Today News
اعلانات نہیں عمل ضروری ہے
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافے کا بم عوام پر مارنے کے بعد مختلف اعلانات کیے ہیں جن پر عمل تجزیہ کاروں کو ہوتا نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی حکومت اپنے اعلانات پر عمل میں سنجیدہ رہی ہے اور نئی سولر پالیسی کے بعد تو عوام میں حکومت نے اپنا رہا سہا اعتماد بھی ختم کر دیا جس کے اعلان پر حکومت نے پہلے سولر پینلز کے ذریعے اپنوں کو کمانے کا موقعہ دیا تھا جس کے بعد اب 6 روز میں پٹرول بم مار کر 55 روپے لیٹر کا اضافہ کرکے پٹرول کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا دیا اور پٹرول پمپ مالکان بھی فائدے میں رہے اور پہلی بار پٹرولیم تنازع پر ایک جان بھی ضایع ہوئی اور متاثرین نے مختلف طریقوں سے حکومتی فیصلے پر احتجاج بھی کیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ حکومت کے بقول پٹرول کا ایک مہینے کا اسٹاک تھا تو حکومت نے پہلے سے ہی قیمت کیوں بڑھائی؟ حکومتی ذمے داروں نے بھی حکومتی فیصلے کی حمایت میں عجیب و غریب بیانات دے کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور عوام پر حکومت کا احسان جتایا کہ حکومت کو تو ایک سو دس روپے لیٹر بڑھانے کا کہا گیا تھا مگر حکومت نے صرف 55 روپے ہی بڑھائے۔ حکومت چاہتی تو 120 روپے لیٹر بھی قیمت بڑھا سکتی تھی تو عوام نے کیا کر لینا تھا۔ حکومت نے پہلے دس روپے بڑھا کر چھٹے روز ہی 55 روپے لیٹر قیمت بڑھا کر پہلے سے مہنگائی تلے دبے عوام پر احسان عظیم کیا ہے اگر حکومت گیس اور بجلی کے بعد پٹرولیم مصنوعات پر بھی فی لیٹر فکس سرچارج بھی لگا دیتی تو عوام نے کیا کر لینا تھا کیونکہ عوام پٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی مرضی کے ٹیکس برداشت کر ہی رہے ہیں۔ عالمی سطح پر نرخ کم ہوتے ہیں تو حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دیتی ہے کہ کہیں عوام کو فائدہ نہ ہو جائے۔
وزیر اعظم نے صرف سرکاری پٹرول کے استعمال میں پچاس فی صد کٹوتی کا اعلان کیا ہے جب کہ جو حکام سرکاری طور پر مفت لاتعداد یونٹوں کی سرکاری بجلی و گیس استعمال کر رہے ہیں ،ان کے استعمال میں کٹوتی کا کوئی اعلان نہیں کیا جب کہ بجلی و گیس بھی مختلف اضافی ٹیکس لگا کر عوام کو پہلے ہی بہت مہنگی فراہم ہو رہی ہے مگر سرکاری حکام اور ججز کے لیے وہ بالکل مفت ہے جس کی سزا حکومت نہیں، عوام بھگت رہے ہیں۔ جس طرح ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی اپنی تنخواہ و مراعات بڑھا لیتے ہیں اور لینے سے انکار نہیں کرتے۔ حکومت بیورو کریسی کو اپنے فائدے کے لیے تنخواہ و مراعات بڑھاتی ہے اس اضافے میں کبھی ججز کو نہیں بھولتی اور انھیں بھی اس لیے نواز دیتی ہے کہ وہ بھی خوش رہیں اور حکومتی فیصلوں میں رخنہ نہ ڈالیں۔ حکومتی فیصلوں میں رخنہ صرف ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ ڈال سکتے ہیں یا عدلیہ ، عوام تو صرف حکومتی حکم ماننے پر مجبور ہیں جن کا حکومت کو کبھی خوف نہیں رہا۔ ہر سال بجٹ پر اسمبلیوں میں اعتراضات اور اپوزیشن کا روایتی احتجاج ضرور ہوتا ہے مگر بجٹ منظوری وہی ہوتی ہے جو حکومت چاہتی ہے۔
حکومتی ارکان کبھی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھانے پر اعتراض نہیں کرتے اور اپوزیشن واک آؤٹ یا بائیکاٹ کرکے حکومت کو من مانی کا موقعہ دے دیتے ہیں۔ جب حکومتی لوگ اپوزیشن میں آ جائیں تو انھیں فوراً عوام یاد آ جاتے ہیں جب کہ حکومت میں رہتے ہوئے کبھی عوام کا خیال نہیں آتا اور اپوزیشن حکومت میں آ کر اپنے ماضی کے دعوے بھول جاتی ہے کیونکہ وہ اب حکومت ہوتے ہیں۔ ماضی کے اپوزیشن رہنما پہلے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا ذمے دار وزیر اعظم کو قرار دیتے تھے مگر اب ان کی ترجیحات ماضی جیسی نہیں ہیں۔حکومت نے صرف دو ماہ کے لیے محکمانہ اخراجات میں صرف بیس فی صد کمی 600 فی صد سرکاری گاڑیاں، وزرا کی تنخواہیں اور غیر ملکی دورے بند کرنے کا اعلان کیا ہے مگر خود وزیر اعظم نے اپنے غیر ملکی دوروں کا نہیں بتایا جو ہر ماہ کئی کئی غیر ملکی دورے کرتے آئے ہیں اور حالیہ جنگ میں وہ روس کا دورہ نہیں کر سکے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہیں پڑنے دیں گے جب کہ حکومت کے اضافے کا سارا بوجھ تو عوام پر ہی پڑتا آیا ہے اور نہ جانے وہ کون سے عوام ہیں جن کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے کا اعلان کر رہے ہیں مگر بوجھ تو صرف عوام پر پڑتا آیا ہے۔
کٹوتیوں کے اعلانات سے صرف ایک روز قبل حکومت کی طرف سے سادگی اختیار کرنے کی خبر میڈیا میں آئی تھی مگر حکومت اور حکمرانوں کی سادگی کا کوئی اعلان نہیں ہوا جو زیادہ ضروری تھا۔ مہمانوں کی تعداد کم اور ون ڈش کے اعلانات ماضی میں بھی ہوئے جو صرف عام لوگوں کے لیے ہوتے تھے بڑے لوگوں کو تو ہر قسم کے اخراجات کی آزادی ہوتی تھی۔ حکومتی اعلانات تو اچھے ہیں مگر ایسے اعلانات پر ماضی میں کبھی عمل ہوا نہ ہی اب ہونے کی قوی امید ہے۔ سرکاری اعلانات کے حشر کا ماضی گواہ ہے اس لیے اب صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ ان پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔ ضروری اعلانات نہیں عمل ہوتا ہے اگر حکومت واقعی اپنے اعلانات میں سنجیدہ اور عوام کا احساس رکھتی ہے تو انھیں اپنے اعلانات پر عمل بھی کروا کر دکھانا ہوگا ورنہ اعلانات بے مقصد رہیں گے۔
Today News
ون ڈے وکٹوں کی سنچری، حارث رؤف نے اہم اعزاز اپنے نام کرلیا
حارث رئوف ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والے تیسرے تیز ترین پاکستانی بولر بن گئے۔
انھوں نے یہ اعزاز گزشتہ دنوں بنگلا دیش سے سیریز کے دوسرے ون ڈے میں حاصل کیا، یہ حارث کے کیریئر کا 55 واں ون ڈے انٹرنیشنل تھا۔
حارث رؤف نے 4.3 اوورز میں 23 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں جبکہ موجودہ کپتان شاہین آفریدی یہ کارنامہ سب سے کم 51 میچز میں سرانجام دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ثقلین مشتاق 53 میچز میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرکے دوسرے نمبر پر ہیں۔
Source link
Today News
فزا علی کا ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے وائرل تنازع پر وضاحتی بیان سامنے آگیا
اداکارہ فضا علی نے ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے ساتھ ہونے والے حالیہ وائرل تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنا موقف پیش کردیا۔
یہ تنازع رمضان کے پہلے ہفتے میں اُس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے فزا علی کی رمضان ٹرانسمیشن میں آ کر اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل کا ذکر کیا۔ اس دوران پروگرام میں ہونے والی گفتگو اور صورتحال سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔ بہت سے صارفین نے فزا علی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے کسی کی ذاتی زندگی کے مسائل کو موضوع بنا کر اسے ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔
اس معاملے پر حال ہی میں فزا علی نے اپنی رمضان ٹرانسمیشن میں وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ میرے شو میں آ کر دل کی بات کرتے ہیں۔ وہ بلا جھجھک اپنے مسائل بیان کرتے ہیں اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے ایسے بات کرتے ہیں جیسے میں ان کے خاندان کا حصہ ہوں اور مجھے یہ بات بہت پسند ہے۔
ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے دفاع میں بات کرتے ہوئے فزا علی نے مزید کہا کہ گھر میں میاں بیوی کے درمیان دوستانہ ماحول ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شوہر کے کندھے پر سر رکھ لے یا ہاتھ پکڑ لے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہونی چاہیے، اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اگر شوہر کسی اور عورت کے ساتھ گھومنے کے بجائے اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزار رہا ہے تو اسے برا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دینا چاہیے۔
تاہم پروگرام میں موجود دیگر مہمانوں نے فزا علی کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے ساتھ بیٹھنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
Today News
سوئٹزرلینڈ کا بڑا فیصلہ، امریکی فوجی طیاروں کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا
یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے امریکا کی دو فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
سوئس حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملک کے غیرجانبداری کے قانون کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق جنگ سے متعلق فوجی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی تین دیگر پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ وہ جنگی کارروائی سے متعلق نہیں تھیں۔
سوئٹزرلینڈ کے مطابق انسانی ہمدردی اور طبی امداد سے متعلق پروازوں کو اجازت دی جا سکتی ہے، جبکہ زخمیوں کی منتقلی اور دیگر غیر جنگی پروازیں بھی فضائی حدود استعمال کر سکتی ہیں۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video