا نام سے خود کو موسوم کرلیا۔

اس بات کا ثبوت کہ ہند میں آنے والے اولین لوگ اساک کشتری تھے آریا نہیں تھے، یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ لوگ اس گندھارا نام کے خطے میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ان نوشتوں میں یہاں کے بہت سارے نام مذکورہیں ،راجہ گندھار ، گندھاری، امب، امبی، بنوں ، بھرت ،ککی ، پشکلاوتی، سواستو، سوست ،سورگ وغیرہ ، خاص طورپر امبی کاراجہ ، اورسب سے زیادہ ’’اودیانہ‘‘ جو سوات کا پرانا نام ہے جسے لے کر برھمنوں نے ہندوستان میں اودھ اورایودھیا پرچسپاؒں کر دیا، امب آج بھی ’’امبیلہ‘‘ کے نام سے مشہور اورموجود ہے، یہی وہی ریاست تھی جس کا راجہ، راجہ پورس کے خلاف سکندرسے مل گیا تھا ، یہ پاکستان کے بعد بھی ایک عرصے تک ریاست رہی تھی ، ایوب خان کے زمانے میں جب اس کاآخری حکمران کیپٹن اسد ایک ہوائی حادثہ میں مرگیا تو ریاست بھی ختم ہوگئی۔

 ٹیکسلا اوربرہان کے درمیان موٹروے پر ایک انٹرچینج ہے ’’برھمہ یا پتر‘‘ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہوگا اور یہ بھی عام بات ہے کہ (ھ) اور(ح) آپس میں بدلتے ہیں جیسے ہور سے خورشد، اوریہ نام بھی اصل میں برھمن باختر ہوسکتے ہیں اورجن پرسو لوگوں کا اس نے ذکر کیا ہے وہ بلخ وباختر کے مہگی اورمہر تھے ، یہ اس خطے میں آنے یا رہنے بسنے کا دوسرا ثبوت ہے ۔کل ملا کر بات یہ بنی کہ آریا ایک غلط العام نام ہے اورہند میں آنے والے وہ خانہ بدوش مویشی پال قبائل آریا نہیں بلکہ آریاؤں کے دشمن تھے، آریا وہ لوگ تھے جو قدیم دور کے فارس یا پارس کے مختلف علاقوں سے سرزمین ہند میں آئے تھے۔





Source link

Continue Reading

Trending