Connect with us

Today News

افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کے پروپیگنڈے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

Published

on



افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے حقائق کے برعکس رپورٹ جاری کی۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر افغان اور بھارتی میڈیا کا بے بنیاد پروپیگنڈا جاری ہے جبکہ پاک فوج نے افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت کے ردعمل کے طور پر صرف عسکری تنصیات کو نشانہ بنایا ہے۔

آپریشن غضب للحق کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر بھی اپنی پریس بریفنگ میں واضح کر چکے ہیں کہ پاک فوج نے مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملٹری اور دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاک فوج نے افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بٹالین ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیسز سمیت چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ افواج پاکستان نے پیشہ وارانہ انداز میں دشمن کے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔

ماہرین کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ بھی پاکستان کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے موقف کی تائید بذریعہ تصاویر اور ویڈیوز کر چکے ہیں۔ پاک فوج ایک پیشہ وارانہ فوج ہے جو شفافیت پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بناتی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ شلوار قمیض میں ملبوس سویلین، افغان طالب اور خارجی میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں کس طرح کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ اپنی رپورٹ شائع کر سکتا ہے؟ احتمال ہے کہ وہ افغان طالبان کا دعویٰ ہی سچ مان رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان اس سے پہلے کئی مواقع پر جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے غلط خبریں بھی دے چکے ہیں اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا، افغان طالبان کے پاس اپنی عوام کو جواب دینے کے لیے کچھ بھی نہیں اس لیے وہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے سویلین نقصان کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کا ظاہری حلیہ ایک طرح ہونے کی وجہ سے کوئی بھی من گھڑت دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کویت میں ایرانی ڈرون حملہ، امریکا نے 4 ہلاک فوجیوں کی شناخت جاری کر دی

Published

on


واشنگٹن / کویت: امریکا نے کویت میں ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے 6 اہلکاروں میں سے 4 کی شناخت اور تصاویر جاری کر دی ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق اتوار کے روز کویت کے علاقے پورٹ شابہ میں قائم امریکی فوجی تنصیب پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہوئے۔

پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق آئیووا کے امریکی آرمی ریزرو یونٹ سے تھا۔ ان کی شناخت نوح تیجنز، نکول امور، کوڈی خورک اور ڈکلن کے ناموں سے ظاہر کی گئی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں میں اب تک 160 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، گورنر اسٹیٹ یبنک

Published

on



اسلام آباد:

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، پہلے وہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کررہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا جسے کم کرنے کے لیے اقدام اٹھائے جو 2022ء میں کی ڈی پی کے 4.7 فیصد تھا یہ 2023ء میں کم ہوکر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہوگیا اور پچھلے سال دو ارب ڈالر سرپلس رہا ہے اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ابھی بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے کمفرٹ ایبل ہیں، پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، اس وقت سولہ ارب ڈالر سے زائد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیرونی قرضہ سات سال کے دوران 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا اور پچھلے سال سے یہ قرضہ اسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، اس وقت ملک کا کل قرضہ 148ارب ڈالر ہے، اس میں حکومت کا قرضہ 103قرب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جون2026ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یو اے ای کا قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہورہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ ایکسپورٹ کی اسکیمیں ختم کرتے جارہے ہیں اس وجہ سے دباؤ میں ہیں۔

گورنر نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم ختم نہیں کی گئی، برآمدات نہ بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں، فوڈ آئٹمز کی قیمت میں کمی بھی ایک وجہ ہے ایک تو عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہیں اور ڈیمانڈ بھی کم ہوئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس سال برآمدات میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، برآمدات میں کمی کی ایک وجہ چاول کی برآمد میں کمی بھی ہے صرف چاول کی برآمد میں ایک ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو سبسڈی اور ری بیٹ اس طرح دے نہیں سکتے۔





Source link

Continue Reading

Today News

Qatar Airways suspends flight operations; SriLankan Airlines resumes flights to Dubai

Published

on


مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال کے باعث قطر ایئر ویز نے فلائٹ آپریشن عارضی طور پر 6 مارچ تک معطل رکھنے کا اعلان کر دیا۔

قطر ایئر ویز نے فلائٹ آپریشن کے متعلق مسافروں کے لیے تازہ اپ ڈیٹ جاری کر دی۔

قطر ایئر ویز کے مطابق مسافروں کو 6 مارچ کو صبح 9 بجے مزید آگاہی دی جائے گی، قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے قطری فضائی حدود تاحال بند ہے۔

قطری فضائی حدود کے بحفاظت دوبارہ کھلنے اعلان کے بعد قطر ایئر ویز دوبارہ اپنا آپریشن شروع کرے گی۔ قطری فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے قطر ایئرویز کا فلائٹ آپریشن 28 فروری سے عارضی طور پر معطل ہے۔

تمام مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ qatarairways.com یا Qatar Airways موبائل ایپ کے ذریعے پرواز کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

دوسری جانب، سری لنکن ایئر لائن نے دبئی کے لیے آج سے محدود پروازوں کا آپریشن بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان سری لنکن ایئر لائن کے مطابق 28 فروری کے بعد آج 4 مارچ سے کولمبو اور دبئی کے درمیان محدود پیمانے پر پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

پرواز UL231 کولمبو سے دبئی روانہ ہوگی، دبئی سے واپسی کی پرواز UL232 مسافروں کو لیکر کولمبو پہنچے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending