Connect with us

Today News

افغانستان سے دہشتگردی اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کیلئے بڑا خطرہ بن گیا

Published

on


افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ  خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

بنگلہ دیشی جریدہ دی مسلم ٹائمزکےمطابق پاکستان نے4 سالہ سفارتی کوششوں کے بعد افغانستان میں موجوددہشتگردوں کےٹھکانوں پرکارروائی کی۔ طالبان رجیم کےجارحانہ رویےاورعدم تعاون کی وجہ سےقطراورترکیہ کی ثالثی کی کوششیں بےسود رہیں۔

فتنہ الخوارج کی پشت پناہی اورافغان سرزمین کے استعمال کیوجہ سے پاکستان طالبان کیخلاف کارروائی پرمجبور ہوا۔ علاقائی عدم استحکام کوسمجھنے کیلئے بھارت اسرائیل تعلقات اورافغان طالبان کےپراکسی کردارکاجائزہ لیناہوگا۔

دی مسلم ٹائمز کے مطابق افغانستان دہشتگرد گروہوں کیلئےمحفوظ پناہ گاہ بن چکاجو جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام کومتاثرکررہاہے۔

 ماہرین کے مطابق افغان سرزمین سےسرحد پارحملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلح گروہوں کیلئےسازگارماحول طویل المدتی علاقائی امن کیلئےخطرہ ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مودی کے شائننگ انڈیا کے بلند و بانگ نعرے زمیں بوس

Published

on


بھارت کے زوال پذیر معاشی اشاریوں  نے مودی کے نام نہاد ترقی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ 

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات کا پول کھول دیا۔ رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ  کے باعث بھارتی شیئرز مارچ 2020 کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے۔

پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباواور ایرانی جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی بینکوں کے حصص 2.5 فیصد تک گر گئے، مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث بھارت کا نجی شعبہ 3 سال کی کمزور ترین شرح نمو پر پہنچ گیا۔

بھارت کی جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

بھارتی حکام  نے 1.3 فیصد تک بڑھ جانے والے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کر دی۔ عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی نے بھارتی معیشت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔

مودی کی بدترین حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار، وال اسٹریٹ جرنل

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود وہ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔

ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کے سائے اور پاکستان بطور مصالحت کار

Published

on



شہرِ اقتدار اسلام آباد میں چار اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ایسے موقع پر ہوا، جب پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کے جوابی وار نے اس وقت پوری دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے پوری دنیا نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی اس وزرائے خارجہ کانفرنس اور بیٹھک سے بہت سی امیدیں وابستہ کرلی ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک اس بیٹھک کی ابتدائی کارکردگی امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے اور اشاریے مثبت ہیں۔

اس ملاقات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جاری جنگ کے دوران ایسے امکانات کا جائزہ لیا جائے کہ جس سے اس جنگ کو روکنے میں مدد ملے اور حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ ان مذاکرات کو نہ صرف امریکا بلکہ ایران کی حمایت بھی حاصل ہے اور اسحاق ڈار امریکا اور ایران دونوں سے مکمل رابطے میں رہے ہیں اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے ابتدائی خدوخال واضح ہو چکے ہیں۔

اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ جنگیں مسائل کا نہ ہی حل ہوتی ہیں اور نہ ہی جنگ کی وجہ سے ہم اپنی سوچ نافذ کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا بغور مشائدہ کیا جائے تو اس خطے میں جنگ کی آگ اس طرح بھڑک رہی ہے کہ وہ کبھی بھی ایک عالمی جنگ کی سی صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

مختلف فریقین نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔ روس یوکرین تنازعہ بھی اس لیے ایک نیا موڑ لے سکتا ہے کہ یوکرینی صدر اس جنگ میں کودنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور ایسا ہوا تو روس خاموش تماشائی بننا ہرگز گوارا نہیں کرئے گا۔ خطے میں یمن کی صورتحال، لبنان میں بھڑکتی آگ اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تنازع مل جل کر اس پورے خطے کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے لیے کافی ہیں۔

جو صورتحال اس وقت عالمی سطح پر بن چکی ہے اور بالخصوص جو حالات اس خطے کے بنتے جا رہے ہیں اس میں تمام اہم ممالک جیسے روس اور چین کے علاوہ بھارت کی نظر خاص طور پر پاکستان پر جمی ہوئی ہے کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی حتی الوسع کوشش ہوگی کہ پاکستان اس میزبانی کی دوڑ اور مصالحت کی مرکزیت سے باہر نکل جائے۔ لیکن پاکستان نے حیران کن طور پر اس جنگ کا حصہ بننے کے بجائے خود کو ایک مضبوط مصالحت کار کے طور پر منوایا ہے، جس کا اقرار خود امریکا اور ایران بھی کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں بنیادی طور پر یہ ایک صرف ملاقات نہیں تھی بلکہ پاکستان کا وقار تھا جو پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ یہ معاملات اس بات کے غماز ہیں کہ عالمی صف بندی میں اس وقت پاکستان اپنی دھاک نہ صرف بٹھا چکا ہے بلکہ مستقبل میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہو گیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقائی اور عالمی طاقتوں کا اعتماد پاکستان پر بڑھتا جا رہا ہے۔

لیکن اس مصالحت کی صورتحال میں خلیجی ممالک ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہیں اور کوئی فیصلہ کرنے میں تامل سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستان اگر فیصلہ لینے میں خلیجی ممالک کی مدد کر پاتا ہے تو یہ یقینی طور پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ کم و بیش تمام خلیجی ممالک میں امریکا کے اڈے ہیں اور ایران ان پہ جوابی کاروائی کرنا اپنا حق سمجھتا ہے جب کہ خلیجی ممالک اس کو اپنی سرزمین پر ایران کی جانب سے حملے تصور کرتے ہیں۔ اور گاہے بگاہے دھکمی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ اڈے نہ تو فوری طور پر ختم ہو سکتے ہیں، کیوں کہ امریکا کے ساتھ ان ممالک کی گاڑھی ساجھے داری اور مختلف معاملات میں شراکت داری ہے اور دوسری جانب اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں براہ راست شامل ہو جاتے ہیں تو ایران کے پاس تو واحد حل ہی مارو یا مر جاؤ ہے۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر کیے جانے والے جوابی حملوں سے بھی خلیجی ممالک براہ راست نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور تیل کے بجائے سیاحت پہ انحصار کے پروگرام کو بھی ایران کے حملوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

عالمی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کہ سعودی ولی عہد کا ٹرمپ پہ جنگ جاری رکھنے پہ اصرار اپنی دانست میں دلچسپ ہے۔ کیوں کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے خاتمے کو ایران کی مضبوطی سے تعبیر کر رہے ہیں اور وہ یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ اگر ایران مضبوط بن کر ابھرا تو ان کے مفادات پر کاری ضرب لگے گی۔ اسی وجہ سے پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوچکا ہے۔
بطور میزبان پاکستان تمام فریقین کے ساتھ اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسحاق ڈار عباس عراقچی اور امریکا کو بھی اس معاملے پہ اعتماد میں لے چکے ہیں اس لیے آنے والے دنوں میں پاکستان کی اہمیت مسلم ہے۔

پاکستان جہاں اہک طرف ایران کی جانب سے تحریری ضمانت لینے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف اپنی کاروائیاں روک دے تو دوسری جانب خلیجی ممالک کو بدلے میں اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دینا پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایک حقیقت ہیں، اور ان اڈوں کا استعمال امریکی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اس بات کی علامت ہیں کہ خطے میں امریکا کا اثر و رسوخ کتنا گہرا ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے دفاعی نظام کا ایک بڑا حصہ انہی اڈوں پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آسان نہیں، اور یہی اس بحران کی اصل پیچیدگی ہے۔

ایک طرف خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر انحصار کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر شک کرتے ہیں، اور یہی شک کشیدگی کو بڑھاتا ہے۔ اگر اس شک کی دیوار کو گرا دیا جائے تو خطے میں امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

سعودی عرب نہ صرف خلیجی ممالک کا ایک اہم رکن ہے بلکہ اس کا اثر و رسوخ بھی کافی وسیع ہے۔اگر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کچھ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن موجودہ کشیدگی نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوششوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملے جاری رہتے ہیں اور ایران ان کا جواب دیتا رہتا ہے تو یہ کشیدگی ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں بدل سکتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خلیجی ممالک کو ہوگا، کیونکہ یہ اڈے ان کی سرزمین پر واقع ہیں۔ اس صورتحال میں نہ صرف ان کی سلامتی بلکہ ان کی معیشت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ جنگ کا دائرہ اگر مزید پھیلا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور مہنگائی جیسے مسائل پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوشش اسی لیے نہایت اہم ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف اس جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک دیرپا امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ جنگ اور تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا امن اور استحکام کی جانب۔ فیصلہ ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو اس خطے کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو یہ خطہ ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے، بصورت دیگر تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرا سکتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ عقل و تدبر سے کام لیا جائے، اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اور اس خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے سے واپس لایا جائے۔ کیونکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، اور امن ہی وہ راستہ ہے جو سب کے لیے بہتر ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Trending